Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں جوناس سالک: وہ سائنسدان جنھوں نے اپنے خاندان پر تجربہ کر کے...

جوناس سالک: وہ سائنسدان جنھوں نے اپنے خاندان پر تجربہ کر کے انسانیت کو پولیو سے بچایا

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’انسانیت کو اپنی پوری تاریخ کی روشن ترین خبروں میں سے ایک خبر ملی ہے‘، ایک امریکی رپورٹر نے اپریل سنہ 1955 میں کیے گئے ایک اعلان میں کہا۔

خبر میں کہا گیا کہ ’ڈاکٹر جوناس سالک پولیو کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

اس وہ وقت تھا جب پولیو ایک ایسی بیماری تھی جس سے نہ تو بچاؤ مُمکن تھا اور نہ ہی اس کا کوئی علاج اور یہ سب کے لیے یکساں طور پر خطرہ سمجھی جاتی تھی۔

12 اپریل 1955 کو ڈاکٹر جوناس سالک نے اعلان کیا کہ ان کی ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔ یہ ویکسین بے شمار جانیں بچانے والی ثابت ہوئی، لیکن انھوں نے اس سے منافع کمانے سے انکار کر دیا۔ سنہ 1982 میں سالک نے اپنے اس عظیم کارنامے کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کی۔

اسی رات ٹیلی ویژن پر انٹرویو کے دوران سالک سے پوچھا گیا کہ ویکسین کا پیٹنٹ کس کے پاس ہے۔ انھوں نے جواب دیا، ’میرا خیال ہے کہ عوام کے پاس۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کا کوئی پیٹنٹ موجود نہیں۔ کیا سورج کو پیٹنٹ کیا جا سکتا ہے؟‘

(پیٹنٹ یعنی کسی نئی چیز پر بنانے والے کا قانونی حق۔)

پولیومائیلائٹس یا پولیو صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ اور ایک ہنگامی صورتحال تھی۔ سنہ 1952 میں امریکہ میں اس بیماری کے ریکارڈ 57,628 کیسز سامنے آئے جو اور نظامِ تنفس اور ریڑھ کی ہڈی کی معذوری کا سبب بنتی ہے۔

مریضوں کو سانس لینے کے لیے بڑے دھاتی آلات، جنھیں ’سٹیل کے پھیپھڑے‘ کہا جاتا تھا میں رکھا جاتا تھا، یہ آلات اور ان کے ساتھ بچوں کی ٹانگوں میں استعمال ہونے والے آرتھوپیڈک بریسز پولیو کی مستقل علامت بن گئے تھے۔

لوگ گرمیوں کی آمد سے خوفزدہ رہتے تھے کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب اس بیماری کے پھیلاؤ کے واقعات زیادہ سامنے آتے تھے۔

پولیو کا خوف

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جہاں سالک اور اُن کی ٹیم نے اپنی ویکسین تیار کی پٹسبرگ کے اُس ہسپتال میں وارڈ نرس کے طور پر کام کرنے والی جوڈی زوگران کے مطابق تمام والدین اس بیماری کی علامات کو جانتے اور ان سے خوفزدہ رہتے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’وِٹنس ہسٹری‘ کو بتایا کہ ’کم عمر بچے ایک دن فٹبال کھیل رہے ہوتے تھے اور اچانک انھیں آئرن لنگ کی ضرورت پڑ جاتی تھی۔ انھیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے وہ چیختے تھے اور اگر ان کی ٹانگیں مفلوج نہ ہوتیں تو وہ وینٹی لیٹر کے کناروں پر لاتیں مارتے۔‘

اگرچہ ایک فیصد سے بھی کم انفیکشن فالج کا باعث بنتے تھے لیکن پولیو کے پھیلاؤ کی شدت کا مطلب یہ تھا کہ پھر بھی بڑی تعداد میں بچے آئرن لنگ کے اندر پہنچ جاتے تھے۔

وہ کئی دنوں، مہینوں بلکہ برسوں تک گردن سے نیچے تک اس کے اندر بند رہنے پر مجبور ہوتے تھے۔

