SOURCE :- BBC NEWS

مارچ کے مہینے میں انڈیا کی بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) کی ایک خاتون ملازمہ نے مہاراشٹر کے شہر ناسک میں پولیس کے پاس ایک شکایت درج کروائی، جس میں ریپ، جذباتی استحصال اور دھوکہ دہی کے الزامات لگائے گئے تھے۔
اس کے بعد اسی کمپنی سے متعلق مزید شکایات بھی سامنے آئیں، شکایت کرنے والوں میں بڑی تعداد ہندو خواتین کی تھی۔
ان کی شکایات میں کمپنی کے چند مسلم ٹیم لیڈرز اور ایک مسلم خاتون ملازمہ پر غیر مناسب رویہ اپنانے، ساتھیوں پر دباؤ ڈالنے اور مذہبی مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کے مطابق یہ رویہ سنہ 2022 سے 2026 کے درمیان مختلف اوقات پر سامنے آتا رہا۔
پولیس نے ٹی سی ایس کی آٹھ خواتین ملازمین کی شکایت پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ پولیس ریکارڈز کے مطابق ایف آئی آرز میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ بعض شکایت کنندگان پر نماز پڑھنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، گائے کا گوشت کھلایا گیا اور اسلام سے متعلق رسومات میں شامل ہونے کے لیے مجبور کیا گیا۔
شکایات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تمام چيزیں تنخواہ میں اضافے، ترقی اور ملازمت کے تحفظ جیسے فوائد کے ساتھ منسلک کی گئیں۔
ابتدا میں اس معاملے کو ایک کارپوریٹ ورک پلیس کی شکایت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، لیکن جلد ہی سوشل میڈیا اور انڈیا کے چند مرکزی ٹی وی چینلز نے اسے ’لو جہاد‘ اور ’کارپوریٹ جہاد‘ جیسے الفاظ کے ذریعے مذہبی اور سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا۔

ملزمان کون ہیں اور پولیس کیا کہہ رہی ہے؟
پولیس کے مطابق اس کیس میں اب تک نو مختلف ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔ شکایات کرنے والوں میں آٹھ خواتین اور ایک مرد شامل ہیں اور تمام شکایت کنندگان کا تعلق ٹی سی ایس سے بتایا جا رہا ہے۔
پولیس ریکارڈز کے مطابق جن افراد کو ملزم کہا جا رہا ہے ہے ان میں آصف انصاری، دانش شیخ، شفیع شیخ، شاہ رخ قریشی، رضا رفیق میمن، توصیف عطار، اشونی چینانی اور ندا خان شامل ہیں۔
حکام کے مطابق تمام سات مرد ملزمان اس وقت مجسٹریٹ کی تحویل میں ہیں جبکہ خاتون ملزمہ ندا خان کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تاحال مفرور ہیں۔
پولیس کے مطابق مارچ میں شکایت درج کروانے والی متاثرہ خاتون اور دانش شیخ نے ایک ہی کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔ دانش ایک کمپنی میں انجینیئر کے طور پر کام کرتے تھے۔ جولائی سنہ 2022 میں دونوں کے درمیان پہلی ملاقات ہوئی، جس کے بعد دانش نے ان سے شادی کی بات کی۔
شکایت کے مطابق اس کے بعد دانش کی جانب سے جنسی دباؤ اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات سامنے آئے۔ ایف آئی آر کے مطابق دانش کے مشورے پر خاتون نے اسی کمپنی میں انٹرویو دیا اور منتخب ہونے کے بعد وہاں کام شروع کیا۔
پولیس نے آٹھ خواتین ملازمین کی شکایت پر ناسک میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) قائم کی۔
ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (اب بھارتیہ نیائے سنہتا) کی دفعات 74، 75، 79، 299، 302 اور دفعہ 34 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان دفعات کا لبِ لباب یا تو خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے متعلق ہے یا مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے۔

الزامات کیا ہیں؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کیس میں ندا خان کا نام خاص طور پر بار بار میڈیا کوریج میں سامنے آیا۔ کئی ٹی وی چینلز اور رپورٹس میں انھیں ٹی سی ایس کی ایچ آر افسر بتایا گیا اور دفتر کے اندر مبینہ کارروائیوں کی ’سرغنہ‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔
تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات نے اس تاثر کو چیلنج کیا۔ ٹی سی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر کے کرتھِی واسن نے ایک تحریری بیان میں کہا: ’مس ندا خان، جن کا نام میڈیا میں بار بار ٹی سی ایس کی ایچ آر منیجر کے طور پر لیا جا رہا ہے، نہ تو ایچ آر منیجر ہیں اور نہ ہی وہ بھرتیوں سے متعلق کسی ذمہ داری پر فائز رہی ہیں۔ وہ کمپنی میں ایک پروسیس ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کی قائدانہ ذمہ داری نہیں تھی۔‘
ٹی سی ایس نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’ٹی سی ایس ہر قسم کی ہراسانی اور زبردستی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر طویل عرصے سے سختی سے عمل پیرا ہے۔ ہم ہمیشہ کام کی جگہ پر اپنے ملازمین کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بناتے آئے ہیں۔‘
کمپنی کے مطابق ناسک کے معاملے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی گئی اور جن ملازمین کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، انھیں انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔

