SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب اکثر لوگ سانپوں کو زمین پر بنا آواز کیے رینگتے، برق رفتاری سے حرکت کرتے، بنا کسی مشکل کے درختوں پر چڑھتے اور پانی میں تیرتے دیکھتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ بغیر ٹانگوں والا جانور اتنی مہارت سے کیسے حرکت کرتا ہے؟
بظاہر عام دکھنے والے اس جانور میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں کہ یہ تقریباً ہر براعظم میں ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتا ہے۔
زمین پر رہنے والی زیادہ تر مخلوق تیزی اور توازن کے ساتھ چلنے کے لیے ٹانگوں پر انحصار کرتی ہے۔ لیکن بنا ٹانگوں والے سانپ یہ کام کیسے کر پاتے ہیں؟
آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے جسم کی ساخت کے پیچھے کون سی سائنس ہے جو انھیں اس قابل بناتی ہے۔
کیا پہلے زمانے میں سانپوں کی ٹانگیں ہوا کرتی تھیں؟
ارتقائی سفر پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ سانپ ہمیشہ ٹانگوں سے محروم مخلوق نہیں تھے۔
نیچر اور سائنٹیفک امریکن جیسے جریدوں میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق لاکھوں سال پہلے سانپوں کی ٹانگیں ہوا کرتی تھیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی تصدیق کئی فوسلز یعنی سانپوں کے حیاتیاتی مواد پر تحقیق سے ثابت ہوئی ہے۔
ان میں سب سے اہم ارجنٹائن میں پائے گئے ’نجاش ریونیگرینا‘ نامی قدیم سانپ کا فوسل ہے۔
’سائنس ایڈوانسز‘ نامی جریدے میں میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ سانپ تقریباً 10 کروڑ سال پہلے زمین پر رہتا تھا اور اس کی پچھلی ٹانگیں چھوٹی لیکن واضح طور پر نظر آتی تھیں۔
اسی طرح، کچھ مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 12 کروڑ سال پرانے رینگنے والے جانور ’ٹیٹراپوڈوفیس‘ کی چار ٹانگیں ہوا کرتی تھیں۔ تاہم، سائنسدانوں کے درمیان اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ فوسل بھی قدیم چھپکلی کی ایک قسم ہے یا سانپ کی۔
ان مطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ سانپ چھپکلی نما رینگنے والے جانوروں جیسے ہوا کرتے تھے جو بتدریج اپنی موجودہ شکل میں تبدیل ہوئے۔
اب تک ملنے والے سائنسی شواہد کے مطابق ابتدائی دور میں سانپوں کی ٹانگیں ہوتی تھیں۔
لیکن لاکھوں سال تک جاری رہنے والے قدرتی انتخاب کے سست عمل کے نتیجے میں یہ ٹانگیں آہستہ آہستہ چھوٹی ہوتی گئیں اور بالآخر مکمل طور پر غائب ہو گئیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جینیاتی تحقیق سے ابتدائی دور کے سانپوں میں ٹانگوں کی تصدیق
نہ صرف فوسل شواہد بلکہ جینیاتی تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ ایک زمانے میں سانپوں کی بھی ٹانگیں ہوتی تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غائب ہوتی گئیں۔
2016 میں سانپ کے ایمبریو پر کی گئی تحقیق سے پتا چلا کہ اب بھی جدید سانپوں میں ٹانگوں کی نشوونما کے لیے ضروری کچھ جنیاتی خلیے پائے جاتے ہیں۔
تاہم، ان مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ یہ جین اب سانپوں میں اس طرح فعال نہیں ہیں جیسے وہ چھپکلیوں میں ہوتے ہیں۔
سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ 1999 میں سانپ کے جسم کی ساخت سے جڑے جینز کے بارے میں اہم شواہد دریافت کیے تھے۔ اس وقت فلوریڈا یونیورسٹی کے ارتقائی ماہر حیاتیات مارٹن کوہن نے سانپ کے جنین میں کچھ غیر معمولی چیزیں دیکھیں۔
ان کے مطالعے میں سامنے آیا کہ سانپوں میں کچھ جینز دوسرے رینگنے والے جانوروں کے مقابلے میں مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔
چار سال بعد برائن ہینکن اور ان کی ٹیم نے دریافت کیا کہ ’سونک ہیج ہاگ‘ نامی جین چھپکلیوں کی ٹانگوں کے سائز کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بھی سامنے آیا کہ یہی جین یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ سانپوں میں ٹانگیں کیوں نہیں بنتیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے بعد 2016 میں سائنسدانوں نے پائیتھن کے ایمبریو میں جینز کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ پائیتھن میں تین ایسے ڈی این اے سیگمنٹ غائب ہیں ’سونک ہیج ہاگ‘ جین کو کنٹرول کرتے ہیں۔
