Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں قوت سماعت سے محروم افراد کا سفرِ مکہ: ’یوں محسوس ہوا جیسے...

قوت سماعت سے محروم افراد کا سفرِ مکہ: ’یوں محسوس ہوا جیسے میرا دل کعبہ سے جڑ گیا ہو‘

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

سفر مکہ

،تصویر کا ذریعہMansoreh Motamedi/Getty Images

7 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جانی حسین کو آج بھی اپنی وہ پریشانی اچھی طرح یاد ہے جس کا سامنا انھوں نے 13 برس کی عمر میں پہلی بار مکہ پہنچنے پر کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے یاد ہے میری امی رو رہی تھیں مگر میں سمجھ نہیں پائی کہ وہ کیوں رو رہی ہیں اور یہ بات مجھے بہت اداس کر گئی تھی۔‘

ہر سال لاکھوں مسلمان عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ عمرہ سال کے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ مسلمانوں کے لیے حج زندگی میں ایک بار واجب ہے اور اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے میں ہی ادا کیا جاتا ہے۔

ان دونوں عبادات میں خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا شامل ہے جسے طواف کا نام دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر زائرین کو اس دوران مسجد الحرام میں اذان کی گونج، قدموں کی مسلسل آہٹوں اور ہزاروں حجاج کی مدھم دعاوں کے شور کا سامنا ہوتا ہے۔

لیکن انھی سب کے دوران مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کے لیے یہ سفر تقریباً خاموشی میں گزرتا ہے۔

بھیڑ میں ایک دوسرے سے بچھڑنے کے خوف سے سرخ چھتریاں تھامے یہ لوگ برطانیہ سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

قوت سماعت سے محروم یہ افراد ’الاشارہ‘ نامی برطانوی فلاحی ادارے کے ساتھ آئے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی اشاروں کی زبان کی مترجم زینم بوسٹن بھی موجود ہیں۔

A close up picture of the Kaaba, a huge box-like building decorated in gold and silver leaf. It is the most holiest shrine in Muslim religion, at the Grand Mosque in Mecca, Saudi Arabia. In the background the sky is a mix of pink and purple.

،تصویر کا ذریعہMansoreh Motamedi/Getty Images

پیدائشی طور پر سماعت سے محروم جانی حسین بچپن میں شاذ و نادر ہی مسجد جاتی تھیں کیونکہ وہاں وہ بس بنا کسی تاثر کے بیٹھی رہتی تھیں۔ اس دوران وہ نہ خطبہ سمجھ پاتیں، نہ عبادات اور نہ ہی دعائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار نوعمری میں اپنے خاندان کے ساتھ مکہ گئیں تو وہ سفر ’ضائع‘ ہو گیا۔

’مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کعبہ کیا ہے۔‘

جانی حسین کا اسلام سے تعلق اس وقت بدلنا شروع ہوا جب 25 برس کی عمر میں انھوں نے پہلی بار اشاروں کی زبان میں ہونے والی ایک مذہبی نشست میں شرکت کی۔

قرآن کی تعلیمات اور دعائیں اچانک ان کے لیے واضح ہو گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا لگا جیسے سب کچھ بہت واضح ہو گیا ہو۔‘

اسی گروپ میں سماعت سے محروم دو اور زائرین، ریاض رفیق اور زاہد ناصر، بھی اسی طرح کے تجربات بیان کرتے ہیں۔

ناصر کو بچپن میں ایک عام اسلامی سکول بھیجا گیا تھا مگر وہ تلاوت اور بار بار دہرانے کے عمل کے ذریعے قرآن نہیں سیکھ سکے۔

رفیق کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے مذہب کی سمجھ اس وقت آئی جب کالج میں ان کی ملاقات سماعت سے محروم ایک اور مسلمان سے ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے (نہ سننےکے باعث) مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کون سا کھانا میرے لیے جائز ہے اور کون سا نہیں۔‘

رفیق ہمیشہ حج یا عمرہ پر جانے کی پیشکش سے کتراتے رہے کیونکہ وہ اشاروں کی زبان پر انحصار کرتے ہیں لیکن جب انھیں اس سفر کے بارے میں معلوم ہوا جس میں مکمل اشاروں کی زبان کی سہولت موجود تھی تو وہ آخرکار راضی ہو گئے۔

رفیق کے مطابق دوستوں نے بھی انھیں کہا کہ ’تم ضرور جاؤ۔‘

Jani is at the left forefront of the picture, dressed in a black dress, white hijab and wearing sunglasses. She is using sign language and is wearing a red and white Al Isharah lanyard around her neck.

