Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں برطانیہ کا بدلتا سیاسی منظر نامہ کیا تارکینِ وطن کے لیے خطرے...

برطانیہ کا بدلتا سیاسی منظر نامہ کیا تارکینِ وطن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

مسلم ووٹرز

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

وقت اشاعت 2 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

گذشتہ ہفتے برطانوی سیاست میں کچھ ایسا ہوا جسے ماہرین ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

برطانیہ کے لوکل الیکشنز میں ملک میں دائیں بازو کی سیاسی جماعت ریفارم یو کے نے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔

ویسے تو جب مقامی سیاست اور لوکل باڈیز کے انتخابات کی بات آتی ہے تو سڑکوں کی مرمت، صفائی ستھرائی، مقامی کاونسل کی جانب سے ٹیکس جمع کرنا جیسی باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ لیکن اس دفعہ کے یہ مقامی حکومتوں کے انتخابات برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

ریفارم یو کے پارٹی کی مرکزی پالیسی اور سیاسی بیانیہ ملک میں آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے پر مرکوز ہے۔

گذشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات سے قبل ریفارم یو کے کے پاس گنتی کی کچھ نشستیں تھیں، اب انگلینڈ میں ان کی سیٹوں کی تعداد چودہ سو سے زیادہ ہیں۔ دوسری جانب بائیں بازو کی جماعت گرین پارٹی کو بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں۔ گرین پارٹی تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے حوالے سے زیادہ ہمدردانہ نظریہ رکھتی ہے۔

یعنی دو بالکل مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں اس الیکشن میں ابھر کر سامنے آئی ہیں جبکہ ملک کی دو بڑی جماعتوں، لیبر اور کنزرویٹوز، کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان انتخابات کا براہِ راست اثر نہ صرف برطانیہ میں مقیم افراد کی رہائش، لوکل سروسسز، کمیونِٹیز کی حفاظت پر پڑ سکتا ہے بلکہ اس بات پر بھی کہ تارکینِ وطن کے حوالے سے گلی کوچے میں کیا سوچا جا رہا ہے۔

برطانیہ الیکشن

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

کئی برسوں تک برطانیہ کو ایک ایسا ملک سمجھا جاتا تھا جہاں تارکینِ وطن کے لیے آنا اور سیٹل ہونا ایک محفوظ اور مستحکم آپشن تھا۔ لیکن اب یہ تاثر تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔

آفس فار نیشنل سٹیٹِسٹِکس کے مطابق لانگ ٹرم نیٹ مائگریشن، یعنی برطانیہ آکر مستقل رہائش اختیار کرنے والوں کی تعداد جو مارچ 2023 میں تقریبا ساڑھے نو لاکھ تک پہنچ گئی تھی، جون 2025 میں گر کر دو لاکھ کے قریب رہ گئی ہے۔

مارکیٹ ریشرچ کمپنی اِپساس کے مطابق فروری دو ہزار چھبیس میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 41 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ امیگریشن ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

اس تاثر کا ایک پہلو برطانیہ میں ہیٹ کرائمز یعنی نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہے۔

ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 میں ختم ہونے والے سال میں نسل پر مبنی ہیٹ کرائمز میں چھ فیصد اور مذہب پر مبنی ہیٹ کرائمز میں تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برطانیہ

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے ساتھ ساتھ پناہ گزینوں کے ہوٹلز (اسائلم ہوٹلز) اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تارکینِ وطن پر بھی بہت بحث ہو رہی ہے۔ یہ دونوں باتیں خاص طور پر دائیں بازو کی جماعتوں اور ان کے حامیوں کے لیے طاقتور سیاسی علامتیں بن چکی ہیں۔

چھوٹی کشتیوں کا معاملہ اب صرف بارڈر کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک بڑے بیانیے کا حصہ بنا دیا گیا ہے جس میں کنٹرول، انصاف، پبلک سروس پر دباؤ، اور قومی شناخت جیسے موضوعات شامل ہیں۔

اس سب کے علاوہ، انتہائی دائیں بازو سے وابستہ شخصیات، جیسے ٹامی رابنسن، پہلے سے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ٹامی رابنسن کی یونائٹ دی کِنگڈم جیسی بڑی ریلیز میں ہزاروں افراد کی شرکت تو دوسری طرف ملک بھر میں ان ہوٹلز کے باہر بھی چھوٹے بڑے احتجاج جہاں پناہ گزینوں کو رکھا گیا تھا۔

