Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پانی پت کا میدان جو ہندوستان پر حکمرانی کے لیے اہم ترین...

پانی پت کا میدان جو ہندوستان پر حکمرانی کے لیے اہم ترین جنگوں کا مرکز رہا

29
0

SOURCE :- BBC NEWS

پانی پت

آج سے پورے پانچ سو سال قبل اپریل کے وسط میں جب کابل کے فرمانروا ظہیر الدین محمد بابر اپنے کوئی دس ہزار کے لاؤ لشکر کے ساتھ تھکے ماندے پانی پت کے مقام پر پہنچے تو انھیں پتا چلا کہ دہلی سلطنت کے تخت پر متمکن بادشاہ ابراہیم لودھی ایک لاکھ سے زیادہ بڑی فوج کے ساتھ ان کے مقابلے کے لیے دلّی سے نکل پڑے ہیں۔

بابر کے لیے پہلے ہی یہ خبر اچھی نہیں تھی کہ انھیں دہلی کے خلاف لشکر کشی کی دعوت دینے والے میواڑ کے راجہ سنگرام سنگھ عرف رانا سانگا نے ان سے منھ موڑ لیا تھا اور ان کے ساتھ ساتھ دعوت دینے والے دوسرے شخص دولت خان لودھی نے بھی ان کی مخالفت کی، جسے انھوں شکست دے کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بابر کے پاس اب اپنے فوجیوں کے ساتھ پانی پت کے میدان میں قسمت آزمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔

در اصل اس وقت کے بدخشاں، قندھار اور کابل کے حکمراں ظہیر الدین محمد بابر نے ہندوستان کے لیے 17 نومبر سنہ 1525 کو کابل سے کوچ کیا تھا اور وہ 21 اپریل سے قبل پانی پت کے میدان میں پہنچے تھے۔

وہ اپنی خود نوشت ’تزک بابری‘ میں اس بارے میں لکھتے ہیں: ’932 ہجری، 1526، جمعرات کا دن تھا۔ جمادی الاخر کی آخری تاریخ تھی، جب ہم پانی پت پہنچے تھے۔ آخر پانی پت کے میدان میں فوجیں جمع ہو گئیں۔ سویرے سویرے اطلاع ملی کہ دشمن سیدھا چلا آ رہا ہے۔ ہم بھی تیار ہوگئے۔ ہمایوں ساتھ تھا، میں چاروں طرف مختلف امرا کو فوج کی ذمہ داری دے دی۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں: ’سلطان ابراہیم کی فوج جو دور سے آتی ہوئی معلوم ہوتی تھی، وہ قدم بڑھائے چلی آ رہی تھی۔ ہماری فوج میں دشمن کی فوج کی آمد دیکھ کر کھلبلی مچی کہ ٹھہریں یا نہ ٹھہریں، مقابلہ کریں یا نہ کریں۔ ایسوں سے مقابلہ ہے جو بے خوف چلے آ رہے ہیں۔‘

’میں نے حکم دیا تیر مارنے شروع کریں، اور لڑائی میں مشغول ہوں۔‘

بہر حال ابھی سورج کوئی نیزہ بھر اوپر گیا تھا کہ گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی اور ابراہیم لودھی کی فوج کوئی دو سوا دو گھنٹے میں پسپا ہونے لگی۔

ظہیر الدین محمد بابر نے پانی پت کی جنگ سے قبل انڈیا پر پانچ بار حملہ کیا تھا لیکن وہ لاہور سے آگے نہیں بڑھے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنگ کا منظر

بابر جنگ کا منظر اس طرح پیش کرتے ہیں: ’گھمسان کی لڑائی ہونے لگی۔ غبار ایسا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھتا تھا۔ سورج ایک نیزہ بلند ہوا ہوگا کہ دشمن ہارنے لگا۔ اللہ تعالی نے ایک ایسا مشکل کام آسان کیا کہ وہ بے شمار لشکر دوپہر کے عرصہ میں خاک میں مل گیا۔ پانچ چھ ہزار آدمی تو سلطان ابراہیم کے ساتھ ایک جگہ مارے گئے۔ ہر جگہ لاشیں ہی لاشیں تھیں۔‘

