Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا...

آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟

30
0

SOURCE :- BBC NEWS

آبنائے ہرمز سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہIan Forsyth/Getty Images

امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔

جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے امریکی بحریہ سے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی ایرانی کشتی کو بارودی سرنگیں بچھاتے دیکھا گیا تو اسے تباہ کر دیا جائے۔

آبنائے ہرمز سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی گزرتی ہے اور ایران نے اسے تقریباً بند کر دیا ہے۔

اسی دوران امریکہ بار بار فوجی کارروائی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور یہاں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی بات کر رہا ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ سمندر میں کون سی بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں، وہ کیسے کام کرتی ہیں اور انھیں ہٹانا کیوں بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی جانیں گے کہ جنگ میں ان کی کیا اہمیت ہے اور ان کی تاریخ کیا ہے؟

سمندر میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں کیا ہیں؟

 بحری مشق

،تصویر کا ذریعہPress Office of Islamic Revolutionary Guard Corps / Handout/Anadolu via Getty Images

سمندری بارودی سرنگیں یا سی مائنز پانی میں رکھا جانے والا دھماکہ خیز مواد ہے جس کا مقصد آبدوزوں اور جہازوں کو تباہ کرنا ہے۔

ان کا استعمال دشمن کے جہاز کو کسی مخصوص سمندری علاقے میں آنے سے روکنے یا اسے آگے بڑھنے سے باز رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

بارودی سرنگیں ایک پرانی ٹیکنالوجی ہیں۔ پہلی بارچین نے اسے 14ویں صدی میں قزاقوں کے خلاف استعمال کیا۔

امریکہ میں پہلی مرتبہ سمندری بارودی سرنگ آزادی کی جنگ کے دوران استعمال کی گئی۔ اس وقت بارود سے بھرے ڈرم سمندر میں چھوڑے جاتے تھے جو ٹکرانے پر پھٹ جاتے تھے۔

چین میں پہلی بار استعمال کے بعد دنیا کی تقریباً ہر بحری جنگ میں ان سرنگوں کا استعمال ہوا۔

یہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے ساتھ ساتھ کوریا، فاک لینڈ جزائر اور خلیجی جنگ میں بھی استعمال کی گئیں۔

دفاعی ماہر راہل بیدی کا کہنا ہے کہ سمندری بارودی سرنگیں خودکار ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایسے دھماکہ خیز آلات ہیں جو ہدف بنا کر حملہ کرتے ہیں۔ انھیں ’انٹیلیجنٹ مائنز‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ٹینکروں، حملہ آور جہازوں اور مال بردار جہازوں میں فرق کر سکتی ہیں اور اسی بنیاد پر پھٹتی ہیں۔‘

’انھیں جہازوں کی شناخت کے لیے پروگرام کیا جاتا ہے تاکہ انھیں موثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔‘

سمندری بارودی سرنگوں کی کتنی اقسام ہیں؟

सी माइंस

،تصویر کا ذریعہRoger Viollet via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹیکنالوجی میں جدت کے ساتھ بارودی سرنگوں میں بھی بڑی تبدیلی آئی۔ رابرٹ سٹراس سینٹر فار سکیورٹی اینڈ لا کے مطابق ان کی تین اقسام ہیں۔

کانٹیکٹ مائنز

یہ براہ راست ٹکرانے یا بہت قریب آنے پر پھٹتی ہیں۔ انھیں نصب کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔

انفلوئنس مائنز

یہ زیادہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہیں اور دھماکے کے لیے براہ راست رابطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان میں نصب سینسر جہاز سے آنے والے مخصوص سگنلز کو پہچانتے ہیں۔ ان میں مقناطیسی، آواز، دباؤ، زمینی ارتعاش یا زیرِ آب الیکٹرانک سگنلز شامل ہو سکتے ہیں۔

کنٹرولڈ مائنز

اس تیسری قسم میں دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ سرنگیں سمندر میں مختلف طریقوں سے بچھائی جاتی ہیں:

ڈرفٹنگ مائنز

انھیں پانی میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور یہ سمندری لہروں کے ساتھ بہتی رہتی ہیں۔

مورڈ مائنز

یہ بڑی اور لنگر سے بندھی ہوئی کانٹیکٹ مائنز ہوتی ہیں جو پانی کی سطح کے کچھ نیچے تیرتی ہیں۔ یہ جہاز کے ٹکرانے پر پھٹ جاتی ہیں اور تقریباً 100 پاؤنڈ یا اس سے زیادہ دھماکہ خیز طاقت خارج کرتی ہیں۔

باٹم مائنز

یہ ایسی انفلوئنس مائنز ہوتی ہیں جو سمندر کی تہہ میں رکھی جاتی ہیں۔ یہ اپنے سینسرز کے ذریعے جہاز کی شناخت کرتی ہیں اور سینکڑوں پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد کے ساتھ پھٹتی ہیں۔

