SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہgettyimages
غزہ میں ہتھیاروں کی موجودگی اور اس کے مستقبل پر بحث جاری ہے اور لوگ مختلف پہلوؤں اور زمینی حقائق کو مدِنظر رکھنے ہوئے اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
مغربی غرہ کے علاقے الرمل کے رہائشی ابو طلال نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ وہ ’مزاحمت‘ کی حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے ہولناک اثرات لوگ ’وسیع تر مفاد میں ہتھیار پھینکنے پر بھی سوچ‘ رہے ہیں۔
ابو طلال کہتے ہیں کہ ہتھیار پھینکنے کا فیصلہ قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بعد کسی فریم ورک کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب تک قوم منتشر رہے گی جنگیں فلسطینیوں کا پیچھا کرتی رہیں گی۔عوام کی طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور متحد ہو کر فیصلے لینے سے بڑھتی ہے۔‘
رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تنظیم غیر مسلح ہونے سے متعلق منصوبے کو مسترد کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ثالثوں کے ذریعے یہ تجویز دینا ’اسرائیل کی ایک خطرناک کوشش ہے، جس کا مقصد وہ حاصل کرنا ہے جو وہ عسکری طور پر حاصل نہیں کر سکا۔‘
دوسری جانب حماس کے ایک وفد نے قاہرہ میں ثالثوں کے ساتھ کئی دن گزارے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور ہتھیار ڈالنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی، لیکن ان کے درمیان اتفاقِ رائے نہیں پیدا ہوسکی۔
اسی دوران اسرائیلی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی نظر آئیں کہ اسرائیل نے حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کی مدت طے کرلی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل نے حماس کی جانب سے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا تک ہتھیار حوالے نہ کرنے کے فیصلے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے کا معاملہ پُرامن طریقے سے حل ہو سکتا ہے، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے انکار جاری رکھا تو شاید اس معاملے کا ’عسکری حل‘ نکالا جائے۔
بے گھر لوگ اور جنگ کے سائے
دوسری جانب جنگ کے سبب بے گھر ہو جانے والوں کی آوازوں میں تلخ حقیقت کا عنصر نظر آتا ہے۔
شائمہ ابو اجوا کو شجاعیہ محلے سے اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ سیاسی بحث و مباحثے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اپنی بے گھری کا خاتمہ چاہتی ہیں اور گھر واپس جانا چاہتی ہیں، بھلے ہی وہ تباہ ہی کیوں نہ ہو گیا ہو۔
شائمہ نے بی بی سی عربی کوبتایا کہ ’ہمارا ہتھیاروں سے کیا لینا دینا؟ وہ کسی کے حوالے کیے جاتے ہیں یا نہیں اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں، بھلے ہی وہ تباہ ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں اور ہمیں ڈر ہے کہ جنگ دوبارہ بھی شروع ہو سکتی ہے اور ہم ایک بار پھر یہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہوں گے۔‘
حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کے ہتھیار نہ ڈالنے کے حوالے سے بیان کے ایک دن بعد امریکہ اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک خبر شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں انٹرنیشنل پیس کونسل نے حماس کو آخری وارننگ دی ہے کہ وہ اپریل کے دوسرے ہفتے تک غزہ کو غیرمسلح کرے۔
حماس کو غیرمسلح کرنا ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولائی ملادینوف کے منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہے، جس کا اعلان انھوں نے مارچ میں کیا تھا۔
بین الاقوامی اور مقامی میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ پانچ مرحلوں پر مشتمل ہوگا: غزہ میں سکیورٹی اور انتطامی امور چلانے کے لیے نیشنل کمیٹی فور ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا قیام، حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا انخلا اور غزہ کی ازسرنو تعمیر۔
حماس کی شرائط

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی عربی کو تصدیق کی ہے کہ ’اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے باوجود‘ ان کی تنظیم غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ وہ اس جنگ بندی کے دوسرے فیز خصوصاً ’مزاحمتی ہتھیاروں‘ پر اس وقت تک بات نہیں کریں جب تک اسرائیل پہلے فیز کے حوالے سے لیے گئے فیصلوں پر مکمل اور درست طریقے سے عملدرآمد نہیں کرتا۔
حماس کے ترجمان حاظم قاسم نے جنگ بندی کے اگلے فیز پر جانے کے لیے ’مثبت ماحول‘ بنانے پر زور دیا، جو ان کے مطابق ’فوری امداد مہیا کرنے، بے گھر افراد کو خیمے مہیا کرنے، غزہ میں تعمیری کام کی ابتدا، اسرائیلی فوج کے انخلا، رفح کراسنگ کو کھولنے اور غزہ کا انتظام نیشنل کمیٹی کے حوالے کرنے‘ سے ممکن ہو گا۔
