Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا...

سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا

25
0

SOURCE :- BBC NEWS

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کی بس شروعات ہے۔

نہ تو کوئی عارضی جنگ بندی اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ہمیں اس قبل از جنگ دور میں واپس لے جا سکے گا، جب گیس اور سستا تیل پانی کی طرح میسر تھے، کاروبار پھل پھول رہے تھے اور گھریلو آمدن، چاہے جیسے بھی تھی۔۔۔ بڑھ رہی تھی۔

بحالی کا عمل طویل اور مہنگا ہوگا اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

1۔ یہ تیل کی قلت کا محض آغاز ہے

خلیجِ فارس کے ذریعے تیل لے کر جانے والے کسی بھی ٹینکر کو خریدار تک پہنچنے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ لگتا ہے۔ جنگ شروع ہوئے ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے۔ اب جا کر دنیا کو تیل کی حقیقی قلت کا سامنا ہو گا کیونکہ آبنائے ہرمز اس تمام عرصے کے دوران مؤثر طور پر بند رہی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ ’اپریل مارچ سے کہیں بدتر ہوگا۔ محتاط اندازوں کے مطابق بھی قلت دگنی ہو جائے گی۔‘

آئل ٹینکر

،تصویر کا ذریعہFuture Publishing via Getty Images

آئی ای اے کے سربرا کا کہنا ہے کہ اس قلت کا نتیجہ ’مہنگائی اور معاشی نمو کی سست روی کی صورت میں نکلے گا۔ اور حالات مزید بدتر ہوسکتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں جلد ہی ایندھن کے استعمال کو محدود (راشن بندی) کرنا پڑ سکتی ہے۔‘

ایران میں جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، حالانکہ ٹینکر وہی مقدار اتار رہے تھے جو وہ جنگ سے پہلے برآمد کر رہے تھے۔ اب، جب حقیقی طور پر تیل کم ہو گیا ہے، تو قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آئیں گی، چاہے ایران فوری طور پر آبنائے کو دوبارہ کھول دے۔

مثالی حالات میں بھی سپلائی بحال ہونے میں مزید ایک سے ڈیڑھ ماہ لگے گا۔ لیکن عملی طور پر یہ قلت کئی ماہ تک برقرار رہے گی، شاید 2026 کے اختتام تک۔ امریکی محکمۂ توانائی کے شماریاتی ادارے (ای آئی اے) کا بھی یہی اندازہ ہے۔

زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ تیل کا مسئلہ تو نسبتاً آسان ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن قائم ہو جائے تو سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک تیزی سے اس کی پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔

لیکن گیس کے معاملے میں صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

ایل پی جی سلنڈر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

2 ۔ تیل کے بحران سے کہیں زیادہ سنگین گیس کا مسئلہ ہے

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جنگ سے پہلے دنیا تیزی سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی جانب منتقل ہو رہی تھی تاکہ پائپ لائنوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ جسے روس نے یورپ پر دباؤ ڈالنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا، اور اسی طرح 2022 کا پچھلا عالمی توانائی بحران پیدا ہوا تھا۔

گیس سستی ہوتی جا رہی تھی، یہ استعمال میں کوئلے سے صاف، اور عالمی توانائی کے ذرائع میں اس کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ لیکن ایران کی جنگ نے واضح کر دیا کہ یہ سارا عمل کتنا نازک تھا۔

جنگ سے پہلے قطر ایل این جی کی 21 فیصد سپلائی فراہم کر رہا تھا جو مجموعی عالمی گیس مارکیٹ کا تقریباً 17 فیصد بنتا ہے۔ اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔

آئی ای اے کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق گیس صنعت کی مجموعی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ’ایل این جی کو قابلِ اعتماد، سستی اور لچک دار آپشن کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ لیکن پہلے 2022 میں روسی گیس اور اب قطری گیس۔۔۔ یہ سب کچھ اس بیانیے کے خلاف جا رہا ہے۔‘

مائع گیس کی سپلائی کو تیزی سے بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ قطر سے سمندری راستے کے ذریعے اس کی ترسیل کے لیے کوئی متبادل راستے موجود نہیں ہیں، جبکہ تیل بدستور زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے برآمد کیا جا رہا ہے۔

مزید یہ کہ مستقبل بھی کافی غیر یقینی ہے۔ اور اس کے باعث آنے والے کئی مہینوں تک گیس کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔ جنگ کے باعث قطر کو نہ صرف اپنی نئی متوقع پیداواری صلاحیت مؤخر کرنی پڑی ہے بلکہ اس کی موجودہ پیداواری صلاحیت بھی کم ہو گئی ہے۔