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے نہ صرف دہلی سلطنت سے لودھی خاندان کی حکمرانی کا خاتمہ کردیا اور مغلوں کی حکومت کی داغ بیل ڈالی بلکہ اس نے تاریخ کا بھی رخ موڑ دیا۔

آج پانچ سو سال بعد اگرچہ پانی پت میں کوئی میدان تو نہیں لیکن وہاں اس جنگ کے آثار کے طور پر ابراہیم لودھی کا مزار ضرور ہے جبکہ کابلی باغ مسجد بھی ہے، جسے بابر نے جیت کی یادگار کے طور پر تعمیر کروایا تھا اور اس جگہ ایک کتبہ ہے جس پر لکھا ہے کہ یہ مسجد سنہ 1526 میں تعمیر ہوئی تھی۔

لیکن پانی پت ایک ایسی جگہ ہے، جہاں ایک دو نہیں بلکہ تین تین جنگیں ہوئیں اور تینوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔

Panipat
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پانی پت میں ہی انڈیا کی بڑی بڑی تین جنگیں کیوں ہوئيں؟

اس کا جواب دیتے ہوئے دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے سابق پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری نے بی بی سی کو بتایا: ’لاہور اور دہلی کے درمیان پانی پت ایک ایسی جگہ تھی، جہاں وسیع و عریض میدان تھے۔ جانوروں کے لیے وافر چراگاہیں تھیں، شکار کے لیے جنگلات تھے اور انسانوں اور چوپایوں کے لیے پانی کی فراوانی تھی۔ اس کے قرب و جوار میں آبادیاں بھی تھیں اور اس طرح یہ عسکری لحاظ سے انتہائی اہم لینڈ سکیپ فراہم کرتا تھا۔‘

چنانچہ یہی وجہ تھی کہ بابر نے اس جگہ کا انتخاب کیا جبکہ دہلی کے حکمرانوں کے لیے بھی یہ جگہ بہت مناسب تھی کیونکہ یہ دارالحکومت سے اتنے فاصلے پر تھی کہ دشمن کو وہاں روکا جا سکتا تھا اور وہاں کی مسافت کوئی ایک دن یا اس سے کچھ زیادہ تھی، لیکن لودھی کی فوج کی رفتار سست تھی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تاریخ کی استاد رحما جاوید راشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان پر عام طور پر لشکر کشی شمال مغرب سے ہوئی اور دہلی پر حکومت کی خواہش رکھنے والوں کے لیے لاہور اور دہلی کے درمیان یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں دو بدو جنگ (پِچڈ بیٹل) کے لیے تمام سہولیات موجود تھیں۔

ہم نے پانچ سو سال بعد پانی پت کا دورہ کیا تو وہاں ان مقامات پر یادگاریں موجود ہیں، جہاں تینوں جنگیں ہوئی تھیں۔ لیکن وہاں اس سے قبل کے بھی آثار ہیں، جن میں 13ویں اور 14ویں صدی کے صوفی شیخ شرف الدین بو علی شاہ قلندر کا مزار شامل ہے۔

رحما راشد بتاتی ہیں کہ جہاں پانی پت کی پہلی (1526) اور دوسری (1556) جنگ نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ کون دہلی سلطنت پر حکومت کرے گا، وہیں تیسری جنگ (1761) نے یہ فیصلہ دیا کہ کون دہلی کے تخت پر حکومت نہیں کرے گا۔

تزک بابری میں پانی پت کی پہلی جنگ کا یہ منظر پیش کیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

21 اپریل 1526: پانی پت کی پہلی جنگ

پانی پت کی پہلی جنگ میں فوج کی تعداد کے مقابلے میں عسکری حکمت عملی کے ساتھ ساتھ بہتر جنگی تربیت اور اسلحے نے اپنا کردار ادا کیا۔

