Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’میں نہیں چاہتا کہ یہ ہمارا آخری نوروز ہو‘: بمباری اور تباہی...

’میں نہیں چاہتا کہ یہ ہمارا آخری نوروز ہو‘: بمباری اور تباہی کے درمیان ایران میں سالِ نو کا آغاز

17
0

SOURCE :- BBC NEWS

A flower vendor holds purple and white flowers over his face as people shop in preparation for Nowruz celebrations on 19 March 2026 in Tehran, Iran. Behind him on the left, a poster of former Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei, who was killed in the first wave of US-Israeli strikes, is displayed. A few people walk behind the vendor.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

٭ اس تحریر میں نام حفاظتی وجوہات کی بنا پر تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

ایرانی میں فارس کے نئے سال کے تہوار نوروز کے آغاز سے پہلے عام طور پر ایرانی جوش و خروش سے تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتے تھے لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہے۔

تہران کے شمال مشرق میں دماوند سے تعلق رکھنے والی 50 سالہ خاتون مینا کہتی ہیں: ’ہم تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔۔۔ گھر کی صفائی، نئے کپڑوں، مٹھائیوں اور کھانے پینے کی اشیا کی خریداری میں۔ لیکن یہ سال مختلف ہے۔‘

وہ روتے ہوئے کہتی ہیں ’اس سال ہر دن بہت لمبا لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مجھے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہو رہا۔‘

نوروز، جس کا ترجمہ ’نیا دن‘ ہے، ایک روایتی تہوار ہے جو ایران اور دیگر ممالک میں موسم بہار، فطرت کے دوبارہ جنم اور نئے سال کے آغاز کی علامت ہے۔ یہ تہوار 3000 سال سے زیادہ پرانا ہے، جو اسے دنیا کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک بناتا ہے۔

A table with several bowls on it with either eggs, fruit, garlic, beans or sprouting beans in them

،تصویر کا ذریعہAmid FARAHI / AFP via Getty Images

یہ تہوار 20 مارچ کو منایا جاتا ہے، جس کے اگلے دن ایرانی نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن اس سال کا نوروز پہلا موقع ہو گا کہ ملک میں بہت سے لوگوں کے لیے نیا سال ایک جنگ کے دوران شروع ہو گا۔

ایران 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کی زد میں ہے۔

امریکہ میں قائم گروپ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ان ایران کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں اب تک ایران میں 3114 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 1354 عام شہری بھی شامل ہیں اور ان میں کم از کم 207 بچے تھے۔

تہران نے جواب میں اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کی اتحادی ریاستوں پر حملے کیے ہیں۔

مینا کے بیٹے امیر، جو کہ تہران سے اپنے خاندان کے ساتھ دماوند منتقل ہوئے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ نوروز بہت مختلف محسوس ہو رہا ہے۔ ’لوگ جنگ کے سبب اپنی ملازمتیں کھو رہے ہیں۔ میری سب سے بڑی پریشانی ہمارے ملک کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اس حساب سے ایران میں زیادہ کچھ نہیں بچے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ ہمارا آخری نوروز ہو۔‘

A photo shows a road in Tehran, Iran, this week.
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایرانیوں کے لیے نوروز ان کی تاریخ، قومی کردار اور روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔

فارسی، پارسی، کرد، آرمینیائی، آذربائیجانی، تاجک، قازق، ازبک اور دیگر ثقافتیں اس تہوار کو مناتی ہیں اور اس کے ارد گرد ان کی اپنی روایات ہیں۔

آخری بار جب ایرانیوں نے جنگ کے دوران نوروز منایا تھا تو وہ 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کا دور تھا۔

اس تہوار سے بہت سی روایات جڑی ہیں، جن میں گزشتہ سال کی بدقسمتیوں کو دور کرنے اور نئے سال کے استقبال کے لیے گھر کی تفصیلی صفائی بھی شامل ہے۔

مینا کہتی ہیں کہ وہ نہیں جانتیں کہ اس مرتبہ ٹی وی پر نئے سال کی چھٹی کے اعلان کی آواز میزائلوں اور ڈرونز کے شور میں گم ہو جائے گی یا نہیں۔ ’مجھے امید ہے کہ ایسا نہ ہو۔‘

ایران میں نوروز کی دو ہفتوں کی تعطیلات کے دوران، خاندان عام طور پر ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ تہران واپس نہیں جانا چاہتے، جو سب سے زیادہ حملوں کا نشانہ بن رہا ہے۔

