Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’لوگ گھما پھرا کر یہ ہی سوال پوچھتے ہیں کہ اب تک...

’لوگ گھما پھرا کر یہ ہی سوال پوچھتے ہیں کہ اب تک بچہ کیوں نہیں ہوا‘: حمل نہ ٹھرنے پر خواتین کو کن تلخ باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

31
0

SOURCE :- BBC NEWS

مس کیرج اور بانجھ پن کا سامنا کرنے والی خواتین

،تصویر کا ذریعہEPA

’ویسے تو ہر کام ہم مقدرپر ڈال دیتے ہیں کہ جو ہوا اللہ کی مرضی مگر بچہ ضائع ہونے پر ذمہ داری لڑکی پر ڈال دیتے ہیں کہ تم نے ایسا کیا ہو گا اور ویسا کیا ہو گا۔ میں مہینوں تک خود کو قصوروار سمجھتی رہی اور گم صم ہو گئی۔‘

دو بچوں کی ماں حفصہ جب تیسری بار حاملہ ہوئیں تو پریگنینسی کے پانچویں مہینے میں ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ اس دوران ایک جانب انھیں جسمانی کمزوری کا سامنا ہوا تو وہیں بعض لوگوں کے جملوں نے انھیں شدید جذباتی اتار چڑھاؤ سے گزارا۔

’ان جملوں سے میں ہر وقت خود کو مجرم محسوس کرتی۔ شاید میں ڈپریشن میں تھی مگرمیری سننے کے بجائے سب مجھے مشورے دیتے رہے۔‘

کراچی کی ہی رہائشی 28 سالہ مومنہ کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہو چکا اور وہ اب تک حاملہ نہیں ہوئیں جس پر لوگوں کی ہمدردی اور دلاسے کے بیچ سولات اب ان کو اذیت سے کم نہیں لگتے۔

ان کے مطابق لوگ گھما پھرا کے یا براہ راست ایک ہی بات پوچھتے ہیں کہ ان کے اب تک بچے کیوں نہ ہوئے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری ایک خالہ جب بھی مجھ سے ملتی ہیں تو ان کے تین سوال ہوتے ہیں: ایک تو یہ کہ تم ڈاکٹر کے ہاں جا رہی ہو یا نہیں، دوسرا تم اپنا وزن کیوں نہیں کم کر رہیں، تیسرا یہ کہ کہیں تم فیملی پلاننگ کے چکر میں تو نہیں۔‘

مومنہ کا کہنا ہے کہ ’میں یہ سوالات سن کر تنگ پڑ جاتی ہوں، کچھ لوگ مختلف ڈاکٹرز کا بتاتے ہیں تو کچھ ٹوٹکے۔‘

مومنہ کے مطابق ان کی اور ان کے شوہر کی رپورٹس درست آئی ہیں جبکہ جو بھی ٹیسٹ یا دوا ڈاکٹر تجویز کرتی ہیں وہ استعمال کرتی ہیں لیکن لوگوں کی باتوں کی وجہ سے انھیں اب کسی سے زیادہ ملنا جلنا بھی اچھا نہیں لگتا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مومنہ کے مطابق ’پچھلے دنوں میری ایک کزن کو بھی اولاد نہ ہونے کے مسئلے کا سامنا تھا، اس کو میں نے اپنے ڈاکٹر کے ہاں دکھانے کا کہا جس کے بعد ماشاللہ وہ حمل سے ہو گئی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی لیکن میری دوسری کزن نے اس کا حوالہ دے کر کہا کہ مومنہ تم جاؤ اس ڈاکٹر کے پاس اس کو کہو کہ تمھاری ساس بہت غصہ ہوتی ہیں وہ ڈاکٹر تم کو بھی وہی انجیکشن دے جس سے بچہ جلدی ہو۔‘