زوگران جن مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں وہ اب بھی متعدی تھے اور انھیں اور دوسری نرسوں کو بتایا گیا تھا کہ ان کے لیے واحد تحفظ بار بار اور اچھی طرح ہاتھ دھونا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم ہر بار مریض کو چھونے کے بعد بلکہ اس سے بھی زیادہ بار اپنے ہاتھ دھوتے تھے اور مجھے یاد ہے کہ رات کو گھر واپس آتے وقت میرے ہاتھ مکمل طور پر زخمی اور پھٹے ہوئے ہوتے تھے۔‘

اگرچہ پولیو زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا تھا لیکن اس خطرناک مرض سے کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کے مستقبل کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ جو اُس وقت ایک ابھرتے ہوئے سیاسی رہنما تھے 39 سال کی عُمر میں سنہ 1921 میں اس وائرس کا شکار ہوئے تھے۔

اس بیماری نے انھیں زندگی بھر کے لیے کمر سے نیچے تک مفلوج کر دیا تھا۔

اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے پولیو کے خلاف جنگ کو اپنی ذاتی مہم بنا لیا اور سنہ 1938 میں ’مارچ آف ڈائمز‘ نامی ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جو پولیو کے خلاف کام کے لیے وقف تھا اور جس نے چندہ جمع کرنے کے روایتی طریقے کو بدل کر رکھ دیا۔

چند افراد سے بڑی رقوم لینے کے بجائے انھوں نے بہت سے لوگوں سے چھوٹی چھوٹی امداد کی اپیل کی اور یوں کروڑوں ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔

علاج کی دوڑ

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 1940 کی دہائی کے اختتام تک سائنس دان یہ ثابت کر چکے تھے کہ پولیو آنتوں کے ذریعے خون میں داخل ہوتا ہے۔

اسی دوران دو محققین ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں نمایاں طور پر سامنے آئے اور دونوں نے بالکل مختلف راستے اختیار کیے۔

کتاب ’پولیو: این امریکن سٹوری‘ کے مصنف ڈیوڈ ایم اوشنسکی کے مطابق سنسناٹی کالج آف میڈیسن میں شعبۂ اطفال کے پروفیسر ڈاکٹر البرٹ سیبن پہلے ہی دو دہائیوں سے پولیو وائرس پر تحقیق کر رہے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ کام آہستگی اور احتیاط سے آگے بڑھنا چاہیے۔

انھوں نے سنہ 2014 کی ایک بی بی سی ڈاکیومنٹری میں بتایا کہ ’وہ خود کو ’سائنس دانوں کا سائنس دان‘ سمجھتے تھے۔۔۔ ایک ایسا شخص جو لیبارٹری میں کام کرتا ہے اسے کبھی نہیں چھوڑتا اور ایک ایک کر کے دریافتیں کرتا چلا جاتا ہے، جیسے تعمیراتی بلاکس ہوں۔‘

دوسری جانب سالک پٹسبرگ کے میڈیکل سکول میں تیزی سے کام کرنے والے محقق تھے جو دوسری عالمی جنگ کے دوران فوجیوں کے لیے کامیاب فلو ویکسین بھی تیار کر چکے تھے۔

ایک اہم بات یہ تھی کہ انھیں ’مارچ آف ڈائمز‘ تنظیم کی حمایت حاصل تھی، جو جلد پیش رفت دیکھنے کی خواہاں تھی۔

فلاڈیلفیا ویکسین ایجوکیشن سینٹر کے ڈاکٹر پال آفیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ سالک ایک دوا ساز کمپنی کی طرح رفتار اور توجہ کے ساتھ کام کرتے تھے ایک ایسا انداز جو سائنس دانوں کے روایتی طرزِ عمل کے تصور کو چیلنج کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’سالک اور سیبن کے درمیان اس بات پر بنیادی اختلافات تھے کہ بہترین ویکسین کون سی ہوگی۔ سالک کا خیال تھا کہ یہ مکمل طور پر غیر فعال وائرس پر مبنی ہونی چاہیے جبکہ سیبن کے مطابق یہ کمزور کیے گئے وائرس پر مشتمل ہونی چاہیے۔‘

ویکسین کے اپنے خاندان پر تجربات

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مارچ آف ڈائمز‘ کی فنڈنگ نے سالک کو واضح برتری فراہم کی۔

