SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہoneconstitutionave/@sayedzbukhari
اپ ڈیٹ کی گئی 2 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 11 منٹ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹیٹوشن ایونیو کے ’ٹوئن ٹاورز‘ ایک بار پھر خبروں میں ہیں اور اس کی وجہ اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے عمارت خالی کروائے جانے کے لیے کیا جانے والا آپریشن بنی ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے مکینوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے ابتدائی طور پر جمعے تک کی مہلت دی گئی تاہم اب پرائم منسٹر آفس کے مطابق وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی.
وزیراعظم آفس کا کہنا ہے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدیات پر ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کر وزیرِ اعظم کو رپورٹ پیش کرے گی.
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلاتفریق فریقین اور متاثرین کو سنے گی.
خیال رہے کہ یہ عمارت کروڑوں روپے مالیت کے رہائشی اپارٹمنٹس پر مشتمل ہے جن کے مالکان میں پاکستان کے سیاستدان، بیوروکریٹس اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے نام شامل ہیں۔
اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کی شب کیے جانے والے آپریشن کی بنیاد اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا اجرا بنی تھی جس میں عدالت نے دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے عمارت کی لیز کی منسوخی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے نے اس سال فروری میں شاہراہِ دستور کے قریب واقع اس عمارت کی لیز کی منسوخی سے متعلق مقدمے میں اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 30 اپریل کو سنایا گیا۔
یہ مقدمہ عمارت بنانے والی کمپنی بسم اللہ، نیاگرا، پیراگون گروپ (بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ) اور فلیٹس کے مالکان کی جانب سے دائر اپیلوں پر مبنی تھا۔
ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو کا معاملہ ہے کیا؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ساڑھے 13 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایک ورسٹائل ڈیولپمنٹ ہے جس میں اپارٹمنٹس، شاپنگ مال اور دفاتر کے علاوہ ایک فائیو سٹار گرینڈ حیات ہوٹل شامل ہے۔ تاہم سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس مقام پر صرف ایک ہوٹل کی تعمیر کے لیے سنہ 05-2004 میں بی این پی گروپ کو 99 سال کی لیز پر جگہ دی گئی تھی تاہم اس گروپ نے وہاں سات برس کے عرصے میں جو ٹاور تعمیر کیے انھیں ہوٹل کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے رہائشی فلیٹس اور تجارتی سرگرمیوں کے علاقے میں تبدیل کر دیا گیا۔
سی ڈی اے اے نے ضوابطِ کار کی خلاف ورزی پر یہ لیز سنہ 2016 میں منسوخ کر دی تھی اور یہ معاملہ ابتدائی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیا تھا تو عدالت نے اپنے فیصلے میں گرینڈ حیات ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر غیر قانونی قرار دے کر لیز کی منسوخی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
تاہم جنوری 2019 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس فیصلے کے خلاف بی این پی گروپ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ جب عمارت بن رہی تھی تو اس وقت سی ڈی اے نے اعتراض نہیں کیا اور اب گرینڈ حیات کے دو ٹاور بن گئے ہیں اور لوگوں نے اپارٹمنٹس خرید لیے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا تھا کہ عمارت کے تیسرے ٹاور کی تعمیر کون کرے گا؟
جسٹس ثاقب نثار نے یہ بھی کہا تھا کہ ’سی ڈی اے کو 15 ارب روپے لے کر دے رہے ہیں۔۔۔مشکل تو ان لوگوں کو ہو گی جنھوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔‘ خیال رہے کہ اس وقت عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ بی این پی گروپ آٹھ برس کے دوران سی ڈی اے کو مزید ساڑھے 17 ارب روپے ادا کرے گا۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی اس رقم کی ادائیگی میں ناکام رہی اور عدالت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی تعمیل اور اپنی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی نہیں کر سکی۔ سی ڈی اے کے مطابق عدالت کی جانب سے طے کردہ ساڑھے 17 ارب روپے میں سے صرف دو ارب 90 کروڑ روپے ہی ادا کیے گئے اور اسی بنیاد پر 2023 میں لیز کی دوبارہ منسوخی کا نوٹس دیا گیا اور نتیجتاً لیز منسوخ کر دی گئی۔