راولپنڈی کی عائشہ (فرضی نام) نے اولاد پیدا کرنے کے لیے مشکل علاج بھی کروائے تاہم وہ ماں تو نہ بن سکیں لیکن دوائیوں کے اثرات کو جھیلنے کے ساتھ کچھ جملے انھیں آج بھی اداس کر دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب بھی بہت سی خواتین کہہ دیتی ہیں کہ اللہ دے گا، اس عمر میں بھی ہو جاتی ہے اولاد۔ یہ جملے جب میں آج بھی سنتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے اور اپنے اندر تک میں ایک محرومی کا سامنا کرتی ہوں۔‘

طبی ماہرین کے مطابق جہاں ہر خاتون میں مس کیرج اور بچے نہ ہونے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں وہیں ہمدردی یا بے ساختگی میں کہے گئے بعض جملے انھیں جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیتے ہیں اور ان کے اندر احساس جرم پیدا ہو جاتا ہے۔

ہم نے ان کیفیات سے گزرنے والی ایسی کچھ خواتین سے بات کی اور ساتھ ہی طبی ماہرین سے بات کر کے جانا کہ تولیدی صحت میں چیلینجز کا سامنا کرنے والی خواتین سے کن باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔

حاملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’انڈے، کھجور، بادام کھائے اسی لیے تمھارا بچہ ضائع ہوا‘

شادی کے بعدعموماً ہر جوڑا اپنی فیملی بنانے کی پلاننگ کرتا ہے تاہم ہر جوڑے کے لیے پریگنیسنی آسان نہیں ہوتی۔ کچھ خواتین کو بعض وجوہات کے باعث حمل ضائع ہونے کا سامنا ہوتا ہے تو کچھ مشکل علاج کے باوجود بانجھ پن سے نہیں نکل پاتیں۔ ایسے میں ہر ماہواری میں دن اوپر ہونے کے ساتھ ان کی اپنی امید بنتی اور پھر ٹوٹتی ہے۔

ایک ایسی ہی خاتون عکس کے مطابق تیسرے حمل کے دوران بھی سب کچھ معمول کے مطابق تھا کہ ایک دن کام کاج کے بعد ان کا سیاہی مائل خون نکلنے لگا اور دوسرے دن پتا چلا کہ ان کا بچہ ضائع ہو گیا۔

’ان دنوں میں سارے کام خود کرتی تھی اور کوئی ہاؤس ہیلپ نہیں تھی۔ میں کام کاج کر کے باتھ روم گئی تو میں نے دیکھا کہ مجھے بلیڈنگ تھی اور وہ جمع ہوا سا سیاہی مائل خون تھا۔ یہ دیکھ کر میں ڈر گئی اور رونے لگ گئی مجھے اندازہ ہو گیا کہ غلط ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر کے ہاں گئی تو مس کیرج کنفرم ہو گیا۔‘

ان کے مطابق ڈاکٹر نے مس کیرج کی وجہ کچھ خاص نہیں بتائی۔

’اب جو ملنے آتا وہ کہتا کہ ضرورت کیا تھی کپڑے دھونے کی۔ جھاڑو پونچھے کی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ تم نے انڈے کھا لیے تھے یا کھجور بادام کھا لیے تھے تو گرم چیزیں کھانے سے بچہ ضائع ہوا۔‘

انھوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’مس کیرج سے کچھ دن پہلے ہم سمندر پر پکنک کے لیے گئے۔ حالانکہ میں وہاں جہاں بیٹھی، وہیں سے گھر آئی مگر لوگوں نے یہ تک کہا کہ سمندر سے کچھ لگ گیا ہو گا یا پانی میں کھیلی ہو گی تب ہی بچہ ضائع ہوا۔‘

’دوران علاج ہر ماہ بچہ ہونے کی امید بندھتی اور ٹوٹتی‘

راولپنڈی کی فاطمہ کی شادی تقریبا 32 سال کی عمر میں ہوئی تو وہ سوچتی تھیں جب اللہ کی مرضی ہو گی بچے ہو جائیں گے مگر ان کی والدہ بہت پریشان تھیں تو فاطمہ ان کے اصرار پر ڈاکٹر کے ہاں گئیں۔

