Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کہیں آپ کی یہ عادات چارجنگ کیبلز کی خرابی کا باعث تو...

کہیں آپ کی یہ عادات چارجنگ کیبلز کی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہیں؟

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

Charging Cables

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مائیکل پیکٹ چارجنگ کیبلز کے ساتھ اکثر اذیت ناک تجربات کرتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف میری لینڈ میں سینٹر فار ایڈوانسڈ لائف سائیکل انجینئرنگ کے بانی ہیں، جو ایک ایسی لیبارٹری ہے جہاں ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے گیجٹس بھیجتی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کیوں خراب ہو جاتے ہیں۔

پیکٹ نے مجھے بتایا ’ہم الیکٹرانکس مصنوعات کے لیے ایک مردہ خانے جیسے ہیں۔‘

اُن کی ٹیم نے یو ایس بی کیبلز کو ناقابلِ بیان اذیتوں سے گزارا ہے، انھیں توڑا، کھینچا اور بار بار پلگ اِن کیا۔ پھر وہ خراب ہو جانے والی کیبلز کو ایکس رے مشین کے نیچے رکھ کر نقصانات کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

میں نے پیکٹ کو ایک ایسے سوال کے ساتھ فون کیا جسے میں سادہ سمجھتا تھا: چارجنگ کیبل لپیٹنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

ساری زندگی میرا یقین رہا ہے کہ کیبلز کو ڈھیلے اور گول دائرے بنا کر لپیٹنا چاہیے، زیادہ زور سے نہیں کیونکہ ضرورت سے زیادہ دبانے یا الجھانے سے تاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

میرے جاننے والوں میں یہ خیال بہت عام ہے، اس لیے مجھے توقع تھی کہ مجھے اپنی کیبل لپیٹنے کی تکنیک کے حق میں کچھ سائنسی دلائل سننے کو ملیں گے۔ مگر اس کے برعکس مجھے پتا چلا کہ میں اور غالباً میرے جیسے لاکھوں لوگ بھی اپنا وقت ضائع کرتے رہے ہیں۔

پیکٹ کہتے ہیں کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

’ہم نے کچھ بڑی کمپیوٹر کمپنیوں کے لیے بھی کام کیا ہے، وہی جو آپ کے ذہن میں ہیں۔ ہم نے کیبلز کو غلط طریقے سے لپیٹنے کی وجہ سے کبھی کسی خرابی کا مشاہدہ نہیں کیا۔‘

Charging Cables

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بات میرے کیبل سے متعلق فلسفے سے اتنی متصادم تھی کہ میں نے دوسرے ماہرین سے بھی رابطہ کیا اور سب نے مجھے یہی بتایا: اپنی چارجنگ کیبلز کو جیسے مرضی لپیٹیں۔

تاہم، کچھ اور بری عادتیں ایسی ضرور ہیں جو میری کیبلز کی عمر کم کرتی رہی ہیں، ایسی باتیں جو میں دہائیوں سے روزانہ کرتا آ رہا ہوں۔ بے چاری تاریں، کاش مجھے یہ سب پہلے معلوم ہوتا۔

اچھی خبر یہ ہے کہ میں یہاں وہ سب کچھ آپ سے شیئر کر رہا ہوں جو میں نے سیکھا تاکہ آپ وہی غلطیاں کرنا چھوڑ دیں جو میں کرتا رہا ہوں۔

ہماری کیبلز ہمارے لیے سخت کام انجام دیتی ہیں، مگر ہم اکثر اس وقت تک ان کا احساس نہیں کرتے جب تک وہ کام کرنا بند نہ کر دیں اور ہم اپنے آلات چارج کرنے سے قاصر ہو جائیں۔

کیا یہ کیبلز تھوڑی سی قدر اور احترام کی مستحق نہیں؟ اور اگر آپ ابھی تک قائل نہیں ہوئے، تو جان لیجیے کہ اپنی کیبلز کا خیال رکھنا نہ صرف آپ کی جیب کے لیے بہتر ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی۔

