Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کسٹمز کے گودام میں آگ جو اربوں روپے کی گاڑیاں نگل گئی:...

کسٹمز کے گودام میں آگ جو اربوں روپے کی گاڑیاں نگل گئی: ’گاڑیوں کا اتنا نقصان تو ایران جنگ سے نہیں ہوا ہو گا‘

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

بلوچستان، کسٹمز

عمر دین کھیتران ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب ضلع مستونگ میں محکمہ کسٹمز کے ایک گودام میں لگنے والی آگ اور اس سے ہونے والی تباہی کو قریب سے دیکھا۔

عمر دین کے لیے لکپاس میں واقع گودام پر نقصان کی مالیت کے حوالے سے اندازہ لگانا مشکل تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہاں آگ سے ’بہت بڑی تباہی ہوئی ہے۔‘

اگرچہ تاحال محکمہ کسٹمز نے گودام میں موجود نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا تاہم گاڑیوں کی حد تک عمردین کا اندازہ تھا کہ وہاں آگ سے 200 سے زیادہ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

10 مئی کو گودام میں لگنے والی اس آگ کی بازگشت جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی جہاں اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی رحمت بلوچ کا کہنا تھا کہ جتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کو اس آگ سے نقصان پہنچا ہے شاید اتنا نقصان ’امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے گاڑیوں کا نہیں ہوا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ گودام میں آگ لگنے کے واقعے سے قبل محکمہ کسٹمز کوئٹہ میں اندازاً 60 کروڑ روپے مالیت کی چاندی کو سیسے سے تبدیل کرنے کا سکینڈل بھی سامنے آیا تھا۔

محکمہ کسٹمز کے حکام کی جانب سے گودام میں آگ لگنے کے واقعے کا مقدمہ ضلع مستونگ میں دشت پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرایا گیا ہے۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے اس آگ کے حوالے سے رولنگ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کو اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

بلوچستان، کسٹمز

آگ بجھانے والے عملے نے وہاں کیا دیکھا؟

لکپاس بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں ضلع مستونگ میں واقع ہے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہاں کوئٹہ کراچی ہائی وے پر محکمہ کسٹمز کا چیک پوسٹ اور بڑا گودام موجود ہے جہاں مختلف کارروائیوں میں پکڑی جانے والی غیر ملکی اشیا اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو رکھا گیا تھا۔

آگ لگنے کے بعد عمر دین کھیتران فائر بریگیڈ کوئٹہ کے عملے کے ان لوگوں میں شامل تھے جو اطلاع ملنے کے بعد سب سے پہلے پہنچے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ جب لکپاس پہنچے تو ہوا تیز ہونے کی وجہ سے نہ صرف آگ کی شدت بہت زیادہ تھی بلکہ یہ وسیع و عریض علاقے پر پھیلی ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید گاڑیاں منگوا کر آگ بجھانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا لیکن اس پر قابو پانے میں بہت زیادہ وقت لگا۔

آگ بجھانے کی کارروائیوں میں بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے 33 کارکنوں اور گاڑیوں نے بھی حصہ لیا۔

عمر دین کھیتران نے بتایا کہ گودام میں جہاں تیزی سے آگ پکڑنے والی اشیا موجود تھیں وہاں ایل پی جی کے ٹینکرز بھی تھے جن میں سے بعض کے پھٹنے سے دھماکے ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر عطااللہ مینگل نے بتایا کہ ایل پی جی ٹینکر کے پھٹنے سے 35 لوگ زخمی ہوئے جن میں سے 20 افراد کو 30 فیصد تک زخم آئے جبکہ سات کی حالت تشویشناک تھی۔

بلوچستان، کسٹمز

گودام میں آگ لگنے سے کتنا نقصان ہوا؟

آگ کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ جانے والے کوئٹہ کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ محکمہ کسٹمز کی جانب سے جو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے اس کے مطابق اس گودام میں غیر ملکی سگریٹ، چھالیہ، ٹائر، کپڑے، گاڑیاں اور پٹرولیم مصنوعات وغیرہ موجود تھیں۔

عمر دین کھیتران نے بتایا کہ ان کے لیے نقصان کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں لیکن ’وہاں میں نے بہت بڑی تباہی دیکھی۔‘

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری اہلکار نے بتایا اگرچہ واقعے کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے لیکن اس میں نقصان کا تخمینہ نہیں بتایا گیا۔

ان کے بقول ’مقدمے میں محکمہ کسٹمز کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ کولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد نقصانات کا تخمینہ تفصیلی معائنہ اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے ذریعے طے کیا جائے گا۔‘

تاہم سرکاری اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے وہاں جو مناظر دیکھے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نقصان اربوں روپے میں ہو سکتا ہے۔

جمعرات کو کسٹمز کے گوداموں میں آگ بھڑکنے کی بازگشت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی۔

حزب اختلاف کی جماعت نیشنل پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی رحمت بلوچ نے اس حوالے سے بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ آگ سے 15 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کسٹمز کے گودام میں آگ لگنے کے واقعے پر بحث کے دوران دو اراکین اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ یہ آگ لگی نہیں ہے بلکہ ’لگائی گئی ہے۔‘

انھوں نے اسے سازش قرار دیتے ہوئے سپیکر سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں انکوائری کمیٹی بنائیں اور اس میں اسمبلی اور عدلیہ کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ تاجروں کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے رکن اصغر ترین نے الزام عائد کیا کہ گاڑیوں کی مبینہ چوری کے بعد گودام میں آگ لگا دی گئی۔

