SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ہمراہ پہنچے تو کئی حلقوں میں یہ امید بندھ گئی کہ شاید امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد ایرانی حکام نے اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر سے باقاعدہ ملاقات کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے پاکستانی حکومت گزشتہ ایک ہفتے سے تیاریاں جاری رکھے ہوئے تھی تاہم ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں ’اب تک‘ شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بارہا اعلانات کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے دکھائی دیے۔
تاہم پھر جمعے کی سہہ پہر ایران اور پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر نشر ہوئی تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا سمیت دیگر مقامی میڈیا نے کہا کہ عراقچی جمعے کی رات سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا سفر کریں گے تاکہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پاکستانی، عمانی اور روسی حکام سے مشاورت کریں۔‘
دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی موقف کو ’براہِ راست سننے‘ کے لیے ہفتے کے روز اسلام آباد جائیں گے۔
ایک جانب امریکی حکام کا پاکستان آمد کا اعلان اور دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کی پاکستان میں موجودگی، مگر ان سب کے بیچ نہ پاکستان، نہ ہی امریکہ کی جانب سے ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول جاری کیا گیا۔
اسی کے سبب یہ ابہام ابھی تک موجود ہے کہ کیا جنگ کے فریقین کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ کیا پاکستان صرف دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے کردار تک ہی محدود رہے گا۔!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کا ’اب تک‘ کیا کہنا ہے
ایرانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں بلکہ اس دورے کا مقصد باہمی امور ہیں اور قیام امن سے متعلق ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘
خود عراقچی نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ ’ان کے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔‘
ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی خطے میں امن کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور معاون کردار کے تناظر میں پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’اب تک‘ ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے ایجنڈے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شامل نہیں۔
امریکی حکام کے دورے پر وائٹ ہاؤس کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وفد پاکستان آمد پر ایران سے مذاکرات کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سنیچر کو ایران سے مزید بات چیت کے لیے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے تاہم اس دورے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں نہ یہ بتایا گیا کہ وہ کس کس سے ملاقات کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی پیش رفت ہوتی ہے تو نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے۔ لیکن اس مرحلے پر اس حوالے سے کوئی تفصیل موجود نہیں کہ ایران ممکنہ طور پر کیا پیشکش کر سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر کیا بتایا گیا
دفتر خارجہ کی جانب سے جمعے کی سہ پہر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسحاق ڈار اور عاصم منیر کو ٹیلیفون کیا اور جنگ بندی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس گفتگو کے دوران اسلام آباد کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین رابطوں اور سفارتی عمل کے تناظر میں کی جانے والی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔
اسی دوران ر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی خبر سامنے آئی۔ بیان کے مطابق گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، عالمی سطح پر تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے امور زیرِ بحث آئے۔
اس کے بعد جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وفد کی آمد پر پاکستانی حکام کی جانب سے استقبال اور پھر اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایک نشست کی خبریں جاری کی گئیں۔
یہ بتایا گیا ہے کہ ایرانی وفد کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے لیکن اس کا شیڈول یا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے پیش نظر کئی روز سے ریڈ زون جانے والے راستوں سمیت کئی دیگر راستے بھی بند ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔
ایسے میں عام شہری بھی یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ مذاکرات کب ہوں گے اور راستوں کی بندش کب تک جاری رہے گی۔
SOURCE : BBC