اس کی بدولت وہ پٹسبرگ کے ایک فعال ہسپتال کے عین وسط میں اپنی لیبارٹری قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں وہ پولیو کے مریضوں سے گھرے ہوئے تھے۔

سالک اور ان کی ٹیم نے ویکسین تیار کرنے کے لیے غیر فعال پولیو وائرس استعمال کیا۔

یہ تجرباتی سائنس تھی، نرسیں تیسری منزل پر سے جہاں وہ کام کرتی تھیں مریضوں کا فضلہ تہہ خانے میں بھیجتی تھیں تاکہ لیبارٹری وائرس کو الگ کر سکے۔

تاہم، سالک اور ان کی ٹیم کو اب بھی یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لیے ضروری اینٹی باڈیز پیدا کرے گی۔

سنہ 1982 میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پولیو ویکسین کی تیاری صبر اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھی۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’اس بات کے اشارے موجود تھے کہ پولیو کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ممکن ہونا چاہیے اور پھر ہمیں کئی ممکنہ متبادل راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ کام کے دوران بہت سی ایسی چیزیں سامنے آئیں جن کی توقع نہیں تھی اور ہمیں ان مواقع سے فائدہ اٹھانا پڑا اس لحاظ سے راستے میں کچھ بڑی پیش رفت بھی ہوئیں۔‘

کیا انھیں کبھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ کسی بند گلی میں داخل ہو گئے ہوں؟ سالک نے جواب دیا کہ ’میرے لیے بند گلیاں ہمیشہ مواقع ہوتی ہیں۔ میں نے ہمیشہ غیر متوقع چیزوں کو ایک اشارہ سمجھا اور فوراً متبادل راستے تلاش کیے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ ’ایک بڑی اور نہایت اہم پیش رفت جو میری سوچ سے بھی زیادہ تیزی سے ہوئی۔‘

دوسروں کی دہائیوں پر مشتمل سابقہ تحقیق نے اس کے لیے زمین ہموار کر دی تھی۔

جب سالک نے سنہ 1948 میں اپنا کام شروع کیا تو وائرس کو حال ہی میں پہلی بار ٹشو کلچرز میں کامیابی سے اگایا گیا تھا، ضروری آلات پہلے ہی دستیاب تھے اور پولیو وائرس کی تین اہم اقسام کی شناخت ہو چکی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’سنہ 1951 اور سنہ 1952 کے درمیان ہم بچوں کو حفاظتی ٹیکہ لگانے کے لیے تیار تھے۔ سنہ 1953 تک علامات واضح ہو چکی تھیں اور سنہ 1954 میں فیلڈ ٹرائل کیا گیا پھر سنہ 1955 میں ویکسین عام استعمال کے لیے دستیاب ہو گئی۔‘

یہ رپورٹس درست تھیں کہ انھوں نے ویکسین اپنی ذات اور اپنے خاندان پر آزمائی۔ انھوں نے کہا کہ ’بالکل۔ یہ معمول کی بات ہے کہ اگر آپ کو اپنے کام اور تحقیق پر مکمل اعتماد اور یقین ہو۔‘

سنہ 1952 تک وہ اس بات کے اتنے قائل ہو چکے تھے کہ ویکسین محفوظ ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی اور تین بچوں کو اور ساتھ ہی اپنی لیبارٹری میں کام کرنے والے تمام عملے کو بھی یہ ٹیکہ لگایا۔

ان کے بیٹے پیٹر نے سنہ 2020 میں بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ دن مجھے یاد ہے جب میرے والد دفتر سے گھر آئے اور اپنے ساتھ سرنجیں اور سوئیاں لائے، جنھیں انھوں نے گھر کے کچن میں ہمارے ایک برتن میں ابال کر جراثیم سے پاک کیا، پھر انھوں نے ان میں وہ تجرباتی پولیو ویکسین بھری جس پر وہ کام کر رہے تھے اور ہم بچوں کو قطار میں بٹھا کر ہمیں انجیکشن لگائے۔‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ جاننے کے لیے کہ آیا ویکسین واقعی مؤثر ثابت ہوئی ہے یا نہیں، ایک بہت بڑے پیمانے پر آزمائش کی ضرورت تھی۔ اپریل سنہ 1954 میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا طبی تجربہ شروع ہوا، جس میں امریکہ بھر کے 50,000 سے زائد اساتذہ کے تعاون سے تقریباً دو ملین بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ نتائج کا موازنہ کرنے میں ایک سال لگا تاکہ وہ خبر تصدیق کی جا سکے جس کا لوگوں کو شدت سے انتظار تھا۔