تاریخ داں اس بات پر متفق ہیں کہ بابر کی توپوں نے جنگ کا نتیجہ ان کے حق میں موڑ دیا کیونکہ اس خطے میں پہلی بار ہاتھیوں کو توپ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے لیے ابراہیم لودھی کی فوج بالکل تیار نہ تھی۔

رحما جاوید بتاتی ہیں کہ بابر کی عسکری حکمت عملی میں ’تولغما حکمت عملی‘ شامل تھی، جس میں سامنے سینکڑوں کی تعداد میں بیل گاڑیوں کو ایک ساتھ باندھ کر سامنے والی فوج کے لیے مشکلات کھڑی کی جاتی تھی جبکہ اس کے پیچھے توپیں اور بندوقچی ہوتے تھے۔

اس کے علاوہ گھڑسوار دستے تھے، جن پر ایسے ماہر تیر انداز سوار ہوتے تھے جو گھوڑے کی پیٹھ سے نشانہ لگا سکتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس زمانے میں بندوق اور توپ کو دوبارہ بھرنے میں وقت لگتا تھا، اس لیے سامنے کھڑی گاڑیوں کی روکاوٹ بڑا کام کرتی تھی۔

ان میں ایسے گھوڑے بھی شامل ہوتے تھے جو تیز رفتاری کے ساتھ دشمن کے پیچھے چلے جاتے اور دشمن کی فوج کو گھیر لیتے تھے۔

پروفیسر جعفری بتاتے ہیں کہ اگرچہ ابراہیم لودھی کی فوج کی تعداد زیادہ تھی، لیکن ان میں ایسے فوجی شامل تھے جن کی فوجی تربیت نہیں تھی۔ وہ کسان تھے اور ضرورت کے وقت ہتھیار اٹھا لیتے تھے۔

انھوں نے بادشاہ بابر کے حوالے سے کہا کہ اپنی کتاب میں بابر نے ابراہیم لودھی کی فوج کے بارے میں لکھا ہے کہ ’ان کی فوج میں زیادہ تر ایسے فوجی شامل تھے جنھیں کسی فوج کے خلاف لڑنے کا تجربہ نہیں تھا‘ جبکہ پروفیسر جعفری کے مطابق بابر کے فوجی تربیت یافتہ تھے اور انھیں جنگوں کا بہت تجربہ تھا۔

بہر حال بابر کو مغل سلطنت کو استحکام بخشنے کا موقع نہ مل سکا جبکہ ہمایوں کو ایک افغان جنرل شیر شاہ سوری نے شکست سے دوچار کیا، یہاں تک کہ ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور ایران کے صفوی سلطنت کے بادشاہ شاہ طہماسپ کے پاس پناہ لینی پڑی۔

شیر شاہ (حکومت 1540 سے 1545 تک) کی موت کے بعد صفوی بادشاہ کی مدد سے 1555میں ہمایوں نے دہلی کی سلطنت حاصل کی لیکن دہلی میں واقع پرانے قلعے سے گر کر ان کی موت کے بعد ان کے 13 سالہ بیٹے جلال الدین محمد اکبر کو بادشاہ بنایا گیا۔

اس دوران افغان بادشاہ عادل شاہ سوری کے دربار میں وزیر اور جنرل ہیم چندر (ہیمو) نے مغل فوج کو پے در پے شکست سے دو چار کیا اور دہلی میں مغل فوج کر ہرا کر خود تخت نشین ہوئے اور ’وکرامادیتہ‘ کا لقب اختیار کیا۔

لیکن دلی سے دور جب اکبر اور ان کے سرپرست بیرم خان کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے دہلی کو واپس لینے کے لیے دلی کا رخ کیا اور ایک بار پھر پانی پت میں فیصلہ کن جنگ کے لیے میدان سج گیا۔

