Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں 61 رنز سے شکست: ’شاہین، بابر اور...

پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں 61 رنز سے شکست: ’شاہین، بابر اور شاداب کا وقت ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے‘

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

30 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے شروع ہونے سے قبل ہی خبروں میں رہنے والے پاکستان اور انڈیا کے میچ کا شائقینِ کرکٹ کو بڑی ہی بے صبری سے انتظار تھا۔

میچ ہوگا کہ نہیں ہوگا اس گپ شپ کے بعد سری لنکا میں ہونے والے میچ میں اتوار کے روز جب انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں مدِ مقابل آئیں تو ٹاس جیتنے کے بعد فیلڈنگ کا فیصلہ اور میچ کی ابتدا میں ابھیشیک شرما کی پہلے ہی اوور میں وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی شائقین کو امید تھی کہ شاید ان کی ٹیم آج میچ جیت سکتی ہے۔

تاہم انڈیا ابتدائی نقصان کے بھی سنبھلی اور ایسے سنبھلی کہ ایک وقت پر پاکستانی بولرز کو وکٹ کے چاروں طرف چوکے اور چھکے لگے رہے تھے۔

ایشان کشن نے 40 گیندوں پر 77 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی اور ان ہی کی بدولت انڈیا کی ٹیم نے پاکستان کو 176 رنز کا ہدف دیا ، جو کہ پاکستانی ٹیم حاصل نہ کرسکی اور 61 رنز سے یہ میچ ہار گئی۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی انگز

انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹ کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ ابھیشیک شرما کے بغیر کوئی رنز بنائے آوٹ ہوجانے کے بعد انڈیا کے دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ایشان کشن تھے جو کہ 40 گیندوں پر 77 رنز بناکر صائم ایوب کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

15 ویں اوور میں 126 کے مجموعی سکور پر تلک ورما کو صائم ایوب نے آؤٹ کیا، انھوں نے 25 رنز بنائے۔ اگلی ہی گیند پر ہاردک پانڈیا بھی بغیر کوئی رن بنائے صائم ایوب کی ایک اور شاندار گیند پر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کے خلاف انڈیا کی پانچویں وکٹ 159 رنز پر گری جب انڈیا کے کپتان سوریا کمار یادیو 32 رنز بناکر عثمان طارق کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ ان کے علاوہ شیوم دوبے نے 27 رنز جب کہ اکشر پٹیل بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے صائم ایوب نے تین وکٹیں حاصل کیں جب کہ عثمان طارق، شاہین آفریدی اور سلمان آغا نے ایک ایک وکٹ لی جبکہ ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔

پاکستان کی انگز

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی جانب سے 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی اوپنرز صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان میدان میں اُترے۔

پاکستان کی پہلی وکٹ صفر پر پہلے ہی اوور میں تب گِری جب صاحبزادہ فرحان بغیر کوئی رن بنائے ہاردک پانڈیا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ صاحبزادہ فرحان کے آؤٹ ہو جانے کے بعد پاکستان کی دوسری وکٹ صرف چھ رنز کے مجموعی سکور پر گِری۔ صائم ایوب جسپریت بمراہ کی گیند پر چھ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

صائم ایوب کے آؤٹ ہو جانے کے بعد پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا بھی ٹیم کے مجموعی سکور میں کوئی خاص اضافہ نہ کر سکے اور چار رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ یوں پاکستان کی تیسری وکٹ 13 رنز کے مجموعی سکور پر گِر گئی۔

کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد جب بابر اعظم کریز پر آئے تو ایک لمحے کے لیے یوں لگا کہ پاکستان ہدف کو حاصل کرنے کی جانب بڑھے گا مگر بابر اعظم بھی سات گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

بابر اعظم کے آوٹ ہونے کے بعد عثمان خان نے پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کی اور ٹیم کے مجموعی سکور کو مستحکم کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی انڈین گیند بازوں کا زیادہ دیر سامنا نہ کر سکے۔ عثمان خان اکشر پٹیل کی گیند پر 44 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

گیارہویں اوور کی چوتھی گیند پر عثمان کے اؤٹ ہو جانے کے بعد اگلے ہی اوور کی چوتھی گیند پر محمد نواز چار رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

