Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ٹرمپ کا ایران کی سربراہی کے لیے ’تین اچھے امیدواروں‘ کا حوالہ،...

ٹرمپ کا ایران کی سربراہی کے لیے ’تین اچھے امیدواروں‘ کا حوالہ، حزب اللہ اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

مناب سکول

،تصویر کا ذریعہReuters

ایرانی حکام کے
مطابق جنوبی ایران میں ایک سکول پر مبینہ حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم
153 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایران نے اس حملے
کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی رپورٹس کا جائزہ
لے رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے علاقے میں آئی ڈی ایف کی کسی کارروائی
کے متعلق کوئی ’علم نہیں‘ ہے۔

لڑکیوں کا سکول مناب
میں پاسدارانِ انقلاب کے اڈے کے نزدیک واقع تھا۔ اس اڈے کو پہلے بھی نشانہ بنایا
جا چکا ہے۔

ایرانی ہلال احمر کا
کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک ایران میں فضائی حملوں میں کم از کم 201 افراد ہلاک اور
747 زخمی ہو چکے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود
پزیشکیان نے اس واقعے کو ایک ’وحشیانہ فعل‘ اور ’جارحیت پسندوں کی جانب سے کیے گئے
ان گنت جرائم کے ریکارڈ میں ایک اور سیاہ باب‘ قرار دیا ہے۔

امریکی میڈیا نے سینٹ
کام کے ترجمان ٹم ہاکنز کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا یے کہ امریکی فوج ان
رپورٹس کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہریوں
کا تحفظ انتہائی اہم ہے، اور ہم شہریوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے ہر
ممکن احتیاطی تدابیر جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ ایران میں
سنیچر سے جمعرات تک کام ہوتا ہے اور ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دن ہوتی ہے۔ اس کا مطلب
ہے کہ ممکنہ طور پر جب سکول پر حملہ ہوا تو اس وقت وہاں بچے اور اساتذہ موجود تھے۔

سنیچر کے روز پیش آنے
والے واقعے کے بعد جنیوا میں ریڈ کراس اور ہلال احمر کے حکام نے کہا کہ انھوں نے اپنی
ٹیموں کو سکول کی جانب متحرک کر دیا ہے۔

ایک اہلکار نے بتایا
کہ صوبہ ہرمزگان کے قصبے مناب میں واقع سکول کو ’تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔‘

یہ سکول پاسدارانِ
انقلاب کے اڈے سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

بی بی سی نے دھماکے
کے بعد کی فوٹیج کی تصدیق کی ہے، جس میں ایک عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے
جبکہ قریب ہی ہجوم جمع ہے اور لوگوں کو خوف و ہراس کے باعث چیختے ہوئے سنا جا سکتا
ہے۔

تاہم مرنے والوں کی
تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو
اکثر ایران میں کام کرنے کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے وہاں سے معلومات
اکٹھا کرنے کی ان کی صلاحیت بہت محدود ہے۔

ایرانی سوشل میڈیا صارفین
نے اس واقعے کی خبر پر غصے کا اظہار کیا ہے۔

ایران میں فوجی مداخلت
کی مخالفت کرنے والے بیرون ملک مقیم ایک ایرانی نے تبصرہ کیا: ’اس جنگ کا پہلا شکار
مناب میں میزائل حملے کا نشانہ بننے والی 40 لڑکیاں ہیں۔ کیا یہ وہ جنگ ہے جس کی
آپ حمایت کر رہے ہیں؟‘

تاہم، ایرانی حکومت
پر اعتماد کی شدید کمی کے باعث بہت سے لوگوں کے لیے سرکاری رپورٹس کو قبول کرنا بہت
مشکل ہے، اور کچھ ایرانیوں نے براہ راست حکومت کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ایک صارف نے لکھا: ’اگرچہ
حکومت نے براہ راست سکولوں کو نشانہ نہیں بنایا، مناب میں بچوں کی ہلاکت کی ذمہ داری
اسلامی جمہوریہ پر عائد ہوتی ہے۔

’لوگوں کے لیے کوئی پناہ گاہ دستیاب نہیں، انٹرنیٹ منقطع ہے، فون لائنیں
بند ہیں، اور بچوں کو سکول سے باہر رکھنے کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔ ان حالات
میں، زیادہ سے زیادہ گھر میں رہنے کی خرورت ہے۔‘

SOURCE : BBC