Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’خاموش ہتھیار‘: کیا ایران آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو...

’خاموش ہتھیار‘: کیا ایران آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

Undersea cables

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران میں میڈیا اور سخت گیر سیاسی حلقے تیزی سے آبنائے ہرمز کی بندش کو نہ صرف توانائی کی ترسیل میں ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کر رہے ہیں بلکہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کے لیے ایک سٹریٹجک راستے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کا نیا ذریعہ آبنائے ہرمز کے پانیوں کے نیچے بین الاقوامی ڈیٹا کیبلز کی صورت میں پوشیدہ ہے۔

یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف حالیہ فوجی جھڑپوں کے بعد ایران، امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق ایران آبنائے سے گزرنے والی زیرِ سمندر کیبلز پر سکیورٹی اور ضابطہ جاتی (ریگیولیٹری) نگرانی نافذ کر سکتا ہے یا پھر ان کے گزرنے پر فیس بھی عائد کر سکتا ہے۔

اگرچہ اس طرح کے اقدام کو متعدد قانونی اور تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے تاہم یہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران اپنی غیر متناسب روک تھام کی صلاحیتوں کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حساس شعبے تک بڑھانے کے لیے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے۔

کئی دہائیوں سے آبنائے ہرمز کا تعلق تیل بردار جہازوں اور توانائی کے تحفظ سے رہا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے راستے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس تنگ راستے سے گزرتا ہے۔

پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے آٹھ مئی کو اپنے سائنسی شعبے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سمندر کے نیچے بچھے انٹرنیٹ کیبلز کو بطور ہتھیار اور دباؤ کے ذریعہ استعمال کرنے کا تصور پیش کیا۔

یہ کیبلز یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے درمیان عالمی مواصلات اور مالیاتی ڈیٹا منتقل کرتی ہیں۔

Strait of Hormuz

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹاٹا کمیونیکیشنز، جو ٹیلی کمیونیکیشنز کے بنیادی انفراسٹرکچر کی نگرانی کرتی ہے، کے مطابق فیلکن، جی بی آئی اور ٹی جی این گلف سمیت متعدد کیبل سسٹمز نظام آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، جو خلیج فارس، یورپ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کو ممکن بناتے ہیں۔

صرف ٹی جی این گلف ہی عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور سعودی عرب کو وسیع عالمی مواصلاتی نیٹ ورک سے جوڑتا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ میٹا، گوگل اور مائیکروسوفٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کیبلز کو پہلے سے کہیں زیادہ استعمال کر رہی ہیں۔ اس کے مطابق سوئفٹ جیسے مالیاتی سسٹمز بھی اسی نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’اگر تیل 20ویں صدی کا ایندھن تھا تو ڈیٹا 21ویں صدی کا ایندھن ہے۔‘ خبر ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کو اب دونوں راستوں پر جغرافیائی برتری حاصل ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جانے والے ادارے مشرق نیوز نے بھی اسی طرح کا مؤقف اختیار کیا ہے اور زیرِ سمندر کیبلز کو ’ایران کا خاموش ہتھیار‘ قرار دیا ہے جو ’سینٹکام اور اس کے پارٹنرز کو مفلوج کر سکتا ہے۔‘

یہ بحث ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی حکام کی جانب سے بارہا متنبہ کیا گیا ہے کہ تہران خطے کی سکیورٹی ڈاکٹرائن کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس نے خلیجی ریاستوں پر امریکی فوجی کارروائیوں میں سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

ایران کی رکنِ پارلیمنٹ احسان غازی زادہ ہاشمی نے دو مئی کو سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ اراکین اسمبلی ایک نیا ’ایکشن پلان‘ تیار کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ آبی گزرگاہوں میں زیرِ سمندر ڈیٹا ترسیل کی کیبلز سے متعلق کوئی بھی سرگرمی، بشمول راستے کے ڈیزائن، تنصیب، آپریشن، مرمت یا ان کا رُخ تبدیل کرنا، ایران کی حکومت سے پیشگی اجازت کے بعد ہی انجام دی جا سکے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی سرگرمیاں سے قبل ایران کو سروس فیس کی ادائیگی بھی لازمی قرار دی جائے گی۔