ڈاکٹر نے میڈیسن دیں، اس دوران لگنے والے انجیکشن ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھے مگر سب رپورٹس ٹھیک ہونے کے باوجود وہ ماں نہ بن سکیں۔

’مجھے بچوں سے بہت محبت ہے مگر بچے نہ ہونے پر بہن بھائیوں یا شوہر نے اس کا مجھے کبھی احساس نہیں دلایا لیکن میں دوائی کھا کھا کر تھک گئی۔ میں مایوس ہو گئی تھی اور خواہش کے باوجود حاملہ نہیں ہی پا رہی تھی۔‘

’لوگوں نے ایسا ظاہر بھی کیا کہ شاید میں اپنی خواہش سے ماں نہیں بننا چاہتی تھی۔‘

بچہ اور ماں

،تصویر کا ذریعہEPA

ہمدردی کے جملوں سے ڈپریشن اور بے چینی

حفصہ کے مطابق وہ ہر وقت خود کو مجرم محسوس کرتی رہتی مگر پھر ’بہت آہستہ آہستے میں نے خود کو مشکل سے اس احساس سے نکالا۔‘

’شاید میں ڈپریشن میں تھی مگر نہ کسی نے سمجھا نہ اس سے نکلنے میں مدد دی۔‘

پاکستان میں جب ایک لڑکی کی شادی ہو تو اس سے عموما بچہ پیدا کرنے سے متعلق بہت جلدی امید لگا لی جاتی ہے تاہم اس کوشش میں جن خواتین کا حمل ضائع ہو جائے یا جو خواتین علاج کے باوجود ماں نہ بن پائیں، ان کے کچھ جملے اور رویے خاصے تلخ ثابت ہوتے ہیں۔

اس پر بات کرنے کے لیے ہم نے کلینیکل سائیکولوجسٹ طاہرہ جاوید سے رابطہ کیا۔

ماہر نفسیات طاہرہ جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ بانجھ پن کے علاج میں ہیوی میڈیسن اور بار بار ٹیسٹ لڑکیوں کے لیے انھیں مشکل صورتحال سے گزارتے ہیں۔

’ایک خاتون جب حاملہ نہیں ہو پا رہی ہوتیں، تو وہ اس سے بھی جذباتی طور پر متاثر ہونے لگتی ہیں۔ پھر بار بار سوال ہوتے ہیں کہ بچے کیوں نہیں ہو رہے، کیا فیملی پلاننگ کر رہی ہو، تو یہ سوال ڈپریشن اور انگزائٹی کو جنم دیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’ادویات ہارمونز کو ڈسٹرب کرتی ہیں جس کی وجہ سے جذباتی اتار چڑھاؤ رہتا ہے اور خواتین اس ناکامی کا ذمہ دار خود کو سمجھتی ہیں۔‘

طاہرہ جاوید نے علاج کے دوران جسمانی اور جذباتی اتار چڑھاؤ سے گزرنے والی خاتون کے اہل خانہ کو تجویز دی کہ انھیں چاہیے کہ ایسے میں

روز مرہ کے کاموں میں خاتون کا ہاتھ بٹائیں اور اس پر سے روٹین کے کاموں کا بوجھ کم کریں۔ یہ توقع کروانا کہ علاج بھی کروائے اور عورت گھر کے سارے کام بھی کرے تو یہ ٹھیک نہیں۔

مشورہ دینے کے بجائے متاثرہ خاتون کو سننا بہت ضروری ہے تاکہ جذباتی سپورٹ مل سکے اور وہ اپنا اظہار کر سکے جبکہ ہمارے ہاں عموماً لوگ حل دینے کی جانب جاتے ہیں۔

