SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں ہوتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو اور مسئلہ فلسطین کے حل پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔
جمعرات کو پریس بریفننگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے مینڈیٹ کے بارے میں فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا ہم اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ’اپنی سرخ لکیریں بہت واضح طور پر بیان کر دی ہیں۔۔۔ پاکستان امن قائم رکھنے کے مینڈیٹ کا حصہ بن سکتا ہے لیکن ہم کسی ایسے مینڈیٹ کا حصہ نہیں ہوں گے جس میں غیر مسلح کرنے کی ذمہ داریاں شامل ہوں۔‘
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اِن عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی میں ’بورڈ آف پیس‘ کے عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن موجود ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ وزیرِ اعظم کی واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
امن بورڈ کے اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد وہاں پائیدار امن اور استحکام لانا اور جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو پر بات کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ اس اجلاس کو عالمی امن اور استحکام کی بحالی کے لیے اہم سفارتی اقدام طور پر پیش کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس اجلاس میں اسرائیل اور یورپی یونین سمیت 47 ملکوں سے وفود شرکت کر رہے ہیں۔
پاکستان کے علاوہ مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر جیسے مسلم ممالک بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ کے بڑے یورپی اتحادی، بشمول برطانیہ اور فرانس، اس بورڈ میں شامل نہیں ہوئے ہیں جبکہ کئی یورپی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام (غزہ امن بورڈ کی تشکیل) اقوامِ متحدہ کو پسِ پشت ڈال سکتا ہے۔ جبکہ بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں نے ابھی تک امریکی صدر کی جانب سے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آج ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں جن نکات پر بات چیت متوقع ہے اُن میں غزہ میں پائیدار جنگ بندی، بورڈ آف پیس کے لیے فنڈنگ کا انتظام اور ایک ایسے عالمی فورم کی تشکیل پر غور شامل ہے جو قیامِ امن کے لیے کام کر سکے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں غزہ میں امن کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ غزہ کو محفوظ خطہ بنایا جا سکے۔
،تصویر کا ذریعہReuters

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد غزہ میں مکمل جنگ بندی اور تعمیر نو اور امداد کی فراہمی ہے۔
جمعرات (19 فروری) کی صبح وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’عالمی امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی رکنیت اور مؤثر کردار پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔‘
پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اس بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی اور تعمیر نو کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق غزہ امن بورڈ کے رُکن ممالک اس فورم (غزہ امن بورڈ) کے لیے مالی معاونت فراہم کریں گے۔
16 فروری کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں وہ اعلان کریں گے کہ رُکن ممالک نے غزہ میں انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بورڈ میں شمولیت تو اختیار کر لی ہے تاہم بطور رُکن ملک وہ اس فورم کی مالی اعانت کرنے کے قابل نہیں ہے اور ایسے میں پاکستان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام میں اہم کردار ادا کرے۔ تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی اعلان یا تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
تـجزیہ کاروں کے خیال میں غزہ میں قیامِ امن کے لیے کی گئی اس عالمی کوشش کا حصہ بننا بہتر اقدام ہے لیکن اُن کے خیال میں امریکہ کے زیرِ قیادت بننے والے اس بورڈ کے اغراض و مقاصد تاحال بہت واضح نہیں ہیں۔ تو ایسے میں کیا پاکستان نے اس کا حصہ بننے میں جلدی کی ہے؟ اور پاکستان کی شمولیت کیوں ضروری ہے؟
کیا پاکستان نے متنازع ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا فیصلہ عجلت میں کیا؟

غزہ میں جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے پاکستان قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر اور انڈونیشیا کے ساتھ اُن آٹھ اسلامی ممالک کے اتحاد کا حصہ تھا جنھوں نے امریکہ کے صدر ٹرمپ سے غزہ امن معاہدے پر بات چیت شروع کی تھی اور جس کے بعد امریکی صدر نے گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں قیام امن کا معاہدہ پیش کیا اور اسرائیل اور حماس کی آمادگی کے بعد غزہ میں طویل جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔
بورڈ آف پیس کا قیام بھی اسی امن معاہدے کا حصہ ہے۔
ریسرچ تھنک ٹینک صنوبر انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اُن آٹھ اسلامی ممالک میں شامل تھا جنھوں نے غزہ میں امن کے لیے آواز اُٹھائی اور جنگ بندی کروانے کی بھرپور کوشش کی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے اور صدر ٹرمپ کے متعارف کردہ امن معاہدے میں بھی دو ریاستی حل کی بات کی گئی ہے۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ غزہ کے معاملے پر اسلامی اتحادی ممالک کے اشتراک سے مشترکہ کوششیں کی جائیں اور امریکہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے گہرے تعلقات ہیں، اس لیے اُسے دیگر ممالک کے ساتھ بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ایسے میں پاکستان کی عالمی فورمز میں موجودگی سے غزہ میں پائیدار اور مستحکم امن کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور اقوام متحدہ میں تعینات رہنے والی پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے خیال میں پاکستان کو اتنی عجلت میں اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ اس بورڈ کے تحت کیا قدامات کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور یہ تنقید اس بورڈ کی تشکیل کے جواز سے لے کر اس میں موجود نمائندگی کے خدشات تک پر مبنی ہے۔ کئی امریکی اتحادیوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ اور اس کی 15 رکنی سلامتی کونسل، کو کمزور کر سکتا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے بورڈ آف پیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ تو فلسطینیوں کے سامنے جواب دہ ہے اور نہ اقوامِ متحدہ کے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ ابھی سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بورڈ واقعی امن قائم کر سکتا کیونکہ اس بورڈ میں فلسطینی نمائندوں کی براہ راست شمولیت کا نہ ہونا، اس کی سنجیدگی پر سوال اُٹھاتا ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی سوال کرتی ہیں کہ تنازع کے بنیادی فریق کی غیر موجودگی میں امن عمل کو آگے بڑھانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
سکیورٹی اُمور کے تجزیہ کار کامران بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک سمجھتے ہیں کہ فی الوقت غزہ میں امن قائم کرنے کا کوئی متبادل فورم موجود نہیں ہے۔
کامران بخاری کے مطابق پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ اپنے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ اُن کے بقول پاکستان اور امریکہ کی قربت بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے حلیف اسلامی ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہیں ایسے میں پاکستان کے پاس کوئی اور چوائس نہیں تھی۔
کامران بخاری کے مطابق ’بورڈ آف پیس کے معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس معاملے پر پاکستان عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے، جو دولت مند بھی ہیں اور اُن کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے۔‘
کیا پاکستان بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاحال حکومت پاکستان کی جانب سے نہیں دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے امن معاہدے کے تحت غزہ اور مغربی کنارے میں قیامِ امن کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے اور گذشتہ دنوں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رُکن ممالک نے بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔‘
تاحال اسلامی ممالک کے اتحاد میں شامل واحد ملک انڈونیشیا ہے جس نے اس فورس میں اپنے دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
24 دسمبر 2025 کو امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے استحکام فورس کا حصہ بننے کی آفر کی ہے۔ مارکو روبیو نے اس آفر پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فورس میں پاکستان کا کردار اہم ہو گا۔ تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ کے اس بیان پر پاکستان کی جانب سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تھی۔
متعدد پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور سابق سفارتکاروں کہ اس فورس میں شمولیت کا فیصلہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ اُن کے خیال میں غزہ میں تعینات کیے جانے والے دستوں میں پاکستانی افواج کی شمولیت میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، تاہم، ان کا کہنا تھا، کہ پاکستان کی شمولیت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ غزہ میں کن قواعد و ضوابط یا ٹرمز آف ریفرنس کے تحت استحکام فورس کو تعینات کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے فرانس 24 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا تھا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کا حصہ رہا ہے اور اس حوالے سے وسیع تجربہ رکھتا ہے۔
تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ کہتے ہیں کہ پاکستانی افواج کو اُس وقت تک اس فورس کا حصہ نہیں بننا چاہیے جب تک اس کے اہداف اور مقاصد بہت واضح طور سامنے نہ آ جائیں اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس فورس کی باقاعدہ ضمانت نہ دے۔
انھوں نے کہا کہ غزہ میں فورس کی تعیناتی بھی اس بات سے مشروط ہونی چاہیے کہ اب اسرائیل مزید کوئی حملہ نہیں کرے گا۔
کیا بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کے متوازی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں مسائل کے خاتمے اور تنازعات روکنے میں اقوام متحدہ فعال کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے کئی بار ’بورڈ آف پیس‘ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک ممکنہ فورم کے طور پھر پیش کیا ہے۔
سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ایک متوازی فورم بنانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے جن ممالک کو دعوت دی گئی تھی اُن میں سے نصف سے زیادہ ممالک ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ انھیں بورڈ کے کردار، قانونی حیثیت اور اس کی افادیت پر تحفظات ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ بورڈ میں شامل نہ ہونے والے ممالک کو اعتراض ہے کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے طرز پر ایک متوازی ادارہ قائم کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر قمر چیمہ کے خیال میں یہ تحفظات درست نہیں ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ہی بورڈ آف پیس کا قیام ممکن ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے موجودگی میں بھی مسائل کے حل کے لیے کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز موجود ہیں۔
ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق، اقوام متحدہ کی حمایت کے تحت یہ ایک مشترکہ پلیٹ فورم ہے جس کا اولین مقصد غزہ میں پائیدار امن کا قیام ہے اور پاکستان کی اس میں شمولیت کی وجہ بھی اس فورم کے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد ہے۔
SOURCE : BBC



