SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہgettyimages
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے حوالے سے ‘بہت اچھا کام’ کر رہے ہیں۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے کے دور کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور برطانیہ اور روس سمیت متعدد ممالک مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
خود امریکی نائب صدر بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کی نفی نہیں کر رہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’بہت پیشرفت ہوئی۔‘
لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم شاید کسی معاہدے تک پہنچنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی تو سوچا گیا کہ ’انھیں تہران واپس جانے دیا جائے اور ہم امریکہ واپس چلے جاتے ہیں۔‘
اُن کے مطابق ایران کو لچک دکھانا ہو گی اور اُن ’اہم نکات‘ کو تسلیم کرنا ہوگا جن کا امریکہ مطالبہ کر رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا: ’اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔‘
امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد تصدیق کی تھی کہ وہ کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ جب وہ ’اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت‘ کے قریب پہنچے تو انھیں (امریکہ کی طرف سے) ’ضد، اہداف میں بار بار تبدیلی اور (آبنائے ہرمز کی) ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب اس وقت برطانیہ اور روس بھی قریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس تنازع کو سفارتی کوششوں سے حل کریں۔
برطانیہ کے نائب وزیرِ اعظم ڈیوڈ لیمی نے امریکی نائب صدر اور وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کی توجہ ’جنگ بندی کی حمایت اور اسے برقرار رکھنے، اور اسے ایک پائیدار امن معاہدے میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔‘
دوسری جانب روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی کاروف نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بات کی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق: ’روس نے ایران سے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور ایسے حل تلاش کرنا ضروری ہے جن سے تنازع کی جڑ ہی ختم کی جا سکے اور خطے میں طویل المدتی استحکام قائم ہو۔‘
ان تمام اطلاعات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بی بی سی اردو نے پاکستانی حکومتی عہدیداروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے پاس ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے کیا معلومات موجود ہیں؟
پاکستانی حکام ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پُر امید
بی بی سی اردو نے پاکستان کے دفترِ خارجہ سے متعدد مرتبہ اس کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ دو حکومتی عہدیداروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ جلد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پُرامید ہیں۔
پاکستانی وزیرِ اعظم، وزیرِ خارجہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ ایک عہدیدار کہتے ہیں کہ ’مذاکرات (دوسرا دور) تو ہونے ہیں، لیکن وہ کیسے ہوں گے اور ان کی شکل کیا ہو گی یہ معاملات دیکھ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مقصد یہی ہے کہ مستقل جنگ بندی کروائی جائے، جس سے دیرپا امن قائم ہو۔‘
،تصویر کا ذریعہPM Office

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب ایک اور حکومتی عہدیدار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت ابھی بھی ہو رہی ہے اور امید ہے کہ پاکستان اور اس کے شراکت دار ممالک کی کوششوں سے جلد ہی مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد ہی ہو گا۔‘
بی بی سی اردو کو ایک ایرانی سفارتکار نے بتایا کہ ’مذاکرات کا اگلا دور تو ہونا چاہیے، لیکن کب اور کہاں ہو گا اس حوالے سے ابھی تک کچھ معلومات میسر نہیں ہیں۔‘
خیال رہے اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز سمیت متعدد غیرملکی ادارے یہ رپورٹ کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیم رواں ہفتے ایک بار پھر پاکستان بات چیت کے لیے آ سکتی ہیں۔
بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
گذشتہ ہفتے سنیچر کو جب ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا تھا تو ان کے ساتھ ایران کے سرکاری میڈیا کے صحافی بھی موجود تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سرکاری میڈیا کو کسی بھی دورے سے قبل ان معاملات پر حکومت کی جانب سے بریف کیا جاتا ہے۔
تاہم بی بی سی کو ایرانی میڈیا سے منسلک ایک صحافی نے بتایا کہ انھیں اب تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان پیغامات کا تبادلہ تو ہوا ہے لیکن کسی معاہدے پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی ’کوئی معلومات‘ موجود نہیں ہے۔
مذاکرات اور رازداری
پاکستان بطور ثالث ان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس کی جانب سے اس سے متعلق تفصیلات سے متعلق رازداری برتی جاری ہے۔
اسلام آباد میں سنیچر کو ہونے والے مذاکرات سے قبل بی بی سی اردو کو متعدد مقامی صحافیوں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انھیں حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ’کسی بھی پاکستانی سرکاری ذرائع کی طرف سے قیاس آرائی پر مبنی معلومات اس اہم موقع پر نشر کرنے سے گریز کریں۔‘
جب ایک حکومتی عہدیدار سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ان نامعلوم ذرائع کی بات کر رہے ہیں حو فیک نیوز پھیلاتے ہیں۔‘
اس سے قبل بھی اسلام آباد میں مذاکرات کا اعلان پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، ایرانی اور امریکی حکام نے ہی کیا تھا اور قوی امکان یہی ہے کہ یہ ممالک مذاکرات کے دوسرے دور ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے سرکاری طور پر تصدیق کریں گے۔
SOURCE : BBC



