Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کوہستان کرپشن سکینڈل: تین ارب 86 کروڑ روپے کی پلی بارگین کے...

کوہستان کرپشن سکینڈل: تین ارب 86 کروڑ روپے کی پلی بارگین کے بعد ایک اور ملزم کی رہائی کا حکم

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

نیب، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں سرکاری محکمے ’سول اینڈ ورکس‘ سے جڑے 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ایک سکینڈل میں پلی بارگین کی درخواست منظور ہونے پر احتساب عدالت نے ایک اور ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) پہلے ہی ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر چکے ہیں۔

ملزم کے وکیل بیرسٹر حسیب پیرزادہ نے عدالت سے استدعا کی کہ پلی بارگین کی منظوری کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد اس کرپشن کیس میں ملزم محمد ایوب کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

واضح رہے کہ محمد ایوب 40 ارب روپے مالیت کے کوہستان میگا کرپشن سکینڈل میں شریک ملزم تھے۔

اس کیس میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات حتمی مراحل میں ہیں۔ مقدمے میں گرفتار کیے گئے 30 ملزمان میں سے اب تک دو کو رہا گیا ہے جن کی رہائی پلی بارگین کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔

اس سے قبل جنوری 2026 میں نیب حکام کے مطابق سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈرائیور ممتاز نے چار ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست چیئرمین نیب کو دی تھی جو منظور کر لی گئی تھی۔

پھر احتساب عدالت نے پلی بارگین کی توثیق کرتے ہوئے ڈرائیور ممتاز کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بطور کلرک کام کرتے تھے۔ نیب حکام کے بقول ممتاز اُن کے ’فرنٹ مین‘ تھے اور مرکزی ملزم نے ان کے نام پر ’بہت ساری جائیدادیں خرید رکھی تھیں۔‘

’جائیدادوں کی ضبطگی اور پینٹ کے ڈبوں میں کروڑوں روپے‘

اس مقدمے میں سی اینڈ ڈبلیو محکمے کے علاوہ نینشل بینک، اکاؤٹیٹنٹ جنرل اور دیگر محکموں کے حاضر سروس ملازمین اور سویلین بھی شامل ہیں۔

قومی احتساب بیورو نے اس مقدمے میں 109 کے قریب اثاثوں کو بھی ضبط کیا جو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی ملکیت ہیں۔

جو غیر منقولہ اثاثے منجمد کیے گئے ہیں، نیب کے بقول ان کی مارکیٹ ویلیو ’17 ارب روپے سے زیادہ ہے۔‘

نیب کے مطابق ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی رقم اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی تھی۔

جو اثاثے ضبط کیے گئے ان میں کمرشل پلازے، فلیٹس، گھر اور دکانیں شامل ہیں اور یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ہیں۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال نے چیئرمین نیب کو 14 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست بھی بھجوائی تھی جس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اہلکار کے مطابق نیب نے مرکزی ملزم قیصر اقبال کی اہلیہ کو بھی گرفتار کیا تھا جس کی نشاندہی پر ’دو کروڑ روپے کی رقم بھی برآمد کی گئی تھی جو پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی۔‘

چند ماہ قبل ملزمان نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ نیب کو اُن کے خلاف کارروائئ سے روکا جائے تاہم ملزمان کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

نیب

،تصویر کا ذریعہNAB

یہ معاملہ کب منظر عام پر آیا؟

اپر کوہستان میں کرپشن کا معاملہ صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا تھا اور اس اجلاس میں اس علاقے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں جو فنڈز جاری ہوئے تھے، اس کے تین آڈٹ پیرا کو زیر بحث لایا گیا تپا۔

جب اس معاملے کی تحقیقات کے لیے آڈیٹر جنرل اور دیگر محکموں کے نمائندوں پر مشتمل افراد نے چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ جن ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے تھے وہ گراؤنڈ پر موجود ہی نہیں تھے ۔

اس معاملے میں پیشرفت سامنے آنے کے بعد نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

پارلیمنٹ سے قومی احتساب بیورو ایکٹ میں ترمیم کے بعد نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کی تحققیات کرنے کا مجاز ہے جس میں 50 کروڑ سے زیادہ کی مبینہ کرپشن کی گئی ہو۔

’جعلی ناموں سے تعمیراتی کمپنیاں‘

نیب کے ایک اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان نے جعلی ناموں سے کنسٹرکشن یعنی تعمیراتی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں اور مختلف منصوبوں کی تعمیر کے لیے خود سے اور دیگر ملزمان کی مدد سے ٹینڈر حاصل کر لیے جاتے تھے، پھر دستاویزات میں ان منصوبوں کی تکمیل ظاہر کرنے کے بعد جعلی بِل بنا کر اربوں روپے کی رقم ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس سے حاصل کر لی جاتی۔

نیب اہلکار کے مطابق ملزمان یہ کارروائیاں گذشتہ سات سال سے زیادہ عرصے سے کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جن محکموں میں ترقیاتی کاموں کی مد میں اربوں روپے نکالے گئے ان میں محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ اور لوکل گورنمنٹ کے محکمے شامل ہیں جبکہ حقیقت میں جن ترقیاتی منصوبوں کی مد میں یہ رقم حاصل کی گئی ان کا گراؤنڈ پر کوئی وجود ہی نہیں۔

SOURCE : BBC