اپنی کیبلز کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئیں

فکس اِٹ نامی الیکٹرانکس کمپنی کے شریک بانی کائل وینس کہتے ہیں کہ ’دنیا میں لوگوں کی دو اقسام ہیں: ایک وہ جو کیبلز خراب کر دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو ایسا نہیں کرتے۔‘

میں یہاں نہ چاہتے ہوئے بھی اس بات کا اعتراف کروں گا کہ میرا تعلق اس گروہ سے ہے جو کیبلز خراب کر دیتے ہیں۔

کائل مزید کہتے ہیں کہ ’جب کیبلز خراب ہوتی ہیں، تو تقریباً ہمیشہ اس جگہ سے ہوتی ہیں جہاں کیبل پلگ سے ملتی ہے۔‘

کیا آپ ایک مختصر سا تشریحی سبق لینے کے لیے تیار ہیں؟ آپ کی کیبلز کے اندر ننھی ننھی دھاتی تاریں ہوتی ہیں، جن پر انسولیشن لپٹی ہوتی ہے۔ دوسرے سرے پر یہ تاریں ایک کنیکٹر میں داخل ہوتی ہیں، جس کے آخر میں پلگ لگا ہوتا ہے۔ یہی وہ جوڑ ہے، جہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اگر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ جب آپ کیبل استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو کنیکٹر ایک اینکر کی طرح کام کرتا ہے اور سارا دباؤ تار کے آخری سرے پر ہی پڑتا ہے۔

Charging Cables

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایک پیپر کلپ کا تصور کریں۔ اگر آپ اسے بار بار ایک ہی جگہ سے موڑیں تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔

امریکہ میں ووسٹر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ کے شعبۂ مکینیکل اور مٹیریلز انجینئرنگ کے سربراہ رابرٹ ہائرز کہتے ہیں ’جب کسی چیز کو اس کی لچکدار حد سے آگے موڑا جاتا ہے تو ایٹمز کے درمیان بندھن ٹوٹتے اور دوبارہ بنتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی جگہ بدلتے ہیں۔‘

’اس عمل کے دوران نقائص کا ایک ذخیرہ بن جاتا ہے، جسے ڈِس لوکیشنز کہا جاتا ہے، جہاں ایٹمز درست قطار میں نہیں رہتے بالکل ایسے جیسے قالین پر پڑی شکنیں۔‘

جب ڈس لوکیشنز بہت زیادہ ہو جائیں تو دھات سخت ہو جاتی ہے، پھر وہ ٹوٹ جاتی ہے اور یوں آپ کا پیپر کلپ خراب ہو جاتا ہے۔ کیبل کے اندر موجود دھاتی تاریں بھی بالکل اسی اصول پر کام کرتی ہیں۔

امید ہے کہ آپ ان ایٹمز کے لیے بھی بُرا محسوس کریں گے اور ان عام غلطیوں میں سے کچھ سے بچنے لگیں گے۔

پیکٹ کہتے ہیں ’ایک کام جو بہت سے لوگ کرتے ہیں اور میں بھی کبھی کبھار سستی میں کر لیتا ہوں، وہ یہ ہے کہ پلگ نکالنے کے لیے کیبل کے لمبے حصے کو کھینچ لیتے ہیں۔ اس سے وہاں اضافی دباؤ پڑتا ہے، جبکہ اگر آپ صرف کنیکٹر کو پکڑ کر کھینچیں تو ایسا نہیں ہوتا۔‘

رابرٹ ہائرز کہتے ہیں کہ ایک بڑا مسئلہ ان کیبلز سے پیدا ہوتا ہے جو کام کے لیے بہت چھوٹی ہوتی ہیں۔

اگر آپ کیبل کو کھینچ کر ساکٹ تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپ اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یا اگر آپ خود کو بستر پر (یا کہیں بھی) فون پلگ اِن کیے ہوئے پاتے ہیں اور استعمال جاری رکھنے کے لیے کنیکٹر کو کھینچ رہے ہیں، تو آپ خود مصیبت کو دعوت دے رہے ہیں۔

