Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ٹرمپ کے بار بار حملوں پر انڈیا کے نپے تلے اور محتاط...

ٹرمپ کے بار بار حملوں پر انڈیا کے نپے تلے اور محتاط ردِعمل کی وجہ کیا ہے؟

18
0

SOURCE :- BBC NEWS

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ایسا تبصرہ شیئر کیا جس میں انڈیا کو ’جہنم جیسی جگہ‘ کہا گیا تھا۔ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کے تناظر میں شیئر کیے گئے اس تبصرے پر ردِعمل دیتے ہوئے انڈیا نے کہا ہے کہ یہ نامناسب ہے اور دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کے مطابق نہیں ہے۔

درحقیقت یہ تبصرہ امریکہ میں دائیں بازو کے ریڈیو میزبان مائیکل سیویج نے اپنے ریڈیو ٹاک شو کی ایک قسط میں کیا تھا۔ ٹرمپ نے جمعرات کو اسے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بغیر کوئی اضافی تبصرہ کیے شیئر کر دیا تھا۔

سیویج نے کہا تھا: ’یہاں ایک بچہ پیدا ہوتے ہی فوراً شہری بن جاتا ہے اور پھر وہ چین یا انڈیا یا اس سیارے کے کسی اور جہنم سے پورے خاندان کو لے آتا ہے۔‘

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں آگے کہا گیا: ’آج آنے والے تارکین وطن کے طبقے میں اس ملک کے لیے تقریباً کوئی وفاداری نہیں ہے، جو ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ نہیں، وہ آج کے یورپی نژاد امریکیوں اور ان کے آبا و اجداد جیسے نہیں ہیں۔‘

امریکی صدر آئین میں ترمیم کر کے پیدائش کی بنیاد پر فوری شہریت ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس حکم کو امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں انھوں نے سیویج کے تبصروں کو شیئر کیا تھا۔

امریکی صدر نے انڈیا اور چین کو ’جہنم‘ کہنے والا تبصرہ شیئر کیا جس کے بعد انڈیا میں سیاسی ہلچل مچ گئی۔ اپوزیشن نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور حکومت کو نشانہ بنایا۔

اسی دوران جب انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے اس بارے میں صحافیوں نے سوال کیا تو انھوں نے صرف اتنا کہا: ’ہم نے ایسی رپورٹس دیکھی ہیں۔‘

تاہم انڈیا کی حکومت نے بھی اس پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ جمعرات ہی کو وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دوٹوک کہا: ’یہ تبصرے لاعلمی سے بھرپور، نامناسب اور کم درجے کے ہیں۔ یہ انڈیا۔امریکہ تعلقات کی حقیقی تصویر بالکل بھی پیش نہیں کرتے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم رہے ہیں۔‘

ادھر خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے: ’صدر نے کہا ہے کہ انڈیا ایک عظیم ملک ہے جہاں اقتدار میں میرا ایک بہت اچھا دوست ہے۔‘

انڈیا کے کمزور ردِعمل کی وجہ کیا ہے؟

भारतीय प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا نے ٹرمپ کے تبصرے پر جارحانہ جواب دینے کے بجائے رسمی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انڈیا نے امریکی صدر کے جارحانہ بیان پر نپا تُلا، سنجیدہ اور متوازن ردِعمل دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈیا اس وقت امریکہ کے ساتھ کسی براہِ راست تنازع میں نہیں پڑنا چاہتا۔ کچھ تجزیہ کار انڈیا کے اس ردِعمل کو امریکہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر جاری بات چیت سے بھی جوڑ رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر ہرش پنت کہتے ہیں: ’اس وقت انڈیا کی ضرورت امریکہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اب تک اٹکا ہوا ہے۔ ٹرمپ کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ان پر ردِعمل دیتے ہوئے انڈیا اپنی ترجیحات سے بھٹکنا نہیں چاہتا۔‘