جذبات کے اظہار میں رکاوٹ نہ بنیں نہ کسی بات سے روکیں

چاہے ماں بننے کے دوران علاج سے گزرنے والی یا بچہ کھو دینے والی خاتون غصہ کرے، رونا چاہتی ہو یا اپنے اوپر گزرنے والے حالات بتانا چاہتی ہو تو بجائے یہ کہنے کہ سب کے ساتھ ہوتا ہے، یہ مت کہو یہ مت کرو بلکہ عورت کی سنیں۔ اس طرح کے بیانات یا حل دینا عورت کو بجائے بہتر محسوس کروانے کے اپ سیٹ کرتا ہے۔

ماں بننے سے متعلق دوسروں کے تجربات کی خبروں کو فلٹر کریں

گفتگو کے دوران کسی کے بے بی شاور، بچوں کی پیدائش یا اس سے متعلق خبریں نہ دیں تاکہ وہ عورت اپنی کوشش میں مزید بوجھ نہ محسوس کریں۔ ایسی تقریبات میں جانے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں ان کے ساتھ سوالات ہوں۔

ان کے موڈ کا احترام کریں اور دوسروں سے مقابلہ نہ کریں

طاہرہ جاوید کے مطابق بچہ کھو دینے والی یا بانجھ پن کا علاج کرنے والی خواتین کو وہی کرنے دیں جس کا ان کا دل چاہے تاکہ وہ پر سکون رہیں۔ اس دوران کچھ جملے کہنے سے گریز کریں مثلا ’تم ٹینشن نہ لو ٹھیک ہو جائے گا، یا اللہ کی مرضی جب ہونا ہو گا ہو جائے گا۔ یہ جملے بے شک اچھی نیت سے کہے گئے ہوں لیکن اس وقت خاتون سمجھتی ہیں کہ شاید مجھ میں کمی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ ٹوٹکے دوائیاں دیکھ کر انھیں استعمال کرنے کا مشورہ نہ دیا جائے۔ پھر سوشل میڈیا پر الگورتھم ایسا مواد سامنے لانے لگتا ہے جو متاثرہ خاتون پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایسے گروپس ہیں جس میں لوگ اسی کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں تو وہاں سے سپورٹ کمیونٹی مل جاتی ہے۔

ان کے مطابق اگر آپ دیکھیں کہ زیرعلاج خاتون کسی سے بات نہیں کر رہی، آفس میں کام نہیں کر پا رہی، لوگوں سے ملنا باکل چھوڑ دیا یا غصہ بے قابو ہو رہا ہے، تو یہ اشارے ہیں کہ کسی ماہر سے مدد لی جائے۔

ڈاکٹر نادیہ مریضوں کا چیک اپ کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہShifa Hospital

’مس کیرج‘ کی علامات

شفا انٹرنیشل ہسپتال اسلام آباد کی ڈاکٹر نادیہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حمل ضائع ہونے کی وجوہات تو مختلف ہوتی ہیں تاہم عام علامات میں پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد اور کریمپس (مروڑ) کا ہونا اور غیر معمولی بلیڈنگ ہونا اور خاص طور پر تازہ خون کا بہنا شامل ہے۔

ان کے مطابق ’سیاہی مائل یا گہرے رنگ کے خون کا اخراج اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ بچہ دانی میں کچھ دیر جمنے کے بعد نکلا اور اس دوران لوتھڑے کی صورت میں یا ہلکے اخراج سے پتا چلتا ہے کہ بچہ ضائع ہوئے کچھ وقت گزر چکا لیکن مریض کو پتا نہیں چل پاتا کہ اس کی علامت بھی سیاہی مائل خون ہے۔‘

ان کے مطابق ’تازہ تازہ خون ظاہر کرتا ہے کہ بچہ دانی کا منہ کھل رہا ہے اور اس میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق پریگنینسی میں پانی ذیادہ پینا ہوتا ہے۔ روٹین کے گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنا بہتر ہے تاہم پانی کی بالٹیاں وغیرہ اٹھانا ٹھیک نہیں۔