کائل کہتے ہیں کہ ’ایک اور حرکت جو ہم لوگوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ فون کو پلگ اِن کرکے گاڑی کے کپ ہولڈر میں ٹکا دیتے ہیں تاکہ وہ کھڑا رہے۔ یوں فون پورا کا پورا کیبل پر ٹکا ہوتا ہے، اور گاڑی چلنے کے دوران جھٹکوں سمیت فون کے وزن کا سارا دباؤ اسی ایک جگہ پر پڑتا ہے۔‘

Charging Cables

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بات یہ ہے کہ لمبی اور بھاری کیبلز کو لپیٹنے کا طریقہ واقعی اہمیت رکھتا ہے۔ فلم یا آڈیو کے شعبے میں کام کرنے والے کسی بھی شخص سے پوچھ لیں، وہ آپ کو ’اوور انڈر‘ کیبل لپیٹنے کی تکنیک کے بارے میں بتائے گا، جس پر پیشہ ور افراد پورا یقین رکھتے ہیں۔

لیکن کائل اور دیگر ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ اصول آپ کی ہلکی پھلکی اور لچکدار چارجنگ کیبلز پر لاگو نہیں ہوتے۔

کنیکٹر کے ساتھ بدسلوکی

کائل کہتے ہیں کہ کیبلز کو بہت زیادہ زور سے لپیٹنا یقیناً ان کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن جب تک آپ کیبل کو کسی عجیب شخص کی طرح تیزی سے نہیں موڑ رہے یا لپیٹتے وقت کنیکٹر کو کھینچ نہیں رہے، یا اسے زبردستی موڑ نہیں رہے، تب تک خرابی پیدا نہیں ہوتی۔

آخرکار سارا مسئلہ کنیکٹر کے ساتھ بدسلوکی پر ہی آ کر ٹھہرتا ہے۔

رابرٹ ہائرز کہتے ہیں ’کیبل کے اس حصے کے ساتھ احترام سے پیش آئیں، تو یہ مجھ سے بھی زیادہ عرصہ چلے گی۔‘

لیکن یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے جب کیبلز پہلے ہی کام کے قابل ہوں۔ جن لوگوں سے میں نے بات کی، سب نے بتایا کہ مسئلے کی ایک بڑی وجہ سستی اور ناقص معیار کی کیبلز ہیں۔ شاید وہ نازک سی کیبلز خریدنا چھوڑ دینا بہتر ہو جو آپ کو پیٹرول پمپ سے چند ڈالر میں مل جاتی ہیں۔

مضبوط اور اعلیٰ معیار کی کیبلز میں سرمایہ کاری کریں گے تو انھیں بار بار بدلنے پر آپ کا خرچ بھی کم رہے گا۔

ایک بات جس پر توجہ دینی چاہیے وہ بریڈڈ (بُنی ہوئی) کیبلز ہیں، جن میں پلاسٹک کے بیرونی غلاف کے بجائے تاروں کے اوپر مضبوط کپڑا یا نائلون کی جالی بُنی ہوتی ہے۔

کائل کہتے ہیں ’یہاں تک کہ ایپل نے بھی اپنے تازہ ترین ماڈلز میں بریڈڈ کیبلز اپنائی ہیں، محض اس لیے کہ ان کی مضبوطی اور بُنے ہوئے غلاف کی حفاظتی صلاحیت کیبل کو زیادہ بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے۔‘

یہ سب باتیں بہت چھوٹی نوعیت کی معلوم ہوتی ہیں۔ کیبلز غالباً آپ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کا سب سے کم دلکش حصہ ہوتی ہیں۔ ان کا کام بس یہ ہوتا ہے کہ وہ درست طریقے سے کام کریں۔ اور اگر وہ کام کر رہی ہوں تو عموماً انھیں نظر انداز ہی کر دیا جاتا ہے۔

لیکن اگر آپ انھیں غلط انداز میں نظر انداز کریں گے تو وہ خاموشی سے آپ کے لیے ناکارہ ہو جائیں گی۔

SOURCE : BBC