SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیاز احمد پاکستان کے صوبائی دارالحکومت کراچی کے رہائشی ہیں اور لاجسٹکس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے کاروبار کا سارا لین دین پاکستانی روپے میں ہوتا ہے تاہم انھوں نے چند روز قبل ہی چار کروڑ ایرانی ریال خریدے ہیں۔
نیاز کے بقول چار کروڑ ایرانی ریال خریدنے کے عوض انھوں نے فقط 40 ہزار پاکستانی روپے کے لگ بھگ رقم ادا کی ہے۔
ایک ایسی کرنسی، جو اپنی قدر کھو چکی ہے، میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے نیاز احمد نے بتایا کہ انھوں نے ایسا سوشل میڈیا پر دستیاب ’معلوماتی‘ ویڈیوز اور اپنے ایک رشتہ دار کے مشورے کے بعد کیا۔
پاکستان میں چند افراد کی جانب سے ایرانی کرنسی کی خریداری کا رجحان کچھ پرانا نہیں ہے۔ کرنسی ڈیلنگ سے وابستہ افراد کے مطابق یہ ٹرینڈ اُس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آیا۔
پاکستان میں ایرانی کرنسی کی قدر میں گذشتہ چند ہفتوں میں کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کرنسی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد سامنے آیا جب پاکستان میں ایرانی کرنسی کی خریداری کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں کہ ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کا حجم کتنا بڑا ہے۔
پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ 28 فروری کے دن ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا تھا تو اُس سے ایک دن پہلے پاکستان میں ایک کروڑ ایرانی کرنسی کی قیمت 2500 روپے کے لگ بھگ تھی۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اُن کے مطابق جنگ کے آغاز کے چند ہفتوں بعد ایرانی کرنسی کی طلب بڑھنے لگی اور ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت نو سے دس ہزار پاکستانی روپے کے درمیان پہنچ گئی۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ اعداد و شمار تو دستیاب نہیں مگر مارکیٹ کا أصول یہی ہے کہ جب کسی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس کی خریداری جاری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر ہوا تو اس کے بعد بھی ایرانی کرنسی میں مزید اضافہ ہوا، تاہم پھر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث فی الحال ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت مقامی مارکیٹس میں تقریباً سات ہزار پاکستانی روپے تک ہے۔
گذشتہ کچھ ہفتوں کے دوران پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی زیر گردش آئیں جن میں ناظرین کو ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی۔ تاہم پھر بہت سے ایسی ویڈیوز آئیں جن میں اس معاملے سے متعلق رسک اور خدشات کے بارے میں بات کی گئی۔
مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ڈی ویلیوڈ کرنسی (یعنی ایسی کرنسی جس کی کوئی قدر نہ ہو) کی خریداری میں لوگوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ کیا ہے؟ بی بی سی نے کرنسی مارکیٹ کے ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے اس کرنسی میں سرمایہ کاری سے جڑے خطرات کیا ہیں؟
ایرانی ریال کی خریداری کس امید پر کی جا رہی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرنسی مارکیٹ کے نمائندوں کے مطابق بظاہر عام پاکستانیوں کی جانب سے ایرانی کرنسی کی خریداری اس امید پر کی جا رہی ہے کہ ممکنہ ایران امریکہ معاہدے کے بعد ایران پر سے کسی نہ کسی حد تک عائد پابندیاں ختم ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں اس کرنسی کی قدر میں کسی حد تک اضافہ ہو گا۔
چار کروڑ ایرانی ریال خریدنے والے نیاز احمد بھی کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں۔