ان کے مطابق ’اگر حمل کے شروع میں پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہو یا خون کا دھبہ آئے یعنی سپاٹنگ ہو تب نیچے بیٹھ کر کرنے والے کاموں سے اور بہت ذیادہ سیڑھیاں چڑھنے سے منع کیا جاتا ہے۔‘

حمل کے دوران کیا کچھ چیزیں کھانے سے بھی بچہ ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نادیہ خان نے بتایا کہ انڈہ، ڈرائی فروٹس وغیرہ کے لیے بزرگ ا ور قدامت پسند سوچ کے افراد کہتے ہیں کہ ایسی چیزیں دوران حمل نہ کھاؤ تاہم اس کا تعلق مس کیرج سے نہیں۔

ان کے مطابق ’اگر آپ کو شوگر ہے تو کھجور سمیت وہ چیزیں نہ کھائیں جس کو ڈاکٹر نے منع کیا ہو کیونکہ ان کنٹرولڈ یا بے قابو ذیابیطس کی وجہ سے مس کیرج ہو سکتا ہے اسی طرح اگر آپ کو بلند فشار خون ہے تو انڈے کی ذردی نہ کھائیں۔ کیونکہ وہ بلڈ پریشر کو بڑھا سکتی ہے تاہم اگر بلڈ پریشر، شوگر نہیں تو یہ چیزیں کھانے سے فرق نہیں پڑے گا۔‘

میاں بیوی کا ساتھ

،تصویر کا ذریعہGetty

’نصیحت اکیلے میں کریں‘

حفصہ حمل ضائع ہونے کے بعد بڑے عرصے تک گم صم اور کچھ نہ کرنے کے باوجود ’احساس جرم‘ کا سامنا کرتی رہیں اور اپنی اس کیفیت سے نکلنے میں انھیں خود بہت جدوجہد کرنا پڑی۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی عورت کو اس مرحلے کا سامنا کرنا پڑے تو سب سے بڑی سپورٹ اس کو اپنے شوہر سے مل سکتی ہے۔

’بہت ضروری ہے کہ ایک عورت دکھ اور صدمے سے نکلنے میں اپنے شوہر کے شانے پر سر رکھ کر رو سکے اپنے دل کا غبار نکالے۔ شوہر کا اپنی بیوی کو ایسے وقت میں پیار اور سپورٹ دینا، دکھ کے اظہار کے لیے اپنا کندھا فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘

’اگر کسی کا حمل ضائع ہو جائے تو آپ نے کسی کو سمجھانا ہے نصیحت کرنا ہے تو اکیلے میں سمجھائیں اور وہ بھی ہر کوئی نہ کرے صرف وہی سمجھائے جو آپ سے بہت قریب ہو۔ نہ کہ کوئی محلے دار آپ پر تنقید کرے جس سے آپ کی کوئی وابستگی نہیں۔ بہن ماں شوہر یا قریبی دوست اکیلے میں سمجھائے۔‘

’جب لڑکی دوبارہ نارمل روٹین میں آ جائے اور اس صدمے سے نکل جائے تب بتائیں کہ آئندہ اس چیز کا خیال رکھنا یا یہ احتیاط کرنا ہے نہ کہ فوری نصیحت شروع کی جائے۔‘

فاطمہ اب اپنی عمر کے 45 سال گزار چکی ہیں تاہم بچہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سوالات آج بھی ان کو سوچ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب جبکہ میں اپنے مینو پاز کے قریب پہنچنے والی ہوں تو اب بھی سنتی ہوں کہ اللہ اولاد دے گا۔ تو ان باتوں سے میں اس پریشر میں سوچتی ہوں کہ شاید مجھے ایک بار پھر میڈیسن آزمانی چاہیے۔‘

SOURCE : BBC