Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں وائرل کشمیری چوڑیاں جو ’کشمیری نہیں ہیں‘: ’یہ سب ٹک ٹاکرز کا...

وائرل کشمیری چوڑیاں جو ’کشمیری نہیں ہیں‘: ’یہ سب ٹک ٹاکرز کا کیا دھرا ہے‘

11
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہMaya Ali/ِ Instagram

بہار کا موسم تھا اور فروری کا وسط چل رہا تھا جب مجھے میرے واٹس ایپ پر ایک تصویر موصول ہوئی اور ساتھ ہی پوچھا گیا تھا ’یہ کشمیری چوڑیاں کہاں سے ملیں گی؟‘

چونکہ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھتی ہوں، اسی لیے پوچھنے والی خاتون کا براہ راست مجھ سے رابطہ کرنا منطقی بھی تھا۔

لیکن میرا جواب سُن کا انھیں خاصی مایوسی ہوئی۔ کیونکہ میں نے اور مجھ سمیت بہت سے کشمیریوں نے کم از کم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایسی کسی روایتی چوڑیوں کے بارے میں نہ کبھی سُنا تھا اور کبھی نہ دیکھا۔

میرے اظہارِ لاعلمی کے بعد بات آئی گئی ہو گئی لیکن جیسے جیسے عید الفطر قریب آ رہی تھی میرا سوشل میڈیا انہی چوڑیوں کے تصاویر اور اُن کی ڈیمانڈ کرتی خواتین کی پوسٹوں سے بھرتا جا رہا تھا۔

ہر ایک کو کسی بھی قیمت پر یہ چوڑیاں چاہیں۔ حد تو تب ہوئی جب میں نے ایک مقامی بازار میں ہر دوسری لڑکی کو دکانداروں سے یہ کہہ کر الجھتے دیکھا ’ہمیں کشمیری چوڑیاں ہی چاہییں۔ کہاں سے ملیں گی؟ آپ کب لائیں گے؟‘

وائرل ’کشمیری چوڑیوں‘ میں ایسا کیا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہDaraz

میں جو پہلے ہنس ہنس لوگوں کو بتا رہی تھی کہ یہ کسی نے یونہی ’کشمیری‘ نام رکھ دیا ہے چوڑیاں کا وائرل کرنے کے لیے۔ اب مجھے بھی تجسّس ہونے لگا کہ ان چوڑیوں میں آخر ایسا ہے کیا؟

آن لائن شیئر ہونے والی تصاویر اور ویڈیو میں لڑکیوں کی نازک کلائیوں میں چھنکتی یہ دھنک رنگ چوڑیاں بہت زیادہ شوخ نہیں ہیں۔

نسبتاً شفاف کانچ سے بنی ان رنگیں چوڑیوں پر باریک سنہری چمک موجود ہے۔ اسی لیے انھیں رین ڈراپ (بارش کا قطرہ) کا نام بھی دیا گیا ہے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لیکن اصل شو سٹاپر یہ کانچ کی چوڑیاں نہیں بلکہ اُن کے ساتھ شامل کی سنہری یا چاندی کے رنگ کی وہ دھاتی چوڑیاں ہیں جن میں تھوڑی تھوڑی دوری پر چھوٹے چھوٹے گھنگھرو لگے ہوئے ہیں۔

انھی گھنگرو والی دھاتی چوڑیوں کو ’کشمیری چوڑیاں‘ کہا جا رہا ہے۔

شوخی، کسی حد تک رنگینی اور چھنک سے بھری یہ چُوڑیاں بظاہر اس وقت ناصرف پاکستان، انڈیا بلکہ دیگر ممالک میں ہر عمر کی خواتین کی دل کی دھڑکن بنی ہوئی ہیں۔

وائرل ٹرینڈ سمجھ آنے کے بعد میں نے اُس خاتون سے رابطہ کیا کہ اُن کی تلاش کہاں تک پہنچی؟

