Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ہم کبھی کبھار اپنی آنکھوں کے سامنے پڑی چیز بھی کیوں نہیں...

ہم کبھی کبھار اپنی آنکھوں کے سامنے پڑی چیز بھی کیوں نہیں دیکھ پاتے؟

24
0

SOURCE :- BBC NEWS

vision

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کئی لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس بات پر اصرار کرے کہ اس نے مطلوبہ چیز ہر جگہ تلاش کر لی لیکن اسے پھر بھی وہ نہیں ملی اور اتنے میں دوسرا شخص کمرے میں داخل ہو اور ایک سرسری نظر میں ہی اسے وہ چیز مل جاتی ہے۔

’یہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی تو ہے۔‘

یہ صورتحال اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ان دونوں افراد کے دماغ کسی ایک چیز کے بارے میں مختلف انداز میں کیسے کام کرتے ہیں۔

روزمرہ کے ماحول میں چیزوں کو ڈھونڈنے کا انحصار ہماری بصری تلاش (ویژول سرچ) کی صلاحیت پر منحصر ہے اور حیران کن طور پر ہمارا دماغ اس معاملے میں کافی خراب ہے۔

حتیٰ کہ کبھی کبھار جب کوئی چیز بالکل ہمارے سامنے ہوتی ہے تب بھی دماغ اس کی موجودگی کو تسلیم نہیں کرتا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو ہم آنکھوں کے ہونے کے باوجود دیکھ نہیں پاتے۔

بظاہر کسی بھی چیز کو پہلی نظر میں تلاش کرنا آسان کام لگتا ہے: ہم ایک سطح سے ہر جگہ کو سکین کرتے ہیں جیسے کچن کاؤنٹر، ڈیسک یا دراز میں موجود ہر چیز کو جب تک کہ ہمیں ہماری مطلوبہ چیز دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن دماغ بیک وقت ایک منظر میں موجود تمام اشیا کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ اس کے بجائے یہ توجہ دینے کی صلاحیت پر انحصار کرتا ہے۔

ماہر نفسیات اکثر ہماری توجہ کو ایک سپاٹ لائٹ سے تشبیہ دیتے ہیں جو ہمارے سامنے دِکھنے والے منظر کو سکین کرتی ہے۔ جہاں بھی وہ سپاٹ لائٹ پڑتی ہے، ہمارا دماغ اس جگہ کے متعلق معلومات پر تفصیل سے غور کرتا ہے۔ اس سپاٹ لائٹ سے باہر موجود چیزوں پر زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔

لیکن ہمارا دماغ مسلسل توجہ کا مرکز کیوں بدلتا ہے اس کے پیچھے بھی ایک عملی جسمانی وجہ ہے۔ ہماری آنکھوں کی ریٹنا کا مرکز ’فووا‘ ہمیں بہترین بصری صلاحیت فراہم کرتا ہے تاہم یہ ہماری نظر یا بصری فیلڈ کے صرف ایک چھوٹے سے حصے پر مرکوز ہوتا ہے۔

آنکھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کسی بھی منظر کا صحیح طریقے سے مشاہدہ کرنے کے لیے ہماری آنکھوں کو بار بار حرکت کرنی پڑتی ہے تاکہ ماحول کے مختلف حصوں کو اس چھوٹے، ہائی ریزولوشن والے حصے کے ذریعے دیکھا جا سکے۔

آنکھوں کی ان حرکات کو ’سکیڈس‘ کہا جاتا ہے اور یہ عمل مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی چیز کو گھور کر دیکھ رہے ہیں تب بھی ہماری آنکھیں خاموشی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہلتی رہتی ہیں۔

زیادہ تر یہ نظام غیر معمولی طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ہمیں پیچیدہ مناظر میں موجود چیزوں کے متعلق بصری طور پر بہترین معلومات فراہم کرتا ہے۔

نادانستہ اندھا پن

دیکھنے کے عمل کا تعلق صرف آنکھوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے بھی ہے کہ اُس وقت ہمارا دماغ کیا تلاش کرنے کی توقع کر رہا ہے۔ اس رجحان کو نادانستہ اندھے پن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کی ایک بہترین مثال وہ ویڈیو ہے جسے دکھا کر کچھ شرکا کو یہ گننے کو کہا گیا کہ ویڈیو کے دوران کتنی مرتبہ باسکٹ بال پاس کی گئی۔ ایسے میں گوریلا کے لباس میں ملبوس ایک شخص سکرین پر آتا ہے تاہم تقریباً نصف ناظرین اس گوریلا کو دیکھ نہیں پاتے۔

