Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کشمیری پنڈت کون ہیں اور انڈین حکومت کا ’واپسی منصوبہ‘ کیا ہے؟

کشمیری پنڈت کون ہیں اور انڈین حکومت کا ’واپسی منصوبہ‘ کیا ہے؟

8
0

SOURCE :- BBC NEWS

کشمیری پنڈت کون ہیں اور ان کی واپسی کا انڈین منصوبہ کا ہے؟

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1990 کی مسلح شورش شروع ہوتے ہی کشمیری ہندوؤں (پنڈت) کے جو سینکڑوں خاندان وادی چھوڑ کر جموں کے عارضی خیموں اور دوسرے انڈین شہروں میں پناہ گزین ہوئے تھے، ان کا معاملہ گذشتہ ہفتے ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا۔

کشمیری پنڈتوں کی ایک انجمن کی طرف سے انڈین حکومت کو دی گئی بازآبادکاری کی تجویز کو اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے جاری اجلاس میں ایک مسلم انجمن نے پیش کیا۔

پنڈتوں کا یہ منصوبہ اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل میں مشاورتی درجہ رکھنے والی ایک کشمیری تنظیم جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے سربراہ نذیر گیلانی نے سلامتی کونسل کے جاری اجلاس میں پیش کیا ہے۔

اس منصوبے میں کہا گیا ہے کہ ان شہریوں کو سکیورٹی حصار والے دور دراز کیمپوں کی بجائے اپنی اپنی بستیوں میں بسایا جائے۔

ابتدائی طور پر یہ تجویز پنڈت رہنما ستیش محلدار نے انڈین حکومت کو پیش کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم الگ تھلگ اور سکیورٹی حصار والی خیمہ بستیوں میں نہیں، اپنی بستیوں میں رہیں گے اور اس کے لیے 400 سے زیادہ خاندانوں نے پہل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔‘

دوسری طرف نذیر گیلانی کی کونسل کا بھی کہنا ہے کہ ’سکیورٹی حصار والے الگ تھلگ اپارٹمنٹس پنڈتوں کی اقلیت کو ہمیشہ کے لیے سکیورٹی اہلکاروں پر منحصر ایک آبادی بنا دے گی اور پھر یہ آبادی کے تناسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ایک اوزار بھی بن سکتا ہے۔‘

پنڈت رہنما ستیش محلدار کہتے ہیں: ’اپنے ہی وطن میں مہاجر بن کر رہنے کو بازآبادکاری نہیں کہتے۔ حکومت ہر ضلع میں ایک چھوٹا قصبہ بنائے جہاں دہائیوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے مسلمان، پنڈت اور سکھ مل کر رہیں گے۔‘

دراصل یہ مجوزہ منصوبہ گزشتہ دو دہائیوں سے انڈین حکومتوں کے اُس منصوبے کے متوازی ہے جس کے تحت کشمیر میں سکیورٹی حصار والے اپارٹمنٹس تعمیر کر کے، پنڈت شہریوں کو یہاں سرکاری ملازمت دے کر انھیں وادی میں رہنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم 35 سال گزرنے کے باوجود سکیورٹی خدشات، ناقص رہائشی سہولتوں اور وادی کے ساتھ جذباتی عدم وابستگی کی تین اہم رکاوٹوں کی وجہ سے کشمیری بولنے والے ان پنڈت خاندانوں کی واپسی ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ یہاں تک کہ اربوں روپے کی مالیت سے 2010 میں انڈین حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا ’واپسی منصوبہ‘ ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا ہے۔

انڈین حکومت کا ’واپسی منصوبہ‘ کیا ہے؟

کئی برسوں تک متعدد حکومتوں اور کشمیر کے مسلم سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے کوششوں کے باوجود جب پنڈت واپس نہیں لوٹے تو سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے 2010 میں نوکریوں کے ایک پیکیج کا اعلان کیا جس کے تحت پنڈتوں کو کشمیر میں سرکاری ملازمت اور عارضی رہائش دی جانی تھی تاکہ وہ اپنی اپنی آبائی بستیوں میں رہنے کی کوششوں کا آغاز کریں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے 2015 میں اس منصوبے میں تیزی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وادی کے تمام اضلاع میں 6 ہزار عارضی رہائشی فلیٹس تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔

اس طرح گزشتہ دس برسوں کے دوران 4 ہزار سے زیادہ کشمیری پنڈت وادی لوٹ چکے ہیں۔ لیکن وہ اب بھی سخت حفاظتی بندوبست والے کوارٹرز میں رہتے ہیں۔ انڈین حکومت نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں بتایا کہ ابھی تک 4 ہزار فلیٹس مکمل ہو چکے ہیں اور باقی اس سال کے آخر تک مکمل کئے جائیں گے۔

کشمیری پنڈت کون ہیں اور ان کی واپسی کا انڈین منصوبہ کا ہے؟

کشمیری پنڈت کون ہیں؟

کشمیری بولنے والے مقامی ہندوؤں کو وادی میں پنڈت کہتے ہیں۔ یہاں کے پنڈتوں اور مسلمانوں میں وہی فرق ہے جو لاہور کے مسلمانوں اور انڈین پنجاب کے سکھوں یا ہندوؤں کے درمیان ہے۔

کشمیر کے پنڈت اور مسلمان زبان، تمدن، ادب، موسیقی، رہن سہن، کھانا پینا، یہاں تک کہ بچوں کے گھریلو اور بڑوں کے نسبی ناموں میں مشترکہ روایات کے حامل ہیں۔

چند سال قبل وزیراعظم پیکیج کے تحت کشمیر میں نوکری حاصل کرنے والے پنکج کول اور ان کی بیوی نیرو کول کہتے ہیں کہ مشترکہ روایات نے انھیں دہائیوں بعد دوبارہ ’اپنے وطن کی طرف کھینچا ہے۔‘

تاہم انھیں شکایت ہے کہ ’حکومت آئے روز کہتی ہے امن بحال ہو گیا ہے، لیکن جب کشمیری پنڈتوں کی یہاں مستقل سکونت کی بات ہوتی ہے تو ہمیں عارضی رہائش میں رکھا جاتا ہے۔‘

ترکِ سکونت اور واپسی

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 1990 میں پنڈتوں کی ترکِ سکونت کے بعد سے ہی ایک طرف کشمیر میں مسلح شورش کو دبانے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رہیں اور دوسری طرف نئی دہلی کی حکومتیں ہر بار پنڈتوں کو دوبارہ کشمیر میں بسانے کے وعدے کرتی رہیں۔

سنہ 2010 میں اس وقت کے انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ نے پنڈتوں کو وادی میں دوبارہ بسانے کے لیے نوکریوں کے خاص پیکیج کا اعلان کیا تو ہزاروں کشمیری پنڈتوں نے یہاں کے مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس پیکیج پر موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2015 میں سرعت لانے کا اعلان کیا اور پنڈتوں سے وعدہ کیا کہ ان کو دوبارہ کشمیر میں بسایا جائے گا۔

تاہم پنڈتوں کے گھر یا تو بک چکے تھے یا ویران اور غیر محفوظ تھے، لہٰذا انھیں حفاظتی حصار والے اپارٹمنٹس میں یہ کہہ کر رکھا گیا کہ وہ وادی میں قیام کے دوران اپنے گھروں کو لوٹیں گے اور اس میں کوئی رکاوٹ ہو تو اپنے ہی محلے میں نئی رہائش کا انتظام کریں گے۔

سنہ 1997 سے سنہ 2003 تک کئی ایسی پنڈت بستیوں پر مسلح حملے ہوئے جہاں سے پنڈت سنہ 1990 میں نہیں نکلے تھے۔ اس عرصے کے دوران اجتماعی قتل کی تین وارداتوں میں کئی خواتین سمیت 50 کشمیری پنڈت مارے گئے۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے 2010 تک 219 کشمیری پنڈتوں کو ہلاک کیا گیا تاہم کشمیری پنڈتوں کی مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔

