SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہRaja Basharat
جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کیرن میں راجہ لیاقت علی خان کی وفات ہوئی تو تجہیز و تکفین سے قبل ایک بڑا مسئلہ درپیش تھا۔ کیرن کا خطہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان چند میٹر چوڑے دریائے نیلم سے بٹا ہوا ہے۔
لیاقت کے والدین اور بہن بھائی 1990 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چلے گئے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ انھیں میت دریا کے اس پار سے دکھائی گئی اور وہ جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکے۔
کیرن کے منقسم حصوں کے درمیان دریائے نیلم ہی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول کا حصہ ہے اور دونوں آبادیوں کے درمیان رابطے نہیں ہیں۔
کیرن سے یہ آخری دیدار راجہ لیاقت کے بہن بھائیوں نے لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے کیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد میں چہلہ بانڈی مہاجر کیمپ میں مقیم شگفتہ بانو نم آنکھوں کے ساتھ یہ سوال کرتی ہیں کہ ’یہ کیسی تقسیم ہے؟ میں اپنے بھائی کے ماتھے پر بوسہ بھی نہ دے سکی اور وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔‘
لیاقت خان کے ایک رشتہ دار ظہور احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’مسئلہ یہ تھا کہ اُن کے بھائی بہن اس اہم گھڑی میں کس طرح اُن کا چہرہ دیکھیں اور جنازے میں شامل ہو جائیں۔ دریا کے اُس پار چاچا جی کے سبھی اقربا ماتم کر رہے تھے اور ہم نے اس طرف سے اُن کی میت کو دکھانے کے لیے چارپائی کو اونچا اُٹھایا تو اُس پار کہرام مچ گیا۔’
راجہ لیاقت علی کیرن میں ایک معروف شخصیت تھے اور نائب تحصیلدار کے طور پر وہیں تعینات تھے۔ ظہور کے مطابق جب ان کا خاندان ایل او سی پار چلا گیا تو وہ نوکری کی وجہ سے یہیں رُک گئے۔ ’انہیں اُمید تھی کہ حالات ٹھیک ہو جائیں تو رابطے پھر بحال ہوں گے۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔‘
،تصویر کا ذریعہRaja Basharat
سرحد پار بھائی کی میت کا آخری دیدار
کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول دنیا کی خطرناک ترین سرحدوں میں شامل ہے۔ 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی ایل او سی عام سرحدوں کی طرح نہیں ہے۔ اس سرحدی پٹی پر دونوں جانب لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کیرن کی حساس ترین سرحدی پٹی میں چار ہزار لوگ آباد ہیں۔ یہاں کا ہر خاندان ایل او سی کے بیچ تقسیم ہے۔ جیسے شگفتہ بانو 1990 میں کیرن سے اپنے والد راجہ اظہار خان اور چھ بھائیوں کے ہمراہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر نکل مکانی کر کے آئی تھیں۔ مگر ان کی والدہ اور بھائی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہی رہے اور یہ خاندان کبھی اکٹھا نہ ہو سکا۔
سنیچر کے روز جب راجہ لیاقت کی تدفین کی جا رہی تھی تو دریا کے دونوں جانب لوگ موجود تھے۔ سرحد پار ان کے اہل خانہ انھیں دیکھ سکتے تھے مگر چھو نہیں سکتے تھے۔
میت کو دریائے نیلم کے کنارے اس انداز میں رکھا گیا کہ دوسری طرف موجود اہلِ خانہ اسے دیکھ سکیں۔
شگفتہ بانو کہتی ہیں کہ ’میرا بھائی دنیا سے رخصت ہوا اور میں اس کے جنازے کے پاس بھی نہ بیٹھ سکی۔ نہ ماں کے گلے لگ کر رو سکی۔ چند میٹر کا فاصلہ تھا مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہ دیا۔‘
راجہ لیاقت کے بھائی نثار خان کہتے ہیں کہ ’دریا کے اس پار سے بھائی کا جنازہ آ رہا تھا اور ہم اس طرف روتے چلاتے کھڑے تھے۔
’میں اپنے بھائی کو کندھا نہ دے سکا۔ نہ آخری بار چہرہ دیکھ سکا۔ ہم یہ دکھ، یہ جدائی دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں۔ دنیا اس مسئلے کو حل کرے تاکہ بیٹے باپ سے، بیٹی ماں سے اور بہن بھائیوں سے مل سکیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم بے بس تھے۔ سامنے بھائی کا جنازہ تھا اور ہم صرف اشاروں میں بات کر سکتے تھے۔ کئی سالوں سے رابطہ بھی نہیں ہوتا تھا، کبھی کبھار ہم تھوڑے وقت کے لیے بات کرتے تھے، وہ بھی محدود۔‘