ملزمان کا مؤقف
ملزمان کے اہلِ خانہ اور وکلا نے منظم ’گرومنگ‘ یا مذہب کی تبدیلی کی کوششیں کرنے سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
دانش شیخ کی والدہ تبسم شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’لڑکی کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں۔ دفتر میں صرف بات چیت ہوتی تھی، اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔‘
ملزم ملازمین میں سے ایک کی اہلیہ نے کہا: ’میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ان کی ایف آئی آر میں کہیں بھی تبدیلی مذہب یا اس نوعیت کے الزامات نہیں لگائے گئے۔ ایف آئی آر میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ مذاق کرتے تھے اور باتیں کرتے تھے۔ میڈیا جس طرح تبدیلی مذہب کا بیانیہ بنا رہا ہے، وہ سراسر غلط ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ پورا عمل انھیں ہراساں کرنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔
’بغیر کسی ثبوت کے ’مذہبی ریکٹ‘ اور ’تبدیلی مذہب‘ کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اگر غیر مناسب لمس ہوا ہوتا تو اس کے شواہد ضرور موجود ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو لڑکیاں تین چار سال تک اسی کمپنی میں کام نہ کرتیں۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے بے گناہ شوہر اور دیگر لوگوں کو بلا وجہ اس معاملے میں گھسیٹا گیا ہے اور زبردستی ہندو مسلم رنگ دیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’دانش اور شکایت درج کروانے والی خاتون گذشتہ چار برسوں سے سنجیدہ تعلق میں تھے، یہ صرف ٹی سی ایس ہی نہیں بلکہ پورا کیمپس جانتا تھا۔ دونوں بالغ ہیں اور ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا کسی کو حق نہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہRam Puniyani
ماہرین کی رائے
معروف مصنف اور انسانی حقوق کے کارکن رام پنیانی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’لو جہاد نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ کوئی تنظیم مسلم مردوں کو خواتین کو پھانسنے یا مذہب تبدیل کروانے کے لیے فنڈنگ نہیں کرتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آزاد معاشروں میں دوستی اور تعلقات مذہب، ذات اور کمیونٹی کی حدوں سے آگے بڑھتے رہتے ہیں، لیکن اس نظریے کو اس قدر عام ذہن کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ کبھی کبھار اس کا اثر قانونی عمل پر بھی پڑنے لگتا ہے۔
تمام ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں دی گئی ہیں، جن میں سے بعض کی ضمانت کی عرضیاں مسترد ہو گئی ہیں جبکہ بعضے درخواستوں پر سماعت ابھی ہونی ہے۔
اب جبکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے شہری حقوق کی تنظیموں نے احتیاط برتنے اور قانونی عمل کو مکمل ہونے دینے کی اپیل کی ہے۔
نئی دہلی میں قائم اے پی سی آر نے جمعرات کے روز ممبئی پریس کلب میں اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی۔ تنظیم کی پانچ رکنی ٹیم نے 4 اپریل کو ناسک کا دورہ کر کے الزامات سے متعلق زمینی حقائق جمع کیے تھے۔
انھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا: ’ایف آئی آرز کے مندرجات اور عوامی بیانات کا موازنہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تصدیق شدہ الزامات اور میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے بعض حصوں میں گردش کرنے والی تشریحات کے درمیان فرق ہے۔‘
انھوں نے رپورٹ میں مزید کہا: ’اس مرحلے پر اگرچہ اس نوعیت کے الزامات انفرادی شکایات کا حصہ ہیں، تاہم اب تک ایسا کوئی مواد قطعی سامنے نہیں آیا جو کسی منظم مذہبی سرگرمی کے وجود کو ثابت کر سکے۔‘
رپورٹ کے مطابق آجروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آرز کے درج ہونے سے قبل داخلی ذرائع کے ذریعے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔
’یہ پہلو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مبینہ واقعات اور رسمی رپورٹنگ میکنزم کے درمیان کسی خلا کا امکان ہو سکتا ہے، جس پر مناسب قانونی کارروائیوں کے دوران مزید غور و خوض کی ضرورت ہو سکتی ہے۔‘
SOURCE : BBC



