Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ہاتھوں اور پیروں سے محروم تیر انداز کا گولڈ میڈل جیتنے کا...

ہاتھوں اور پیروں سے محروم تیر انداز کا گولڈ میڈل جیتنے کا سفر: ’میرے والدین سے کہا گیا تھا کہ اسے زہر دے کر مار ڈالو‘

7
0

SOURCE :- BBC NEWS

پایل ناگ

’جب میں پہلی بار اکیڈمی گئی تو میں نے دیکھا کہ سب کے ہاتھ اور پاؤں ہیں۔ بچے کمان اپنے ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں یہ سب کیسے کر پاؤں گی؟‘

یہ الفاظ بغیر ہاتھوں اور پاؤں کی پیرا تیر انداز پایل کے ہیں۔

پایل کی کہانی حوصلے، عزم اور بے مثال بہادری کی کہانی ہے۔ جن مشکلات کا انھوں نے سامنا کیا، ان کے ساتھ زندگی گزارنا کسی غیر معمولی انسان کا ہی کام ہو سکتا ہے۔

انڈیا کی مشرقی ساحلی ریاست اڈیشہ کے ضلع بالانگیر کے ایک دور دراز گاؤں میں واقع اپنے گھر پر پایل کے ہاتھ اور پاؤں اس وقت ناکارہ ہو گئے جب وہ اپنی چھت کے اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار وولٹ بجلی کی تار سے ٹکرا گئیں۔ اس وقت ان کی عمر صرف سات سال تھی۔

یہ واقعہ سنہ 2015 میں پیش آیا، جب پایل کے بھائی نے گھر کی چھت سے ایک کپڑا پھینکا۔ وہ کپڑا بجلی کی تار میں الجھ گیا اور پایل نے بدقسمتی سے اسے لوہے کی سلاخ سے نکالنے کی کوشش کی۔

ابتدا میں خاندان نے پایل کی مدد کے لیے بہت جدوجہد کی، لیکن بعد میں انھیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ شدید انفیکشن کے باعث ان کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کا کاٹنا ناگزیر ہے۔ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے پایل آج بھی جذباتی ہو جاتی ہیں۔

میں سرینگر سے جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کے ایک چھوٹے مگر مقدس شہر کٹرا پہنچا۔ پہاڑوں اور سرنگوں والا یہ مشکل سفر تقریباً سات گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ کٹرا، جموں کے قریب واقع ہے اور ہندوؤں کے مقدس شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی وجہ سے لاکھوں عقیدت مندوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

شہر کی گلیاں اور بازار ہمیشہ گہماگہمی کا منظر پیش کرتے ہیں، اور مرکزی بازار سے ایک تنگ راستہ شرائن بورڈ سپورٹس کمپلیکس کی طرف جاتا ہے، جہاں مختلف عمارتیں اور تربیتی میدان موجود ہیں، جن میں ایک آرچری اکیڈمی بھی ہے جہاں پورے انڈیا سے طلبہ و طالبات اپنے خوابوں کے ساتھ آتے ہیں۔

پایل ناگ اپنی بہن کے ساتھ

جب میں اکیڈمی پہنچا تو تیر اندازی کے میدان میں خاصی چہل پہل تھی۔ بڑی تعداد میں سٹوڈنٹس ایک ساتھ کھڑے ہو کر مشق کر رہے تھے، آنکھیں نیم بند، نشانہ لگاتے ہوئے اور کمان کو مضبوطی سے تھامے ہوئے۔

یہیں میری پہلی ملاقات پایل سے ہوئی۔ وہ وھیل چیئر پر تھیں اور ان کی بڑی بہن ورشا انھیں میدان میں چلنے پھرنے میں مدد دے رہی تھیں۔

18 سالہ پایل ناگ نے رواں ماہ کے آغاز میں بنکاک میں منعقدہ ورلڈ آرچری پیرا سیریز میں ویمنز کمپاؤنڈ اوپن مقابلے میں گولڈ میڈل جیت کر سرخیاں بنائی ہیں۔

اس کے بارے میں انھوں نے کہا: ‘میں اس لمحے کو بیان نہیں کر سکتی۔ یہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ تھا۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں نے کیا حاصل کر لیا ہے۔ میں کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔’

پایل منھ سے ڈرائنگ بناتی ہوئی

تاہم اس مقام تک پہنچنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ یہ کامیابی انھیں اکیڈمی میں محض دو سال کی محنت کے بعد حاصل ہوئی، اور کسی نے بھی اتنی جلدی اس کامیابی کی توقع نہیں کی تھی۔