زیرِ سمندر کیبلز کیوں؟

اپریل کے آخر میں شائع ہونے والی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً 99 فیصد بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے ہی کام کرتی ہے۔

ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر پر کام کرنے والی کمپنی ٹیلی جیوگرافی کے مطابق فیلکن، اے ای ای ون اور گلف برج انٹرنیشنل کی کیبلز آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔ اس علاقے میں کسی بھی سنگین خلل سے خطے کے انٹرنیٹ و بینکاری نظام اور کاروباری نیٹ ورکس متاثر ہو سکتے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی نے بین الاقوامی تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ زیرِ سمندر کیبل نیٹ ورک دنیا بھر میں روزانہ کھربوں ڈالر کی مالی لین دین کی منتقلی کو ممکن بناتا ہے۔

ایرانی میڈیا ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ان نیٹ ورکس میں خلل چند دنوں کے اندر ’اربوں ڈالر‘ کے معاشی نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ معاملہ محض ایک تکنیکی مسئلہ سے بڑھ کر قومی سلامتی اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کا مسئلہ بن گیا ہے۔

تجاویز کیا ہیں؟

ایران کے سخت گیر میڈیا اداروں اور حکومت کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں نے واضح طور پر کیبلز کو کاٹنے یا ضبط کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ ان کی بنیادی توجہ ٹول وصولی، ڈیجیٹل حکمرانی اور ضوابط کے نفاذ جیسے تصورات پر مرکوز رہی ہے۔

وہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا ایک حصہ ایرانی علاقائی پانیوں میں ہے جبکہ دوسرا حصہ عمان کے زیرِ کنٹرول ہے اور اس لیے تہران سمندر کی تہہ کے اس حصے سے گزرنے والے بنیادی انفراسٹرکچر پر خودمختاری اور قانونی کنٹرول استعمال کر سکتا ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ احسان غازی زادہ ہاشمی کے بیانات کی توثیق کرتے ہوئے فارس نیوز ایجنسی نے کئی ممکنہ اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں زیرِ سمندر کیبلز بچھانے کے لیے اجازت نامے لازمی قرار دینا، فیس مقرر کرنا اور منافع کمانے کے مقصد سے مرمت اور دیکھ بھال کی کارروائیوں میں ایران کے کردار کو بڑھانا شامل ہے۔

زیرِ سمندر کیبلز عموماً فائبر آپٹکس کے متعدد ریشوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جنھیں دباؤ، زنگ اور بیرونی نقصان سے بچانے کے لیے سٹیل، انسولیشن اور پولی تھیلین کی تہوں سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔

Persian Gulf

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فارس نیوز ایجنسی نے نشاندہی کی ہے کہ زیرِ سمندر کیبلز کی مرمت ایک مہنگا اور وقت طلب کام ہوتا ہے، جس کی تصدیق اس سے قبل روئٹرز اور ٹیلی کمیونیکیشن کے تجزیہ کار بھی کر چکے ہیں۔ اس میڈیا ادارے نے لکھا کہ تنازعات والے علاقوں میں کیبلز کی مرمت خاص طور پر مشکل ہوتی ہے کیونکہ مرمتی جہازوں کو اجازت ناموں، محفوظ سمندری رسائی اور مستحکم آپریشنل حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کیبلز کو استعمال کرنے والی غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایران کے ضوابط کے تحت کام کرنا ہوگا۔

فارس نیوز ایجنسی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تمام تجاویز ’عملی‘ ہیں اور آبنائے ہرمز کو محض ایک توانائی راہداری سے نکال کر ایران کی ڈیجیٹل اور اقتصادی طاقت کے انفراسٹرکچر کا حصہ بنایا جانا چاہیے، جو کہ ایران کے وسیع تر غیر متوازن سکیورٹی نظریے کے مطابق ہے۔