اکبر بادشاہ 13 سال کی عمر میں ہندوستان کے تاجدار بنے اور اسی سال انھیں سب سے اہم معرکہ درپیش تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

5 نومبر سنہ 1556: پانی پت کی دوسری جنگ

پانی پت کی دوسری جنگ میں ایک بار پھر مغل اور افغان فوج آمنے سامنے تھی، لیکن اس بار اس کی سربراہی ایک ہندو راجہ کے ہاتھوں میں تھی جو مغلوں کے خلاف پے در پے ڈیڑھ درجن سے زیادہ جھڑپیں جیت چکے تھے۔

اکبر اور بیرم خان کی فوج ابھی پیچھے تھی، جبکہ علی قلی خان شیبانی کی قیادت میں 10 ہزار کی تعداد میں مغل فوج پانی پت کے میدان میں پہنچ چکی تھی۔

یہ جگہ ابرہیم لودھی کی قبر سے کوئی ڈھائی میل کی مسافت پر ہے جہاں دوسری جنگ ہوئی۔

Panipat

پروفیسر جعفری بتاتے ہیں کہ ہیمو کی فوج تغلق آباد کی جیت سے پرعزم تھی جبکہ اس کے پاس ہاتھیوں کی تعداد بھی زیادہ تھی لیکن ایک بار پھر مغلوں کی توپ نے اپنا جوہر دکھایا۔

مورخوں کے مطابق ہیمو کو اپنی فتح صاف نظر آ رہی تھی کیونکہ اس کے پاس کوئی 30 ہزار گھڑسوار اور ہتھیار سے لیس فوجی تھے۔ ان میں زیادہ تر تربیت یافتہ افغان فوجی تھے۔

جبکہ ہیمو کے پاس تقریبا 500 ہاتھیوں کا دستہ بھی تھا جو کسی بھی حملے کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ڈاکٹر رحما راشد بتاتی ہیں: ’لیکن کہیں سے ایک تیر ہیمو کی آنکھ میں آ لگا اور اس کے گرتے ہی فوج کا حوصلہ بھی گر گیا۔‘

ہیمو نے دوسری جنگ میں تقریبا کامیابی حاصل کر لی تھی لیکن ایک تیر نے جنگ کا فیصلہ بدل دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کے مطابق ہیمو کی فوج کے سامنے کوئی مقصد نہیں تھا۔ اس لیے سربراہ کے گرتے ہی باقیوں کے اوسان خطا ہو گئے۔

ہیمو کو زخمی اور بعض روایت کے مطابق مردہ حالت میں اکبر کے سامنے پیش کیا گیا اور بیرم خان کے کہنے پر اکبر نے ہیمو کا سر قلم کیا۔

بعد میں آئین اکبری میں لکھا گيا ہے کہ اکبر نے سر قلم کرنے سے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ مردے کا سر قلم کرنا ان کی شان کے خلاف ہے۔

اس سے قبل جب پہلی جنگ میں بابر کے پاس ابراہیم لودھی کا سر لا گیا تھا تو انھوں نے ان کے ساتھ احترام کا معاملہ کیا تھا۔

مورخ ابراہیم ایرالی اپنی کتاب ’امپائرز آف دی پیکاک تھرون‘ میں لکھتے ہیں: ’جب مغلوں کو مردہ سلطان کی لاش ملی تو انھوں نے اس وقت کے رواج کے مطابق اس کا سر قلم کر دیا اور بابر کو یادگار کے طور پر اس کا سر پیش کیا۔‘

’بابر نے اپنے جرنیلوں دلاور خان اور امیر خلیفہ کو حکم دیا کہ ابراہیم لودھی کی لاش کو غسل دیں اور اسے پورے اعزاز کے ساتھ اس جگہ دفن کریں جہاں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔‘

پانی پت کی دوسری جنگ نے مغل سلطنت کو ایسا استحکام بخشا کہ اس کے بعد تقریبا ڈیڑھ سو سال تک مغل حکومت کا سورج اپنے نصف النہار پر جگمگاتا رہا۔

