Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں انڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس...

انڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جواب

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت 9 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کی فوج نے انڈین آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو عالمی جغرافیے سے ہٹانے کی دھمکی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خود مختار جوہری ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے حذف کرنے کی دھمکی دینا ’علمی صلاحیتوں کا دیوالیہ پن اور جنگی جنون‘ کا اظہار ہے۔

اتوار کو پاکستان فوج کے ترجمان ادارے ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس طرح کا جغرافیائی خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، کیونکہ ایک جوہری ریاست کو کسی دوسری جوہری ریاست کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی زبان بولنے کے بجائے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

سنیچر کو انڈین فوج کے سالانہ سول، ملٹری مباحثے ’سینا سمواد 2026‘ میں اظہارِِ خیال کرتے ہوئے انڈین آرمی چیف سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان نے کچھ ایسا کیا کہ ہمیں دوبارہ ’آپریشن سندور‘ کرنا پڑا تو ہم پاکستان کو کیسا جواب دیں گے؟

اس پر انڈین آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے کہا کہ ’اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی اور انڈیا مخالف سرگرمیوں سے باز نہ آیا تو اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ جغرافیے اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔‘

پاکستان فوج کے ردِعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے جبکہ یہ ایک اعلانیہ جوہری قوت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا انمٹ حصہ ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین فوج کے سربراہ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا کی قیادت آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود نہ تو پاکستان کے تصور سے ہم آہنگ ہو سکی ہے اور نہ ہی اس نے کوئی سبق سیکھا ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈیا میں پائی جانے والی اسی ذہنیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا بار بار جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ دہلی کا جارحانہ انداز پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی اور مایوسی پر مبنی ہے جسے معرکہ حق کے دوران پاکستان نے بے نقاب کیا۔ ‘

Pakistan India

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انڈیا نے اسے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔

اس کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ لڑائی کا آغاز ہوا تھا جس میں فضائی جھڑپوں اور ایک دوسرے کی تنصیبات پر میزائل حملوں کے دعوے کیے گئے تھے۔

ایک برس کے دوران دونوں ممالک کی سول اور فوجی قیادت اس چار روزہ لڑائی میں کامیابی کے دعوے کرتی رہی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ اس لڑائی میں اس نے انڈیا کے جدید لڑاکا طیاروں رفال سمیت چھ سے زائد جہاز گرائے۔ دوسری جانب انڈیا کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے علاوہ اس کی متعدد فوجی تنصیبات اور ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایسے میں انڈیا کی جانب سے مستقبل میں دوبارہ تصادم یا آپریشن سندور کے تسلسل کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان بھی ان بیانات پر مکمل تیار رہنے کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے۔

انڈین آرمی چیف نے مزید کیا کہا؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈین فوج کے سالانہ سول، ملٹری مباحثے ’سینا سمواد 2026‘ میں انڈین فوج کے سربراہ اندرونی اور بیرونی خطرات اور مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی پر عوام کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈین فوج کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ فوج اور شہریوں کے درمیان ہم آہنگی مستقبل کی فوجی کارروائیوں اور قومی تیاریوں میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان پر دہشت گردوں اور جہادی تنظیموں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے انھیں پناہ دے رہا اور جب انڈیا اس پر کوئی ردِعمل دیتا ہے تو وہ اس سے مکر جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان انڈین فوجی سربراہان اور سول قیادت کے اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

جنرل اُپندر دویدی کا کہنا تھا کہ جدید جنگ اور قومی سلامتی کی منصوبہ بندی کے بارے میں پوری قوم کا ایک نقطہ نظر ہونا چاہیے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انڈین آرمی چیف نے آپریشن سندور سے متعلق بات کی ہو۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ ایک پوڈ کاسٹ میں انڈین آرمی چیف نے کہا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے نماز کے دوران حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ ’آپریشن کے دوران ایک موقع پر ہم اپنے اہداف کو تباہ کرنے کے وقت کا تعین کر رہے تھے۔‘ ان کا کہنا ہے حملے کا وقت دو بجے، چار بجے یا کوئی بھی بھی وقت ہو سکتا تھا۔

’لیکن ہم نے یہ یقینی بنایا کہ ہم اس وقت عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ نہ کریں جب وہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں کیونکہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔‘

Pakistan India

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور انڈیا کے رہنماؤں کے جارحانہ بیانات

ایک سال کے دوران اس معاملے پر دونوں ممالک کی سول اور فوجی قیادت کے لہجوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے اور انڈین فوج کے سربراہ کا یہ بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گذشتہ ماہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ’آپریشن (سندور) ابھی بند نہیں ہوا۔۔۔ پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی ناپاک حرکت ہوئی تو ہماری فوج اس کا منھ توڑ جواب دے گی جو وہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔‘

انڈین وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ پہلگام حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے ذریعے انڈیا کے ’سماجی تانے بانے اور اتحاد پر حملہ کیا گیا تھا۔‘

اس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔

گذشتہ برس انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’آج شاید سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہیں ہے، لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا۔ اور جہاں تک زمین کی بات ہے تو سرحدیں بدل سکتی ہیں۔ کیا پتا کل کو سندھ پھر سے انڈیا میں واپس آ جائے۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ انڈیا کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ اپنے ملک میں کمزور اور اقلیتی برادریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے، اُن عناصر کا احتساب کرے جو اُن کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں اور مذہبی تعصب اور تاریخی طور پر مسخ ہونے کی بنیاد پر کی جانے والی ناانصافیوں کو ختم کرے۔

SOURCE : BBC