قاسم کے مطابق ’اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور قتلِ عام جاری ہیں‘ اور ’ان خلاف ورزیوں کو نظرانداز کر کے جنگ بندی کے دوسرے فیز پر جانا غیر منطقی ہو گا۔‘
بی بی سی عربی نے غزہ میں جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کے بارے میں بات کرنے کے لیے اسرائیل کے وزیرِ دفاع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار ایلی نسان سمجھتے ہیں کہ ’اگر حماس غیر مسلح نہیں ہوتی یا غزہ کے امور پر اپنی گرفت بڑھانے کی کوشش کرتی ہے تو امریکہ کے ساتھ مل کر عسکری آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنے کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایلی نسان کا مزید کہنا تھا کہ ’حماس غزہ پر کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی اسے مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ ایک اور ممکنہ جنگ شروع کرنے کے ہتھیار حاصل یا ہتھیاروں کی سمگلنگ شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔‘
اسرائیلی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کو جو ہوا اس کے بعد اسرائیل غزہ میں حماس کے سرگرمیاں جاری رکھنے اور اس کے مزید مسلح ہونے سے کبھی اتفاق نہیں کرے گا۔
حماس غیر مسلح کیوں نہیں ہونا چاہتی؟
اقوامِ متحدہ میں مصر کے سابق سفیر معتز احمدین خلیل نے غزہ کے حوالے سے مذاکرات کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولائی ملادینوف نے حماس پر غیرمسلح ہونے کے لیے دباؤ ڈالا ہے جو کہ ’اسرائیلی مؤقف کی توثیق ہے۔‘
مصر کے سابق سفیر نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان کا ہتھیار نہ ڈالنے کے حوالے سے بیان حال ہی میں قاہرہ میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد آیا ہے، جس میں حماس کا ایک وفد اور نکولائی ملادینوف موجود تھے۔
جب سابق سفیر سے پوچھا گیا کہ ہتھیار ڈالنے سے انکار کا اعلان حماس کے عسکری ونگ نے کیوں کیا اور سیاسی ونگ نے کیوں نہیں کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ مسلح تنظیم میں اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کے سیاسی ونگ نے ہتھیار ڈالنے سے متعلق منصوبے کو مسترد کرنے کے حوالے سے ثالثوں کو پہلے ہی مذاکرات کے دوران آگاہ کر دیا تھا، جبکہ ابو عبیدہ نے صرف بعد میں اس کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب لندن سکول آف اکنامکس میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر فواز جرجس نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ غزہ میں دراصل جنگ بند نہیں ہوئی ہے، بلکہ ’جنگ کی شدت کم‘ ہوئی ہے۔
حماس کی طرف سے ہتھیار ڈالنے سے انکار پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: حماس اس بات سے آگاہ ہے کہ ہتھیار حوالے کرنے کے بعد وہ اسرائیلی فورسز کے رحم و کرم پر ہوگی۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی فلسطینی فورس کو اپنے ہتھیار حوالے کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسرائیل، امریکہ یا اقوامِ متحدہ کو ہتھیار حوالے کرنا ’اجتماعی خود کشی‘ کے مترادف ہوگا۔
کیا غزہ میں جنگ لوٹ سکتی ہے؟
ڈاکٹر فوز جرجس کہتے ہیں کہ لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں کا غزہ کی صورتحال پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ دمشق کسی بھی طرح سے عسکری تصادم میں شامل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود شام پر اسرائیلی حملے غزہ میں حماس کی عسکری قیادت کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈال بھی دیں تب بھی انھیں ان کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ غزہ میں ’جنگ کی دوبارہ شروعات‘ کو خارج الامکان نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ’اسرائیلی حکومت جس طرح سے لبنان میں اپنے عسکری آپریشنز کو درست قرار دے رہی ہے ویسے ہی وہ غزہ میں بھی کر سکتی ہے، کہہ سکتی ہے کہ حماس ہتھیار نہیں پھینک رہی۔‘
دوسری جانب اسرائیلی تجزیہ کار ایلی نسان کہتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کی توجہ ابھی ایران اور حزب اللہ کی طرف ہے لیکن ان کی توجہ غزہ اور حماس کی طرف بھی مبذول ہونی ہی ہے۔
ان کی پیش گوئی ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رہتی ہے یا نہیں، اس کے بعد تمام توجہ غزہ پر ہی ہو گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اسرائیل نے حماس کو غیر مسلح ہونے کی وارننگ دی رکھی ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ بات نہ ماننے کی صورت میں جلد یا بدیر اسرائیل مسلح تحریک کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کر سکتا ہے۔‘
SOURCE : BBC



