Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان نے امریکی ناکہ بندی سے متاثرہ ایران کے لیے تجارتی راہداری...

پاکستان نے امریکی ناکہ بندی سے متاثرہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

پاکستان، ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان نے ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایران اپنی مصنوعات کی تجارت کے لیے گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں استعمال کر سکے گا۔

پاکستان کی وزارتِ تجارت کے ’پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ آرڈر 2026‘ کے تحت ایران کی مصنوعات کے ٹرانزٹ کے لیے چھ روٹس یا راہداریاں کھولی گئی ہیں۔ ان کے ذریعے ایران اپنی مصنوعات پاکستانی بندرگاہوں کے راستے کسی تیسرے ملک کو فروخت کر سکتا ہے یا کسی دوسرے ملک سے خریدی گئی مصنوعات پاکستان کے راستے ایران منگوا سکتا ہے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایران میں 28 فروری سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کے لیے کسی تیسرے ملک سے اشیا منگوانا یا اپنی مصنوعات فروخت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

لینڈ لاک یعنی خشکی میں گھرے ممالک عموماً کسی تیسرے ملک کی بندرگاہ کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔ افغانستان کئی دہائیوں سے پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کرتا رہا ہے، تاہم ایران کے پاس اپنی فعال بندرگاہیں موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ دنیا کے مختلف ممالک کو تیل اور دیگر اشیا فروخت کرتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تجزیہ کار پاکستان کے اس اعلان کو ایران کے لیے اعتماد سازی کا ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ‘ کا آرڈر کیا ہے؟

پاکستان کی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس آرڈر کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کو مزید آسان بنایا گیا ہے، جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔‘

پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال کے مطابق ’اس اقدام سے پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت میں اضافہ ہو گا اور پاکستان خطے میں تجارتی راہداری اور لاجسٹکس حب بننے کی جانب گامزن ہو گا۔‘

وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ ’گوادر، کراچی اور تافتان سمیت مختلف روٹس کو ٹرانزٹ کوریڈورز کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے کسٹمز قوانین کے تحت سامان کی ترسیل کو مزید شفاف اور منظم بنایا جا رہا ہے۔‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلو میٹر طویل سرحد ہے، جہاں متعدد اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بارڈر کراسنگز موجود ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں میں کوئٹہ کے قریب تافتان بارڈر، گوادر کے قریب گبد بارڈر کراسنگ اور مند، پشین بارڈر شامل ہیں۔

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان معمول کی تجارت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے سے مستقبل میں پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ تجارت کے مطابق ’2008 میں پاکستان اور ایران کے درمیان بذریعہ سڑک بین الاقوامی تجارت کا معاہدہ طے پایا تھا اور اسی معاہدے کے تحت حکومت نے 2006 میں پاکستان کے راستے سامان کی ٹرانزٹ کا آرڈر جاری کیا تھا۔‘

وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری اس ایس آر او کے مطابق ’ایران کسی تیسرے ملک سے سامان منگوانے یا اُسے فروخت کرنے کے لیے پاکستان کو بطور راہداری استعمال کر سکتا ہے۔‘

اس اعلان کے تحت پاکستان نے ایران کے لیے چھ مختلف تجارتی روٹس کھولنے کا اعلان کیا ہے:

  • گوادر–گبد
  • کراچی/پورٹ قاسم–لیاری–اورماڑہ–پسنی–گبد
  • کراچی/پورٹ قاسم–خضدار–دالبندین–تافتان
  • گوادر–تربت–ہوشاب–پنجگور–نگ–بیسمہ–خضدار–کوئٹہ/لک پاس–دالبندین–نوکنڈی–تافتان
  • گوادر–لیاری–خضدار–کوئٹہ/لک پاس–دالبندین–نوکنڈی–تافتان
  • کراچی/پورٹ قاسم–گوادر–گبد
پاکستانی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ ’گوادر، کراچی اور تافتان سمیت مختلف روٹس کو ٹرانزٹ کوریڈورز کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس فیصلے کی کیا اہمیت ہے؟

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’قرینِ قیاس یہی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔’

پاکستان کے سابق وزیرِ تجارت ڈاکٹر زبیر خان کا کہنا ہے کہ ’ایران کو دی جانے والی یہ تجارتی راہداری انہی شرائط کے تحت ہو گی، جو افغانستان یا کسی بھی دوسرے لینڈ لاک ملک پر لاگو ہوتی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کی ناکہ بندی کے باعث ایران عملی طور پر لینڈ لاک ملک بن چکا ہے۔‘

ڈاکٹر زبیر خان کے مطابق ’اس اقدام سے پاکستان کو نہ صرف ٹرانزٹ فیس حاصل ہو گی بلکہ ایرانی عوام میں پاکستان کے لیے خیرسگالی میں بھی اضافہ ہو گا۔‘

سینیئر صحافی مشتاق گھمن کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے ایرانی حکومت کی درخواست پر یہ تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد ایران کی قیادت نے پاکستان سے تجارتی راہداری کھولنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے مشاورت کے بعد ایران کو یہ سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں پاکستان افغانستان کو تجارتی راہداری فراہم کرتا رہا ہے اور اب ایران کو تجارتی راہداری دینے سے مستقبل میں پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے امکانات بڑھیں گے۔‘

