Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کنٹینر میں چھوٹے بچے، انجانا خوف اور جلی ہوئی عمارتیں: بی بی...

کنٹینر میں چھوٹے بچے، انجانا خوف اور جلی ہوئی عمارتیں: بی بی سی نے نوشکی میں کیا دیکھا؟

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

جب میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے نوشکی تک سفر کے دوران ایک ہوٹل پر چائے پینے کے لیے رُکا تو وہاں رُکنے والے ایک تجارتی کنٹینر سے پانچ، چھ چھوٹے بچوں اور بچیوں کو اُتارتے ہوئے دیکھنا مجھے کچھ عجیب سا لگا۔

متجسس نگاہوں اور محتاط انداز کے ساتھ میں کنٹینر کی جانب بڑھا تو وہاں موجود شخص نے میرے استفسار پر بتایا کہ وہ اپنے بچوں اور اہلخانہ کے ہمراہ کنٹینر میں نوشکی سے کوئٹہ جا رہے ہیں۔

اُس شخص نے اپنا نام لال محمد خلجی بتایا اور دعویٰ کیا کہ نوشکی میں گذشتہ ماہ کے آواخر میں ہونے والے بی ایل اے کے حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث وہ نوشکی سے کوئٹہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

لال محمد نے دعویٰ کیا کہ نوشکی میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال کے باعث وہاں اُن کا ذریعہ معاش تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ کوئٹہ میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔

31 مارچ کو نوشکی میں ہونے والے اِن حملوں کے باعث جہاں لال محمد کی طرح نوشکی کی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں سرکاری اور نجی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، اور اسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی اُردو کی ٹیم نوشکی کا سفر کر رہی تھی۔

ان حملوں کی وجہ سے نہ صرف چھ، سات روز تک شہری اپنے گھروں میں محصور رہے بلکہ اس کے بعد بھی اُن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نوشکی سمیت دیگر شہروں میں ان حملوں کی ذمہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی اور انھیں ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا تھا جس کے دوران، سرکاری حکام کے مطابق، عام شہریوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جبکہ بہت سے عسکریت پسند بھی جوابی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔

آئیے جانتے ہیں کہ ان حملوں سے نوشکی شہر میں سرکاری اور نجی املاک کو کہاں اور کتنا نقصان پہنچا اور اب لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

تصویر

نوشکی پہنچنے سے قبل بی بی سی نے دورانِ سفر کیا دیکھا؟

جب ہم نے کوئٹہ سے نوشکی کے لیے صبح آٹھ بجے کے قریب سفر کا آغاز کیا تو ’لک پاس‘ کے بعد ہمیں نوشکی سے کوئٹہ کی جانب آتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد معمول سے انتہائی کم دکھائی دی۔

اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سرکاری حکام کی جانب سے عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد نوشکی کے مقام پر کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر شام پانچ بجے سے صبح نو بجے تک سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔

جب ہم ساڑھے دس بجے کے قریب نوشکی سے پہلے اندازاً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر کیشنگی کے علاقے میں پہنچے تو وہاں سے کوئٹہ کی جانب سے ٹریفک بہت زیادہ دکھائی دی جس سے یوں لگ رہا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے ہی گاڑیوں کو نوشکی سے جانے دیا گیا تھا۔

دوسری جانب گلنگور کے علاقے سے نوشکی تک سکیورٹی فورسز کی موجودگی پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ نظر آئی ۔

نوشکی کی جانب مڑتے ہوئے شہر جانے سے پہلے ہم نے جوڈیشل کمپلیکس اور پولیس لائن کی جانب جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی غیر مصدقہ ویڈیوز میں وہاں نقصانات بڑے پیمانے پر دکھائے گئے تھے۔

تصویر

جوڈیشل کمپلیکس

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی بی سی کو جوڈیشل کمپلیکس میں فلمنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم اس مقام کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حالیہ حملوں میں اس جگہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا جس کی وجہ سے فوری طور پر یہاں عدالتی سرگرمیوں کی بحالی ممکن دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