ڈاکٹر عائشہ اشفاق کا تعلق لاہور سے ہے۔ ان کی آٹھ سالہ بیٹی ٹرینڈ دیکھنے کے بعد ضد پر اڑ گئیں کہ انھیں کشمیری چوڑیاں ہی چاہییں۔ آن لائن تلاش میں ناکامی کے بعد وہ آخر کار لبرٹی مارکیٹ سے یہ چوڑیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آن لائن تلاش کرنے پر جو چوڑیاں ملیں وہ دو ہزار روپے درجن سے بھی زائد قیمت کی تھیں۔ پھر میں نے وقت نکال کر خود بازار جانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں بھی صرف ایک رنگ کی رین ڈراپ چوڑی 400 روپے درجن ملی اور گھنگرو والی چوڑی ملا کر 500 روپے کا جوڑا بنا۔‘

وائرل چوڑیوں کی ہوشربا قیمتیں

تصویر

،تصویر کا ذریعہjewelsbyleeza._

یہ تو صاف ظاہر تھا کہ یہ چوڑیاں وائرل ہوں گی تو قیمت بھی آسمان سے باتیں کرے گی۔

سوشل میڈیا پیجز ہوں یا بازاروں میں چوڑیوں کی دکانیں، عمومی طور پر دو سو سے ڈھائی سو تک مل جانے والی کانچ کی چوڑیوں اور اتنی ہی قیمت میں مل جانے والی دھاتی چوڑیوں کی مجموعی قیمت 400 سے پانچ سو سے درمیان تھی۔ لیکن عید الفطر کے نزدیک یہ درجن بھر چوڑیاں بھی 1500 سے 2500 روپے میں مل رہی ہیں۔

ممکن ہے کسی جگہ منہ مانگی قیمت کی پیشکش پر اس سے بھی مہنگی ہوں۔

قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ سوشل میڈیا پوسٹس دیکھ کر صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں خواتین مختلف گروپس میں یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ ’بس ہمیں یہ کشمیری چوڑیاں چاہییں چاہے کسی بھی قیمیت پر سہی لیکن ہمیں یہ تلاش کر دیں۔‘

ڈاکٹر عائشہ بتاتی ہیں کہ ’یہ تو بچوں کا سائز تھا اس لیے کم قیمت میں ملا۔ بڑوں کی چوڑیاں تو 1400 روپے درجن اور گھنگرو والی ملا کر 1800 سو روپے تک تھیں۔ ایسا لگتا ہے دکانداروں نے مافیا بنا رکھا ہے۔‘

’اگر وائرل والی دھنک رنگ چوڑیاں مکس کر کے دیں تو اس کی قیمیت دوگنا ہو جاتی ہے۔ ایک تو خواتین کا رش اور جو آ رہا تھا بس یہی کہہ رہا تھا کہ اسے کشمیری چوڑی چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر کئی انفلوانسرز جہاں خود انھیں حاصل کر لینے پر خوشی کا اظہار کرتی نظر آئیں تو کئی نے مقامی بازاراوں میں جا کر یہی چوڑیاں انتہائی سستے داموں میں خریدنے کی کامیاب داستان شیئر کی۔

کچھ خواتین نے تو دوسرے دن جا کر سارا سٹاک خرید لینے تک کی پوسٹس لگائیں کہ ان کی فالوورز نے انھیں آرڈر دے دیے ہیں اور اب وہ ان کے لیے خرید رہی ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر کیا یہ چوڑیاں خود دکاندار بھی اتنی مہنگی خرید رہے ہیں جتنے میں بیچی جا رہی ہیں؟ یہ جاننے کے لیے میں نے یہ چوڑیاں بیچنے والے ایک ایسے دکاندار سے بات کی جن کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ یہ مناسب قیمت میں دے رہے ہیں؟

اسلام آباد میں خان محمد صرف چار عدد دھاتی چوڑیاں 1100 روپے میں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب ٹک ٹاکرز کی مہربانیاں ہیں جو یہ اتنی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ہمیں خود ان کی خرید 850 سے زیادہ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ خواتین کی ڈیمانڈ پر ہی وہ بھی یہ چوڑیاں لائے ہیں اور بہت رعایت کر کے بھی صرف ایک ہزار روپے تک دے سکتے ہیں۔ ان کے پاس رین ڈراپ چوڑیاں تو نہیں تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی وہ رین ڈراپ چوڑیاں بھی لے آئیں گے۔