’کرینٹ بائیولوجی‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون کے مطابق ڈی این اے کی غیر موجودگی کے باعث سانپوں میں کچھ اہم پروٹین ٹھیک سے نہیں بن پائے۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ سانپ کے ایمبریو (جنین) کی نشوونما کے دوران ’سونک ہیج ہاگ‘ جین کا عمل دخل نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سانپوں میں اب بھی ان کے آبا میں پائے جانے والے پیروں کے نشانات موجود ہیں۔
پائیتھن کی کی دم کے قریب ’سپرز‘ نامی چھوٹے ڈھانچے ہوتے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پچھلی ٹانگوں کی ارتقائی باقیات ہیں۔
کیلیفورنیا میں لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری میں ماہر جینیات ایکسل ویزل نے اس بات پر تحقیق کی کہ سانپوں کی ٹانگیں کیوں ختم ہو گئیں۔
ان کی ٹیم نے پائیتھن کے جینوم کا موازنہ وائپر اور کوبرا جیسی سانپوں کی ان قِسموں سے کیا جن کا ارتقا بعد میں ہوا اور جن میں ٹانگوں کے چھوٹے نشانات تک نہیں ہوتے۔
بعد میں پتا چلا کہ ان سانپوں میں ’سونک ہیج ہاگ‘ جین سے متعلق کچھ ڈی این اے غائب تھے اور ان میں جینیاتی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔
یہ مطالعہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ ان اہم تبدیلیوں نے اپنی ٹانگیں کھونے والے سانپوں کے ارتقا میں مرکزی کردار ادا کیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سانپوں کی ٹانگیں کیوں غائب ہوئیں؟
ٹانگیں ہمیں بھاگنے، چھلانگ لگانے، شکار کرنے اور شکاریوں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں اور اس تناظر میں دیکھا جائے تو ٹانگوں کی کمی ایک نقصان کی طرح لگ سکتی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ پھر ارتقائی عمل میں سانپوں کی ٹانگیں کیوں ختم ہو گئیں؟
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ قدیم سانپ ایسے ماحول میں ڈھل گئے تھے، جہاں ٹانگیں فائدہ کی بجائے بوجھ بن گئیں۔
جیسا کہ سائنٹفک امریکن کا مضمون بتاتا ہے۔ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ قدیم سانپ زیر زمین بلوں، چٹانوں اور پودوں کے نیچے تنگ جگہوں پر رہتے تھے۔
مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ ایسے حالات میں لمبا جسم اور کم اعضا حرکت میں بہتر کارکردگی فراہم کرتے ہیں۔
اس کی کچھ جدید مثالیں بھی موجود ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سانپوں کی کچھ اقسام، خاص طور پر جو تمل ناڈو کے مغربی گھاٹوں میں پائی جاتی ہیں، اپنی زندگی کا بیشتر حصہ زیر زمین گزارتی ہیں۔
اندھے سانپ، جنھیں اکثر کیچوے سمجھ لیا جاتا ہے، نرم مٹی میں آسانی سے حرکت کرتے ہیں۔ ان کی آنکھیں بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی بینائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اسی لیے انھیں ’اندھا سانپ‘ کہا جاتا ہے۔
زیرِ زمین رہنے والے یہ سانپ اکثر اپنی آنکھوں کی روشنی کے بجائے خوراک تلاش کرنے کی صلاحیت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور انھوں نے خود کو زیر زمین زندگی کے مطابق ڈھال لیا ہے۔
مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سانپوں کی ٹانگیں اس لیے ختم ہو گئی ہوں گی کیونکہ اس سے تنگ بلوں اور سرنگوں سے گزرنا مشکل ہو جاتا تھا۔
سانپوں کے لمبے اور پتلے جسم انھیں تنگ جگہوں پر آسانی سے رینگنے میں مدد دیتے ہیں۔ چونکہ ان کے جسم پر پھیلے ہوئے اعضا نہیں ہوتے اس لیے وہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں دراڑوں، سوراخوں اور گھنے پودوں کے درمیان بہتر طریقے سے رینگ سکتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ قدرتی انتخاب کے مطابق ایسے جسمانی ڈھانچے کے ارتقا کو تقویت ملی جس میں پھیلے ہوئے اعضا مکمل طور پر غائب ہو گئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سانپ بغیر ٹانگوں کے کیسے چلتے ہیں؟