اور یہ بیانیہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا۔

اس کے علاوہ آن لائن بھی امیگریشن مخالف مواد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسٹِٹیوٹ فار سٹریٹیجِک ڈائیلاگ کی ایک تحقیق کے مطابق، 2024 میں برطانیہ میں اینٹی مائیگرنٹ ڈِسکورس میں 2023 کے مقابلے میں تقریبا نوے فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس حوالے سے تنقید صرف کسی ایک سیاسی جماعت، یا نظریے تک محدود نہیں بلکہ ہر رنگ کے سیاست دانون پر اس حوالے سے ان کے متنازع بیانات پر تنقید ہوئی ہے۔

مثال کے طور پر، وزیرِ اعظم کئیر سٹارمر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے کہا کہ برطانیہ ایک آئی لینڈ آف سٹرینجرز یعنی اجنبیوں کا جزیرہ بننے کے خطرے سے دوچار ہے۔

کچھ ناقدین نے اس جملے کو ماضی کے کنزرویٹو سیاست دان اینوخ پوول کی بدنامِ زمانہ رِورز آف بلڈ تقریر سے جوڑا جسے جدید برطانوی سیاسی تاریخ کی سب سے متنازع امیگریشن مخالف تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔

بعد ازاں وزیرِ اعظم نے کہا کہ انھیں یہ الفاظ استعمال کرنے پر افسوس ہے۔

ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ ریفارم یو کے کی اس جیت کے نتیجے میں ملک میں نسلی تعصب اور تارکینِ وطن مخالف بیانیے کی لہر کو تقویت مل سکتی ہے۔

’تارکینِ وطن کا معاملہ ایک طرح سے سماجی اور سیاسی فٹبال بن چکا ہے‘

یونیورسٹی آف لیورپول کے پروفیسر ایاز ملک کہتے ہیں کہ تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کا معاملہ ایک طرح سے سماجی اور سیاسی فٹبال بن چکا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے سوال پر کہ لوکل باڈیز کے انتخابات تارکینِ وطن کمیونٹیز کے لیے اتنے اہم کیوں ہیں، اور یہ برطانیہ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا بتاتے ہیں، ایاز ملک کا کہنا ہے کہ یہ بالکل عیاں ہے کہ پچھلے تقریباً 15 سالوں سے لیبر اور کنزرویٹیو، دونوں مرکزی جماعتوں، کے پاس عوام کے لیے کوئی سماجی یا معاشی پراجیکٹ نہیں جو ملک میں جاری معاشی بحران کو حل کر سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا جو معاملہ ایک آسان ہدف بن گیا ہے۔ ’یہ ایک سیاسی اور سماجی فٹبال بن گیا ہے۔‘

ایاز ملک کہتے ہیں کہ جب سے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اقتدار میں آئے ہیں، ان کا تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے حوالے سے بیانیہ اور پالیسیاں دائیں بازو کے بیانیے کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایاز ملک کہتے ہیں کہ جب سے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اقتدار میں آئے ہیں، ان کا تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے حوالے سے بیانیہ اور پالیسیاں دائیں بازو کے بیانیے کی عکاسی کرتی ہیں۔

وہ اسے ایک ناکام پالیسی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’ووٹرز تو یہ کہیں گے کہ اگر آپ بھی یہی کرنا چاہتے ہو تو ہم اصل والوں کو ووٹ کر دیتے ہیں، اور ہو بھی یہی رہا ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا واقعی میں تارکینِ وطن کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل ڈھونڈنے کی تمام جماعتیں کوشش کر رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں پر جو روز مرہ کی سروسز کا حال ہے، چاہے وہ پانی ہو، بجلی ہو، ریل کا نظام ہو، اس کا تارکین وطن اور پناہ گزینوں سے کوئی تعلق نہیں۔‘

اس کا تعلق تو اس چیز سے ہے کہ آپ نے نجکاری کر کے تمام سروسز کا رخ منافع کی طرف کر دیا ہے۔

’دفاعی بجٹ بڑھانے پر تمام برطانوی اور یورپی حکمران متفق ہیں، لیکن آپ لوکل کمینیٹیز، این ایچ ایس میں سرمایہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، مقامی حکومت میں بھی انویسٹمنٹ کرنے کو نہیں تیار۔‘

ان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر جو حکومتیں ہیں، کاؤنسلز کے پاس زیادہ مالی وسائل نہیں۔ لیکن ان کے خیال میں رفارم یو کے اقلیتوں اور نسلی تعصب کی شکار کمیونیز کے لیے نوکریوں اور تعلیم کے شعبے میں جو ریزرویشنز ہیں، وہ اس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ روز مرہ کی زندگی کی سطح پر جو نسل پرستانہ تعصب ہے، وہ غیر معمولی سے عمومی چیز بن رہی ہیں، اس کے تارکینِ وطن پر بہت فرق پڑے گا۔