کیا ایران کے پاس یہ اقدامات کرنے کے قانونی اختیارات ہیں؟

پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا اداروں نے بڑی حد تک اقوامِ متحدہ کے کنوینشن برائے سمندری قانون کی ایرانی تشریح پر انحصار کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ آبنائے ہرمز کے سب سے تنگ حصے تقریباً مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے اندر واقع ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس سے ’ساحلی ریاستوں کی خودمختاری ختم نہیں ہوتی۔‘

تاہم بین الاقوامی میری ٹائم قانون بنیادی عالمی مواصلاتی انفراسٹرکچر پر ایران کے اختیار کی اس قدر وسیع تشریح یا ڈیٹا کے بہاؤ پر لامحدود کنٹرول کے نفاذ کو مسترد کر سکتا ہے۔

Tehran

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے علاوہ بڑی طاقتیں، بشمول امریکہ اور یورپی ممالک، یقینی طور پر ایران کی جانب سے عالمی انٹرنیٹ کے بنیادی انفراسٹرکچر پر پابندیاں عائد کرنے یا یکطرفہ محصولات نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گی۔

جہازوں کے برعکس زیرِ سمندر کیبلز کی مسلسل نگرانی کرنا مشکل کام ہوتا ہے اور ان کا نظم و نسق حکومتوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان پیچیدہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت چلتا ہے۔ اس میں کسی بھی دانستہ مداخلت سے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔

تاہم اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے ایران کے حالیہ اقدامات کو کسی اشارے کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ضروری نہیں کہ ایران زیرِ سمندر کیبلز پر کنٹرول قائم کرنے کے اپنے سٹریٹجک تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مکمل قانونی اجازت طلب کرے۔

اس معاملے پر اب گفتگو کیوں ہو رہی ہے؟

وقت یہاں ایک اہم چیز ہے۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ایران آبنائے ہرمز میں دباؤ ڈالنے کے نئے طریقے متعارف کرا رہا ہے اور بارہا واشنگٹن پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ آبنائے کے قریب ناکہ بندی مسلط کر رہا ہے۔

ایران کے حالیہ سیاسی بیانیے میں بحری خطرات کو معاشی، سائبر اور ٹیکنالوجیکل پہلوؤں کے ساتھ بڑھتے ہوئے انداز میں جوڑا جا رہا ہے۔ سخت گیر حلقوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف بیانات بھی تیز کر دیے ہیں اور ان پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کا ساتھ دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

آٹھ مئی کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر عربی میں ایک مبہم انتباہی پیغام پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’اگر تم شیر کے نوکیلے دانت نمایاں دیکھو تو کبھی یہ نہ سمجھو کہ شیر مسکرا رہا ہے۔‘

ایسے ماحول میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بارے میں بحث جزوی طور پر اس پیغام کو پہنچانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے کہ ایران کے پاس آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے دیگر وسیع سٹریٹجک طریقے بھی موجود ہیں۔

انٹرنیٹ کیبلز کا سٹریٹجک فائدے کے لیے استعمال کتنا مؤثر ہے؟

بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کو کنٹرول کرنے یا اس پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششوں کو نمایاں تکنیکی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا ہو گا۔ ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ایسے وقت میں ان تجاویز پر عمل کر کے ایران مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ ایران کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ خلیج فارس کے ممالک کی معیشتیں آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور زیرِ سمندر کیبل کے بنیادی انفراسٹرکچر میں کسی بھی خلل کے سبب ایران کی علاقائی مواصلات اور تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم اس پر بحث کا محض تصور بھی اہم ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز پر ہونے والی بحث میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو شامل کر کے ایران کے سخت گیر حلقے بظاہر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تہران مستقبل کی کشیدگی کو سائبر سپیس اور عالمی مواصلاتی نیٹ ورک تک پھیلانے کے لیے تیار ہے۔

SOURCE : BBC