Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں...

ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

Dubai

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حالیہ دہائیوں میں لبنان پر بمباری، عراق کے پرہجوم بازاروں میں خودکش دھماکے اور شام میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں غیر ملکی شہریوں کے اغوا یا قتل کی خبریں تواتر سے آتی رہتی تھیں، لیکن اس دوران دبئی میں مسلسل پارٹی کا سا سماں ہوتا تھا۔

دنیا کے امیر ترین لوگوں نے دبئی کے ساحلی علاقوں میں بنگلے خریدے، وہ ابو ظہبی کے عجائب گھروں سے لطف اندوز ہوئے اور قطر کے صحرا میں ڈیزرٹ سفاری کے مزے لیتے رہے۔

جنگوں، احتجاجوں اور عدم استحکام سے لرزتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک نے کئی برسوں تک خود کو امن اور خوشحالی کے نخلستان کے طور پر پیش کیا۔

ان ممالک کی فائدہ مند ٹیکس پالیسیوں نے اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دبئی، ابوظہبی اور دوحہ جیسے علاقوں کو دنیا کے ارب پتی افراد اور لگژری سیاحت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تقریبات اور کانفرنسوں کی ایک اہم منزل میں تبدیل کر دیا۔

تاہم یہ خواب 28 فروری کو اس وقت چِکنا چُور ہو گیا جب تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیلی شہروں اور مشرقِ وسطیٰ کے میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے۔

خلیجی ممالک کی شاہی حکومتوں نے اچانک اپنے آپ کو ایک ایسے تنازع میں گِھرا پایا، جس کی انھوں نے کبھی چاہ نہیں کی تھی۔

یورپین پیس انسٹیٹیوٹ سے منسلک انا جیکب خلف کہتی ہیں کہ ’اِن خلیجی ریاستوں نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔‘ مگر عرب حکمرانوں کی کی کوششیں رائیگاں گئیں۔

اور پھر اچانک ایرانی میزائل اور ڈرون عالمی شہرت رکھنے والے شاپنگ مالز، فلک بوس عمارتوں اور کشتیوں سے بھری بندرگاہوں کے قریب گرنے لگے۔ قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، سعودی عرب اور عمان کے شہریوں کے ساتھ ساتھ اس ممالک میں بسنے والے لاکھوں غیر ملکی اور اس صورتحال کے باعث یہاں پھنس جانے والے سیاح بھی ان مناظر کو دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

Qatar

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس جنگ نے دنیا کے کچھ شاہانہ ہوٹلوں تک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ ایک ایرانی ڈرون کا ملبہ دبئی کے برج العرب پر گِرا، جبکہ پام جُمیرہ کے مصنوعی جزیرے پر واقع ’فیئرمونٹ دی پام‘ پر بھی براہ راست حملہ ہوا۔

اور پھر قطر کی سرکاری آئل کمپنی نے تصدیق کی کہ راس لفان انڈسٹریل کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں اسے ’وسیع نقصان‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایران کے پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ راس لفان سمیت خطے میں موجود دیگر تیل اور گیس کی تنصیبات پر ’فیصلہ کن کارروائی‘ کرے گا۔

اس جنگ کے اثرات تباہ کُن ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں میں غصہ بھی بڑھ رہا ہے۔

ان خلیجی ممالک میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں، لوگوں نے ہوٹلوں کی پیشگی بُکنگز ختم کروا دیں اور بحرین اور سعودی عرب میں فارمولا ون سمیت متعدد بین الاقوامی ایونٹس بھی منسوخ کر دیے گئے۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے اِن امیر خلیجی ریاستوں کے تیل اور گیس کی دنیا بھر میں برآمدات کو بھی متاثر کیا۔

کیا یہ محض سراب تھا؟

دبئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کویتی وزیرِ اعظم کے سابق ڈپٹی چیف آف سٹاف بدر السیف، اب کویت یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’خلیجی ممالک نے دنیا بھر کو اپنی شناخت مشرقِ وسطیٰ کے انتہائی محفوظ مقامات کے طور پر کروائی تھی، لیکن گذشتہ کچھ ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات نے اس ساکھ کو انتہائی داغدار کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ دنیا کے اس خطے میں سکیورٹی اور آسائشوں کی فراہمی اور دستیابی پر خطیر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

