SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
’ایران معاشی طور پر بِکھر رہا ہے۔‘
یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ اُن کا حالیہ بیان ہے۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے کیونکہ وہ ’پیسوں کے لیے ترس رہا ہے۔‘
امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور ’ایران کی فوج اور پولیس شکایت کر رہے ہیں کہ انھیں تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے تو ایران فوری طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
یہ اُس آبنائے ہرمز کی بات ہو رہی ہے جو بحری تجارت کا انتہائی اہم راستہ ہے اور ایران، امریکہ جنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے اس آبنائے کو بند کیا، تو امریکی صدر بارہا اسے کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے۔
ابتدا میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو بذریعہ طاقت کھلوانے کے لیے نیٹو ممالک سے مدد کرنے کا مطالبہ بھی کیا، لیکن اس حوالے سے ناکام رہنے پر خود امریکی افواج نے اس کی ناکہ بندی کر دی۔
ایران کی جانب سے ہرمز کی بندش امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے منسلک بحری جہازوں کے لیے تھی، تاہم امریکہ کی جانب سے کی گئی ناکہ بندی اُن تمام بحری جہازوں کے لیے ہے جو ایران کی بندرگاہوں کو جا رہے ہیں یا وہاں سے نکل رہے ہیں۔
21 اپریل کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بحری ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے ایسے 28 بحری جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا جو ایران جا رہے تھے یا ایرانی بندرگاہوں سے نکل رہے تھے۔
جب تک آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایران کے ہاتھ میں تھی، یہ اس کے پاس جنگ میں سب سے اہم پتہ تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق جب امریکہ نے بحری ناکہ بندی کا یہی قدم اٹھایا ہے تو سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا آبنائے ہرمز بند رکھنے کا داؤ اب ایران پر ہی الٹا پڑ گیا ہے؟
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہونے کے باوجود جنگ بندی تو برقرار ہے اور ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل امریکہ ناکہ بندی ختم کرے۔
ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے، جبکہ ٹرمپ یہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی عندیہ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ اور جنگ بندی کے باوجود، ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب نے بدھ (22 اپریل) کو تین مال بردار بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں اور دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔
یوں جہاں تک آبنائے ہرمز کا تعلق ہے تو وہاں نہ تو معاملات سلجھتے نظر آتے ہیں، اور نہ ہی آگے بڑھتے نظر آتے ہیں۔
’ناکہ بندی بمباری سے مختلف نہیں‘
،تصویر کا ذریعہCENTCOM

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور اسے معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ ٹرمپ اس بندش کو ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں اور ہتھیار کے طور پر ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کا مطلب ہے ’وہ جنگ ہار رہے ہیں۔‘
ٹرمپ کے مطابق ’چار روز پہلے چند لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے، لیکن اگر ہم نے ایسا کر دیا تو کبھی بھی ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہو سکے گی۔‘
ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کو پیسے نہیں کمانے دیں گے، (ایسا نہیں ہو سکتا کہ) وہ جس کو پسند کرتے ہیں اسے تیل فروخت کریں اور جن کو ناپسند کرتے ہیں ان کو نہیں۔‘
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ’ناکہ بندی کا تسلسل (ایران پر) بمباری سے مختلف نہیں۔‘
اب سوال یہ ہے کہ امریکہ کی یہ معاشی چال کیا واقعی وہ ترپ کا پتہ ہے جو ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے؟
ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران کو پہنچنے والے معاشی نقصان کا تخمینہ کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران روزانہ 30 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جو دنیا کی تیل کی مجموعی پیداوار کا تین فیصد ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2023 تک ایران کے خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد چین جا رہا تھا۔
اب بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران یہ تیل برآمد نہیں کر پا رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کہہ چکے ہیں کہ ’چند ہی دنوں میں ایران کے خارگ جزیرے پر واقع تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات مکمل طور پر (تیل سے لبریز) ہو جائیں گی اور ایران کو نہ چاہتے ہوئے بھی تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں گے۔‘
تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی تیل کی برآمدات مکمل طور پر بند ہو جائیں تو بھی وہ دو ماہ تک برداشت کر سکتا ہے، بلکہ پیداوار میں کمی کر کے یہ سلسلہ مزید ایک ماہ جاری رکھ سکتا ہے۔
میکس بوٹ خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار ہیں۔ تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے لیے اپنے ایک مضمون میں انھوں نے امریکی محکمہ خزانہ سے منسلک رہنے والے ایک ماہر میڈ مالیکی کے حوالے سے بتایا کہ بحری ناکہ بندی سے ایران کو لگ بھگ ماہانہ 13 ارب ڈالرز کا نقصان ہو گا۔
مضمون کے مطابق ’ایران کی برآمدات کا 80 فیصد تیل اور گیس پر مشتمل ہے اور ملکی معیشت میں اِن برآمدات کا حصہ تقریباً 24 فیصد ہے۔‘
امریکی ناکہ بندی سے یہ برآمدات یقینی طور پر متاثر ہو رہی ہیں، نتیجتاً ایران کی پہلے سے بدحال معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
