Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران محمد نواز پر منشیات استعمال کرنے...

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران محمد نواز پر منشیات استعمال کرنے کا الزام: ’ریکریئشنل ڈرگز‘ کیا ہوتی ہیں؟

19
0

SOURCE :- BBC NEWS

Nawaz

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے آل راؤنڈر محمد نواز کی جانب سے ریکریئیشنل ڈرگ (تفریح کی خاطر منشیات کا استعمال) استعمال کرنے سے متعلق رپورٹ بھجوائی ہے جس پر پی سی بی نے مروجہ عمل کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامر میر نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد نواز سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر آج (22 اپریل) آئی سی سی کو جواب جمع کروا دیں۔

عامر میر نے تصدیق کی کہ آئی سی سی کی جانب سے بھجوائی گئی محمد نواز کی ڈرگ یوز رپورٹ مثبت آئی ہے جس پر اب پی سی بی کی جانب سے مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

عامیر میر کا مزید کہنا تھا کہ ایسے معاملات پر آئی سی سی تحقیقات کرتا ہے اور اپنے نتائج دیتا ہے اور پھر کھلاڑیوں کو اپنا جواب جمع کروانے کا موقع دیا جاتا ہے۔

اُن کے بقول یہ مکمل طور پر آئی سی سی کا دائرہ اختیار ہے۔

اس سے قبل کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ فروری اور مارچ میں انڈیا اور سری لنکا میں کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران محمد نواز کا ’ریکریئشنل ڈرگ یوز‘ ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

محمد نواز ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے سکواڈ میں شامل تھے اور اُنھوں نے پاکستان کی جانب سے ایونٹ میں کھیلے گئے سات میچز میں حصہ لیا تھا۔

پاکستان کی ٹیم ایونت کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی تھی تھی اور محمد نواز بھی ورلڈ کپ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے تھے۔

محمد نواز پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کا حصہ ہیں اور فرنچائز کی جانب سے یہ رپورت سامنے آنے کے بعد اُن کے مستقبل کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

بی بی سی نے اس معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے رابطہ کیا، تاہم ابھی اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

’ریکریئشنل ڈرگ‘ کیا ہوتی ہے؟

Pakistan Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہرین کہتے ہیں کہ ’ریکریشنل ڈرگز‘ کا تعلق کھلاڑی کی صلاحیت یا کارکردگی بڑھانے سے نہیں ہے، بلکہ یہ صرف تفریح کی خاطر استعمال کیے جانے والا کوئی بھی نشہ ہو سکتا ہے۔

راولپنڈی کی ’کسٹ‘ یونیورسٹی میں شعبہ فارمیسی کے اُستاد ڈاکٹر سالم کہتے ہیں کہ سادہ الفاظ میں اسے منشیات کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد خود کو پُرسکون کرنا ہوتا ہے۔

’اس میں دو طرح کی ڈرگز ہوتی ہیں، ایک آپ کو بہت زیادہ خوش کرتی ہیں جبکہ دوسری قسم کی منشیات نیند آور یا سکون دیتی ہیں۔ انھیں پارٹی ڈرگز بھی کہا جاتا ہے اور ریکریئشنل ڈرگز بھی اور اس کا مقصد آپ کو مصنوعی طریقے سے خوشی یا سکون فراہم کرنا ہے۔‘

ڈاکٹر سالم کہتے ہیں کہ یہ منشیات کسی کھلاڑی کی کارکردگی بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ اس سے اُلٹا کارکردگی میں گراوٹ آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ قوانین

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق آئی سی سی ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کا رُکن ہے۔ اس کا مقصد اس کھیل کی ساکھ کو بحال رکھنا، کھلاڑیوں کی صحت کا خیال اور کھیل کو ڈوپنگ سے پاک رکھنا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق آئی سی سی یہ یقنی بناتا ہے کہ انٹرنشنل مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو علم ہو کہ کون سی اشیا ممنوعہ ہیں اور انھیں اس کے استعمال سے گریز کرنا ہے۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق اس کے پاس بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کرنے کا اختیار ہے۔

اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے آرٹیکل 2.1.2 کے مطابق کھلاڑی کے جسم سے دو نمونے اے اور بی حاصل کیے جاتے ہیں، جنھیں الگ الگ رکھا جاتا ہے۔ نمونہ اے کا پہلا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اگر اس میں رپورٹ مثبت آ جائے تو پھر رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

قوانین کے مطابق اگر کھلاڑی چاہے تو نمونہ بی کا بھی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ذرائع بلاغ میں یہ رپورٹ گردش کر رہی ہیں کہ محمد نواز نمونہ بی کے تجزیے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

اس تجزیے کے دوران کھلاڑی یا اس کا نمائندہ یا متعلقہ کرکٹ بورڈ خود سیمپل بی نمونے کے تجزیے کا جائزہ لے سکتا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق اگر سیمپل منفی آ جائے تو پھر مذکورہ کھلاڑی کے خلاف کارروائی روک دی جاتی ہے اور اسے سارے معاملے سے کلیئر کر دیا جاتا ہے۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق ٹیسٹ مثبت آنے پر کھلاڑی پر چار سال تک کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کرکٹر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ ممنوعہ مواد غیر ارادی طور پر اس کے جسم میں گیا تو سزا میں کمی کی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

32 سالہ محمد نواز پاکستان کی جانب سے چھ ٹیسٹ میچ، 44 ون ڈے اور 98 ٹی 20 میچز کھیل چکے ہیں۔ ٹیسٹ میچز میں اُن کی وکٹوں کی تعداد 16، ون ڈے میں 49 اور ٹی 20 میں وہ 98 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

وہ گذشتہ کئی برس سے پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ کا مسلسل حصہ رہے ہیں اور پاکستان کی جانب سے گذشتہ چار ٹی 20 ورلڈ کپ بھی کھیل چکے ہیں۔

محمد نواز کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقات پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔ کرکٹ تجزیہ کار اور عام صارفین آل راؤنڈر کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

ایکس پر ایک صارف سعد ناصر نے لکھا ’محمد نواز سے متعلق اس خبر پر بالکل بھی حیرانی نہیں ہوئی، ورلڈ کپ کے دوران ان کی کارکردگی بھی کچھ ایسی ہی تھی۔‘

سپورٹس صحافی سلیم خالق کے مطابق ’پاکستانی کرکٹرز کچھ سیکھتے نظر نہیں آتے، اب محمد نواز سے متعلق رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنھیں تفریحی مقاصد کے لیے ادویات کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت آنے پر تحقیقات کا سامنا ہے۔ جب سینیئر کھلاڑی ایسی غلطیاں کریں گے تو جونیئرز کی رہنمائی کون کرے گا؟‘

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر تنویر احمد نے لکھا کہ اب سوشل میڈیا پر محمد نواز کو بُرا بھلا کہا جائے گا، صحافیوں کی دکان چمکے گی اور اس پر پروگرام ہوں گے۔

SOURCE : BBC