لمپٹ مائنز

یہ چھوٹے دھماکہ خیز آلات ہوتے ہیں جنھیں غوطہ خور جہاز کے اگلے حصے کے نیچے چپکا سکتے ہیں۔ انھیں ٹائمر کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ مخصوص وقت کے بعد دھماکہ ہو۔

آبنائے ہرمز میں ایران کی بارودی سرنگوں کی حقیقت

امریکہ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں پانچ سے چھ ہزار بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔

ان میں کانٹیکٹ مائنز اور انفلوئنس مائنز دونوں شامل ہیں جنھیں تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے بہت جلد بچھایا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے اس جنگ کے دوران مارچ کے وسط میں یہاں درجن بھر بارودی سرنگیں بچھائیں۔

تاہم راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’فی الحال کسی کو معلوم نہیں کہ آبنائے ہرمز کی اصل صورتِحال کیا ہے۔ یہاں کی صورتحال کے بارے میں بہت زیادہ کنفیوژن ہے۔ امریکی جہاز کہاں ہیں اور ایرانی جہازوں کا کنٹرول کہاں تک ہے، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ اس لیے حقیقی تصویر سامنے نہیں آ پا رہی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’لیکن اگر امریکہ کے دعوؤں کے مطابق ایران نے یہاں اتنی بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں تو اس نے اس آبنائے ہرمز کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔

’یہ ایران کی طاقت بن چکی ہے کیونکہ سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانا بہت مشکل ہوتا ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ ایک طرح ایران نے اسے اپنا سٹریٹجک ہتھیار بنا لیا۔‘

بارودی سرنگیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے ’مائن سویپرز‘ ان سرنگوں کو تلاش کرنے اور ہٹانے کا کام کر رہے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق انھیں تلاش کرنا اور نکالنا نہایت مشکل اور وقت طلب عمل ہے۔

ماہرین کے مطابق سمندری بارودی سرنگیں بچھانا آسان مگر انھیں ہٹانا مشکل ہوتا ہے۔ یہ سمندر کی سطح پر، اس کے نیچے یا تہہ میں ہو سکتی ہیں۔

اگر یہ تیرتی ہوں تو سمندری لہروں کے باعث اپنی جگہ بھی بدل سکتی ہیں۔ ایک بار علاقہ صاف ہونے کے بعد بھی خطرہ ٹل نہیں پاتا۔

ایران خود بھی شاید یہ نہیں جانتا کہ اس کی سرنگیں کہاں کہاں ہیں کیونکہ ممکن ہے انھیں عجلت میں بچھایا گیا ہو یا ہر سرنگ کا مقام ریکارڈ نہ کیا گیا ہو۔ یا کچھ سرنگوں کو جان بوجھ کر بہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہو۔

راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’بارودی سرنگیں ہٹانا نہایت مشکل اور پیچیدہ کام ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ ایران یہ بات جانتا ہے۔‘

’کسی کو یقین سے معلوم نہیں کہ ہرمز میں کتنی سرنگیں ہیں لیکن یہاں سرنگیں بچھانے کی بات کر کے ایران کو نفسیاتی برتری حاصل ہے۔‘

ماہرین کے مطابق سرنگیں دو طریقوں سے ہٹائی جاتی ہیں یعنی مائن سویپنگ اور مائن ہنٹنگ کے ذریعے۔

مائن سویپنگ میں جہاز تاروں یا آلات کے ذریعے سرنگوں کو کاٹ کر اوپر لاتے ہیں اور انھیں تباہ کر دیتے ہیں۔

جبکہ مائن ہنٹنگ میں سونار کے ذریعے سرنگوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، پھر انھیں روبوٹس یا ڈرونز سے تباہ کیا جاتا ہے اور بعد میں غوطہ خوروں کی مدد لی جاتی ہے۔

’انڈیا کے پاس مائن سویپر نہیں‘

راہل بیدی کے مطابق انڈیا نے کبھی سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے پاس سوویت دور یا روس سے حاصل کردہ 10 سے 12 مائن سویپرز تھے لیکن آج کی تاریخ میں اس کے پاس کوئی بھی مائن سویپر موجود نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ تین چار برسوں میں انڈیا نے انھیں خریدنے کے لیے ٹینڈر دینے کی کوشش کی۔ جنوبی کوریا اور اٹلی کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی لیکن یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔‘

’مائن سویپر ایک خصوصی جہاز ہوتا ہے۔ اس کا ہارڈویئر بارودی سرنگیں تلاش کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے اور اس میں ایسے خصوصی آلات ہوتے ہیں جو سرنگوں کو ہٹاتے ہیں۔‘

SOURCE : BBC