چونکہ کشمیر کا ایک حصہ انڈیا کے زیر انتظام بھی ہے تو معلومات حاصل کرنے پر پتا چلا کہ یہ دھاتی چوڑیاں انڈیا میں بھی کشمیری چوڑیوں کے نام سے وائرل ہیں۔ ایک یوٹیوب چینل پر یہ دھاتی چوڑیاں دہلی کے ایک بازار میں 120 روپے درجن ملتی دکھائی گئیں۔

میں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور دہلی میں موجود افراد سے بھی جاننے کی کوشش کی کہ ان چوڑیوں کا کشمیر سے کیا تعلق ہے۔ انھوں نے بھی ان چوڑیوں کے خطے سے کسی ثقافتی تعلق سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھی یہ چوڑیاں اس سال کافی فروخت ہو رہی ہیں اور دکاندار انھیں دہلی، ممبئی اور امرتسر سے منگوا رہے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان میں ان چوڑیوں کے وائرل ہونے میں فرق اتنا ہے وہاں صرف دھاتی چوڑیاں وائرل ہیں جنھیں یونہی یا کسی بھی طرح کی کانچ کی چوڑیوں سے ساتھ ملا کر پہنا جا سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ان دھاتی چوڑیوں کے ساتھ سات رنگوں میں سجی کانچ کی رین ڈراپ چوڑیوں کا سیٹ وائرل ہے۔

پاکستان میں یہ چوڑیاں وائرل کیسے ہوئیں؟

مایا علی

،تصویر کا ذریعہMaya Ali/ِ Instagram

اگر اتفاق سے آپ بھی میری طرح بے خبر تھے اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ چوڑیاں جو عام بازاروں میں باآسانی دستیاب تھی وائرل کیسی ہوئیں اور پھر مہنگے داموں کیوں بکنے لگیں تو اس کی بہت سے وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آٹھ فروری کو بسنت منائی گئی تو عام لوگوں کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر سے اداکاروں اور فنکاروں نے بھی لاہور کا رخ کیا تھا۔

اداکارہ مایا علی بھی انھی میں سے ایک تھیں۔ جہاں ایک طرف ان کے سفید لباس پر گلابی اور نیلے رنگ سے امتزاج والا ٹائی اینڈ ڈائی دوپٹے اور شیشوں، دلوں اور پتنگوں سے سجے پراندے سے مداحوں کی توجہ کھینچی وہیں ان کی کلائیوں میں سجی یہ دھنک رنگ چوڑیاں خصوصاً خواتین کو ایسی بھائیں کہ مایا علی خود بھی پس منظر میں چلی گئی۔

کچھ صارفین کے مطابق یہیں سے شروع ہوئی پاکستان میں ان وائرل ’کشمیری چوڑیوں‘ کی کہانی۔

ان کے پہناوے میں شامل چوڑیاں وائرل ہو جانے پر خود مایا علی کیا کہتی ہیں یہ جانے کے لیے ہم نے ان سے بھی رابطہ کیا تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تاہم بہت سے صارفین اس چوڑیوں کے وائرل ہونے کی وجہ دیگر معروف سلیبریٹیز کی جانب سے انھیں پہنے جانے کو بھی قرار دیتے رہے۔

اب ایسے تمام لوگ جنھیں کسی بھی صورت سستی یا مہنگی یہ چوڑیاں نہیں مل سکیں تو وہ بھی مایوس نہ ہوں۔ کئی سوشل میڈیا انفلوانسرز نے زیورات بنانے والی تاروں اور سادہ چوڑی کی مدد سے تھوڑی سی محنت کر کے خود سے یہ گھنگرو والی چوڑیاں بنانے کا طریقہ بھی شیئر کر دیا ہے۔ اگر آپ کر سکیں تو تقریباً ہر سوشل میڈیا سائٹ پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں۔

میں نے تو کئی آن لائن پیجز پر ان چوڑیوں کی قیمت پوچھ کر ہی چُپ سادھ لی تھی۔ تاہم اب مجھے بھی ایک آن لائن ویڈیو سے ایک قریبی بازار میں یہی چوڑیاں سستے داموں ملنے کی نوید ہے۔

اب یہ چوڑیاں کشمیری ہوں یا نہ ہوں، کشمیری ہونے کے ناطے میرا تو حق بنتا ہے کہ میں اس عید یہ وائرل ’کشمیری چوڑیاں‘ ضرور پہنوں۔

SOURCE : BBC