روسی میڈیا سے گفتگو میں ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کہہ چکی ہیں کہ ’ابتدائی اور محتاط اندازے کے مطابق (جنگ سے) اب تک ہونے والا نقصان تقریباً 270 ارب ڈالر بنتا ہے، تاہم اس رقم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔‘
عسکری کارروائیوں کے بجائے معاشی دباؤ
،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
میکس بوٹ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ معاشی نقصان برداشت کرنے کی طاقت، امریکہ کے مقابلے میں ایران کے پاس کم ہو گی۔ تاہم ان کی دلیل ہے کہ ایران تو پہلے ہی معاشی پابندیوں کا شکار ہے اور اس کا عادی بھی ہے، لیکن اس جنگ کے جو اثرات امریکی معیشت پر پڑیں گے، وہ امریکی صدر کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
میکس بوٹ کے مطابق: ’ایران میں موجود آمریت کئی سال سے معاشی پابندیاں برداشت کر رہی ہے اور وہاں اگر کوئی مظاہرے ہوئے ہیں تو انھیں سختی سے کچل دیا گیا ہے۔ جبکہ امریکہ میں جمہوریت ہے، وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو ری پبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔‘
اسامہ رضوی امریکہ میں انرجی مارکیٹ انٹیلیجنس فرم پرائمری وژن سے منسلک گلوبل مارکیٹ اینڈ پروڈکٹ سٹریٹیجسٹ ہیں۔ عام فہم الفاظ میں انھیں ماہر امور توانائی بھی کہا جا سکتا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ ہرمز کی ناکہ بندی پر مبنی امریکی حکمت عملی طویل عرصے تک کام نہیں کرے گی، کیوںکہ ایران متبادل راستے اختیار کر لے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسامہ نے بتایا کہ ’ایران نے اپنے کافی سارے آپریشنز پہلے ہی جسک بندرگاہ پر منتقل کر دیے ہیں۔‘
نقشے پر دیکھا جائے تو جسک پورٹ آبنائے ہرمز کے مشرق میں، خلیجِ عمان کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ مقام آبنائے ہرمز کے داخلی راستے سے دور ہے اور اسے آبنائے پر ہونے والی کسی ممکنہ کشیدگی کے دوران نسبتا محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔
اسامہ رضوی نے ایران کی ایک اور حکمت عملی کے بارے میں بھی بتایا، جس کے تحت بہت سا تیل پہلے ہی کھلے سمندر میں پہنچایا جا چکا ہے۔
اسامہ نے کہا: ’کچھ ہفتے پہلے سے ہی ایران نے اپنا کافی زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے نکال کر فلوٹنگ سٹوریج پر شفٹ کر دیا ہے۔‘
مگر فلوٹنگ سٹوریج کیا ہوتی ہے؟
اسامہ رضوی کے مطابق ’فلوٹنگ سٹوریج‘ سے مراد وہ تیل ہے جو سمندر میں موجود کسی بڑے تیل بردار بحری جہاز میں ذخیرہ کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے ’ڈارک فلیٹس (بحری بیڑوں)‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
’شیڈو‘ یا ’ڈارک فلیٹ‘ وہ تیل بردار جہاز ہوتے ہیں جو پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنی شناخت اور مقام ظاہر کرنے والے نظام بند کر دیتے ہیں۔ یہ جہاز اکثر پرچم بدل کر، راستے میں تیل ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کر کے، یا جعلی کاغذات کے ذریعے ایرانی تیل عالمی منڈی تک پہنچاتے ہیں۔
اس طرح ایران بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود خاموشی سے تیل برآمد کرتا رہتا ہے۔
اسامہ رضوی کا کہنا ہے کہ اندازوں کے مطابق ایران کا تقریباً 14 سے 15 کروڑ بیرل تیل فلوٹنگ سٹوریج پر ہے۔
،تصویر کا ذریعہCentcom
جبکہ پاکستان میں موجود تجزیہ کار محمد علی سمجھتے ہیں کہ ایران طویل عرصے تک یہ معاشی دباؤ برداشت نہیں کر پائے گا۔
ان کے مطابق امریکی صدر چونکہ خود بھی ایک ماہر کاروباری شخص ہیں، تو جب انھوں نے دیکھا کہ ایران کے خلاف روایتی جنگ سیاسی اور معاشی اعتبار سے امریکہ اور خود صدر ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کے لیے ٹھیک نہیں، تو ’انھوں نے حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی۔‘
محمد علی کے مطابق، امریکی صدر نے ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں تو روک دی ہیں لیکن معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
بی بی بی سے بات کرتے ہوئے محمد علی کا کہنا تھا کہ امریکہ طویل مدت تک بغیر کوئی نقصان اٹھائے یہ حکمت عملی جاری رکھ سکتا ہے۔
محمد علی کے خیال میں آبنائے ہرمز بند کرتے ہوئے ایران نے یہ سوچا تھا کہ جب اس راستے سے عرب ممالک کی تجارت بند ہو گی تو وہ امریکہ پر جنگ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈٓالیں گے۔ لیکن بحری ناکہ بندی کے بعد ’ایرانی قیادت یقینی طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہو گی کہ عرب ممالک پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ان کے اپنے مفاد میں نہیں۔‘
بی بی سی سے گفتگو میں تجزیہ کار محمد علی کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران اپنے ’سخت گیر سفارتی مؤقف پر نظر ثانی پر مجبور ہو جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار چین تھا، تو ایرانی سپلائی میں بندش چین کی انرجی سکیورٹی کے لیے بھی نقصاندہ ہو گی ’جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا۔‘
محمد علی کو توقع ہے کہ ’چین بھی ایران پر لچک کا مظاہرہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔‘
ایرن ڈیوڈ ملر، کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینیئر فیلو ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’آبنائے ہرمز سے کچھ بھی گزر نہیں رہا، اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے۔‘
اسرائیلی عسکری ماہر ڈیوڈ گینڈل مین کے مطابق ’جب قارئین یہ سوال کرتے تھے کہ کیا امریکہ فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکتا ہے، تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا تھا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنا، دوسروں کے لیے اسے کھولنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ امریکیوں نے بھی اب اس مساوات کو سمجھ لیا۔‘
SOURCE : BBC