کرنسی ڈیلر ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ جب ایران میں بادشاہت تھی اور رضا شاہ پہلوی ایران کے حکمران تھے تو چار ایرانی ریال کے بدلے ایک ڈالر ملتا تھا۔ انقلاب ایران کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 70 ایرانی ریال تک پہنچ گئی۔
انھوں نے کہا کہ جب ایران نے سنہ 2015 میں اوبامہ انتظامیہ کے دور میں جوہری معاہدہ کیا تو ایرانی کرنسی کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی اور اُس وقت 50 ہزار پاکستانی روپے میں ایک کروڑ ایرانی ریال ملتے تھے۔
تاہم سنہ 2018 میں جب یہ معاہدہ ٹوٹا تو ایران کی کرنسی کی قیمت گر گئی اور 12 ہزار پاکستانی روپے میں ایک کروڑ ایرانی ریال ملتے تھے۔
انھوں نے کہا امریکہ اور ایران میں سیز فائر کے وقت ایرانی کرنسی کی قیمت کچھ وقت کے لیے بڑھی تھی تاہم مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اب اس کی قیمت دربارہ گر گئی ہے اور فی الحال ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت کم و بیش چھ سے سات ہزار پاکستانی روپے ہے۔
ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں کہا کہ وہ بطور کرنسی ڈیلر کسی کو یہ مشورہ نہیں دے سکتے کہ فلاں کرنسی خریدیں یا نہ خریدیں۔ انھوں نے کہا تاہم ’جب لوگ پوچھتے ہیں تو میں اُن کو کہتا ہوں کہ آپ زمینی حقائق دیکھیں، حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں۔‘
انھوں نے کہا جب بھی دنیا میں کوئی جنگ یا کوئی بحران آتا ہے تو کرنسی اور اجناس کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ ہوتا ہے اور اسی دوران مارکیٹ پلیئرز ایسے مواقع پر کام کرتے ہیں ۔ ’وہ رسک لیتے ہیں اور مارکیٹ میں پھیلی قیاس آرائیوں پر کام کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ مارکیٹ کا أصول یہی ہے کہ جو زیادہ رسک لیتا ہے وہ زیادہ کماتا بھی ہے۔
ایک ڈی ویلیوڈ کرنسی میں سرمایہ کاری کتنی خطرناک ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیاز احمد کہتے ہیں کہ انھوں نے چار کروڑ ایرانی ریال فقط 40 ہزار پاکستانی روپے میں خریدے ہیں اور آگے چل کر اگر یہ کرنسی مزید گر بھی جاتی ہے تو انھیں اس کی زیادہ فکر نہیں ہے کیونکہ ان کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری بہت چھوٹی ہے، تاہم اگر صورتحال ان کی خواہشات اور اندازوں کے مطابق چلتی ہے تو وہ کچھ کما لیں گے۔
مگر ایک ایسی ڈی ویلیوڈ کرنسی میں سرمایہ کاری کے بارے میں ملک بوستان کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری میں رسک بہت زیادہ شامل ہے۔
انھوں نے کہا اگر معاملات امن کی طرف جاتے ہیں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا یہ بھی ہو سکتا ہے ایران اس کرنسی کو ختم کر کے اپنی دوسری کرنسی جاری کر دے تو ایسی صورت میں وہ تمام کرنسی ضائع ہو جائے گی جو یہاں (پاکستان میں) جمع کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈی ویلیوڈ کرنسی والے ممالک (جیسا کہ ایران میں دس لاکھ کا نوٹ بھی ہے) میں ایسا ہونا عام ہے۔
انھوں نے کہا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران اپنی کرنسی کو ری ویلیو کر دے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو موجودہ کرنسی کو جمع کرنے والوں کے پاس محض کاغذ کے چند ٹکڑے ہی ہوں گے۔
ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت ایرانی ریال میں بھی ہوتی ہے اور پاکستان سے جو زائرین ایران جاتے ہیں وہ بھی ایرانی کرنسی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
اُن کے مطابق اس لیے اس کرنسی کا استعمال مستقبل میں بھی ہو سکتا ہے۔
انھوں کی کہا اگر ایرانی کرنسی کی قدر آگے چل کر مزید کم ہوتی بھی ہے تو پھر بھی اس کا استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں ایرانی کرنسی کی طلب تجارت اور زائرین کی آمد و رفت کے سلسلے میں موجود رہتی ہے۔
SOURCE : BBC