ان کے علاوہ شاہین شاہ آفریدی نے 23 اور فہیم اشرف نے 10 رنز بنائے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست پر کرکٹ شائقین انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

پاکستانی شائقینِ کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر افسردہ

x.com

،تصویر کا ذریعہx.com

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی انڈیا کے خلاف کارکردگی پر پاکستان میں شائقینِ کرکٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

جاوید اختر نامی ایکس صارف نے پاکستانی فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی پر تنقید کی۔ انھوں نے لکھا کہ ’شاہین آفریدی کو واپس پاکستان بھیج دینا چاہیے۔ ان کی جگہ علی رضا یا کسی اور سمجھدار نوجوان کھلاڑی کو موقع دیا جانا چاہیے۔ ہر بار کپتان وہی غلطی دہراتا ہے اور آخری اوور غیر ذمہ دارانہ انداز میں شاہین آفریدی کو دے دیتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آفریدی آپ نے ہمارے نوجوان باؤلرز کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔‘

جاوید اختر کی ہی طرح یاسین خان یوسفزئی نے ایکس پر لکھا کہ ’شاہین آفریدی اب باقاعدہ طور پر ٹیم کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نہ سوئنگ ہے، نہ رفتار، نہ لائن اینڈ لینتھ۔ انھیں ہمارا ’شاہین‘ کہا جاتا ہے، مگر آج وہ کلب کرکٹر کی طرح بولنگ کرتے نظر آئے۔ ایشان کشن نے تو انھیں نیٹ بولر سمجھ کر کھیلا!‘

یاسین خان نے مزید لکھا کہ ’یا تو پرانے والے شاہین کو واپس لائیں، یا پھر انھیں ڈراپ کریں۔ یہ سب دیکھنا واقعی تکلیف دہ ہے۔‘

x.com

،تصویر کا ذریعہx.com

پاکستانی شائقینِ کرکٹ انڈیا کے خلاف میچ میں صرف شاہین سے ہی ناراض نہیں تھے بلکہ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم بھی تنقید کی زد میں آئے۔

ثاقب مونگلو نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ کے پوسٹر بوائے سے لے کر مکمل مایوسی تک، بابر اعظم کی کارکردگی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ان کے پکے حامی بھی ان کا دفاع نہیں کر پا رہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’آج کی کارکردگی بالکل ہی ناقابلِ قبول تھی۔ بہتر ہوگا کہ وہ کچھ عرصہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لیں تاکہ اپنی ساکھ بچا سکیں اور دیگر فارمیٹس پر توجہ دے سکیں۔‘

x.com

،تصویر کا ذریعہx.com

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے بھی ایکس پر شاہین، بابر اور شاداب پر تنقید کی۔

انھوں نے لکھا کہ ’شاہین، بابر اور شاداب کے لیے اب وقت ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کو کمزور حریفوں کے خلاف کھوکھلی کامیابیوں کی بجائے حقیقی کارکردگی دکھانے والے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔‘

محمد یوسف کی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی صحیب مقصود نے ایکس پر لکھا ’پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ اُس وقت شروع ہوا جب ملک میں کرکٹ کی واپسی تو ہو گئی، لیکن شروع میں مضبوط ٹیمیں مکمل سکواڈ کے ساتھ نہیں آئیں۔ جب آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ پاکستان کھیلنے آئے تو اکثر وہ اپنے سات یا آٹھ اہم کھلاڑیوں کے بغیر آئے۔ ہم نے سیریز جیتیں اور یہ سمجھ بیٹھے کہ ہماری کرکٹ درست سمت میں جا رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’در اصل ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹس میں جہاں تمام ٹیمیں اپنی مکمل طاقت کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں وہاں ہماری کمزوریاں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔ آج کے میچ میں بھی دباؤ کے وقت سلمان علی آغا کی کپتانی بری طرح بے نقاب اور ناکام ہوئی۔‘

اتوار کے روز پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ پاکستان کی پلئینگ الیون میں صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان ، بابراعظم، سلمان علی آغا، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، ابرار احمد اور عثمان طارق شامل تھے۔

تاہم انڈین ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں تھیں۔ ابھیشیک شرما اورکلدیپ یادیو کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا۔

SOURCE : BBC