پایل اس واقعے کو یاد کرنا زیادہ پسند نہیں کرتیں جس نے انھیں ہاتھوں اور پاؤں سے محروم کر دیا تھا۔ جب بھی ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا، وہ کہتیں: ’میں رونا شروع کر دوں گی۔‘

لیکن اکیڈمی میں ان کے دوستوں نے انھیں اپنی کہانی سنانے پر آمادہ کیا کیونکہ ان کے مطابق یہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے باعثِ ترغیب بن سکتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جب میں ہسپتال میں ہی تھی کہ میرے کچھ رشتہ داروں نے میرے والدین سے کہا کہ بغیر ہاتھ پاؤں کے اس کا کیا ہوگا۔ اسے زہر دے کر مار دو۔

’جب میرے خاندان کے لیے میری دیکھ بھال کرنا مشکل ہو گیا تو پھر ضلع کلکٹر کی مدد سے 2019 میں مجھے بالانگیر کے ایک یتیم خانے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں میں نے تین سال گزارے۔‘

پایل اپنی تیروں کے ساتھ جنھیں وہ اپنے دانت سے کھینچتی ہیں

بالانگیر سے جموں تک کا ان کا سفر کسی تحریک سے کم نہیں۔ اڈیشہ کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی پایل کے والد کسان ہیں، جبکہ ان کی بڑی بہن ورشا ناگ اکیڈمی کے ہاسٹل میں ان کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرتی ہیں، چاہے نہلانا ہو یا کھانا کھلانا۔

پایل بتاتی ہیں کہ وہ منھ سے تصویریں بنایا کرتی تھیں، اور ایک دن ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وائرل ہو گئی۔

ان کے پہلے کوچ کلدیپ ویداون نے یہ تصویر دیکھی اور پہلی بار پایل سے رابطہ کیا۔

پایل نے بتایا: ’میں پہلے منہ سے ڈرائنگ کرتی تھی، کسی کا بھی چہرہ دیکھ کر بنا سکتی تھی۔ میری ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، میرے گرو (کوچ کلدیپ) نے بھی اسے دیکھا، پھر وہ یتیم خانے آئے اور سنہ 2022 میں مجھے جموں لے آئے۔‘

اس کے بعد سے ان کے مطابق یہ سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا ہے۔

پایل ناگ تیر کو کمان کے ساتھ مقابلے سے قبل
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پایل دنیا کی واحد تیر انداز ہیں جن کے نہ ہاتھ ہیں نہ پاؤں۔ یہ دیکھتے ہوئے ان کے کوچ کلدیپ نے ان کے لیے ایک خاص آلہ تیار کیا جسے وہ ایک پاؤں کی مدد سے استعمال کرتی ہیں۔ اب وہ دائیں پاؤں سے کمان اٹھاتی ہیں اور دائیں کندھے کی مدد سے اسے کھینچتی ہیں۔

ابتدا میں انھیں خود پر یقین نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ کمان تھامنا اور تیر چلانا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔

اسی دوران انھیں اکیڈمی میں دوسروں، خاص طور پر اپنی نئی دوست شیتل دیوی سے حوصلہ ملا، جو ایک پیرا تیر انداز ہیں اور جنھوں نے پیرس 2024 پیرالمپکس میں انڈیا کے لیے آرچری کا پہلا میڈل جیتا۔ شیتل کے بھی ہاتھ نہیں ہیں، اور ان کی کامیابی نے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

پایل کو اپنے لیے تحریک وہیں اکیڈمی میں ملی اور انھوں نے شیتل کے ساتھ تربیت شروع کی۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پایل ناگ اب تک شیتل کو دو بار شکست دے چکی ہیں، ایک بار جے پور میں منعقدہ چھٹی نیشنل پیرا آرچری چیمپئن شپ میں ٹائٹل جیتتے ہوئے، اور حال ہی میں بنکاک میں ورلڈ آرچری پیرا سیریز میں۔

مگر مقابلے کے باوجود، شیتل کو پایل اپنی بڑی بہن مانتی ہیں۔ اور ان کی طرح وہ بھی ملک کے لیے پیرالمپک میڈل جیتنے کا خواب رکھتی ہیں۔

دو سال پہلے تک آرچری کے بارے میں کچھ نہ جاننے والی پایل آج پُراعتماد ہیں۔ وہ اب تھائی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ رینکنگ ٹورنامنٹ کی تیاری کر رہی ہیں جبکہ ان کا ہدف سنہ 2028 میں منعقد ہونے والا پیرالمپکس ہے۔

SOURCE : BBC