Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں 18 سالہ اکلوتے بیٹے کی موت کے ثبوت جمع کرتی ماں کی...

18 سالہ اکلوتے بیٹے کی موت کے ثبوت جمع کرتی ماں کی داستان: شدید تکلیف میں اُس نے بس اتنا کہا ’ممی، آپ آ گئی ہیں‘

23
0

SOURCE :- BBC NEWS

شتج کی والدہ اپنے بیٹے کو یاد کرکے رو پڑتی ہیں

،تصویر کا ذریعہAsif Ali

انڈیا کی شمالی ریاست اُتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرہ دون سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ شتِج چوہدری کی ایک حادثے کے نتیجے میں موت کو تقریباً دو سال گزر چکے ہیں۔

شتج چوہدری کے اہلخانہ کے مطابق، پولیس اس حادثے میں ملوث ڈرائیور کو اب تک حراست میں نہیں لے سکی ہے، جبکہ شتج کی والدہ للیتا چودھری ابھی تک انصاف کی تلاش میں تھانوں کے چکر لگا رہی ہیں۔

والدہ کا الزام ہے کہ تفتیش کے آغاز میں پولیس کی جانب سے سنجیدہ رویہ نہیں اپنایا گیا، اور جب انھیں پولیس کی جانب سے کوئی واضح یا تسلی بخش جواب نہ ملا تو انھوں نے خود ہی اپنے بیٹے کی ہلاکت سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کا کام شروع کیا۔

حال ہی میں ایک عوامی تقریب میں انھوں نے ایک بار پھر اپنی بات حکام تک پہنچانے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے کیس کی دوبارہ جانچ کا یقین دلایا ہے۔

خاندان کا دعویٰ ہے کہ شتج کی موت ڈمپر کی زد میں آکر ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAsif Ali

حادثے کی رات کیا ہوا تھا؟

16 فروری 2024 کو رات گئے، شتج چودھری اپنے ایک دوست کے ساتھ دہرہ دون کے علاقے پریم نگر میں پیدل چلے جا رہے تھے کہ اِسی دوران ایک تیز رفتار ڈمپر ٹرک نے انھیں ٹکر ماری۔ اس حادثے کے بعد ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔

اہلِخانہ کا دعویٰ ہے کہ، حادثے کے فوراً بعد شتج کے دوستوں نے ایمبولینس یعنی ایمرجنسی سروس کو اطلاع دی، مگر تقریباً 45 منٹ تک کوئی مدد نہیں پہنچی جبکہ پولیس بھی کافی تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی۔

بعد میں شتج کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے صورتحال کی سنگینی کے سبب انھیں ایک بڑے ہسپتال ریفر کیا گیا جہاں 17 فروری کی شام اُن کی موت ہو گئی۔

دو دن بعد، 19 فروری کو، اُن کی والدہ للیتا چودھری نے نامعلوم ڈمپر ڈرائیور کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ درج کروایا۔ اُن کا الزام ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کی جانب سے موقع پر موجود افراد کے بیانات باقاعدہ طور پر ریکارڈ نہیں کیے گئے۔

’اگر شواہد ہیں تو لے کر آئیں‘

للیتا کا کہنا ہے کہ انھیں سی سی ٹی وی فوٹیج ملی، جس کی بنیاد پر انھوں نے شواہد اکٹھے کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہAsif Ali

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

للیتا چودھری اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اُن کا رشتہ ماں بیٹے سے زیادہ دوستی پر مبنی تھا۔

’حادثے کی رات قریب تین بجے فون آیا، اس کی آواز پہچاننا مشکل تھا، وہ شدید تکلیف میں تھا۔ میں ہسپتال پہنچی تو اس نے بس اتنا کہا کہ ’ممی، آپ آ گئی ہیں؟‘

اُن کا ماننا ہے کہ اگر حادثے کے فوری بعد ’بروقت مدد مل جاتی تو شاید اس کی جان بچ جاتی۔‘