کشمیری پنڈت کون ہیں اور ان کی واپسی کا انڈین منصوبہ کا ہے؟

ہلاکتوں کا نیا سلسلہ

سنہ 2010 میں نوکری پیکیج شروع ہونے سے سنہ 2019 تک کسی بھی کشمیری پنڈت کو ہلاک نہیں کیا گیا حالانکہ پیکیج ملازمین کی بڑی تعداد یہاں مقیم رہی۔

سنہ 2019 میں کشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ کر کے جب نریندر مودی کی حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ کشمیر سے علیحدگی پسندی کا خاتمہ ہو گیا اور اب حالات بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں تو چند ماہ بعد ہی شہری ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

حالانکہ مسلح افراد کے ہاتھوں مارے گئے شہریوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے تاہم شورش کے دوران یہیں پر رہنے والے دوا فروش مکھن لعل بندرو کو 2021 میں اپنی ہی دکان میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور اگلے سال مئی میں پیکیج ملازم راہل بھٹ کو اپنے دفتر میں مسلح افراد نے قتل کر دیا تو انتظامیہ کے خلاف کشمیری پنڈتوں کا غصہ اُبل پڑا۔

بڈگام ضلع کے شیخ پورہ کیمپ میں پنکج کول اپنی بیوی نیرو کے ساتھ رہتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی سرکاری نوکری پیکیج کے تحت ہی لوٹے تھے۔

وہ چند سال قبل بعض پنڈتوں کی نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ہوئی ہلاکت کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ ’ہماری چھوٹی سی اقلیت کو نوکریوں کے بہانے یہاں بلا کر نئی دہلی نے ہم پر تجربہ کیا تاکہ ایک پروپیگنڈا ہو کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ مگر اب ہم مارے جا رہے ہیں، اس کے لیے ہم کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں، کیا یہ حکومت کی غلطی نہیں؟‘

موہت بھان بھی دیگر پنڈتوں کی طرح ترکِ سکونت سے متاثر رہے ہیں لیکن وہ کئی سال قبل کشمیر لوٹے اور یہاں سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہو گئے۔

مسٹر بھان کہتے ہیں کہ ’بی جے پی سرکار نے سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 ختم کر کے یہ دعویٰ کیا کہ یہ سب انھوں نے کشمیری پنڈتوں کے لیے کیا۔‘

’گویا جو کچھ بی جے پی نے پچھلے تین سال میں کیا اس کے لیے پوسٹر بوائے کشمیری پنڈت کو بنایا گیا۔‘

عارضی رہائشی منصوبے کا اصل مقصد کیا تھا؟

قابل ذکر ہے کہ 1990 میں جب ہزاروں پنڈت خاندان وادی چھوڑ کر چلے گئے، ایسے سینکڑوں خاندان تھے جنھوں نے وادی میں ہی مقیم رہنے کو ترجیح دی۔ ان ہی خاندانوں کی مقامی تنظیم کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ ’واپسی اس کو نہیں کہتے کہ نوکری کی مجبوری میں کوئی یہاں آ جائے اور مہاجر کی طرح زندگی گزارے۔ پھر جب کوئی تہوار یا خاندان میں شادی بیاہ ہو، تو یہ کہہ کر جموں روانہ ہو کہ میں گھر جا رہا ہوں۔ ایسی واپسی ہمیشہ عارضی ہی رہے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران وادی چھوڑنے والے پنڈتوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے پیچھے اصل مقصد پنڈتوں کو دوبارہ اپنے سماج میں جگہ دینا تھا۔ ’حکومت نے نوکری دے کر انھیں عارضی رہائش فراہم کی اور ساتھ ہی کہا کہ یہاں قیام کے دوران وہ اپنے پرانے گھروں کو تلاش کریں، دوبارہ انھیں خریدنے کی کوشش کریں یا اپنی ہی بستی میں دوسری جگہ زمین لیں۔‘

’اس کے لیے انھیں 5 سال تک ترکِ سکونت کا وظیفہ اور گھر بنانے کے لیے ساڑھے سات لاکھ روپے نقد دینے کا بھی اعلان ہوا۔ لیکن لوگ آئے، نوکریاں کیں اور چھٹیوں پر جموں جاتے رہے۔ مستقل سکونت کا منصوبہ دھرا کا دھرا ہی رہا۔‘