خطّے کی شاہی مگر آمرانہ حکومتوں نے نگرانی کے نظام میں بھاری سرمایہ کاری کی، جس نے انھیں دہشت گردی سے خاصی حد تک محفوظ رکھا ہے لیکن انھوں نے اختلافِ رائے اور ہر اُس چیز کو بھی نشانہ بنایا ہے جو ان کی شبیہ پر اثر ڈال سکتی ہو۔

مثال کے طور پر گذشتہ تین ہفتوں میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز پوسٹ کرنے کے الزام میں خلیجی ممالک میں غیرملکی شہریوں سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

غیر ملکی کارکنوں، سیاحوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی کوشش میں ان قدامت پسند مسلم ممالک نے نرمی کی فضا بھی قائم کی لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہے: بعض جگہوں پر شراب پینے کی اجازت ہے، لیکن ہم جنس پرستی کے عوامی اظہار کی نہیں۔

انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ٹیکسز ان ممالک کو گذشتہ دہائیوں میں بے حد مقبول بنا چکے تھے اور ساتھ ہی ساتھ یہ ممالک دنیا بھر میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

لیکن حالیہ تنازع ان کی تمام محنت پر پانی پھیرتا ہوا نظر آتا ہے۔

ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنازع کے سبب اس خطے کے سیاحتی شعبے کو یومیہ 600 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

کونسل کے مطابق سیاحت کے ذریعے اس خطے میں رواں برس 207 ارب ڈالر آنے تھے۔

ایئر ڈین این اے گروپ کے مطابق چھ مارچ سے شروع ہونے والے ہفتے میں دبئی میں مختصر قیام کی 80 ہزار سے زیادہ بکنگز منسوخ ہوئی ہیں۔

اسی طرح فلائٹس کی منسوخی کے سبب ان ممالک میں ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے تھے۔

Iran Missile

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ دہائیوں میں خلیجی خطے کے ایئرپورٹس بھی بہت مصروف رہے ہیں اور تقریباً پانچ لاکھ مسافر روزانہ ان ہوائی اڈوں سے گزرتے تھے۔

مگر 28 فروری کے بعد دبئی، کویت اور أبوظہبی کے ایئرپورٹس پر بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملے ہوئے، جس کے سبب یہاں آپریشنز تعطل کا شکار رہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہارورڈ کینیڈی سکول سے وابستہ محقق ایلہام فاخرو کہتی ہیں کہ ’سکیورٹی کی یہ شبیہ جزوی طور پر مصنوعی تھی لیکن جزوی طور پر حقیقی بھی، کیونکہ خلیجی ریاستیں دراصل کئی دہائیوں تک خود کو خطے کے بدترین تشدد سے الگ رکھنے میں کامیاب رہی تھیں۔‘

فاخرو کہتی ہیں کہ سرمایہ کاروں اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنا اب بھی ’ممکن‘ ہے مگر ’اس کا انحصار اس بات پر ے کہ یہ تنازع کتنی مدت تک چلتا ہے۔‘

مایوسی اور غصہ

Trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے خلیجی ممالک کو بھی ایرانی حملوں کے اہداف میں بدل دیا ہے۔ اس جنگ نے ان خلیجی ریاستوں کے شہریوں اور حکمرانوں میں غصے اور مایوسی کا احساس پیدا کیا ہے۔ دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ارب پتی کاروباری شخصیت خلیف احمد الحبتور وہ پہلی نمایاں شخصیت تھے جنھوں نے اس خطے کو جنگ میں گھسیٹنے پر صدر ٹرمپ پر تنقید کی۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا کہ ’آپ کو کس نے اختیار دیا کہ ہمارے خطّے کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹیں؟ اور آپ نے اس خطرناک فیصلے کی بنیاد کس بات پر رکھی تھی؟‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ٹرمپ نے ’ٹریگر دبانے سے پہلے اس کے ضمنی نقصانات کا حساب لگایا تھا؟‘

ایلہام فاخرو کہتی ہیں کہ ’دھوکے کا جو احساس خلیجی دارالحکومتوں میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، وہ خاصا گہرا ہے۔ تاہم کچھ عرصے تک اس غصے کے اعلانیہ اظہار کا امکان کم ہے۔‘

خلیجی ممالک نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس میں اس کے فوجی اڈّوں کی میزبانی، لاجسٹک سہولتوں کی فراہمی، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے وعدے، اور خطے میں انتہائی غیر مقبول امریکی پالیسی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی اندرونی سیاسی قیمت برداشت کرنا بھی شامل ہے۔