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’تجارتی راہداری کھولنے سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کی شرط میں نرمی کی تھی اور اس کے بعد ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولی گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام سے پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہو گا اور اعتماد سازی کی فضا قائم ہو گی۔‘

ایران پر عائد امریکی اور عالمی پابندیوں کے دوران کیا پاکستان ایران کو ٹرانزٹ دے سکتا ہے؟

ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ تاہم پاکستان اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا بیشتر حصہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔

ایران پر عائد عالمی پابندیوں اور بینکنگ چینلز کی عدم دستیابی کے باعث پاکستان ایران سے تیل درآمد نہیں کرتا، تاہم بارٹر سسٹم کے تحت دونوں ممالک کے درمیان خوراک سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی تجارت ہوتی رہی ہے، جو جنگ کے دوران بھی جاری رہی۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایران پر عائد امریکی اور عالمی پابندیوں کے باوجود ایران کو ٹرانزٹ کی سہولت دے سکتا ہے؟

پاکستان کے سابق وزیرِ تجارت ڈاکٹر زبیر خان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے تحت ایک ایسے ملک کو تجارتی راہداری فراہم کر رہا ہے، جو اب لینڈ لاک ہو چکا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ایران کو ٹرانزٹ فراہم کرنے پر پاکستان کو امریکی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان براہِ راست تجارت نہیں بڑھا رہا بلکہ صرف راہداری فراہم کر رہا ہے۔‘

اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے ایران کے لیے ٹرانزٹ کھولنے سے قبل امریکہ سمیت تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ یہ فیصلہ امریکہ کو آگاہ کیے بغیر کیا گیا ہو۔‘

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے تجارتی راہداریاں کھولنے پر امریکہ کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

سینئر صحافی مشتاق گھمن کا کہنا ہے کہ ’ایران میں جنگ کے باعث ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور پاکستان کے ذریعے ایران انہی اشیا کی تجارت کرے گا جو پابندیوں کی زد میں نہیں ہیں۔‘

گوادر پورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وسطی ایشیائی ممالک کے لیے متبادل روٹس اور علاقائی تجارت کا مرکز بننے کا خواب

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’علاقائی ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بننے کے لیے یہ ایک سٹریٹیجک اقدام ہے، جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔‘

اس سے قبل رواں ماہ حکومت نے پاکستان–ایران ٹرانزٹ راہداری کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے پہلی تجارتی کھیپ ایران کے راستے تاشقند، ازبکستان روانہ کی تھی۔

اس موقع پر پاکستان کے ڈائریکٹریٹ جنرل برائے ٹرانزٹ ٹریڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ٹرکوں کے ذریعے سامان کراچی سے گبد اور رامیدان بارڈر کے راستے ایران میں داخل ہو گا اور پھر ازبکستان جائے گا۔’ بیان کے مطابق ‘اس اقدام سے عالمی تجارت، علاقائی روابط اور پاکستان سمیت خطے کے ممالک کی معیشت کو استحکام ملے گا۔‘

ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’2018 میں پاکستان نے ایران کے راستے ترکی تک اور ایران نے پاکستان کے راستے چین تک تجارتی راہداری کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔‘

ان کے مطابق ’اگر اب ایران پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے کسی تیسرے ملک سے تجارت کرتا ہے تو پاکستان بھی ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت کر سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’اس تجارتی راہداری سے پاکستان کو افغانستان کے بجائے ایک زیادہ محفوظ اور پائیدار تجارتی روٹ میسر آئے گا۔‘

یاد رہے کہ پاکستان ماضی میں افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی رسائی حاصل کرتا تھا، لیکن افغانستان میں امن و امان کی صورتحال اور افغان طالبان کے ساتھ تناؤ کے باعث سرحدی گزرگاہیں بند ہو جاتی ہیں، جس سے تجارت متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد گذشتہ سال کشیدگی کے بعد سے تاحال ہر قسم کی سرگرمی کے لیے بند ہے، اسی لیے پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بلا تعطل تجارت کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر عابد سلہری کے مطابق ’ایران کے لیے تجارتی روٹس کھولنے سے پاکستان نے نہ صرف مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا ہے بلکہ افغانستان کے متبادل کے طور پر ایک محفوظ اور بلا تعطل تجارتی راہداری کے لیے راہ ہموار کی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھے گی بلکہ علاقائی تجارت میں پاکستان کی اہمیت بھی نمایاں ہو گی۔‘

اس سے قبل ایران میں جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کئی جہاز پاکستان کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوئے تھے اور کراچی کی بندرگاہوں پر کارگو ہینڈلنگ آپریشن میں اضافہ ہوا تھا۔

سینئر صحافی مشتاق گھمن کا کہنا ہے کہ ’ٹرانزٹ ٹریڈ کے اس فیصلے کے بعد گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں پر آپریشنز میں مزید تیزی آئے گی۔‘

SOURCE : BBC