Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’حالات کورونا کے دور سے بھی بدتر ہیں‘: امریکہ، ایران جنگ نے...

’حالات کورونا کے دور سے بھی بدتر ہیں‘: امریکہ، ایران جنگ نے ترکی کو کیسے متاثر کیا؟

17
0

SOURCE :- BBC NEWS

ترکی آنے والے سیاحوں کے لیے ’دالیان‘ مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنوبی ترکی کے شہر انطالیہ میں سیاحت کی صنعت سے منسلک افراد کا کہنا ہے اس سال ایسٹر کی چھٹیاں ’ہر سال کی طرح نہیں تھیں۔‘

عام طور پر ایسٹر کی چھٹیوں کے دوران یہاں یورپی سیاحوں کا رش دیکھنے میں آتا ہے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور سیاحت کی صنعت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

بی بی سی ترکی سے بات کرتے ہوئے ترکش ٹریول ایجنسیز ایسوسی ایشن کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز کے رکن ایلف یورال کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کے علاقے میں بین الاقوامی بکنگ میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے۔

اگرچہ سات اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے لیے بکنگز، خاص طور پر برطانیہ اور یورپ سے، پچھلے سیزن کے مقابلے میں کم ہیں۔

برطانوی کنسلٹنسی فرم آکسفورڈ اکنامکس کے جائزے بھی ان مشاہدات سے میل کھاتے ہیں، جن کے مطابق جنگ کے باعث خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سیاحت کا شعبہ کافی متاثر ہوا ہے۔

کمپنی کے ایک سینیئر ماہر اقتصادیات جیسی سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں غیر یقینی کی صورتحال اور سلامتی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور انھیں توقع ہے کہ سیاحت کے شعبے میں خدمات کی طلب کم رہے گی۔

فرم کے اندازوں کے مطابق کچھ سیاح ترکی کا رخ کرنے کے بجائے بحیرہ روم اور شمالی افریقی ممالک کی طرف جا سکتے ہیں۔

سمتھ کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ترکی کے حوالے سے سیاحوں کی تعداد میں کمی کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی آنے والے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس مانگ میں کمی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ترکی تنازعات والے علاقوں سے قریب ہے۔ ’اگرچہ متبادل جگہیں موجود ہیں لیکن وہ کافی نہیں۔‘

’مشرقی بحیرہ اسود کے علاقے بھی متاثر‘

چوتھی صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی سومیلا مونسٹری۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے سیاحت کی صنعت متاثر ہونا شروع ہو چکی ہے۔

کارپوریٹ دنیا کو سیاحتی خدمات پیش کرنے والی کمپنیوں گلوب میٹس اور اولیوا مائس کے شریک بانی حسین کرٹ کہتے ہیں: مشرقی بحیرہ اسود کے علاقے میں آنے والے سیاحوں مِں سب سے بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ کے سیاحوں کی تھی اور یہی خطہ جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

جنگ کے دوران امریکہ، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک کی جانب سے ترکی سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے نئی سفری وارننگ جاری کی گئی ہیں۔

ان انتباہات میں مشرقی اور جنوب مشرقی ترکی کے کچھ علاقوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرٹ کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کی وجہ سے بکنگز میں کمی واقع ہوئی ہیں۔

کرٹ جو کہ ترک سیاحتی ترقیاتی ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں نے پیش گوئی کی ہے کہ بکنگز میں 30 سے 40 فیصد کمی آ سکتی ہے۔مارچ کے وسط میں کچھ یورپی ٹریول کمپنیوں نے بتایا تھا کہ ایران جنگ کے باعث اس سال موسمِ گرما میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقوں ترکی، قبرص اور یونان کا دورہ کرنے کا ارادہ کرنے والے صارفین اب سپین، اٹلی اور کروشیا جیسے مغربی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

لنڈا ہل ملر 20 سال سے سکاٹ لینڈ میں قائم ایل اے ایچ ٹریول چلا رہی ہیں۔ بی بی سی ترکی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ’کووڈ 19 سے بھی بدتر‘ سیزن ہے۔

’ہمارے فون ہی نہیں بج رہے؛ ہمیں کوئی درخواستیں ہی موصول نہیں ہو رہیں۔‘

دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرنے والے ملر کے مطابق اصل مسئلہ صارفین کے اعتماد کی کمی کا ہے۔

’چاہے مغربی بحیرہ روم ہو یا مشرقی، کوئی بھی کہیں جانا نہیں چاہتا۔‘

ان کے مطابق لوگ غیر یقینی کی صورتحال سے ڈرتے ہیں۔

’وہ اپنے روزگار کے حوالے سے سے پریشان ہیں۔ ایسی افواہیں بھی ہیں کہ جیٹ ایندھن کی کمی کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کافی غیر یقینی کی صورتحال اور سوالیہ نشان ہیں۔‘

’استنبول میں بھی بکنگز میں کمی لیکن منسوخی کی لہر نہیں‘

استنبول میں بھی ہوٹل بکنگ کا ڈیٹا منفی رجحان کو ظاہر کر رہا ہے۔

عالمی ہوٹلوں کے ڈیٹا پر نظر رکھنے والی امریکی کمپنی لائٹ ہاؤس انٹیلی جنس کی جانب سے بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے پہلے نصف میں استنبول کے ہوٹلوں میں بکنگ کی شرح 47.5 فیصد تھی۔ یہ شرح گزشتہ سال کی اسی مدت میں 57 فیصد تھی۔

اس حساب سے دیکھا جائے تو بکنگ میں کمی تو واقع ہوئی ہے لیکن استنبول میں بکنگز کی ’منسوخی کی کوئی لہر‘ نہیں دیکھی گئی۔

