SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی کاؤنٹی سرے میں ایپسم ایک پُرسکون علاقہ ہے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے یہ پُرتشدد بدامنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اس کی شروعات تب ہوئی جب مبینہ گینگ ریپ کے ایک کیس پر مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے مشتبہ افراد کے بارے میں سرے پولیس سے جواب مانگا۔
کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اس میں پناہ گزین افراد یا تارکینِ وطن ملوث تھے۔
اس دوران توڑ پھوڑ اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حتی کہ مظاہرین غلطی سے ایک مقامی ہوٹل میں بھی گھس گئے جہاں ان کے خیال میں تارکین وطن مقیم تھے۔
لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گینگ ریپ کبھی ہوا ہی نہیں۔
’جامع تحقیقات‘ کے بعد سرے پولیس کا ماننا ہے کہ ریپ رپورٹ کرنے والی خاتون کو رات باہر گزارنے کے بعد ’حادثاتی طور پر سر پر چوٹ‘ لگی تھی اور انھوں نے ایک ’کنفیوژن پر مبنی رپورٹ‘ درج کروائی تھی۔
خاتون نے افسران کو یہ معلومات شیئر کرنے کی اجازت دی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جنسی جرائم کی ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔
یہ کیسے ہوا اور کیا ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے؟ تمام شواہد پہلے گمراہ کن آن لائن انفارمیشن اور پھر حقیقی دنیا میں پھیلنے والی افراتفری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
معلومات کا خلا

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سرے پولیس نے 12 اپریل کو عوام سے گواہوں کی اپیل جاری کی جس میں کہا گیا کہ لندن کے جنوب مغرب میں واقع تاریخی مارکیٹ ٹاؤن میں ایک گرجا گھر کے باہر گذشتہ روز ایک مبینہ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ نائٹ کلب سے واپسی پر ایک خاتون پر حملہ ہوا ہے، جن کی عمر 20 کے پیٹے میں ہے۔
گذشتہ سال نیشنل پولیس چیفس کونسل (این پی سی سی) کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ ترغیب دی گئی کہ وہ ہائی پروفائل مقدمات میں مشتبہ افراد کی نسلی شناخت اور قومیت ظاہر کرنے پر غور کریں، تاکہ گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔
سرے پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جاری کی گئی اپیل میں مبینہ مشکوک افراد کے حوالے سے معلومات میں کمی تھی ’کیونکہ (ان کے پاس موجود) تفصیلات مبہم اور محدود تھیں۔‘
بظاہر پولیس کے پاس این پی سی سی کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تفصیلات کافی نہیں تھیں۔
لیکن جب سے یہ ہدایات جاری کی گئیں، کچھ لوگوں کو یہ توقع ہو گئی ہے کہ ایسی تفصیلات فوراً جاری کی جائیں گی۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر کیا ہوتا ہے؟
ایپسم واقعے کے بارے میں گمراہ کن معلومات آن لائن گردش کرنے لگیں، جہاں سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس نے یہ غلط دعویٰ کیا کہ مشتبہ افراد پناہ گزین یا تارکین وطن تھے۔ دیگر افراد نے اپنے علاقے میں اس نوعیت کے سنگین جرم کی اطلاعات پر پریشانی کا اظہار کیا اور مبینہ متاثرہ خاتون کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔
لیکن ان تبصروں کو ایکس پر بااثر اکاؤنٹس کی پوسٹس نے پسِ منظر میں دھکیل دیا، وہ اکاؤنٹس جو پلیٹ فارم کے ایلگوردم میں اپنی پوسٹس کو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے بلیو ٹِکس کے لیے رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ ان پوسٹس میں پولیس پر پردہ پوشی کے الزامات عائد کیے گئے اور یہ عندیہ دیا گیا کہ ان کے پاس مشتبہ افراد کی شناخت سے متعلق معلومات موجود ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی نفسیات کے پروفیسر سینڈر وین ڈر لنڈن ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے ’سٹاکاسٹک دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے بنیادی طور پر یہ مراد ہے کہ نظریاتی بنیادوں پر آن لائن پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے نتیجے میں آف لائن نقصان اور تشدد کا امکان کتنا بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر امیگریشن مخالف غلط معلومات کے تشدد میں بدلنے کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔‘
آن لائن غم و غصہ اور احتجاجی مظاہرے
پولیس کی اپیل کے بعد آنے والے ہفتے میں ایک احتجاج ہوا، جس میں کچھ مقامی افراد شریک ہوئے اور سوالات کیے کہ آخر ہوا کیا تھا؟ احتجاج میں شامل کچھ دیگر افراد ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ ایپسم سے باہر سے آئے ہوں۔ لوگوں نے مشتبہ افراد کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایکس کے ایک مقبول اکاؤنٹ ’Inevitable West‘، جس کی میں پہلے بھی تحقیقات کر چکی ہوں اور جو بظاہر برطانیہ سے باہر سے چلایا جا رہا ہے، نے احتجاج کی ویڈیوز شیئر کیں اور دعویٰ کیا کہ ’پورا برطانیہ ان محبِ وطن افراد کے ساتھ ہے۔‘
اس پوسٹ نے پانچ لاکھ سے زیادہ صارفین تک رسائی حاصل کی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض ایلگوردم میں غصہ بھڑکانے والی پوسٹس کو کس طرح فوقیت دی جاتی ہے۔
عینی شاہدین کے حوالے سے ابتدائی اپیل کے چند دن بعد سرے پولیس نے کہا کہ اسے اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ جرم ’جس طرح رپورٹ کیا گیا تھا‘ ویسے ہی پیش آیا ہو اور اس نے واضح طور پر کہا کہ اس میں پناہ گزین افراد یا تارکینِ وطن کے ملوث ہونے کا ’کوئی ثبوت‘ موجود نہیں۔
تاہم اس کے باوجود بھی آن لائن غصہ کم نہ ہو سکا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک مقامی فیس بک گروپ اس طرح کے مواد کی بھرمار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس کے منتظمین کو یہ وارننگ جاری کرنا پڑی کہ یہ فورم ’کبھی بھی نفرت، دشمنی اور نہایت ناخوشگوار رویوں کو جگہ دینے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔‘
تقریباً پانچ لاکھ مرتبہ دیکھی جانے والی ایک اور وائرل پوسٹ میں کسی بھی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا گیا کہ الزامات عائد کرنے والی جوان خاتون کے والدین کو خاموش کروایا جا رہا ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ انھیں ’میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں‘ اور ’ایسا کرنے کی صورت میں انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔‘
اس پوسٹ میں پوچھا گیا: ’کیا یہ ملک ختم ہو چکا ہے؟‘
اس ہفتے ایک بار پھر وہاں بدامنی میں اضافہ ہوا، جب مظاہرین کا ایک گروہ دوسری مرتبہ ایپسم پہنچا۔ ویڈیوز میں چند افراد کو ’انھیں باہر نکالو‘ کے نعرے لگاتے اور ایک مقامی ہوٹل میں داخل ہوتے دکھایا گیا، حالانکہ وہاں تارکینِ وطن مقیم نہیں تھے۔
پولیس کی آمد کے بعد ایسی پوسٹس سامنے آئیں، جن میں یہ عندیہ دیا گیا کہ مظاہرین کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔
سرے اور لندن بھر سے تعلق رکھنے والے 15 سے 23 سال کی عمر کے پانچ افراد کو پولیس افسران پر ’اشیا پھینکے جانے‘ کے بعد امنِ عامہ کی خلاف ورزی اور مجرمانہ نقصان کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس کے باوجود بھی احتجاجی مظاہروں کی ویڈیو وائرل ہوئیں، سوالات نے جنم لیا کہ کونسی ویڈیوز اصلی ہیں اور کن ویڈیوز کو مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر بنایا گیا ہے۔
کیس سے متعلق حقائق کی عدم موجودگی میں لوگوں نے جذباتی قیاس آرائیاں اور غلط معلومات شیئر کیں، جو امیگریشن سے متعلق خدشات کو ہوا دیتی تھیں اور سرے پولیس کے مطابق اس سے کمیونٹی میں ’تشویش‘ پیدا ہوئی ہے۔
آن لائن بحث و مباحثہ اس وقت ہی تھما جب پولیس نے آخرکار بتایا کہ ’کوئی جنسی جرم پیش نہیں آیا‘ اور تحقیقات بند کر دی گئی ہیں۔
ایلگوردم کی طاقت
پولیس اینڈ کرائم کمشنر لیزا ٹاؤن سینڈ کا کہنا تھا کہ ‘تحقیقات کے اتنے نازک مرحلے پر، تمام چھان بین مکمل ہونے سے پہلے اس پر لمحہ بہ لمحہ تبصرہ کرنا مناسب نہ ہوتا۔’
تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کے سامنے پولیس کی جانب سے کیا معلومات دی جاتی ہیں، اس حوالے سے ’بلاشبہ ہمیشہ سیکھنے کے لیے اسباق موجود ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس صورتحال سے بعض افراد نے فائدہ اٹھایا جنھوں نے ہماری کمیونٹیز میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ سے متعلق مقامی باشندوں کے جائز خدشات کو استعمال کرتے ہوئے ایک کہیں زیادہ بدنیتی پر مبنی بیانیے کو آگے بڑھایا۔‘
’کچھ حد تک صبر اور ضبط کا مظاہرہ کرنے اور پولیس کو حقائق معلوم کرنے کے لیے اپنا کام کرنے دینے کے بجائے، ہم نے سوشل میڈیا پر تبصرہ نگاروں، سیاست دانوں اور ’ماہرین‘ کی ایک قطار دیکھی جو ایک ایسے مقدمے پر اپنے اپنے نظریات پیش کر رہے تھے جس کے بارے میں ان کے پاس محدود معلومات تھیں۔
’سچ پوچھیے تو ان میں سے بہت سے لوگ اس سے بہتر کام کر سکتے تھے۔‘
ایپسم میں پیش آنے والے واقعات کا تسلسل سوشل میڈیا ایلگوردم کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
جب ایلگوردم غصہ بھڑکانے والے مواد کو زیادہ دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے اور اسے بار بار دیگر صارفین کی فیڈز میں فروغ دیا جاتا ہے تو اس کا حقیقی دنیا میں یہ اثر پڑ سکتا ہے کہ لوگوں کے عقائد مسخ ہو جاتے ہیں۔
ایکس کی جانب سے اس تحریر کے بارے میں بی بی سی کی درخواست پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس حوالے سے 2024 میں ساؤتھ پورٹ میں پُرتشدد بدامنی کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے، جب بیبی کنگ، ایلسی ڈاٹ سٹینکومب اور ایلس دا سلوا آگئیار کو ایک ڈانس کلاس کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
بعض افراد نے اس ہولناک حملے کے مرتکب کے بارے میں دستیاب محدود معلومات کو بنیاد بنا کر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ حملہ آور ایک مسلمان پناہ گزین تھا جس سے مزید غصہ اور اشتعال پھیلا۔
ایپسم میں ایک ایسے جرم پر پیدا ہونے والے ہنگامے کے بعد جو ہوا ہی نہیں تھا، یہ بات سامنے آتی ہے کہ نہ تو پولیس اور نہ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے، جب کہ تصدیق شدہ معلومات ناکافی ہوں مگر عوام میں سنگین جرائم کی فوری تفصیلات جاننے کی شدید خواہش موجود ہو۔
SOURCE : BBC