نیشنل پارٹی کے رکن رحمت بلوچ نے بھی یہ کہا کہ ایک سازش کے تحت گودام میں آگ لگائی گئی۔

پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی کا کہنا تھا کہ چیف کلیکٹر کسٹمز کو اسمبلی میں طلب کرکے ان سے واقعے کے بارے میں بریفنگ لی جائے۔

تاہم سپیکر بلوچستان اسمبلی نے رولنگ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقاتی کمیٹی بنائیں جو 30 دنوں میں اپنی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز کی جانب سے جو مقدمہ درج کرایا گیا ہے اس میں دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ محکمہ کسٹمز کی درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ ’اس امر کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ مذکورہ واقعے میں دہشت گرد، شدت پسند یا منظم جرائم پیشہ عناصر ملوث ہوں جن کا مقصد سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانا، ریاستی املاک کو تباہ کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہوسکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مقدمے کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس پہلو سے بھی تحقیقات ناگزیر ہیں۔

بلوچستان، کسٹمز

آگ کے بعد لوٹ مار اور تاجروں کے نقصان کے ازالے کا مطالبہ

عمر دین کھیتران کے مطابق آگ کی وجہ سے چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد جل گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آگ کی تپش کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی تعداد کو گننا ان کے لیے ممکن نہیں تھا تاہم ان کا اندازہ یہ ہے کہ دو سو یا اس سے زیادہ گاڑیاں وہاں جل گئی ہیں۔

آگ کے بعد جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے سرکاری اہلکار نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ جلنے والی گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں ٹرک اور ایل پی جی کے ٹینکرز بھی شامل ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رحمت بلوچ نے کہا کہ جلنے والا سامان اور گاڑیاں یہاں کے تاجروں کی تھیں۔ ان کے کیسز عدالتوں میں تھے جبکہ بعض کیسز میں عدالتوں سے تاجروں کے حق میں ریلیز آرڈر بھی ایشو ہوئے تھے لیکن ان کا سامان اور گاڑیاں اس آگ میں جل گئیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ آگ کی وجہ سے تاجروں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔

آگ سے قبل کسٹمز کوئٹہ میں ساڑھے چار سو کلوگرام چاندی کو غائب کرنے کا سکینڈل منظر عام پر آگیا تھا۔

آگ لگنے کے اس واقعے سے قبل کوئٹہ میں محکمہ کسٹمز میں چاندی کے اینٹوں کو سیسے سے تبدیل کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔

محکمہ کسٹمز کے حکام کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران مختلف کارروائیوں کے دوران 688 کلو گرام چاندی پکڑی گئی تھی۔

اپریل کے مہینے میں جب پکڑی جانے والی چاندی کو پاکستان منٹ ہاؤس لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو کوئٹہ میں ان میں سے 450 کلوگرام چاندی کو سیسے سے تبدیل کیا گیا تھا۔

محکمہ کسٹمز کے حکام کے مطابق تبدیل کی جانے والی چاندی کی مالیت 60 کروڑ روپے کے لگ بھگ تھی۔

اس سکینڈل کے حوالے سے محکمہ کسٹمز کے دو افسروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ افسروں سمیت 6 اہلکاروں کو معطل کیا گیا۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری اہلکار نے بتایا کہ چونکہ گودام میں غیر ملکی قیمتی سامان موجود تھا اس لیے آگ کے بعد وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد لوٹ مار کے لیے جمع ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہاں پر موجود کسٹمز اور پولیس کے اہلکاروں سے معلومات حاصل کی تو انھوں نے بتایا کہ وہاں لوٹ مار کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کی تعداد پانچ چھ سو کے لگ بھگ تھی جن کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کو کارروائی کرنی بھی پڑی۔

انھوں نے بتایا کہ آگ کے دوران ایل پی جی ٹینکر کے پھٹنے کی وجہ سے جو لوگ زخمی ہوئے تھے ان میں لوٹ مار کے لیے آنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ کسٹمز حکام نے مقدمے کے اندراج کے لیے جو درخواست دی ہے اس میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ بعض نامعلوم افراد اور شرپسند عناصر موقع پر جمع ہوگئے اور سرکاری تحویل میں موجود سامان کو لوٹنے کی کوشش کے علاوہ امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی اور فائر فائٹنگ اور دیگر کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی۔

بلوچستان، کسٹمز

’تحقیقات کا دائرہ کار پولیس کا نہیں بلکہ کسٹمز اور ایف آئی اے کا ہے‘

اس واقعے کے حوالے سے محکمہ کسٹمز کے حکام سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطے کی متعدد بار کوشش کی گئی اور ان کو میسیج بھی بھیج دیا گیا لیکن انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ ہی میسیج کا جواب دیا۔

اس سلسلے میں مستونگ میں پولیس کے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے بات کرنے سے گریز کیا۔

اگرچہ مستونگ انتظامی لحاظ سے قلات ڈویژن کا حصہ ہے لیکن وہاں امن و امان کی مخصوص صورتحال کی وجہ سے حکومت نے پولیسنگ کے نظام کو ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس کوئٹہ کے ماتحت کر دیا ہے۔

جب اس حوالے سے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عمران شوکت سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لکپاس میں کسٹمز کے گودام کا دائرہ اختیار کسٹمز اور ایف آئی اے کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اگر کوئی تحقیقات کرنی ہے تو انہی دو اداروں نے کرنی ہے۔

SOURCE : BBC