Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘...

امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ ’مسلح بحری قزاقی‘ اور ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ ہے جس کا جواب دیا جائے گا: ایران

19
0

SOURCE :- BBC NEWS

BBC

’کبھی
نہیں۔‘ ایک سینئر ایرانی رکنِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا
کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے
ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر ابراہیم عزیزی کہتے ہیں کہ ’یہ
ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اختیار ایران طے کرے گا،
بشمول اس بات کے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔‘

ان کے مطابق یہ اختیار اب قانون
کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم پارلیمنٹ میں
ایک بل پیش کر رہے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 110 کی بنیاد پر ہے، جس میں ماحولیات،
بحری سلامتی اور قومی سلامتی جیسے امور شامل ہیں اور مسلح افواج اس قانون پر عمل
درآمد کریں گی۔‘ عزیزی اس وقت
قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے
ہیں۔

جیسے جیسے اس اہم آبی راستے کی
ممکنہ بندش سے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے معاشی مسائل پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے،
یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جو ایک دن میں حل ہو جائے۔

جنگ نے تہران کو وہ چیز فراہم کر
دی ہے جسے وہ ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کر رہا ہے اور اس پر نظر بھی
رکھے ہوئے ہے۔ عزیزی کے مطابق کہ آبنائے ہرمز انتہائی سٹریٹجک مسئلہ اور معاملہ ہے
جسے ایران نے اس تنازع کے دوران ایک مؤثر دباؤ کے ذریعے میں تبدیل کر لیا ہے یعنی
یہ ’دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے اثاثوں میں سے ایک‘ ہے۔

BBC

عزیزی اُن ایرانی سینئر فیصلہ سازوں کی سوچ کی بھی عکاسی کرتے ہیں جو اس جنگ کے نتیجے میں ابھرنے والے نئے نظام میں نمایاں ہو رہے ہیں، ایک ایسا نظام جو تیزی سے عسکری رنگ اختیار کر چکا ہے اور جس پر سخت گیر حلقوں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ سطحی شخصیات کی ہلاکتوں کے بعد بڑھ گیا ہے۔

تہران اب اپنی اس صلاحیت کو کہ وہ اہم بحری آمدورفت، خصوصاً تیل اور گیس لے جانے والے اہم ٹینکروں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ ایران نہ صرف موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو ایک دباؤ کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے بلکہ طویل المدتی اثر و رسوخ کے طور پر بھی۔

تہران یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو محمد اسلامی وضاحت کرتے ہیں کہ ’جنگ کے بعد ایران کی پہلی ترجیح دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی قوت کی بحالی ہے اور آبنائے ہرمز ایران کے بنیادی سٹریٹجک ہتھیاروں میں شامل ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’تہران اس بات پر بات چیت کے لیے تیار ہے کہ دیگر ممالک ایران کے آبنائے ہرمز کے نئے فریم ورک سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔‘

لیکن یہ وہ مستقبل ہے جسے ایران کے بعض پڑوسی پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، جو پانچ ہفتوں کی جنگ کے دوران اپنے ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں پر شدید برہم ہیں۔ یہ جنگ اس وقت ایک نازک اور عارضی جنگ بندی کے تحت رکی ہوئی ہے۔

SOURCE : BBC