تاہم کمپنی اس بات پر زور دیتی ہے کہ پچھلے سال بکنگ میں مسلسل اور تواتر سے اضافہ ہوا تھا۔

تاہم اس سال بجٹنگ میں اضافے کی رفتار ’زیادہ غیر مساوی‘ رہی ہے اور مجموعی طور پر 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں کم ہے۔

سلطان احمد مسجد کا اندرونی منظر۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے شہروں بوڈرم اور انطالیہ میں اپریل کے دوسرے حصہ کے دوران آن لائن ہوٹلوں کی بکنگ کی اوسط قیمتیں جنوری سے مارچ کی مدت کے مقابلے میں کم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انطالیہ کے مقابلے میں بوڈرم میں یہ کمی کہیں زیادہ ہے۔

کرٹ نے مزید کہا کہ نوروز کے دوران ایرانی سیاحوں کی بڑی تعداد وان اور استنبول آتی تھی لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا، جس کے باعث کافی نقصان ہوا ہے۔

ترکی سے سیاحوں کو بیرون ملک بھیجنے والی کمپنیوں کی دہری پریشانی

لندن میں قائم ایوی ایشن ڈیٹا فراہم کرنے والی فرم سیریم کے مطابق فروری کے مقابلے میں مارچ میں عالمی پروازوں کی منسوخی میں 111 فیصد اضافہ دیکھنے آیا۔

مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پروازوں کی منسوخی جو فروری میں 3,500 تھی مارچ میں بڑھ کر تقریباً 37,500 ہو گئی۔

اس صورتحال نے ترکی سے سیاحوں کو بیرون ملک بھیجنے والی کمپنیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ایسی ہی ایک کمپنی آٹو ڈی ایم سی کے جنرل مینیجر جیم یاگلو اوغلو کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث انھیں دہری پریشانی کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق پہلا مسئلہ تو ان کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہے، جس کی بڑی وجہ خطے میں فضائی حدود کی حفاظت کے پیشِ نظر پروازوں کے روٹ میں تبدیلی اور چارٹرڈ آپریشنز میں دوسرے ممالک سے آنے والے مسافروں کی کمی ہے۔

دوسرا علاقائی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال میں ترک سیاحوں کی جانب سے اپناَئی جانے والی ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی ہے۔

بی بی سی ترکی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یاگلو اوغلو کا کہنا ہے کہ ’جب ہمارے پڑوسی ملک میں کشیدگی ہوتی ہے تو لوگ طویل مدتی سفر کے منصوبے بنانے میں ہچکچاتے ہیں۔ یہ سست روی کا سبب بنتا ہے، خاص طور پر بکنگ سے پہلے کی مدت کے دوران۔‘

فروری کے مقابلے میں مارچ میں عالمی پروازوں کی منسوخی میں 111 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا

،تصویر کا ذریعہHakan Akgun/Anadolu/Getty Images

یاگلو اوغلو کا کہنا ہے جنگ اور خطے کی سیاسی حالات کا سب سے بڑا اثر ’اضافی اخراجات ہیں جو ایئر لائنز ایندھن کے سرچارج کے نام پر لگا رہی ہیں۔‘

’ایسے ٹوورز جو ہم نے مہینوں پہلے فکسڈ قیمتوں کے ساتھ پلان کیے تھے، آخری لمحات میں ٹور کی لاگت میں اس قسم کا اضافہ ہم پر اور ہماری ایجنسیوں دونوں پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے۔ اگر ہم یہ اخراجات گاہک تک منتقل کرتے ہیں تو اس اعتماد میں کمی واقع ہوتی ہے اور منتقل نہ کریں تو ہمارے منافع کا مارجن بلکل ختم ہو جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر سیاحوں کی تعداد اس ہی تناسب سے رہی تو یہ سال خالص منافع کے لحاظ سے سیاحت کے شعبے کے لیے بہت مشکل رہے گا۔

’حالات کو دوبارہ پٹری پر لانے میں ایک سال لگ جائے گا‘

ایلف یورال کی پیش گوئی ہے کہ اگر کشیدگی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی تب بھی بحالی میں کافی وقت لگے گا۔

’عید الاضحی کی آمد ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اس سال اپنے مشرق وسطیٰ کے مہمانوں کو بھولنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ اگر سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہو بھی جاتا ہے تب بھی پروازیں اور لوگوں کے منصوبے بدل چکے ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ چیزوں کو دوبارہ پٹری پر لانے میں ہمیں ایک اور سال لگ جائے گا۔‘

آکسفورڈ اکنامکس سے تعلق رکھنے والے جیسی سمتھ کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ منافع کے لحاظ سے ایئر لائنز اور سفری کاروبار پر کچھ دباؤ پڑے گا۔

ان کے مطابق تیل اور جیٹ ایندھن کی زیادہ قیمتوں کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں تقریباً پانچ سے دس فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ آپریٹنگ لاگت میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ مشرق وسطیٰ سے جڑے راستوں کے متعلق خدشات بھی منافع کے مارجن پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

حسین کرٹ کے خیال میں تنازع کے خاتمے کے بعد بحالی کووڈ 19 وبا کے بعد کی مدت سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے۔

’آپ چاہے انفرادی حیثیت میں بات کریں یا کارپوریٹ میں، لوگ اب بھی سفر کرنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی مانگ میں دکھائی دے گی اور کچھ منسوخیاں جو ہمیں فی الحال موصول ہو رہی ہیں وہ ہو سکتا ہے جب مانگ بڑھے تو ہمیں دوبارہ مل جائیں۔‘

SOURCE : BBC