اپنی ٹانگیں کھونے کے بعد سانپوں نے حرکت کرنے کا بالکل مختلف طریقہ تیار اپنایا۔ یہ فطرت کے سب سے حیرت انگیز پہلوؤں میں سے ایک ہے۔
میملز اور دیگر رینگنے والے جانوروں کے برعکس، جو چلنے پھرنے کے لیے ٹانگوں جیسے اعضا پر انحصار کرتے ہیں، سانپ آگے بڑھنے کے لیے اپنے پورے جسم کو استعمال کرتے ہیں۔
انسانی ریڑھ کی ہڈی میں تقریباً 33 مہرے ہوتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سانپوں میں 200 سے 400 ریڑھ کی ہڈیاں ہوتی ہیں، جو مضبوط پٹھوں سے جڑی ہوتی ہیں۔
سائنٹیفک امریکن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ جسمانی ساخت سانپوں کو اپنے جسم کو انتہائی درست طریقے سے موڑنے اور گھمانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اس سے وہ اپنے جسم کے مختلف حصوں کو زمین پر رکھ کر ٹانگوں کی ضرورت کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ان کی جلد پر بنے ’سکیل‘ (چھلکا) بھی انھیں حرکت میں مدد فراہم کرتی ہے۔
جسم کے نچلے حصے پر نسبتاً چوڑے سکیلز یا چھلکے ہوتے ہیں جو زمین کے ساتھ رگڑ پیدا کرکے سانپوں کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔
سانپ اپنے آس پاس کے ماحول کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے حرکت کرتے ہیں، مطلب کہ اگر وہ زمین پر ہوں تو مختلف طریقے سے رینگتے ہیں اور درخت پر الگ طریقے سے۔
ان میں سب سے عام طریقہ ’سائیڈ ویز ویونگ‘ (لہروں کی طرح حرکت کرنا) ہے۔ یہ وہی ‘S’ شکل کی حرکت ہے جسے ہم اکثر دیکھتے ہیں۔
اس طریقے کے تحت سانپ اپنے جسم کو ایک طرف جھکاتا ہے اور گھاس، پتھر، مٹی یا دیگر سطحوں سے سہارا لے کر آگے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ طریقہ سانپوں کی کئی اقسام جیسے کوبرا، وائپر اور چوہے کھانے والے عام سانپ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔
سائیڈ وائنڈنگ کو سانپوں کی نقل و حرکت کے مختلف طریقوں میں سب سے تیز سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح، بڑے جسم والے سانپ جیسے کہ پائیتھن اپنے جسم کو ایک طرف جھکا کر آگے بڑھنے کے بجائے اپنے پیٹ کے پٹھوں استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ حرکت کافی سست ہے، لیکن یہ بہت مستحکم ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین راک پائتھن جیسے سانپ اکثر اپنے جسم کو زیادہ موڑے بغیر آہستہ آہستہ رینگتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ طریقہ بڑے جسم والے سانپوں کے لیے بہت موزوں ہے۔
سانپ جو بلوں، درختوں کے سوراخوں اور چٹانوں کے درمیان تنگ جگہوں پر رہتے ہیں وہ ’کنسرٹینا موومنٹ‘ کا استعمال کرتے ہیں۔
اس طریقے میں وہ اپنے جسم کے ایک حصے کو مضبوطی سے ایک جگہ پر رکھتے ہیں اور اگلے حصے کو آگے کی طرف کھینچتے ہیں۔ پھر پچھلا حصہ سامنے والے حصے کے ساتھ مل کر آگے بڑھتا ہے۔
کچھ صحرائی سانپ ’سائیڈ واکنگ‘ تکنیک کا استعمال کرتے ہیں جس میں ایک وقت میں ان کے جسم کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ زمین کو چھوتا ہے۔ یہ انھیں گرم، نرم ریت پر پھسلے یا زیادہ گرم ہوئے بغیر آسانی سے حرکت کرنے دیتا ہے۔
سانپوں کے حرکت کرنے طریقوں میں یہ فرق بنیادی وجہ ہے کہ وہ ارتقا کے عمل کے دوران ایک کامیاب مخلوق بن کر ابھرے۔ کچھ انواع پانی میں لہر جیسی حرکت کرکے تیرتی ہیں۔
کچھ سانپ درختوں پر چڑھنے کے ماہر ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہوا کے ذریعے ایک درخت سے دوسرے درخت تک چھلانگ لگا کر جاسکتے ہیں۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ ٹانگوں کی کمی کوئی کمزوری نہیں بلکہ اس نے ان کے لیے مختلف ماحول میں زندہ رہنے کے امکانات پیدا کیے۔
انٹارکٹیکا کے علاوہ زمین کے تقریباً ہر حصے میں سانپ پائے جاتے ہیں۔ وہ جنگلات، صحراؤں، گیلی زمینوں، آبی ذخائر اور سمندروں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔
سانپوں کی موجودگی ارتقائی نظریہ کے ایک اہم قانون کی وضاحت کرتی ہے ’زندگی صرف بہترین ساخت سے نہیں بلکہ ماحول کے ساتھ بہترین موافقت سے پنپتی ہے۔‘
SOURCE : BBC



