Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی باجوڑ میں ایف سی چیک پوسٹ پر...

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی باجوڑ میں ایف سی چیک پوسٹ پر ’خودکُش حملے‘ کی مذمت، پولیس کی 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

کے پی پولیس

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ میں ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملے اور اس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کیا جا رہا ہے۔

ضلع باجوڑ میں اعلیٰ پولیس افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو تصدیق کی ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ایف سی اہلکاروں سمیت کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاحال پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس واقعے اور ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی شام اُس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے بارود سے بھری گاڑی اس عمارت سے ٹکرا دی ہے جس میں فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹ قائم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس عمارت میں پہلے ایک مدرسہ بھی فعال تھا۔

انھوں نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اور ایک بچی بھی شامل ہے جبکہ ملبے تلے مزید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

اس حوالے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے حملے میں فورسز کے اہلکاروں سمیت ایک بچی کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔‘

انھوں نے واقعے کے بعد ریسکیو اداروں کو فوری اور بھرپور امدادی کارروائیاں کرنے کی ہدایت جاری کی۔ سہیل آفریدی کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔‘ وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’دہشت گردی پورے ملک کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے اور صوبے میں امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

باجوڑ کا علاقہ ملنگی کہاں واقع ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے ملنگی میں جس عمارت پر حملے کی اطلاعات ہیں وہاں پہلے ایک مدرسہ قائم تھا لیکن بعد ازاں یہاں سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کر دی گئی تھی۔

لوئی ماموند ضلع کے شمال میں واقع ہے اور بنیادی طور پر ملنگی کا یہ علاقہ باجوڑ کے دوسرے بڑے بازار عنایت کلی سے تقریباً 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

تحصیل ماموند کی سرحد ایک طرف افغانستان سے ملتی ہے جبکہ دوسری جانب خار بازار سے جڑتی ہے۔ اگر پشاور سے باجوڑ کی طرف سفر کیا جائے تو پہلے صدیق آباد اور پھر عنایت کلی آتا ہے، جس کے قریب ہی ملنگی کا علاقہ واقع ہے۔

باجوڑ میں حالات ایک عرصے سے کشیدہ ہیں اور آئے روز تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ چند روز قبل واڑہ ماموند کے علاقے میں ایک حملے میں ایک پولیس انسپکٹر ہلاک ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی باجوڑ میں جمعیت علما اسلام کے مقامی قائدین پر حملے ہو چکے ہیں۔

دو برس قبل جے یو آئی کی ایک تقریب میں دھماکے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

SOURCE : BBC