SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات خطے سے آگے بھی پھیلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اب یہ انڈیا میں ’شیشے کے شہر‘ فیروزآباد میں بھی محسوس ہو رہے ہیں، جہاں ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
تاج محل سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر شمالی اتر پردیش میں واقع اس شہر میں زندگیاں شیشے کے اردگرد گھومتی ہیں۔ ملک میں استعمال ہونے والا تقریباً 70 فیصد شیشہ فیروزآباد میں ہی بنتا ہے، جس کا بڑا حصہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی فیکٹریوں میں تیار کیا جاتا ہے۔
یہاں شیشے کی صنعت میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کام کرتے ہیں، جو روزانہ 500 سے 1000 روپے تک کماتے ہیں، ایک ایسی آمدنی جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اب یہ فیکٹریاں شدید دباؤ میں ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ گیس کی کمی ہے۔
شیشہ سازی کے عمل کا انحصار قدرتی گیس کی مسلسل فراہمی پر ہوتا ہے تاکہ بھٹیاں انتہائی بلند درجۂ حرارت پر چلتی رہیں۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی کشیدگی کے باعث متاثر ہونے کے بعد گیس کی سپلائی غیر یقینی کا شکار ہوگئی ہے اور اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔
گیس کی فراہمی میں رُکاوٹ کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، کیونکہ انڈیا کی قدرتی گیس کی تقریباً نصف برآمدات اسی تنگ سمندری گزر گاہ سے گزر کر آتی ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں گیس کی کچھ کھیپیں دوبارہ انڈیا پہنچنا شروع ہو گئی ہیں، لیکن فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اس کے فوائد ابھی تک ان تک نہیں پہنچے ہیں۔
فیروزآباد میں گذشتہ چار دہائیوں سے کانچ کی چوڑیاں بنانے والے سنجے جین کہتے ہیں کہ انڈین حکومت کی جانب سے گیس کی قلت پر قابو پانے کی کوشش کے تحت کاروباری مقامات پر قدرتی گیس کی فراہمی میں 20 فیصد کٹوتی کے بعد ان کی پیداوار میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ان بھٹیوں کا چلتا رہنا ضروری ہے، اگر یہ ٹھنڈی ہو جائیں تو انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے‘ اور انھیں دوبارہ شروع کرنا ’وقت طلب اور مہنگا‘ کام ہے۔
،تصویر کا ذریعہNeyaz Farooquee/BBC
صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجے بھٹیوں کو دہکائے رکھتے ہیں مگر کم درجۂ حرارت پر اور گیس کی بچت کے لیے اکثر تین سے چار دن تک اپنا کام روک دیتے ہیں۔
سنجے کو درپیش صورتحال ایک وسیع تر پریشانی کی عکاسی کرتی ہے۔ انڈیا میں صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور گھروں میں بھی گیس پر انحصار کیا جاتا ہے، جس کے سبب فیروزآباد جیسے صنعتی شہر اس کی قلت کے باعث شدید متاثر ہوتے ہیں۔
یہاں 400 سے زائد چھوٹے کارخانے شیشے کی مختلف اشیا تیار کرتے ہیں، جن میں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹ کے کورز، چوڑیاں، لائٹ شیڈز، آرائشی اشیا اور فانوس شامل ہیں۔ یہ کارخانے ملکی مارکیٹ کو 200 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی اشیا سپلائی کرتے ہیں۔
کچھ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے انھیں 25 سے 40 فیصد تک نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں کہ اگر گیس کی فراہمی غیر مستحکم رہی تو وہ کب تک اپنا کام جاری رکھ سکیں گے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم گیس کی فراہمی میں بندش اس پریشانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ صنعتی ماہرین کہتے ہیں کہ دیگر چیزوں کے باعث بڑھنے والا دباؤ اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔
آل انڈیا گلاس مینوفیکچررز فیڈریشن سے منسلک مکیش بنسل کے مطابق شیشہ پگھلانے میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزا انڈیا بھر سے حاصل کیے جاتے ہیں، جبکہ کچھ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ایندھن کی سپلائی میں خلل اور درآمدات متاثر ہونے کے باعث خام مال کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے‘ اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے ان کے کاروبار کو 45 فیصد سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
’یہ تمام چیزیں گیس کی قلت کے ساتھ مل کر معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔‘
اس صورتحال میں انڈیا کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مکیش کا کہنا ہے کہ شپنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث آرائشی شیشے کی اشیا بیرونِ ملک، خاص طور پر امریکہ بھیجنا بہت زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے انڈیا کی وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ وہ ’بھٹیوں کے بغیر تعطل چلنے کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے‘ اور گیس کی فراہمی کو منظم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں چھوٹے کارخانوں کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔
ماہرِ معیشت ارُن کمار کہتے ہیں کہ ’محنت طلب شعبے چھوٹے اور نہایت چھوٹے کارخانوں پر مشتمل ہیں اور ان کے پاس کام چلانے کے لیے بہت محدود سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے وہ قلت کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘
’اگر یہ صورتحال رہی تو یہ کارخانے یا تو بند ہو جائیں گا یا پھر بہت ہی چھوٹے پیمانے پر کام کریں گے۔‘
یہ صورتحال شیشے کی صنعت کی نازک حالت کی عکاسی کرتی ہے اور یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح گیس کی قلت اور دیگر رکاوٹیں بہت تیزی سے اُن لوگوں کے روزگاروں پر اثر ڈال سکتی ہیں جن کا دار و مدار اسی صنعت پر ہے۔
شیشہ سازی انڈیا کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 30 فیصد ہے اور یہاں کروڑوں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔ اس نوعیت کی صنعتوں کو درپیش رکاوٹیں ان افراد کی آمدنی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر کم اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے روزگار پر۔
لوگ اب روزمرہ زندگی میں اس دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے ایسے مزدوروں کو متاثر کیا ہے جو پہلے ہی روزمرہ کی زندگی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان تھے۔ بہت سے خاندانوں کی کمائی مہنگائی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہیں، جبکہ عالمی سطح پر سپلائی میں خلل سے جڑی کھانا پکانے کی گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ان پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں انڈیا میں 25 لاکھ تک افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPritam Roy/BBC
اس ماہ کے اوائل میں مایوسی اس وقت کھل کر سامنے آئی، جب شمالی انڈیا کے بعض علاقوں میں ہزاروں فیکٹری مزدوروں نے زیادہ اجرت اور بہتر کام کے حالات کے مطالبے پر سڑکیں بند کر دیں۔
جو احتجاج ابتدا میں زیادہ تر پُرامن تھا، وہ اتر پردیش کے کچھ حصوں میں پرتشدد صورت اختیار کر گیا۔ بعد ازاں ریاستی حکومت نے اجرتوں میں عارضی اضافے کا اعلان کیا، تاہم مزدوروں کا کہنا تھا کہ یہ ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
وفاقی وزارتوں میں باقاعدگی سے بریفنگز ہو رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات اور کھانا پکانے کی گیس کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق ادویہ سازی، فولاد، آٹوموبائل اور زراعت جیسے اہم شعبوں کے لیے توانائی کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔
اہم ماہرِ معیشت ارُن کمار کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
مارچ اور اپریل کی ابتدا میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا، یہ ایسا نقصان ہے جس کی مرمت میں مہینوں لگ سکتے ہیں اور جس کے باعث توانائی کی مستحکم فراہمی کی بحالی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ارُن کمار کہتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز کے کھلنے کے مہنیوں بعد بھی صورتحال معمول پر نہیں آئے گی۔‘
فیروزآباد میں مزدورں کے لیے یہ غیریقینی اب روزانہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔
35 سالہ اُمیش بابو شدید گرمی میں گھنٹوں تک ٹین کی چھت کے نیچے کھلے ورکشاپ میں چوڑیاں بناتے ہیں، جہاں چھت گرمی سے کم ہی تحفظ فراہم کر پاتی ہے۔
ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر جلنے والی بھٹی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ انھوں نے جینا سیکھ لیا ہے۔
انھیں پریشانی اس بات کی ہے کہ اگر ان کا کام ختم ہو گیا تو وہ اپنے خاندان کے اخراجات کیسے اُٹھائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہمیں ہفتے میں کم از کم چھ دن کام مل جاتا تھا، اب یہ کم ہو کر چار دن رہ گیا ہے۔‘ بابو کا کہنا ہے کہ اخراجات کم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے بچوں کو سکول سے نکال لیا ہے۔
’اگر فیکٹریوں نے ہمیں بھرتی کرنا بند کر دیا تو مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں گا۔ میرے پاس صرف یہی ہنر ہے۔‘
اضافی رپورٹنگ: نیاز فاروقی اور پریتم روئے۔
SOURCE : BBC