مینا کہتی ہیں کہ ’ اس مرتبہ آنے جانے کا سلسلہ بہت کم ہے۔ ہم خود ہی بےگھر ہو گئے ہیں۔ ہم نے تہران چھوڑا اور زیادہ محفوظ جگہ آ گئے۔

’میں چاہتی ہوں کہ یہ سب ہماری یادداشت سے ایک برے خواب کی مانند غائب ہو جائے۔‘

ایران بھر میں بازار، شاپنگ سینٹرز اور سڑکیں عام طور پر نوروز سے پہلے کے دنوں میں خریداروں کے بڑے ہجوم سے بھری رہتی ہیں لیکن اس سال جوش و خروش ویسا نہیں ہے۔

تہران میں رہنے والی 20 سال کی ایک خاتون پارمیس کہتی ہیں ’پہلے نوروز کے لیے تمام اشیا تلاش کرنا بہت آسان ہوتا تھا۔ اب اگر آپ کہیں بھی جاتے ہیں تو آپ کو ہمیشہ یہ فکر رہتی ہے کہ آپ کسی فضائی حملے کا نشانہ نہ بن جائیں۔‘

پرمیس پھر بھی 17 مارچ کو اپنے ناخن بنوانے کے لیے باہر گئیں۔ سیلونز میں عموماً ان دنوں رش ہوتا ہے کیونکہ لوگ نوروز کے لیے خاص تیاری کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ میری طرح کچھ لوگ، سب کچھ ہونے کے باوجود بھی معمولاتِ زندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں سیلون میں ہی تھی جب ایک زوردار دھماکہ ہوا لیکن کوئی بھی نہیں گھبرایا۔‘

ایک اور خاتون مریم کا کہنا ہے کہ لوگ اس تہوار کی تیاریاں کر رہے ہیں اور توجہ کا مرکز ’ہفت س‘ کی میز ہے۔

اس سے مراد وہ میز ہے جس پر نئے سال کی آمد کی خوشی میں حرف س سے شروع ہونے والی اشیا سات رنگین پیالوں میں سجا کر نوروز کے دن رکھی جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہاں لوگ ہفت س کے لیے چیزیں خرید رہے تھے۔ میں نے پھول اور کچھ گلیوں میں دکانداروں کو دیکھا۔ لیکن یہ سب ویسا نہیں ہے جیسا کہ پچھلے برسوں میں تھا۔‘

’یہ ایک روایت ہے جو سال میں ایک بار آتی ہے اور ہمیں اسے منانا چاہیے۔ میں نے کچھ چیزیں خریدی ہیں اور کچھ ہمارے پاس گھر پر ہیں۔ میں ہفت س بنانے کا ارادہ کر رہی ہوں۔‘

Tehran residents shop ahead of Nowruz celebrations on 19 March 2026.

،تصویر کا ذریعہEPA

دریں اثنا، ملک میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو جنگ جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

تہران کے 30 سالہ رامتین کہتے ہیں ’نوروز کا کیا فائدہ؟ اگر اسلامی حکومت ہی برسراقتدار رہتی ہے تو ہمیں لامتناہی مشکلات کے ساتھ جینا پڑے گا۔ نوروز ہمیشہ ہوتا ہے، آتا ہے اور جاتا ہے۔ اس بار اسلامی جمہوریہ کو جانا چاہیے۔‘

کیان کا تعلق بھی تہران سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی ماں ’کہتی ہیں کہ وہ اپنے گھر کی تباہی کے لیے بھی تیار ہیں بس اگر اس کا مطلب ملائیت کا خاتمہ ہے۔‘

خود ان کے مطابق ’میں بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے، تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی حکومت کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نوروز کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ہمارے دسترخوان پر ہفت س بھی نہیں ہے۔‘

نوروز اس وقت کی نشاندہی کرتا ہے جب موسمِ سرما کا اثر کم ہونے لگتا ہے، جس سے موسم بہار کی جاندار اور پرامید آمد ہوتی ہے۔ لوگ عام طور پر اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے صحت، خوشی اور نئے سال کی نئی شروعات کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

20 سالہ شیریں کا کہنا ہے کہ ’نوروز کا جنگ کے دوران آنا مجھے بہت برا لگ رہا ہے۔ کچھ دکانیں کھلی ہیں لیکن فضا میں نوروز کی خوشبو موجود نہیں ہے۔‘

SOURCE : BBC