اس حوالے سے وائرل ویڈیوز، جن کی وہاں موجود چند سرکاری اہلکاروں نے تصدیق کی، میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ نہ صرف جوڈیشل کمپلیکس کے اندر کمروں کو نذر آتش کیا گیا بلکہ وہاں توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔

نوشکی سے واپسی پر خیصار کے مقام پر ہماری ملاقات کوئٹہ سے آنے والے دو وکلا سے ہوئی جو کہ عدالتوں میں پیشی نہ ہونے کے باعث واپس کوئٹہ جا رہے تھے۔

نوشکی سے ہی تعلق رکھنے والے وکیل فیصل ذگر مینگل نے بتایا کہ جوڈیشل کمپلیکس کی حالت بہت افسوسناک ہے اور اسی وجہ سے وہاں ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے عدالتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث نہ صرف سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ جو وکلا کوئٹہ سے آتے ہیں، اُنھیں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالتوں کے جج صاحبان کو چاہیے کہ وہ جوڈیشل کمپلیکس کی بحالی تک مقدمات کی سماعت کے لیے کسی متبادل جگہ کا انتظام کریں تاکہ سائلین اور وکلا دونوں کو کسی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تصویر

پولیس لائن، ضلعی پولیس کے سربراہ کے دفتر اور دیگر دفاتر میں تباہی

نوشکی میں جوڈیشل کمپلیکس، ضلعی پولیس کے سربراہ کا دفتر، سی ٹی ڈی کا دفتر اور ڈسٹرکٹ جیل کی عمارتیں ساتھ ساتھ واقع ہیں۔

جوڈیشل کمپلیکس میں فلمنگ کی اجازت نہ ملنے پر ہم پولیس اور سی ٹی ڈی کے دفاتر کی جانب گئے تو سادہ کپڑوں میں موجود ایک شخص وہاں پہنچا جس نے ہمیں آگاہ کیا کہ متعلقہ ڈی ایس پی کی اجازت کے بغیر یہاں فلمنگ نہیں کی جا سکتی۔

یہاں پولیس لائن کے اندر بڑی تباہی نظر آ رہی تھی کیونکہ ایک طرف کی دیوار منہدم ہونے کی وجہ سے باہر سے سب کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ پولیس لائن کے کمروں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ دو درجن کے لگ بھگ گاڑیوں کو جلایا گیا تھا۔

جوڈیشل کمپلیکس کی طرح پولیس کی دو منزلہ عمارت میں تباہی کے مناظر صاف نظر آ رہے تھے۔

ڈسٹرکٹ جیل میں بھی ہمیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی جو کہ تین دن تک حملہ آوروں کے کنٹرول میں رہا تھا اور پولیس کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حملہ آوروں نے وہاں سے 30 سے زائد قیدیوں کو فرار کروا دیا تھا۔

تصویر

اے ٹی ایف کے اہلکاروں کی ہلاکت

جوڈیشل کمپلیکس، پولیس کے دفاتر اور ڈسٹرکٹ جیل چونکہ مرکزی شہر سے کچھ دور واقع ہیں اور شاید اسی وجہ سے صبح پانچ کے بعد مختلف اطراف سے اس علاقے میں داخل ہونے والے مسلح افراد نے اس علاقے کا کنٹرول آسانی سے حاصل کیا تھا۔

یہاں سی ٹی ڈی کے دفتر میں موجود اہلکاروں کی جانب سے مسلح افراد پر فائرنگ کی گئی تھی۔ بعدازاں سرکاری حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ سی ٹی ڈی کے دفتر میں یرغمال بنائے جانے والے سات اے ٹی ایف اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تصویر

انام بوستان روڈ پر نجی املاک کو نقصان

جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے کے بعد ہم انام بوستان روڈ پر گئے جو کہ نوشکی شہر کو افغانستان سے ملاتا ہے۔

افغانستان نوشکی سے اندازاً چالیس سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔

مقامی پولیس کے حکام کے مطابق اس روڈ پر سکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ایک بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرایا گیا تھا جس کے باعث ہیڈکوارٹر کی دیوار کو نقصان پہنچا تھا وہاں بڑی تعداد میں دکانوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ انام بوستان روڈ سے متصل گلیوں میں بھی دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