یہ گوریلا چھپا ہوا نہیں ہوتا بلکہ سکرین کے بیچوں بیچ نظر آتا ہے لیکن کیونکہ دماغ کی توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ بال کتنی مرتبہ پاس کی گئی تو وہ گوریلا کی موجودگی کو رجسٹر ہی نہیں کرتا۔

بصری معلومات دماغ تک پہنچنے کے بعد مختلف مراحل سے گزرتی ہیں۔ ان میں سے ایک مرحلے میں یہ معلومات دماغ کے ڈورسل پاتھ وے یا پیریٹل لوب سے گزرتی ہیں۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہوتا ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ہم فی الوقت کس چیز پر توجہ دیں۔

اس سے دماغ کو آس پاس موجود اشیا کے مقام کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ نظام بصری تلاش کے دوران توجہ کی رہنمائی کے لیے ضروری ہے۔

کیا عورتیں مردوں سے مختلف طریقے سے دیکھتی ہیں؟

اس روزمرہ کی صورتحال کو بیان کرتے ہوئے میں نے ایسے کسی دقیانوسی تصور کا سہارا لینے سے گریز کیا جس میں میرے شوہر کو سامنے پڑی چیز نہیں مل رہی ہوتی۔

بصری تلاش کے کاموں کے مطالعے کے دوران مرد اور عورت پیچیدہ مناظر میں چیزوں کو تلاش کرنے کے طریقوں میں معمولی فرق پائے گئے ہیں۔

کسی بے ترتیب ماحول میں اشیا ڈھونڈنے کے معاملے میں اوسطاً خواتین مردوں سے قدرے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ دوسری جانب مرد عموماً اپنے ذہن میں اشیا کی تھری ڈی تصویر بنانے کے معاملے میں عورتوں سے بہتر ہوتے ہیں۔

اس کی وجوہات پر اب بھی زیرِ بحث ہیں تاہم اس کی بڑی وجہ اس بات میں چھپی ہے کہ ہم کسی چیز کو تلاش کرتے وقت اپنی آنکھوں کو کس طرح حرکت دیتے ہیں۔

بصری تلاش کا انحصار اپنی نگاہ کو ایک نقطہ سے دوسرے پر منتقل کرنے پر ہوتا ہے۔

آنکھوں کی حرکات سے متعلق کیے گئے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی نگاہوں کو زیادہ منظم طریقے سے ایک نقطے سے دوسرے پر منتقل کرتے ہوئے کسی منظر کو سکین کر سکتے ہیں۔

آنکھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

منظم طریقے سے سکین کر کے آپ کے پاس کسی بھی بے ترتیب منظر کا بہتر احاطہ کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے اور اس طرح کسی بھی چھوٹی چیز جیسے کہ چابیاں یا کچن کاؤنٹر پر رکھی قینچی کے نظر آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

دوسری جانب آنکھوں کی وسیع تر نقل و حرکت سے کسی چیز کے ہونے کے باوجود دماغ کے اس کو نوٹ نہ کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

محض صنفی فرق کے بجائے تجربے، ماحول سے واقفیت، اور توجہ دینے کی صلاحیت کا اس میں کہیں زیادہ کردار ہو سکتا ہے۔

مختصراً کہا جائے تو بصری تلاش کسی تصویر کو سکین کرنے سے زیادہ ایک پیشگوئی کے الگورتھم کو چلانے کی طرح ہے۔ آپ کا دماغ مسلسل اندازہ لگا رہا ہوتا ہے کہ کون سی چیز کہاں ہو سکتی ہے اور اسی کے مطابق توجہ مرکوز کرتا ہے۔

اکثر اوقات یہ پیشگوئیاں درست ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار نہیں بھی ہوتیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ چیز کسی ایسی جگہ رکھی ہوتی ہے جس کے بارے میں دماغ سوچ بھی نہیں سکتا۔

اس کا مطلب ہے کہ اگلی مرتبہ کوئی آپ سے کہے کہ اس نے ہر جگہ تلاش کر لیا، تو شاید وہ سچ کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے بس صحیح طریقے سے ڈھونڈا نہیں ہو گا۔

SOURCE : BBC