یہی وہ تیسری وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا ایک طویل بحران کی پیش گوئی کر رہی ہے۔

3 ۔ صرف رکاوٹیں نہیں بلکہ تباہی بھی

ٹینکرز اور گیس بردار جہازوں کے لیے آبنائے کھول دینا ایک بات ہے، لیکن ڈیڑھ ماہ کی بمباری سے تیل و گیس کی فیلڈ اور دیگر تنصیبات کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے بعد پہلے جتنی پیداواری صلاحیت بحال کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں تیل اور گیس کی 40 سے زائد تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

بحرین

،تصویر کا ذریعہReuters

سب سے زیادہ نقصان قطر کے راس لفان میں واقع گیس کمپلیکس کو پہنچا۔ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی پلانٹ کی 17 فیصد صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔

اس پلانٹ میں استعمال ہونے والے آلات مخصوص نوعیت کے ہوتے ہیں اور انھیں حسبِ ضرورت تیار کیا جاتا ہے۔ قطری حکام کے مطابق اس کی مرمت میں مہینے نہیں بلکہ تین سے پانچ سال تک لگیں گے۔

ایسے ہی کچھ مسائل دیگر ممالک میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق میں آئل ریفائنریز، آئل فیلڈز اور دیگر توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کی مرمت میں مہینوں کا وقت اور اربوں ڈالرز درکار ہوں گے۔

جنگ سے پہلے یہ رقوم عالمی توانائی کی سپلائی کو بڑھانے اور اسے وسعت دینے کے لیے استعمال ہوتی تھی مگر اب یہ رقم تباہ شدہ تنصیبات کی بحالی پر خرچ ہو گی۔ یہی عالمی بحران کے طویل ہونے کی چوتھی وجہ ہے۔

4 ۔ پیسہ نہیں ہے

جنگ سے پہلے خلیجِ فارس کے ممالک دنیا کی بڑھتی آبادی اور معیشت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیداوار میں اضافے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ توانائی استعمال کرنے والے ممالک کو توقع تھی کہ تیل وافر مقدار میں دستیاب رہے گا اور گیس کی سپلائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا۔

لیکن اب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، قطر اور خطے کے دیگر ممالک اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے سرمایہ تیل، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کو جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس لانے پر خرچیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لیے ایک اضافی خرچہ مستقبل کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اسلحے کی خرید کا ہو گا۔

صارفین کو بھی زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گی۔ اس کی وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے علاوہ جوہری توانائی، شمسی و پن بجلی، بیٹریوں اور حتیٰ کہ کوئلے جیسے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری ہو گی۔ اس کے علاوہ گھریلو صارفین اور صنعتوں کو دی جانے والی سبسڈیز بھی اثرانداز ہوں گی۔

مزید یہ کہ کووڈ-19 اور روس کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پچھلے دو تیل و گیس کے بحرانوں کے برعکس، اس بار صارف ممالک کے پاس موجودہ نسل کی مدد کے لیے مستقبل کی نسلوں سے مزید قرض لینے کے مواقع کم ہیں۔

کچھ ممالک میں فیول کوٹہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

گذشتہ دو مرتبہ جب ایندھن کے بحران نے سر اٹھایا اُس وقت مہنگائی کے علاوہ سرکاری قرض اور بجٹ خسارہ بھی آج کے مقابلے میں کہیں کم تھا۔

اس بار حکمرانوں کو دوہری مشکل کا سامنا ہے: سست ہوتی معاشی ترقی ٹیکس آمدنی کو کم کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں حکومت کی کاروباروں اور گھرانوں کو بجٹ سبسڈی کے ذریعے مدد دینے کی صلاحیت بھی کم ہو رہی ہے، جبکہ تیزی سے بڑھتی مہنگائی شرح سود میں کمی کے ذریعے دی جانے والی مدد کے امکان کو بھی ختم کر رہی ہے۔

مزید یہ کہ اس بحران کے دوران کئی ممالک سٹریٹیجک تیل کے ذخائر استعمال کر کے گویا آنے والی نسلوں سے پہلے ہی قرض لے چکے ہیں۔ یہ قرض واپس کرنا پڑے گا اور یہی پانچواں مسئلہ ہے۔

5 – محدود قدرتی ذخائر

مارکیٹ میں تیل کی قلت کم کرنے کے لیے مغربی ممالک نے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا اور اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں اس حد تک نہیں بڑھیں جتنی بڑھ سکتی تھیں۔