نوشکی میں مقامی افراد نے بتایا کہ جہاں شہر میں تین روز تک جھڑپیں جاری رہیں وہیں پہلے روز جو شدید زوردار دھماکے ہوئے، اُن میں سے ایک انام بوستان روڈ پر ہونے والا یہ دھماکہ بھی تھا جس سے قرب و جوار کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

تصویر

بی بی سی ٹیم کو ملنے والے لال محمد خلجی نے بتایا تھا کہ کہ انام بوستان روڈ پر جن دکانوں کو نقصان پہنچا تھا، اس میں اُن کی دکان بھی شامل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ تین چار روز تک گھروں سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا اس لیے جب بازار کھلنے کے بعد میں اپنی دکان میں گیا تو وہاں موجود اشیا غائب تھیں۔‘

لال محمد خلجی نے کہا کہ نوشکی میں اسی دوکان سے حاصل ہونے والی آمدن پر ان کے خاندان کا گزر بسر ہوتا تھا اور اب اس کے تباہ ہونے کے بعد ان کے لیے خاندان کے ہمراہ کوئٹہ کی جانب نقل مکانی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

یہاں ایک اور دکاندار ظریف خان نے بھی یہ شکایت کی کہ دھماکے سے تباہ ہونے کے بعد ان کی دکان سے سامان چُرا لیا گیا تھا۔

انام بوستان روڈ کے متعدد دکانداروں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اُن کے نقصانات کا ازالہ کرے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہو پائیں۔

انام بوستان روڈ کے مشرق کی جانب پہاڑ پر قاضی آباد کا علاقہ موجود ہے۔ یہاں کے مکینوں نے ہمیں اپنے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کی ویڈیوز دکھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد قاضی آباد کے اندر مختلف مقامات پر موجود رہے اور یہاں سے اُن کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث اُن کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

قاضی آباد کے مکینوں نے بتایا کہ جھڑپوں کی وجہ سے تین دن تک وہ ایک مشکل اور خوفناک صورتحال سے دوچار رہے۔

تصویر

حملے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے گھر کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے

انام بوستان روڈ کے بعد ہم ڈپٹی کمشنر کے گھر کی جانب گئے جو کہ شہر کے مغرب میں واقع ایک پہاڑی پر ہے۔ حفاظت کے پیش نظر یہ گھر انگریز دور میں پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا تھا۔

31 جنوری کو حملہ آور ڈپٹی کمشنر کے گھر میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے اور انھوں نے ڈپٹی کمشنر نوشکی اور اُن کے اہلخانہ کو یرغمال بنایا تھا، لیکن بعد میں ان افراد کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

سرکاری حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے گھر میں موجود مسلح افراد اور اس کے قریب واقع سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کے گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

باہر سے یکھا جا سکتا تھا کہ اس حملے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے گھر کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

تصویر

پولیس سٹیشن، بینک بھی حملے کی زد میں آئے

نوشکی شہر میں سٹی اور صدر پولیس سٹیشنز، ساتھ ساتھ واقع ہیں۔

مسلح افراد نے شہر میں داخلے کے بعد دونوں پولیس سٹیشنز کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا تھا۔ وہاں سے اسلحہ لے جانے کے علاوہ مسلح افراد نے دونوں تھانوں کی عمارتوں کو نذر آتش کیا تھا۔

جب ہم صدر تھانے پہنچے تو اس کے مرکزی گیٹ پر گولیاں لگنے کی وجہ سے بڑے سوراخ بنے ہوئے تھے۔

گیٹ پر موجود اہلکار نے ہمیں بتایا کہ میڈیا کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم اسی موقع پر تھانے کا گیٹ جب ایک افسر کی گاڑی کے لیے کھولا گیا تو سامنے نظر آنے والی عمارت کی دیواروں پر دھوئیں کے بڑے نشانات تھے جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ممکنہ طور پر اس عمارت کو آگ لگائی گئی تھی۔

پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں تھانوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ حملہ آور وہاں موجود اسلحہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔

نوشکی شہر کے اندر حملہ آوروں نے چار بینکوں کو بھی نقصان پہنچایا جبکہ لمبے وقفے کے بعد دوبارہ کھلنے والے بینکوں کے اے ٹی ایمز کے باہر شہریوں کی طویل قطاریں نظر آئیں۔

تصویر

قاضی آباد کے علاقے میں لوگوں نے ہمیں ایک بنگلہ دکھایا جس کو منہدم کر دیا گیا تھا۔

وہاں لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے یہ کہہ کر یہ گھر گرایا کہ یہاں سے اُن پر حملے ہوئے ہیں۔

شہریوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گھر کسی این جی او نے کرائے پر حاصل کر رکھا تھا اور علی الصبح حملے کے وقت یہاں صرف ایک چوکیدار موجود تھا جس پر قابو پانے کے بعد حملہ آور اس گھر میں باآسانی داخل ہونے میں کامیاب رہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی یہ الزام عائد کیا کہ پارٹی کے رہنما میر بہادر خان مینگل کے مہمان خانے اور اس سے متصل کمروں کو بھی اسی طرح گرایا گیا ہے۔

میر بہادر خان مینگل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔

جب ان الزامات کے حوالے سے نوشکی میں ایک پولیس آفیسر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے گھر گرانے جیسے الزامات کی تردید کی۔

تصویر

نوشکی کے شہریوں کا کیا کہنا ہے؟

نوشکی شہر میں بیشتر شہری ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرنے سے کتراتے نظر آئے۔ کسی انجانے خوف کے باعث شہریوں نے کیمرے پر ہم سے بات کرنے سے معذرت کی۔ تاہم نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے اس معاملے پر ہم سے تفصیل سے بات کی۔

انھوں نے بتایا کہ کیسے اس شہر کے باسی کئی دنوں تک محصور رہے اور حملوں کے بعد بھی ایک ہفتے تک معمولات زندگی بُری طرح سے متاثر رہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سرکاری حکام کی جانب سے دکانوں کو شام کو جلدی بند کرایا جا رہا ہے جبکہ شام کو گاڑیوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

اگرچہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال نوشکی اب کُھل چکا ہے تاہم لوگوں کا کہنا تھا کہ جھڑپوں کے دوران نہ صرف چار، پانچ روز تک یہ بڑا سرکاری ہسپتال بند رہا بلکہ پرائیویٹ ہسپتال بند ہونے کے باعث انھیں مریضوں اور زخمیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد تاجروں کو اپنی کاروباری سرگرمیوں اور لوگوں کو نقل وحمل کے حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے جن کو دور کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا تعلق نوشکی سے ہے وہ جب ان حملوں کے بعد یہاں آئے تو یہ دیکھا کہ زیادہ تر لوگ سہمے ہوئے تھے۔

تاہم نوشکی میں ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ نوشکی میں صورتحال اب معمول پر آ گئی ہے جبکہ حملے کے ملزمان کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔

’سیکورٹی فورسز نے حملوں کو ناکام بنا دیا‘

نوشکی میں ان حملوں کے حوالے سے ہم نے ڈی آئی جی رخشاں ڈویژن سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز چوکس تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے بروقت کاروائی کر کے ان حملوں کو ناکام بنایا۔

نوشکی سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے منعقدہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جان کا نذرانہ پیش کرکے عوام کو نقصان سے بچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گرد‘ جب شہروں میں آتے ہیں تو وہ عام لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے اُن کے خلاف سکیورٹی فورسز کو کارروائی میں مشکل پیش آتی ہے۔

انھوں نے لوگوں سے اپیل کی وہ شدت پسندوں سے دور رہیں تاکہ ان کا نقصان نہ ہو اور سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں آسانی ہو۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں یا اقدامات لوگوں کے فائدے اور دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے لیکن حکومت اور سکیورٹی فورسز ایسی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

SOURCE : BBC