،تصویر کا ذریعہAl Isharah

زیارتوں کی شروعات

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

قوت سماعت سے محروم افراد پر مشتمل یہ گروہ مکہ پہنچا تو یہ تمام لوگ جذبات سے مغلوب ہو گئے۔

جانی حسین نے زم زم کے مقدس چشمے کا پانی پیا اور وہ کعبہ کی جانب بڑھیں۔ جیسے ہی انھوں نے سر اٹھا کر کعبے کو دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

ناصر پہلی بار کعبہ کی جھلک دیکھ کر بے اختیار ہو گئے۔ ان کے کان میں لگا آلہ (کوکلیئر امپلانٹ) اردگرد موجود ہجوم کی ہلچل کو محسوس کرنے میں مددگار تھا تاہم طواف شروع کرتے ہی انھوں نے اسے بند کیا تاکہ اپنی سماعت کی خاموشی کے دوران ان کی پوری توجہ دعا پر رہے۔

رفیق کہتے ہیں کہ انھیں یوں محسوس ہوا جیسے ان کا ’دل کعبہ سے جڑ گیا ہو۔‘

جانی حسین نے اس سفر میں اپنے بچوں اور شوہر لقمان کو ساتھ لانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ آٹھ برس تک بچوں کی پرورش میں مصروف رہنے کے بعد انھیں لگا تھا جیسے وہ آہستہ آہستہ اللہ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور وہ اپنی ’روحانی کیفیت کو تازہ‘ کرنا چاہتی تھیں۔

وہ اپنے بچوں کو بھی اس مذہبی فریضے سے روشناس کرانا چاہتی تھیں مگر یہ توازن قائم رکھنا آسان ثابت نہیں ہوا۔

طواف یعنی کعبہ کے گرد سات چکر جسمانی طور پر بہت تھکانے والا عمل ہے۔ یہ جگہ ہر گھنٹے میں ایک لاکھ سے زیادہ زائرین کی موجودگی کے لیے بنائی گئی ہے اور اس دوران چوتھے چکر تک پہنچتے پہنچتے ان کے بچے رونے لگے اور گھر جانے کی ضد کرنے لگے۔

ہجوم کے باعث ایک موقع پر وہ اپنے شوہر اور ان کی گود میں موجود بچے سے بچھڑ گئیں اور جب آخر کار وہ انھیں دوبارہ ملے تو وہ خود پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔

A group of men dressed in Islamic clothing with their backs to the camera carry a red flag with the words al isharah DEAF UMRAH written on it in white - with symbols of someone signing on it. One of the them carries a red bag on his back with the same words and symbols in white on it.

،تصویر کا ذریعہAl Isharah

بالآخر اس خاندان نے جب ایک ساتھ طواف مکمل کر لیا تو انھیں اس کامیابی پر فخر محسوس ہوا مگر بعد میں جانی حسین نے صرف خواتین کے گروہ کے ساتھ طواف کا اہتمام کیا۔

اس بار جب ان کے شوہر بچوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے، انھوں نے ایک ’خوبصورت روحانی کیفیت‘ کو محسوس کیا۔

لقمان نے برسوں پہلے اپنی بیوی جانی حسین کے ساتھ عمرہ ادا کیا تھا تاہم اس بار وہ ان میں واضح تبدیلی دیکھ کر حیران گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میری بیوی اپنے بہترین روپ میں نظر آئیں، خاص طور پر جب وہ اپنی (سماعت سے محروم) کمیونٹی کے دیگر افراد کے ساتھ ایمان کے سفر پر تھیں۔‘

رفیق اور ناصر نے بھی اس سفر میں نئی دوستیاں قائم کیں۔

ناصر کو وہ لمحہ یاد ہے جب وہ سعودی عرب کے ایک سماعت سے محروم شخص کو جمعے کے خطبے کی بات سمجھانے میں مدد کر رہے تھے اور اس دوران دونوں نے اپنی اپنی اشاروں کی زبان کو ملا کر بات چیت کی۔

’ہم نے ایک دوسرے سے بات کی، ایک دوسرے کی مدد کی۔ ہم ایک دوسرے کو اپنے اشارے سکھا رہے تھے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے اور نسل، رنگ، عمر سے بالاتر ہونےکے باوجود یہ احساس واقعی حیرت انگیز تھا۔‘

سفر مکہ

،تصویر کا ذریعہAl Isharah

برطانیہ کا ادارہ ’الاشارہ‘ اب ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد قرآنِ کریم کا مکمل ترجمہ برٹش سائن لینگوئج (BSL) میں کرنا ہے۔

اس کام میں سماعت سے محروم ماہرین، علما اور مترجمین شامل ہیں۔

اب تک 114 میں سے 64 سورتوں کا ترجمہ مکمل ہو چکا اور ان کی ویڈیوز ادارے کے یوٹیوب چینل پر جاری کی جا رہی ہیں۔

یہ سب اس مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد سننے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے اسلامی تعلیمات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر تینوں زائرین اپنے گھر لوٹنے کے بعد غور کرتے ہیں۔

ناصر کہتے ہیں کہ ’زندگی میں پہلی بار مجھے لگا کہ مجھے دیکھا جا رہا ہے، سمجھا جا رہا ہے اور روحانی چیزوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس نے مجھے احساس دلایا کہ میری شناخت میں کوئی کمی نہیں۔‘

حسین کے لیے یہ سفر یوں محسوس ہوا جیسے ان کا دل ’اپنا گھر پا گیا ہو۔‘

ان کے مطابق ’بہت عرصے تک مجھے لگتا تھا کہ میرا دل کہیں بھٹک رہا ہے، تلاش میں ہے کہ میں کہاں سے تعلق رکھتی ہوں۔ کعبہ کے پاس کھڑے ہونے کا احساس لفظوں سے ماورا ہے۔‘

SOURCE : BBC