Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں مذاکرات میں تعطل کے بیچ ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں...

مذاکرات میں تعطل کے بیچ ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ: ایران کی چین اور روس کے لیے پروازوں کا دوبارہ آغاز

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت کا اہم اصلاحاتی منصوبہ وژن 2030 رواں سال اپنے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

سعودی میڈیا کے مطابق محمد بن سلمان کے یہ بیانات کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کے اجلاس میں سامنے آئے جس میں وژن 2030 سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے مطابق اس منصوبے کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے عرب اخبار الشرق الاوسط کے مطابق سعودی ولی عہد نے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی بے یقینی کے باوجود وژن 2030 نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا جاری رکھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے کے آغاز سے اب تک اور آئندہ بھی اس کی سب سے اہم سرمایہ کاری سعودی شہریوں کی ترقی اور انھیں بااختیار بنانا رہی ہے۔

سعودی شہریوں کی ترقی کو وژن 2030 کا مرکزی نکتہ قرار دینا اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے سے ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

سنہ 2016 میں منصوبے کے آغاز کے بعد ابتدائی برسوں میں توجہ زیادہ تر مملکت کے تیل پر انحصار کو کم کرنے پر مرکوز تھی۔

ولی عہد کے یہ بیانات سعودی حکام اور میڈیا کی جانب سے وژن 2030 کے حوالے سے ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ ہیں جس میں اس منصوبے کے سعودی معاشرے اور قومی شناخت پر اثرات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وژن 2030 کے چند انتہائی اہم منصوبوں کو محدود کر دیا گیا ہے جن میں مستقبل کے شہر نیوم کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

’مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے‘

وژن 2030

،تصویر کا ذریعہReuters

سعودی حکومت کے حامی اخبار عکاظ نے 28 اپریل کو شائع ہونے والے ایک تبصرے میں وژن 2030 کو تیز اور سب سے بڑا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کے سعودی معاشرے پر اثرات کو نمایاں کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جب وژن 2030 کا آغاز کیا گیا تو اس کے اہداف صرف معیشت کی تنوع اور غیر تیل آمدن میں اضافے تک محدود نہیں تھے بلکہ یہ ’اجتماعی شعور، معاشرتی ثقافت اور سماجی فکر کی تشکیلِ نو کا ایک جامع منصوبہ‘ تھا۔

میگا منصوبے نیوم کے حوالے سے تبصرے میں کہا گیا کہ یہ ’محض ایک رئیل سٹیٹ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔‘

دوسری جانب حکومت کے حامی اخبار الریاض میں شائع ہونے والے ایک اور تبصرے میں اصلاحات کی ’کامیابیوں‘ کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر معیشت پر ان کے اثرات پر زور دیا گیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کہ اس منصوبے کی سب سے نمایاں کامیابی شہریوں کے چہرے پر ’امید اور خوش بینی کی مسکراہٹ‘ ہے، کیونکہ وہ وژن کے پروگراموں کی اہمیت اور مملکت کے لیے ایک روشن مستقبل تشکیل دینے کی ان کی صلاحیت پر قائل ہو چکے ہیں۔

SOURCE : BBC