وہ کہتی ہیں اُن کی اصل جدوجہد اُن کے بیٹے کی موت کے بعد شروع ہوئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ مقدمے کے اندراج کے بعد جب انھوں نے پولیس سے کیس میں پیشرفت کے حوالے سے استفسار کیا تو جواب ملا: ’ثبوت ہیں تو لے آئیں۔‘

والدہ کے مطابق اس کے بعد انھوں نے خود شواہد کی تلاش شروع کر دی۔

مہینوں تک وہ حادثے کی جگہ جاتی رہیں، وہاں لوگوں سے بات کی، دکانوں اور ہوٹلوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کو تلاش کیا اور زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سراغ اکٹھے کرتی رہیں۔

’میں تین مہینے تک روز سڑکوں پر گھومتی رہی۔‘

ایک فوٹیج کی بنیاد پر وہ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس پہنچیں اور مشتبہ گاڑیوں کے نمبر نکال کر پولیس کو دیے، مگر ان کے مطابق پیش رفت نہ ہو سکی۔ ’کہا گیا (آپ کی جانب سے دیے گئے شواہد کی) جانچ ہو گئی، کچھ نہیں ملا۔‘

تقریباً ڈیڑھ سال بعد معلوم ہوا کہ پولیس کی جانب سے کیس داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔

‘اس دن ایسا لگا کہ ساری محنت ضائع ہو گئی۔’

للیتا چودھری نے حال ہی میں کسان لیڈروں سے ملاقات کی اور شتج کی موت کا مسئلہ اٹھایا

،تصویر کا ذریعہAsif Ali

معاملہ کسان یونین تک کیسے پہنچا؟

تقریباً دو سال بعد یہ معاملہ اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب للیتا چودھری ایک عوامی احتجاج میں پہنچیں اور اپنے بیٹے کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

اسی دوران ان کی ملاقات بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت سے ہوئی، جنھیں انھوں نے پورا معاملہ بتایا۔

بھارتیہ کسان یونین ویلفیئر فاؤنڈیشن کے قومی صدر سوم دت شرما کہتے ہیں: ’ہماری ملاقات للیتا چودھری سے ہوئی اور ان کی کہانی سُن کر ہم ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ہم انھیں لے کر سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پاس گئے اور تمام شواہد پیش کیے۔‘

اُن کے مطابق پہلے کہا گیا کہ کیس بند ہو چکا ہے، مگر شواہد سامنے آنے پر دوبارہ تفتیش کی بات ہوئی۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ افسوسناک ہے کہ ایک ماں کو خود ثبوت جمع کرنے پڑے۔‘

انھوں نے خبردار کیا: ’اگر اب بھی کارروائی نہ ہوئی تو ہم سڑکیں جام کریں گے۔‘

پولیس کا موقف

پولیس کا کہنا ہے کہ نئے ثبوت سامنے آنے کے بعد شتج کی موت کے معاملے کی دوبارہ جانچ کی جا رہی ہے۔

دہرہ دون کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرمیندر ڈوبھال کے مطابق کیس کی پہلے تفتیش ہو چکی تھی، تاہم اب نئے شواہد کے سامنے آنے پر اسے دوبارہ دیکھا جا رہا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جتنی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب تھی، اُن کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اب فراہم کیے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر متعلقہ تھانے کو دوبارہ تفتیش کے احکامات دیے گئے ہیں۔‘

اُن کے مطابق معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور مزید تفتیش کے لیے اجازت لی جا رہی ہے۔ اگر کسی سطح پر غفلت ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔

’جو کام پولیس کو کرنا چاہیے تھا، وہ میں نے کیا‘

للیتا چودھری گذشتہ چند برسوں سے اکیلے اپنے خاندان کی ذمہ داری اٹھا رہی ہیں، اور اُن کی بیٹی دہلی میں انٹرن شپ کر رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ سب انھوں نے ایک ماں ہونے کے ناتے کیا۔ ’جو کام پولیس کو کرنا چاہیے تھا، وہ میں نے کیا۔‘

اُن کی آواز میں آج بھی اپنے بیٹے کے لیے وہی درد صاف جھلکتا ہے: ’میرا بیٹا مجھ سے کہہ رہا تھا ’ممی مجھے بچا لو۔‘

SOURCE : BBC