،تصویر کا ذریعہoneconstitutionave
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سی ڈی اے کے لیز کی دوبارہ منسوخی کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سی ڈی اے نے بی این پی کے 25 جولائی 2022 کے اس خط کا بھی حوالہ دیا، جس میں کمپنی نے منفی معاشی حالات کی وجہ سے اس منصوبے کو جاری رکھنے یا دو ارب 92 کروڑ روپے سالانہ کی قسط کی ادائیگی میں ناکامی کا اعتراف کیا۔
سماعت کے دوران عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے بعد بی این پی کمپنی کے سی ای او اور سی ڈی اے کے سابق اہلکاروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے تاہم بعد ازاں یہ معاملہ نیب کے سپرد کر دیا گیا، جہاں ابھی اس پر کارروائی کا انتظار ہے جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس معاملے کا جائزہ لیا تھا۔
جمعرات کی شب کیا ہوا؟
،تصویر کا ذریعہ@sayedzbukhari
اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات اس کے مکینوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر فراہم کی گئی ہیں۔
دانشور ندیم حق جو اس عمارت کے ایک اپارٹمنٹ میں کرایہ دار ہیں، نے اس بارے میں ایکس پر ایک طویل پیغام میں دعویٰ کیا کہ جمعرات کی شب پولیس کی بھاری نفری نے عمارت میں کارروائی کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘رات تقریباً ایک بجے اچانک میرے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔۔۔باہر نکلا تو سامنے تقریباً پچاس بھاری اسلحے سے لیس پولیس اہلکار کھڑے تھے۔ ان کا رویہ انتہائی سخت اور جارحانہ تھا اور انھوں نے اس بات سے انکار بھی نہیں کیا کہ یہ ایک زبردستی بے دخلی کی کارروائی ہے۔’
ندیم حق کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے انھیں نہ کوئی عدالتی حکم نامہ دکھایا، نہ کوئی قانونی دستاویز، اور نہ ہی کسی قسم کی وضاحت دی۔ بس حکم دیا گیا کہ دوپہر بارہ بجے تک عمارت خالی کر دیں۔’
انھوں نے یہ بھی کہا کہ جمعے کی صبح انھیں معلوم ہوا کہ اس کارروائی کے پیچھے مبینہ طور پر عدالت کا حکم موجود ہے۔ ‘ دنیا کی کون سی عدالت ایسا حکم دیتی ہے کہ پچاس مسلح اہلکار رات ایک بجے ایک رہائشی عمارت پر دھاوا بولیں اور قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو مجرموں کی طرح ہراساں کریں؟’
اپنے پیغام میں ندیم حق نے تسلیم کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ جس عمارت کے وہ رہائشی ہیں وہ ‘گزشتہ بیس برس سے زائد عرصے سے قانونی تنازع کا شکار ہے’ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس تمام عرصے میں ‘عدالتوں نے لوگوں کو اپارٹمنٹس خریدنے، سرمایہ کاری کرنے اور انہیں کرائے پر دینے کی اجازت دی۔ ہم جیسے کرایہ داروں نے بھی اپنے حقوق کے تحت، مکمل حسنِ نیت کے ساتھ یہاں رہائش اختیار کی۔ مگر اب اچانک، بغیر کسی پیشگی نوٹس، سماعت یا وجہ کے، ہمیں راتوں رات نکالنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔’
،تصویر کا ذریعہoneconstitutionave
کیا یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے قانونی ہے؟ اگر بیس سال بعد بے دخلی قانونی بھی مان لی جائے، تو کیا اسے اس قدر ظالمانہ، غیر انسانی اور اچانک انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے؟ بغیر کسی مہلت، بغیر کسی وقار، اور بغیر اس موقع کے کہ رہائشی کوئی متبادل انتظام کر سکیں؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر سیاستدان ندیم افضل چن نے پولیس چھاپے کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’رات سوا ایک بجے پولیس نے یہاں چھاپا مارا، بچوں کو انتہائی بدتمیزی سے حلف ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ کس عدالت کے حکم پر ایسا کر رہے ہیں۔ ہم جو ان فلیٹس میں کرائے میں رہتے ہیں، مالک کوئی بھی ہو، ہم اسے کرایہ ادا کریں گے، انھیں کرایہ داروں کو بیدخل کرنے کا کیا حق ہے؟‘
اُنھوں نے پولیس کی بھاری نفری کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کانسٹیٹیوشن ون کو پولیس سٹیشن ون میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کی کارروائی کے بارے میں جب اسلام آباد پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس کارروائی کے لیے سی ڈی اے کو ذمہ دار قرار دیا۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہراہ دستور پر واقع عمارت کو خالی کروانے کے لیے ایکشن سی ڈی اے کی طرف سے لیا گیا اور اس ضمن میں صرف امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس کو طلب کیا گیا تھا۔