صدر ٹرمپ کے بیانات میں اتار چڑھاؤ نظر آتا ہے۔ تجزیہ کار ان کے تازہ تبصرے کو امریکہ کی داخلی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبۂ امریکی مطالعات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اوما پرشوتمَن کہتی ہیں: ’امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں۔ تارکینِ وطن ٹرمپ کے حامیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ان کے اس بیان کا ہدف انڈیا کم اور گھریلو ووٹر زیادہ تھے۔ ان کی ریٹنگ گر رہی ہے، اس طرح کے بیانات اور سرخیوں کے ذریعے وہ دوبارہ اپنے حامیوں کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

ٹرمپ نے جو تبصرہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے اس میں چین کا بھی ذکر ہے اور اس کے لیے بھی ’جہنم جیسی جگہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ چین نے اس تنازع پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

ڈاکٹر ہرش پنت کہتے ہیں: ’چین بھی اس معاملے پر خاموش ہے۔ عالمی برادری اب ٹرمپ کے بیانات پر زیادہ ردِعمل نہیں دیتی کیونکہ ان کے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔‘

اوما پرشوتمَن کہتی ہیں: ’میرا خیال ہے کہ اب انڈیا اور دنیا کے دیگر ممالک سمجھ چکے ہیں کہ کئی بار خاموش رہنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ بار بار اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر ردِعمل دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ انڈیا کے لیے امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ اس سے انڈیا کے تزویراتی مفادات وابستہ ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’انڈیا کو اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھنی ہوگی کیونکہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ ایک نہایت غیر مستحکم اور غیر متوقع طاقت بن چکا ہے، اور خود ٹرمپ اس سے بھی زیادہ غیر یقینی ہیں۔ ایسے میں انڈیا کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور ہر ممکن صورتِ حال کے لیے پہلے سے تیاری رکھنی ہوگی۔‘

کانگریس کا نریندر مودی حکومت پر حملہ

कांग्रेस पार्टी की प्रवक्ता सुप्रिया श्रीनेत

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ’جہنم جیسی جگہ‘ والے تبصرے کو ’انتہائی توہین آمیز اور انڈیا مخالف‘ قرار دیا ہے۔

کانگریس نے ایکس پر کہا: ’یہ تبصرہ ہر انڈین کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو یہ معاملہ امریکی صدر کے سامنے اٹھانا چاہیے اور سخت احتجاج درج کرانا چاہیے۔‘

ایک بیان میں کانگریس پارٹی کی ترجمان سپریا شرینیت نے کہا: ’نریندر مودی کے دوست اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کو جہنم کہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اتنا ہی نہیں، انھوں نے وہاں کام کرنے والے انڈین افراد کو ’لیپ ٹاپ والے گینگسٹرز‘ کہا ہے، لیکن نریندر مودی اور ان کی حکومت میں اتنی ہمت نہیں ہو پا رہی کہ وہ امریکی صدر سے صاف صاف کہیں کہ آپ کو ہمارے ملک کی توہین کرنے کی ہمت کیسے ہوئی۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور تزویراتی ماہر رام مادھو نے جمعرات کو امریکہ میں منعقدہ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی کانفرنس ’دی نیو انڈیا کانفرنس‘ میں ٹرمپ کے تبصرے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انڈین برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’آج تارکینِ وطن انڈینز کے درمیان بھی بہت تشویش اور گھبراہٹ ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ جب ’جہنم‘ جیسی باتیں یا ’لیپ ٹاپ بنانے والے دھوکے باز‘ جیسے الفاظ کسی برادری کے بارے میں کہے جاتے ہیں تو کمیونٹی فکرمند ہو جاتی ہے۔‘

رام مادھو نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ انڈیا اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات سب سے اہم شراکت داریوں میں شامل ہیں۔