فاخرو مزید کہتی ہیں کہ ’بدلے میں ان خلیجی ریاستوں کو کم از کم یہ توقع تھی کہ ایسی جنگ سے پہلے ان سے مشورہ کیا جائے گا جس میں بالآخر انھیں ہی نشانہ بنایا جائے گا۔‘

’لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایرانی میزائل اُن کے دارالحکومتوں، ہوائی اڈّوں، تیل کی تنصیبات اور مالیاتی مراکز پر اس لیے نہیں گرے کہ انھوں نے خود کچھ کیا تھا، بلکہ یہ سب واشنگٹن اور تل ابیب میں کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے ہوا۔‘

لندن کے تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس سے وابستہ محقق نیل کویلیم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس وقت خلیجی دارالحکومتوں میں ’بے پناہ غصہ‘ موجود ہے، تاہم فی الحال ’وہ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس بات کا امکان ہے کہ وہ اسے کسی عوامی فورم پر ظاہر کریں گے۔‘

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ امریکہ نے انھیں کسی اہم معاملے سے دور رکھا ہو۔

جب سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پایا تو خلیجی ممالک، جو ہمیشہ سے تہران کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کا حصہ بننے کا مطالبہ کرتے رہے تھے، کو اس میں شامل نہیں کیے کیا گیا تھا۔

سکیورٹی حکمت عملی

Bahrain

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خلیجی بادشاہتوں اور ان کے فارسی پڑوسی کے درمیان شاہ رضا پہلوی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی تعلقات کشیدہ ہیں۔

ایران ایک عرب ملک نہیں ہے اور وہاں آبادی کی بھاری اکثریت شیعہ ہے، جبکہ خلیجی ممالک زیادہ تر سنّی ہیں۔ ایران نے سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد سے خود کو خطّے میں امریکہ کا بڑا دشمن بنا کر پیش کیا ہے، وہ امریکہ جس کے ساتھ عرب بادشاہتیں اتحاد رکھتی ہیں۔

اسی طرح خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی کی بنیاد واشنگٹن کے ساتھ اسی تعلق پر رکھی ہے، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے۔

نیل کویلیم کہتے ہیں کہ ’یہ سب ممالک کسی نہ کسی طرح نیٹو کے آرٹیکل 5 کے مساوی کسی شق کے متلاشی تھے (جس کے مطابق اگر کسی ایک رکن پر حملہ ہو تو باقی اس کے دفاع کے لیے آتے ہیں)، جس میں امریکہ ان کے دفاع کا پابند ہو۔‘

وہ 1990 میں کویت پر عراق کے حملے کا حوالہ دے رہے تھے، جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کویت کو عراق سے آزاد کروایا۔

لیکن جب سنہ 2019 میں تہران نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر بمباری کی یا 2025 میں اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بم حملے کے ذریعے حماس کے رہنماؤں کو قتل کیا تو امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا۔

تازہ حملوں کے بعد ان ممالک کے اس احساس کو تقویت ملکی کہ واشنگٹن ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔

ایلہام فاخرو کے مطابق خلیجی ممالک نے اپنی سلامتی تین مربوط مفروضوں پر قائم کی تھی: امریکہ بیرونی خطرات کے خلاف بنیادی ضامن کا کردار ادا کرے گا، ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی سے براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ کم ہو گا اور یہ کہ بعض ممالک کے لیے اسرائیل کے ساتھ منتخب نوعیت کے تعلقات قائم کرنے سے سٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ حکمتِ عملی اس لیے ترتیب دی گئی تھی کہ خلیجی حکومتیں واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں گی اور انھیں کسی ایک کا انتخاب کرنے کی پالیسی نہیں بنانی پڑے گی۔

تاہم ایران جنگ نے اس اتحاد کی محدودیت کا پردہ فاش کر دیا۔

ان میں سے کچھ ممالک ترکی یا پاکستان جیسی ریاستوں کے ساتھ اپنی عسکری شراکت داری میں تنوع پیدا کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ لیکن نیل کویلیم کی رائے میں ’انھیں امریکہ سے دُور ہونے میں بہت وقت لگے گا کیونکہ تربیت، اسلحہ یا ہوا بازی سے متعلق ان کے بہت سے معاہدے کم از کم اگلے 20 سال تک جاری رہیں گے۔‘

SOURCE : BBC