اس افسر کا کہنا تھا کہ اس عمارت کو خالی کروانے میں پولیس کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ افسر نے پولیس اہلکاروں پر فلیٹس میں داخل ہونے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ’وہاں پر ساری کارروائی سی ڈی اے کا انفورسمنٹ کے شعبے کا عملہ کر رہا ہے۔‘
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طلال چوہدری نے جمعے کو اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کسی کی پرائیویسی میں مداخلت نہیں کی گئی اور ریاست نے اپنے اس فیصلے کو عملی طور پر دہرایا کہ پاکستان میں کہیں بھی تجاوزات یا ناجائز قبضہ ہو، چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ قانون کے مطابق ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’جب ریاست یہ فیصلہ کر لے کہ غریب ہو یا امیر، ریاست کی رٹ قائم ہو گی۔ پھر کسی کا ناجائز قبضہ ہو یا اس قسم کے محل و وقوع والی عمارت (ون کانسٹیٹیوشن ایونیو) پر تو ریاست ہی جیتتی ہے۔‘
طلال چوہدری نے کہا کہ اس عمارت کے رہائشیوں کو علم تھا کہ یہ متنازع ہے اور سب کو علم ہے کہ اس بلڈنگ کے رہائشیوں کو 2023 سے نوٹس جاری کیے گئے اور انھیں علم ہے تبھی ان اپارٹمنٹس میں سے بیشتر خالی ہیں۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں 253 غیرقانونی اپارٹمنٹس بنائے گئے تھے جن میں سے 184 خالی ہیں جبکہ 69 اپارٹمنٹس میں لوگ موجود تھے اور کسی کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوئی۔
’غریبوں کے لیے قانون، اشرافیہ کے لیے استثنیٰ‘
،تصویر کا ذریعہX/@HamidMirPAK
یہ معاملہ جمعرات کی شب سے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ سینئر صحافی اور سیاستدان بھی اس معاملے پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔
سینئر صحافی نصرت جاوید نے ایکس پر لکھا کہ ’اسلام آباد کی اشرافیہ نے خاموشی سے غریب محلوں کی مسماری پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے بالکل قانونی اقدام قرار دیا۔ لیکن جب وہی قانون کانسٹیٹیوشن ون جیسی فلک بوس عمارت کو چھوتا ہے تو اس پر اعتراض ہوتا ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے گذشتہ دنوں وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں واقع مزار بری امام کے قریب محلہ نوری باغ میں غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’غریبوں کے لیے قانون۔ اشرافیہ کے لیے استثنیٰ، بری امام کا محلہ اس عمارت سے زیادہ دور نہیں ہے جسے کانسٹیٹیوشن ون کہا جاتا ہے۔ عدالتیں بری امام میں پرانے گھروں کو مسمار کرنے کی توثیق کیسے کرسکتی ہیں اور امیر لوگوں سے وابستہ عمارت کو گرانے سے کیسے روک سکتی ہیں؟‘
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسلام آباد انتظامیہ کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوَئے ایکس پر لکھا کہ ایک ایسے وقت میں جب کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں، اگر حکومت نے اس طرح کی چیزیں ضبط کرنا شروع کر دیں تو سرمایہ کار مزید مایوس ہو جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ تنازع یہ ہے کہ اس پلاٹ پر ہوٹل بننا چاہیے تھا، لیکن یہاں اپارٹمنٹس بن گئے۔ سرمایہ کار کہتا ہے کہ جب بولی لگی اس وقت ماحول ہوٹل کے لیے سازگار تھا۔ لیکن بعد میں یہ منافع بخش نہیں تھا، اس لیے اپارٹمنٹس بنا دیے گئے۔
اُن کے بقول آدھی رات کو پوری اسلام آباد پولیس کو گھروں سے جگا کر ہوٹل کو تحویل میں لینے کے لیے بھیجا گیا، یہ صرف لالچ ہے، اس کے سوا کچھ نہیں، یہ لوگ ہر اثاثے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر لکھا کہ ’ایک بار پھر حکومت اور سی ڈی اے نے انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس اور دیگر فورسز نے آدھی رات کو ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں دھاوا بول دیا، رہائشیوں کو صبح تک اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا۔ کون اس طرح کام کرتا ہے، خاص طور پر دارالحکومت کے دل میں؟‘
کلیم نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ اس معاملے میں، زمین کی الاٹمنٹ قانونی ہے، لیکن بلڈنگ بائی لاز پر عمل نہیں کیا گیا۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ جب یہ خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں تو حکام کیا کر رہے تھے؟
ناصر نامی صارف نے لکھا کہ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب۔ سی ڈی اے حکام یا ڈویلیپر ان لوگوں کو سزا کیوں دیتے ہیں جو یہاں جگہیں خرید لیتے ہیں چاہیے وہ بری امام کے قریب آبادی ہو یا سی ون۔
SOURCE : BBC