سنجے کول کا کہنا ہے کہ ’کشمیری پنڈتوں کا کشمیر کے ساتھ جو جذباتی ناطہ تھا، ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹوٹ چکا ہے، جسے بحال کرنے میں حکومت، عام لوگوں اور بنیادی طور پر خود کشمیری پنڈتوں کو مشترکہ کوشش کرنی ہوگی۔‘

وزیراعظم پیکیج کے تحت یہاں ملازمت کرنے والے پنڈتوں کی انجمن آل مائنارٹی ایمپلائیز ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر سنجے کول نے بتایا کہ ’اگر اس سلسلے میں اور دیر ہوئی تو پنڈتوں کی نئی نسل کشمیر اور کشمیریوں کے بارے میں صرف کتابوں میں ہی پڑھے گی، کیونکہ ہم آخری نسل ہیں جو کشمیریت سے واقف ہیں۔‘

کشمیری پنڈت کون ہیں اور ان کی واپسی کا انڈین منصوبہ کا ہے؟

کیا مستقل واپسی ممکن ہے؟

سنجے کول کے مطابق عارضی رہائش کے پیچھے جو اصل مقصد کارفرما ہے وہ موجودہ منصوبے سے حاصل نہیں ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’منموہن سنگھ کے زمانے میں جو تھوڑے بہت اپارٹمنٹس بنائے گئے، وہ تین کمروں والے تھے۔ مودی حکومت کے دوران بے شک تقریباً ہر ضلع میں یہ اپارٹمنٹس بنے ہیں، لیکن وہ سب ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔ اگر پنڈتوں کو واپس لانے کے لیے نوجوانوں کو نوکری دی گئی ہے، تو وہ یہاں آ کر والدین یا دوسرے اقربا کو کہاں رکھیں گے؟‘

اکثر پنڈت رہنما پنڈتوں کی حقیقی واپسی سے متعلق زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ ایسے ہی ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہماری دو نسلیں انڈیا کے شہروں میں پلی بڑھی ہیں۔ وہ وہاں کی ثقافت اور زبان تک قبول کر چکے ہیں۔ انھیں کشمیر کے بارے میں اپنے بڑوں سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ اب کارپوریٹ یا سرکار کی نوکریاں کر رہے ہیں اور میٹرو سٹی کلچر کے عادی ہیں۔ وہ یہاں یادیں تازہ کرنے یا سیر سپاٹے پر آ تو سکتے ہیں، لیکن وہ مستقل رہائش کے حق میں نہیں ہوں گے۔‘

تاہم اقوام متحدہ تک پنڈتوں کی بازآبادکاری کا مسئلہ پہنچانے والے ستیش محلدار کہتے ہیں کہ وہ ’جیل نما سکیورٹی حصار کی بجائے باقاعدہ بازآبادکاری‘ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انھوں نے انڈیا کی جنوبی ریاست چنئی سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’بیشتر پنڈتوں نے اپنے مکان بیچ دیے ہیں لیکن اچھی خاصی تعداد ایسی ہے جن کے مکان موجود ہیں اور ان کی زمینیں اور باغات بھی ہیں۔ حکومت کے پاس ہر ضلع میں سرکاری زمینیں ہیں۔ جس طرح حکومت نئی ہاؤسنگ کالونیاں بناتی ہے، اسی طرح حالات کا شکار ہو کر وادی چھوڑ چکے تمام کشمیری پنڈتوں، سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ہر ضلع میں ایک کالونی بنائی جائے تاکہ سب مل جل کر رہیں۔ زمین اگر مفت دی جائے تو اچھی بات ہے، اگر کوئی دقت ہے تو یہ زمین سرکاری سبسڈی پر بھی دی جاسکتی ہے۔ مستقل واپسی کا اس کے بغیر کوئی اور حل نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو اقوام متحدہ میں ہوئی بحث پر انڈین حکام کے ردعمل کا انتظار ہے۔

SOURCE : BBC