’حکومت کرنا ریفارم یو کے کے لیے بھی ایک امتحان ہوگا‘

لندن کنگز کالج کی پروفیسر حمیرا کہتی ہیں کہ یہ ریفارم یو کے کے لیے بھی ایک امتحان ہوگا کیونکہ حکومت کرنا حزبِ اختلاف میں رہنے سے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔

حمیرا کے مطابق پچھلی تین دہائیوں میں نہ صرف انگلینڈ بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی معیارِ زندگی نیچے ارہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود برطانیہ کی دونوں بڑی پارٹیوں لیبر اور کنزرویٹو نے براہِ راست ان تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات نہیں کیے جس سے لوگوں کو لگے کوئی تبدیلی ا رہی ہے۔

برطانیہ الیکشن

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ان کا کہنا ہے کہ ریفارم یو کے اور گرین پارٹی کا ابھی امتحان نہیں ہوا ہے لیکن انھوں برملا طور پر اس مسئلے کو کافی حد تک اٹھایا ہے اور پھر ان کے پاس اس کے مختلف حل ہیں۔

حمیرا کہتی ہیں کہ ریفارم یو کے اور گرین پارٹی کے مجوزہ حل میں کافی فرق ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ریفارم یو کے پارٹی کو تارکین وطن کمیونٹیز میں کچھ سپورٹ حاصل ہے تاہم یہ اصل میں ان علاقوں میں مقبول ہے جہاں بریگزٹ کی حمایت زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ یہ جماعت سفید فام ورکنگ کلاس میں بھی کافی کامیاب رہی ہے۔

گرین پارٹی کے ووٹرز کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ انھیں مختلف رجحانات رکھنے والے لوگوں نے ووٹ دیے ہیں۔

ان کے مطابق کئی لوگوں نے گرین پارٹی کو غزہ کے معاملے پر ان کے موقف کی وجہ سے ووٹ دیے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے یہ ایک اشارہ تھا کہ گرین پارٹی کی برطانیہ کے حوالے سے باقی پالیسیاں کیسی ہوں گی۔

حمیرا کہتی ہیں کہ ان کا تارکینِ وطن کے حوالے سے موقف ریفارم یو کے سے متصادم ہے۔

ہمیرا کہتی ہیں کہ ریفارم یو کے بھی مکمل طور پر امیگریشن روکنے کی بات اس لیے نہیں کرتی کیونکہ انھیں اور ان کے حمایتیوں کو بھی پتہ ہے کہ امیگریشن اس ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ ریفارم یو کے کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن کے خلاف نہیں بکہ ایک کنٹرولڈ امیگریشن سسٹم چاہتے ہیں، اس کا پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک سے برطانیہ آنے والے افراد پر کیا اثر پڑے گا۔

حمیرا کہتی ہیں کہ ریفارم یو کے بھی مکمل طور پر امیگریشن روکنے کی بات اس لیے نہیں کرتی کیونکہ انھیں اور ان کے حمایتیوں کو بھی پتہ ہے کہ امیگریشن اس ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔

’ایسے میں پھر سوال اتا ہے کہ کتنی، کس قسم کی اور کتنی دیر کے لیے امیگریشن۔‘

ان کے خیال میں نئے انے والوں سے زیادہ اثر ان پر پڑے گا جو کہ پہلے سے برطانیہ میں موجود ہیں اور جن کی اب تیسری، چوتھی نسلیں ہیں یہ ان کے لیے یہ زیادہ پریشان کن ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ریفارم یو کے بھی اپنے بیانیے میں کو تھوڑری نرمی لائی ہے۔ ’پہلے جو باتیں زیادہ کھلے عام کہتے تھے اور کچھ ان کے کاؤنسلرز جو کہ منتخب ہوئے ہیں، انھوں نے اپنی متنازع ٹویٹس وغیرہ بھی ڈیلیٹ کی ہیں جس میں انھوں نے مسلمانوں، یہودیوں، سیاہ فام افریقی اور براؤن لوگوں کے بارے میں باتیں کی تھیں۔‘

وہ کہتی ہیں نسلی تعصب کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کو مقامی غیر سفید فام آبادی کے خلاف کوئی تبدیلیاں دکھتی ہیں تو اپ اس کو وہیں چیلنج کیجیے۔

SOURCE : BBC