اعلان 12 اپریل 1955 کو کیا گیا، اتفاق سے یہ صدر روزویلٹ کی وفات کے ٹھیک دس سال بعد کا وقت تھا۔ ملک بھر میں چرچوں کی گھنٹیاں بجی، فیکٹریوں کے سائرن بج اٹھے اور لوگ سڑکوں پر خوشی اور سکون کے احساس سے روتے رہے۔

امریکہ میں پولیو کے رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد 60,000 سے کم ہو کر ایک سال کے اندر 2,000 رہ گئی۔ ایک دہائی کے اندر پولیو عملی طور پر امریکہ سے ختم ہو گیا۔

ایک چمچ چینی

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویکسین کی کامیابی کی بدولت سالک کو راتوں رات عالمی شہرت حاصل ہو گئی۔

انھوں نے اس پرجوش ردِعمل کو اپنی صلاحیتوں کے پیمانے کے طور پر نہیں بلکہ ’خوف سے نجات کے احساس‘ کے طور پر تعبیر کیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ردِعمل میری سائنسی خدمات کے مقابلے میں غیر متناسب محسوس ہوا۔ یہ ایک غیر متوقع اور اچانک بات تھی اگرچہ اب ماضی میں دیکھا جائے تو شاید اس کی توقع کی جا سکتی تھی۔‘

اپنے کام میں خلل سے بچنے کے لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس ’انتہائی زیادہ تعریف و ستائش‘ کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

بعد میں انھوں نے ’سالک انسٹی ٹیوٹ‘ قائم کیا، جو کیلیفورنیا میں ایک چٹان پر واقع ایک آزاد اور غیر منافع بخش لیبارٹری تھی جسے دنیا کے بہترین سائنس دانوں کو متوجہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

لیکن البرٹ سیبن کی حریف ویکسین کا کیا ہوا؟ اسے انجیکشن کے بجائے منہ کے ذریعے دیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے یہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات کے لیے زیادہ موزوں تھی۔

یہ ہالی ووڈ کے ایک نہایت دلکش گانے کے لیے بھی تحریک بنی۔

سنہ 1960 کی دہائی کے آغاز میں جیفری شرمین کے والد رابرٹ اور ان کے چچا رچرڈ ڈزنی کی فلم ’میری پاپنز‘ کی موسیقی پر کام کر رہے تھے اور انھیں اس بارے میں سوچنے میں مُشکلات کا سامنا تھا۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک دوپہر جیفری نے اپنے والد کو بتایا کہ انھیں اسی دن سکول میں منہ کے ذریعے پولیو ویکسین دی گئی تھی۔ رابرٹ شرمین نے پوچھا ’کیا اس سے درد ہوا؟‘

جیفری شرمین نے فیس بک پر لکھا کہ ’میں نے جواب دیا کہ اسے ایک چینی کے کیوب پر رکھا جاتا ہے اور آپ اسے بس کھا لیتے ہیں۔‘

’وہ مجھے گھورتے رہے، پھر فون اٹھایا اور اپنے چچا ڈک کو کال کی۔ وہ دونوں واپس دفتر گئے اور آ سپون فل آف شوگر (ہیلپس دی میڈیسن گو ڈاؤن) تخلیق کی۔‘

ویکسین کی لاگت کم رکھنے کے لیے نہ سیبن اور نہ ہی سالک نے اپنی دریافتوں سے منافع حاصل کرنے کے لیے پیٹنٹ کرایا۔

سیبن نے کہا کہ ’بہت سے لوگوں نے اصرار کیا کہ مجھے ویکسین کا پیٹنٹ لینا چاہیے لیکن میں نے نہیں لیا۔ یہ دنیا کے تمام بچوں کے لیے میری طرف سے ایک تحفہ ہے۔‘

SOURCE : BBC