Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں یو اے ای کو 3.5 ارب قرض کی واپسی اور سعودی عرب...

یو اے ای کو 3.5 ارب قرض کی واپسی اور سعودی عرب سے نیا قرض لینے کی رپورٹس: ’تمام آپشنز زیر غور ہیں،‘ محمد اورنگزیب

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

شہباز شریف، سلمان

،تصویر کا ذریعہReuters

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو ساڑھے تین ارب ڈالر کے مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کے اعلان کے بعد پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے قرض حاصل کرنے سمیت ’تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔‘

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو دیے ایک انٹرویو میں واشنگٹن میں موجود پاکستانی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنے کے لیے یورو بانڈز اور دیگر ملکوں، مالیاتی اداروں اور کمرشل بینکوں سے قرضے حاصل کرنے جیسے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

اس انٹرویو میں انھوں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اثرات کے تناظر میں پاکستان کو سٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر بنانے ہوں گے اور قابل تجدید توانائی کی طرف جانا ہو گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستانی حکومت متحدہ عرب امارات کو ڈپازٹس واپس کرنے کے بعد سعودی عرب سے قرض لینے پر بات چیت کر رہی ہے تو وزیر خزانہ نے کہا کہ ’تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔‘

اپریل کے اوائل میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کی تصدیق کی تھی اور اسے ’معمول کا مالیاتی لین دین‘ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سنیچر کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل جمعہ کی شب سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبد اللہ الجدعان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔

اس سے اگلے ہی روز، سنیچر کو، سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے جس میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں۔

Pakistan UAE

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دریں اثنا محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ سپرنگ اجلاسوں کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے تمام قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت بھی تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق اس سطح کو برقرار رکھنا مستقبل میں مجموعی معاشی استحکام کے لیے ایک اہم پہلو ہو گا۔

اورنگزیب نے کہا کہ حکومت یورو بانڈ، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے شدہ، روپے سے منسلک بانڈز کے اجرا پر غور کر رہی ہے۔

ان کے مطابق توقع ہے کہ رواں سال یورو بانڈ جاری کیے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ کمرشل قرضوں کے امکانات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کیوں کیے؟

اس سے قبل پاکستان نے تصدیق کی تھی کہ معاہدے کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان میچور ہونے والے ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہا ہے، جو ایک معمول کا مالیاتی لین دین ہے۔

ترجمان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور عوامی روابط پر مبنی ہیں اور یہ تعلق وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔

وزارت خارجہ کے اعلامیے سے قبل پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات سے لیے گئے ڈپازٹس اور قرضے واپس کرنے کے بارے میں روایتی اور سوشل میڈیا پر خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر تصدیق کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ پاکستان یو اے ای کو ڈپازٹس واپس کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے پاکستان کو دیے گئے ڈپازٹس کتنے ہیں اور ان کی اچانک واپسی کا فیصلہ کیا خطے میں بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات ہیں یا پھر اس کا فیصلہ پہلے سے کیا گیا تھا اس کے بارے میں بی بی سی نے ماہرین سے بات کر کے اس کو جانچنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستان کے پاس متحدہ عرب امارات کے کتنے ڈپازٹس ہیں؟

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت 21 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جن میں سے 16 ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پانچ ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں۔ مرکزی بینک کے پاس موجود 16 ارب ڈالر میں سے بارہ ارب ڈالر کے ڈپازٹس چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہیں تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔

ان ڈپازٹس میں سے دو ارب ڈالر متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رکھوائے تھے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرضہ بھی دیا تھا جس میں 45 کروڑ کا قرضہ گذشتہ صدی میں نوے کی دہائی میں پاکستان کو دیا گیا تھا، اسی طرح مجموعی پاکستان کے پاس متحدہ عرب امارات کا تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔

Pakistan UAE

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متحدہ عرب امارات کا ڈپازٹس کب رول اوور ہوا؟

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو سنہ 2018 میں دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس دیے گئے تھے جو گذشتہ آٹھ سالوں سے پاکستان کے پاس موجود ہیں اور وہ کئی بار رول اوور ہوئے تاہم گذشتہ سال دسمبر میں اسے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرنے کی بجائے متحدہ عرب امارات نے اسے قلیل مدت پر کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

موجودہ سال فروری میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو ارب ڈالر کو دو مہینوں کےلیے رول اوور کیا گیا جس کی مدت اپریل میں پوری ہو رہی ہے اور اب پاکستان کی جانب سے اسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پس پردہ کیا وجوہات ہیں؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ جاری تھی اور جس نے خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

ایک ایسے وقت میں متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کی واپسی کے بارے میں جیو پولیٹیکل امور کے ماہر زاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس کا جیو پولیٹیکل حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کی واپسی کا ایک تناظر ہے۔

انھوں نے کہا تھا پاکستان نے ان ڈپازٹس پر بلند شرح سود کو کم کرنے کے لیے بھی کہا تھا اور اس کے ساتھ رول اوور کرنے کے لیے کہا تھا تاہم متحدہ عرب امارات نے اسے قلیل مدت کے لیے رول اوور کرنے شروع کر دیا۔ انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ یہ سب اچانک سے ہوا اور یو اے ای نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

زاہد حسین نے کہا تھا ان ڈپازٹس پر شرح سود بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے واپس کر دیا جائے۔

معاشی امور کے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کا تاہم اس سلسلے میں کہنا تھا کہ اب تک صورتحال واضح تو نہیں ہے تاہم متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس کی واپسی کا کہیں نہ کہیں تعلق خطے کی جیو پولیٹکل صورتحال سے بنتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا ایسی چیزیں واضح تو نہیں ہوتیں تاہم وہ کہیں نہ کہیں موجودہ ہوتی ہیں۔

یو اے ای

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متحدہ عرب امارات کو ڈپازٹس کی واپسی سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر کوئی فرق پڑے گا؟

پاکستان کے پاس زرمبادلہ ذخائر کی صلاحیت بہت زیادہ نہیں ہے۔

مرکزی بینک کے پاس 16 ارب ڈالر میں سے بارہ ارب ڈالر چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس ہیں۔

حکومت کی جانب سے متحدہ عرب ڈالر کو دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی واپسی کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر اس کے اثر کے بارے میں مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر دو ارب ڈالر نکلنے سے کچھ اثر تو پڑے گا تاہم چند ہفتوں میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی جو زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرے گی۔

انھوں نے کہا اس کے علاوہ حکومت کچھ ذرائع سے بھی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے سوچ رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کو بھی اس سلسلے میں انگیج کیا ہے۔

SOURCE : BBC