SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہPAKPMO/EPA
32 منٹ قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’میں صدر ترمپ کی جانب سے یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ پاکستانی اس سارے عمل کے دوران بہت زبردست ثالث رہے ہیں۔ ہم اُن کی دوستی اور کاوشوں کو سراہتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم معاہدے کے قریب پہنچے اور وہ اب بھی (امریکہ اور ایران کے درمیان) واحد ثالث ہیں۔‘
یہ کہنا ہے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا، جو امریک اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوبارہ اسلام آباد جانے سے متعلق سوال کا جواب دے رہی تھیں۔
حالیہ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں مذاکرات کے دوسرے دور کی حتمی تاریخ تو نہیں دی، تاہم اُنھوں نے تصدیق کی کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اُسی مقام پر ہوں گے (اسلام آباد) پر منعقد ہوں گے جہاں پہلے ہوئے تھے۔‘
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ دُنیا کے بہت سے ممالک نے اس معاملے پر مدد کی پیشکش کی تھی، تاہم صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ’ہمیں پاکستان کے ذریعے ہی رابطہ کاری کا یہ سلسلہ جاری رکھنا ہے۔‘
کیرولین لیویٹ کے اس بیان کو بہت سے حلقے سفارتی محاذ پر ’پاکستان کی حالیہ کامیابیوں کا تسلسل‘ قرار دے رہے ہیں، تاہم بدھ کے روز سفارتی محاذ پر پاکستان کے لیے اور بھی بہت کچھ تھا۔
بدھ کی دوپہر پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایک وفد کے ہمراہ تہران کے دورے نے عالمی روایتی اور سوشل میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کی تو وہیں اِسی روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی زیر بحث ہے۔
فیلڈ مارشل کی تہران آمد اور ملاقاتیں
،تصویر کا ذریعہGovernment of Iran
بدھ کی شام پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بیان جاری کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی وفد کے ہمراہ مذاکرات کی جاری کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچے ہیں۔
اس کے بعد فیلڈ مارشل کی تہران آمد کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر فوجی وردی میں خصوصی طیارے سے اُترتے ہیں اور استقبال کے لیے موجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو سلیوٹ کرتے ہیں اور پھر بغل گیر ہوتے ہیں۔
بعدازاں ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے اہم ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی آرمی چیف کی قیادت میں تہران آنے والے وفد کی حکام سے ملاقات کے بعد ایران صورتحال کا جائزہ لے گا اور پھر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
’تسنیم‘ کے مطابق ایرانی ذرائع نے انھیں بتایا کہ لبنان میں جنگ بندی مذاکرات کے اگلے دور کے لیے ایک ’مثبت اشارہ‘ ہو گا جبکہ امریکہ کو بھی ضرورت سے زیادہ مطالبات کے بجائے کسی منطقی فریم ورک پر عمل کرنا چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’فیلڈ مارشل منیر کو ایران میں خوش آمدید کہتے ہوئے، خوشی ہوئی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی شاندار میزبانی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے میں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے گہرے اور عظیم دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہمارا عزم مضبوط اور مشترکہ ہے۔‘
بعدازاں ایرانی حکومت کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کی ملاقات کی ویڈیو جاری کی گئی۔
شہباز شریف کی جدہ میں سعودی ولی عہد سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہPakistan PMO

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایک جانب فیلڈ مارشل تہران میں ملاقاتیں کر رہے تھے تو وہیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف جدہ میں سعودی ولی عہد محمد سلمان سے بات چیت میں مصروف تھے۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب واشنگٹن ڈی سی میں نیوز کانفرنس کے دوران یہ تصدیق کر چکے تھے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کی ترسیل آئندہ ہفتے کے دوران متوقع ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کا گیا کہ ’تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔‘
اعلامیے کے مطابق ’وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے لیے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انھوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘
اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو ’پاکستان کی امن کوششوں سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی اور حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا دور ہوا۔ ولی عہد نے امن کے اس عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا۔‘
پاکستان کی فعال سفارتکاری اور سوشل میڈیا پر ردِعمل
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد اور شہباز شریف کی سعودی عرب میں ولی عہد محمد سلمان سے ملاقات کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کے آرمی چیف ایران میں ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم سعودی عرب، ترکی اور قطر کے دورے پر ہیں۔ اسلام آباد امریکہ، ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کے لیے سفارتی بنیاد رکھ سکتا ہے، شاید اگلے ہفتے کے اوائل میں۔ جنگ بندی میں توسیع، جو 22 تاریخ کو ختم ہو رہی ہے، (اس فعال سفارتکاری کا) ایک منطقی نقطہ ہو گا۔‘
سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ اس کی بہت اچھی وجوہات ہیں کہ ایک انتہائی نازک موڑ پر سعودی اور ایرانی دونوں ایک ہی وقت میں پاکستان سے آئے مہمانوں کا مسکرا کر خیر مقدم کر رہے ہیں۔
نیویارک کی یونیورسٹی ایٹ البانے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹوفر کلیرے نے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’اگر پاکستان سے آنے والی رپورٹس درست ہیں تو ہم یقینی طور پر سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کی طرز پر ایک معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس میں صدر ٹرمپ کو یہ کہنا کا موقع بھی مل جائے گا کہ ہم جیت گئے۔‘
یاد رہے کہ الجزیرہ نے پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے جس کے بعد اب ایک معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے ’جیو نیوز‘ کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے گفتگو میں کہا کہ ’بظاہر وزیر اعظم پاکستان کے دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ایک بڑے معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کی تیاریاں جاری ہیں جس میں تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے لیے اسلام آباد آنے والے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے صحافی نک رابرٹسن اب بھی اسلام آباد میں ہی موجود ہیں۔
ایکس پر اپنی ویڈیو میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ’سفارتی اوور ڈرائیو‘ پر ہے۔ ملک کے وزیر اعظم اور دیگر وزرا سعودی عرب میں ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ہیں جبکہ اسلام آباد میں ہی ممکنہ طور پر مذاکرات کا دوسرا دور بھی متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تنازع سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے، لہذا اسلام آباد کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جائے، وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں صرف پانچ روز باقی رہ گئے ہیں۔
SOURCE : BBC