راجہ لیاقت علی کے ایک اور بھائی راجہ بشارت کہتے ہیں کہ ’میں چھوٹا تھا جب 1990 میں نقل مکانی کر کے میرے والد اور بہن بھائی اس طرف آئے۔ ہمارا خاندان تقسیم ہو گیا اور ہمارے درمیان کوئی رابطہ نہیں رہا۔
’ہم صرف دریا کے کنارے بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے تھے۔ جب بھائی کی وفات کا سنا تو ہم فوراً کیرن کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم جنازے میں شریک نہیں ہو سکیں گے مگر ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ جب سرحد پار جنازہ ہو رہا تھا تو ’بہنیں اس پار پتھروں پر سر مار مار کر رو رہی تھیں۔ اس پار ماں رو رہی تھی مگر اپنے بیٹوں کو گلے نہیں لگا سکتی تھی۔۔۔ کم از کم مرنے کے بعد اکٹھا ہونے کا حق تو ملنا چاہیے۔‘
کیرن، ٹِٹوال اور دیگر سرحدی علاقے ماضی میں ایسے خاندانوں کے غیر رسمی رابطوں کے لیے جانے جاتے رہے ہیں، خاص طور پر 2003 کی جنگ بندی کے بعد لوگ دریا کے کنارے آ کر ایک دوسرے سے بات کرتے تھے۔
تاہم گذشتہ برسوں میں یہ روابط کم ہو گئے ہیں اور 2019 میں انڈیا کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔
،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
’یہ لائن آف کنٹرول نہیں، ہمارے دلوں میں چُبھا ہوا خنجر ہے‘
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں راجہ لیاقت کے ایک اور رشتہ دار محمد یاسر کہتے ہیں کہ ’کچھ کراسنگ پوائنٹس تھے لیکن اس کے لیے ایل او سی پرمِٹ لینا پڑتا تھا۔ حالانکہ اب یہ کراسنگ پوائنٹ بھی بند ہیں لیکن پرمِٹ لینے کا عمل نہایت طویل اور پیچیدہ ہے اور اس میں طویل جانچ پڑتال ہوتی ہے۔
’جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے انتظار کیا جاسکتا ہے اور اتنی دیر میں ایل او سی پرمِٹ لینا ناممکن ہے۔‘
یاسر کا کہنا ہے کہ کئی برس تک دونوں طرف رہنے والے رشتہ دار دریا کے اوپر رسی کے ذریعہ خطوط بھیجتے تھے۔ ’اب سوشل میڈیا کی وجہ سے رابطے ممکن تو ہیں لیکن شادی بیاہ اور کسی کے انتقال کے وقت ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل نہ ہونا ہمارے لیے ذہنی تناؤ کی وجہ بنا ہوا ہے۔ ہمارا تو وجود ہی بٹ گیا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
انڈیا اور پاکستان نے 2003 میں ایل او سی پر سیز فائر کیا تھا لیکن وقفے وقفے سے سرحدی بستیوں میں گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
2020 میں دونوں ملکوں نے اس معاہدے کی تجدید کی اور تب سے ان بستیوں میں سکون ہے۔ لیکن خاندانوں کی تقسیم ایک بڑا انسانی المیہ بنا ہوا ہے۔
کیرن کے رہنے والے وجاہت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ 1990 میں 300 خاندان یہاں سے چلے گئے اور پاکستانی کنٹرول والے علاقے میں آباد ہوگئے۔ اُن سبھی خاندانوں کے بعض افراد یہیں رہ گئے۔
’اب اگر سرحد پُرامن ہے تو جو لوگ اس لکیر (ایل او سی) کی وجہ سے بچھڑ گئے ہیں۔ حکومت ان کے درمیان رابطے کی کوئی سبیل تو نکالے۔ لیاقت صاحب کا انتقال ہوا تو ان کے بھائی بہن چند میٹر کے فاصلے پر تھے لیکن وہ جنازے میں شریک نہ ہو سکے۔‘
لیاقت علی خان کے بھانجے طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ جب لوگوں نے وادی کی شورش سے بھاگنے کے لیے ایل او سی کی دوسری جانب قیام کیا تو کسی کو اندازہ نہیں تھا رابطے بند ہو سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کیرن ایک ہی خطہ ہے۔ 1949 میں سیز فائر لائن اور بعد میں لائن آف کنٹرول کہلانے والی یہ سرحد ملی ٹینسی شروع ہونے سے قبل قدرے نرم ہی تھی۔ لوگ کراسنگ پوائنٹس سے ایک دوسرے کے یہاں آتے جاتے تھے۔
’لیکن بعد میں سبھی رابطے بند ہوگئے۔ اپنے رشتہ داروں سے اس قدر قریب ہونے کے باوجود ملنا جلنا ممکن نہیں ہے، یہ لائن آف کنٹرول نہیں، ہمارے دلوں میں دہائیوں سے چُبھا ہوا خنجر ہے۔‘
لیاقت خان کی وفات اور آخری رسومات کے دوران دونوں جانب جذباتی لہر پر سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے افسوس کا اظہار کیا۔
کپواڑہ کے رہنے والے عاصف مقبول نے ایکس پر لکھا کہ ’چند میٹر کی سرحد سے ایک دوسرے سے جُدا ہونے والے سوگوار خاندان نے اپنے پیارے کا تابوت دیکھا، چہرہ نہیں دیکھ پائے۔
’منقسم جموں کشمیر میں صرف خاندان ہی تقسیم نہیں ہوئے ہیں، بلکہ غم اور آخری رسومات بھی تقسیم ہیں۔‘
SOURCE : BBC