لیکن پھر بادشاہ اورنگزیب کی سنہ 1707 میں موت کے بعد مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہوا اور دکن میں مراٹھوں کا عروج، یہاں تک کہ انھوں نے دہلی کی سلطنت کا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔

ایسی صورت حال میں ایک بار پھر پانی پت کا علاقہ میدان کارزار بنا لیکن اس نے مراٹھا خواب کو چکناچور کر دیا۔

احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی فتح کے دہلی میں رہنے کے بجائے واپسی کا فیصلہ کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

14 جنوری سنہ 1761: پانی پت کی تیسری جنگ

یہ جنگ مراٹھوں اور افغانستان میں درانی سلطنت کے تاجدار احمد شاہ ابدالی کے درمیان ہوئی۔

کہتے ہیں کہ مراٹھے میدانی جنگ کے عادی نہیں تھے۔ وہ گوریلا وار یعنی تیزی کے ساتھ اچانک حملہ کر کے دشمن کو حیران کر دینے کے فن کے ماہر تھے۔ لیکن جب پانی پت کے میدان میں ان کا احمد شاہ درانی سے سامنا ہوا تو مراٹھا فوج میں ابراہیم گاردی بھی تھے، جنھوں نے اس سے قبل کرنال اور کنج پورہ کی جنگ میں افغانوں کو شکست سے دو چار کیا تھا اور نجابت خان، میاں قطب شاہ اور عبد الصمد خان جیسی اہم شخصیات کو قتل کیا گیا تھا۔

اس بار دونوں افواج کی تعداد تقریبا برابر تھی، لیکن پروفیسر جعفری کے مطابق احمد شاہ ابدالی کے پاس بہتر توپیں تھیں جبکہ رحما جاوید کے مطابق مراٹھا فوجی دو بدو میدانی جنگ کے عادی نہیں تھے اور ان کے لشکر کے ساتھ صوفی سنت، گانے اور ناچنے والیاں اور عورتیں بچے بھی تھے، جس کی وجہ سے ان کی رفتار بہت سست تھی۔

یہ جنگ بھی جلد ہی اختتام پزیر ہوئی لیکن احمد شاہ ابدالی کی فوج نے جنگ کے دوسرے دن جنگی قیدیویں کا قتل عام کیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس دوران تقریبا 40 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

یہ قتل عام ابراہیم لودھی کے مزار اور کابلی باغ مسجد سے تین کلومیٹر کی مسافت پر کالا آم باغ کے مقام پر ہوا تھا، جہاں ان دنوں پانی پت کی تینوں جنگوں کی یادگار میں ایک پارک بنا دیا گيا ہے۔

وہاں فی الوقت پہلی اور تیسری جنگ کے مناظر سیاہ پتھر میں کندہ ہیں، جبکہ وہاں کے گائیڈ سچن اپادھیائے کے مطابق دوسری جنگ کے مناظر کو وہاں سے چھ کلومیٹر دور ہیمو کی یادگار کی جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

پروفیسر جعفری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بابر کی طرح احمد شاہ ابدالی کو بھی ہندوستان آنے کی دعوت دی گئی تھی کیونکہ ہندوستان میں اس وقت مراٹھا حکومت کے ظلم و جبر بڑھ گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس جنگ میں مراٹھوں کو ایک دو افغان سرداروں کے علاوہ عوام کی حمایت حاصل نہیں تھی جبکہ احمد شاہ ابدالی کو دعوت دینے والوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔

ڈاکٹر رحما راشد بتاتی ہیں کہ اس جنگ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ مراٹھا تو دہلی سے تخت سے دور رہیں گے، لیکن احمد شاہ ابدالی کی واپسی کے بعد اس جنگ نے ایک ایسا خلا چھوڑ دیا جسے بعد میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں انگریزوں نے پُر کیا۔

SOURCE : BBC