اسی کانفرنس میں شریک شیو سینا کی رکنِ پارلیمنٹ پریانکا چترویدی نے بھی ’ہیل ہول‘ والے تبصرے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا: ’جب میں یہاں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ آ رہی تھی تو صدر ٹرمپ کی جانب سے کچھ نہایت سخت تبصرے سامنے آ رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا: ’میں نے اسے ٹروتھ سوشل پر پڑھا، لیکن مجھے امید ہے کہ فی الحال ہم اسے ایک طرف رکھ سکتے ہیں، خاص طور پر انڈیا کو ’جہنم جیسی جگہ‘ کہنے والے تبصرے کے حوالے سے۔‘

انڈیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں تقریباً 55 لاکھ انڈین نژاد افراد رہتے ہیں۔ انڈین نژاد امریکی اور چینی نژاد امریکی، امریکہ میں ایشیائی نژاد کے دو سب سے بڑے گروہ ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے تبصرے میں اسی تناظر میں چین کا بھی ذکر تھا۔

ٹرمپ پہلے بھی انڈیا کو نشانہ بناتے رہے ہیں

ट्रंप और पीएम नरेंद्र मोदी

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا کو نشانہ بنایا ہو۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں جولائی 2019 میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں۔ انڈیا کشمیر کے معاملے پر کسی تیسرے ملک کی مداخلت کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔

اسی طرح گذشتہ سال اپریل میں پہلگام میں انڈین سیاحوں پر حملے کے بعد جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی، تو ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ہی دباؤ ڈال کر یہ تنازع رکوایا۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ مختلف مواقع پر بار بار دہرایا۔

انڈیا نے ان دعوؤں پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن بار بار یہ واضح کیا کہ جنگ بندی انڈیا اور پاکستان کی افواج کے درمیان براہِ راست رابطے کے بعد ہوئی تھی۔

جولائی 2025 میں ٹرمپ نے انڈین مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف اور انڈیا کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر 25 فیصد اضافی تعزیری ٹیرف عائد کیا تھا۔ اس کے اگلے ہی ماہ انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ ٹیرف عائد کرتے ہیں۔ فروری 2025 میں انھوں نے انڈیا کو ’ٹیرف کنگ‘ بھی کہا تھا۔

تاہم ٹرمپ نے کئی بار انڈیا کو ایک خوبصورت ملک اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اپنا اچھا دوست بھی قرار دیا ہے۔

अमेरिकी राष्ट्रपति डोनाल्ड ट्रंप

،تصویر کا ذریعہTasos Katopodis/Getty Images

وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی بارہا صدر ٹرمپ کو اپنا اچھا دوست کہتے رہے ہیں۔ ستمبر 2019 میں نریندر مودی امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں ہونے والے ’ہاؤڈی مودی‘ اجتماع میں صدر ٹرمپ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔

اس انتخابی مہم کے دوران ہونے والے اجتماع میں تقریباً 50 ہزار انڈین نژاد افراد سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا: ’اب کی بار ٹرمپ سرکار۔‘

ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان ٹرمپ کے پہلے دور میں قریبی تعلقات تھے، لیکن گذشتہ سال انڈیا پر امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے بلند ترین ٹیرف کے بعد اس تعلق میں سرد مہری آ گئی۔

ٹرمپ نے گذشتہ سال لگائے گئے کئی بھاری ٹیرف اس سال واپس لے لیے ہیں۔ انڈیا اور امریکہ اب آزاد تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد ٹیرف میں کسی نئے اضافے کو روکنا اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو 500 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔

اس تجارتی معاہدے کے بارے میں اشارہ دیتے ہوئے رام مادھو نے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی کانفرنس میں کہا: ’ہم تجارتی معاہدے کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہ اگلے مہینے تک مکمل ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔‘

تاہم امریکی صدر کے وقفے وقفے سے آنے والے بیانات اور ردِعمل انڈیا میں بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ جیسا کہ رام مادھو نے کہا: ‘ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اس وقت امریکی حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ صرف ہم ہی نہیں، نیٹو بھی نہیں جانتا، یورپی یونین بھی نہیں جانتی اور کواڈ اتحاد (جس میں انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں) بھی نہیں جانتا۔‘

SOURCE : BBC