یاد رکھیے کہ دنیا کی یومیہ تیل کی کھپت تقریباً 10 کروڑ 50 لاکھ بیرل ہے۔ ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔ مغربی ممالک کے سٹریٹیجک ذخائر سے خام تیل جاری کر کے روزانہ 30 سے 40 لاکھ بیرل کی کمی پوری کی گئی۔ اس کے علاوہ چین کے ذخائر اور امریکہ کی جانب سے ایرانی اور روسی آف شور تیل سے پابندیاں اٹھائے جانے کے نتیجے میں اضافی تیل مارکیٹ میں آیا۔

یہ اقدامات چار سے پانچ ماہ تک جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد کسی نہ کسی مرحلے پر ان ذخائر کو دوبارہ بھرنا پڑے گا۔

تیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر روسی حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے دوران امریکہ کے سٹریٹجک ذخائر سے تیل مارکیٹ میں فروخت کرنے پر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے ذخائر دوبارہ بھرنے کا وعدہ تو کیا، لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اس بار تو صورتِ حال یہ ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے، اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کو تیل کی قیمتوں میں توازن کا انتظار کیے بغیر اپنے سٹریٹیجک ذخائر کو بتدریج دوبارہ بھرنا پڑے گا۔

یہ نہ صرف قانون بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت بھی ضروری ہے۔

سٹریٹجک ذخائر کی بحالی سے تیل کی قیمتوں کو سہارا ملے گا اور توانائی بحران کا دورانیہ مزید طویل ہو جائے گا۔ اور یہ ایران کے ساتھ ٹرمپ کی جنگ کا واحد طویل المدتی نتیجہ نہیں ہے۔

6 ۔ جنگ دوبارہ چھڑنے کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ کو توانائی کے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن یہ تصور اب کمزور پڑ رہا ہے۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ امریکہ اور ایران کی موجودہ مذاکراتی پوزیشنوں کے باعث یہ تنازع کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔

اس جنگ نے محفوظ اور بااعتبار سپلائی کے تصور کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطرات کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑ رہا ہے بلکہ انشورنس اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی محکمۂ توانائی نے خبردار کیا ہے کہ ایک طویل عرصے تک یہ تمام عوامل توانائی کی قیمتوں میں شامل ہو کر صارفین تک منتقل ہوتے رہیں گے۔

محکمہ توانائی نے 2026 کے بقیہ مہینوں کے لیے جاری اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں سپلائی چین کو لاحق خطرے کے باعث ایک اضافی پریمیم شامل رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بھی مسائل حل ہونے میں وقت لگے گا، اور مستقبل میں سپلائی میں رکاوٹوں کا امکان ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گا جو تیل کی قیمتوں کو بلند رکھے گا۔

مسئلہ صرف ہرمز تک محدود نہیں۔ حوثی اب بھی بحیرۂ احمر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اور دنیا کے سمندروں میں ایسے کئی دیگر تنگ راستے موجود ہیں جنھیں ڈرونز سے لیس ایران کے حامی گروہ یا ممالک نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عالمی توانائی ایجنسی یا آئی ای اے کا ادارہ 1970 کی دہائی میں پیدا ہونے والے بڑے تیل بحران کے بعد تیل استعمال کرنے والے امیر ممالک نے قائم کیا تھا۔

آئی ای اے کے سربراہ کہتے ہیں کہ دنیا کو ایران کی جنگ کو جتنی سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ 1970 کی دہائی کے بحران کے نتیجے میں خام مال کی قلت، مہنگائی، معیارِ زندگی میں کمی، اور سماجی و سیاسی ہلچل جیسے مسائل پیدا ہوئے تھے۔

فاتح بیرول کو خدشہ ہے کہ اس بار حالات اس سے بھی کہیں بدتر ہیں۔

’اب تک ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، لیکن یہ بحران یورپ اور دیگر خطوں تک بھی پہنچے گا۔‘

جنگ کے پہلے تین ہفتوں تک بیرول نے کوئی بیان نہیں دیا اور اپنے ماتحتوں کو بھی کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے روکے رکھا۔ لیکن گذشتہ دو ہفتوں سے وہ مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔

’میں نے محسوس کیا ہے کہ یورپ اور دنیا بھر کے حکام مسئلے کی سنگینی اور اس کے نتائج کو نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی کم خطرناک سمجھ رہے ہیں۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ اعداد و شمار ان کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔‘

’ہم تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

SOURCE : BBC