Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’میجک پِل مومنٹ‘: وزن کم کرنے کی دوا جو اب سستی ہونے...

’میجک پِل مومنٹ‘: وزن کم کرنے کی دوا جو اب سستی ہونے کی وجہ سے کروڑوں صارفین کی پہنچ میں آ سکتی ہے

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

انڈیا میں لوگ شاید بہت جلد دبلے پتلے ہو جائیں گے، کم از کم تھیوری کے لحاظ ہے۔

انڈیا میں ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی ’نوو نورڈسک‘ وزن کم کرنے اور ذیابیطس کنٹرول رکھنے کی ادویات ’اوزیمپک‘ اور ’ویگووی‘ تیار کر کے فروخت کرتی ہے۔ ان دونوں ادویات کو بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل ’سیماگلوٹائیڈ‘ کے پیٹنٹ کی معیاد گذشتہ جمعہ (20 فروری) کو ختم ہو چکی ہے۔

یوں اب مقامی دوا ساز کمپنیاں ’نوو نورڈسک‘ کی جانب سے بنائی جانے والی اِن ادویات کی سستی نقل تیار کر سکیں گی جس سے ان دواؤں کی قیمتیں آدھی رہ جائیں گی اور انڈیا میں زیادہ لوگ اِن تک رسائی حاصل کر سکیں گے، اور اس کے بعد دنیا کے دیگر ممالک میں بھی۔

انویسٹمنٹ بینک ’جیفریز‘ نے اسے انڈیا کے لیے ’میجک پِل مومنٹ‘ قرار دیا ہے۔ جیفریز کا تخمینہ ہے کہ ’سیماگلوٹائیڈ‘ کی مارکیٹ انڈیا میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، اگر اس کیمیکل کی قیمت صحیح مقرر کی جائے اور دستیابی بڑھائی جائے۔

تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں 50 کمپنیوں کی ’اوزیمپک‘ اور ’ویگووی‘ سے ملتی جلتی دوائیں مارکیٹ کا حصہ بن سکتی ہیں۔ انڈیا کی فارماسوٹیکل مارکیٹ میں دوا ساز کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی یہ رجحان دیکھا گیا ہے۔

جب ذیابیطس کنٹرول کرنے کی دوا ’سیٹاگلپٹن‘ کا پیٹنٹ سنہ 2022 میں ختم ہوا تھا تو اگلے ایک ماہ کے اندر اندر اس کی قریب 30 نقلیں مارکیٹ میں فروخت کے لیے موجود تھیں۔ ایک سال میں 100 دوا ساز کمپنیوں نے اس دوا کی نقل تیار کر کے مارکیٹ میں فروخت کی تھی۔

انڈیا کی فارما انڈسٹری کی مالیت قریب 60 ارب ڈالر ہے اور یہ سنہ 2030 تک دگنی ہونے کا امکان ہے۔ انڈیا کے پاس ادویات کی مینوفیکچرنگ کے حوالے سے اچھے خاصے وسائل دستیاب ہیں اور اب یہاں سیماگلوٹائیڈ کی تیاری کے لیے کڑا مقابلہ ہو گا۔

اب تک یہ ایک مہنگا ٹیکا رہا ہے جو صرف امیر مریضوں کی پہنچ میں ہی رہا ہے۔ مگر اب عام آدمی کو اس تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

اسے اصل میں ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا مگر اب ان ادویات کو وزن کم کرنے کے اعتبار سے گیم چینجر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ایسے نتائج ملتے ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں مل سکے۔

سیماگلوٹائیڈ کا تعلق ادویات کی ایک شاخ جی ایل پی ون ریسپٹر ایگونسٹ سے ہے۔ یہ ایسے ہارمون ہیں جو آپ کی بھوک اور بلڈ شوکر کی نگرانی کرتے ہیں۔

خون میں انسولین کی سطح بڑھا کر اور معدے کو آہستہ آہستہ خالی کرنے سے یہ دوا لوگوں کی بھوک جلد مٹا دیتی ہے اور انھیں دیر تک لگتا ہے کہ اُن کا پیٹ بھرا ہوا ہے۔

اسے ویسے تو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بنایا گیا تھا مگر اب دنیا بھر میں اسے موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کئی انڈین دوا ساز کمپنیاں پہلے ہی یہ قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تحقیقاتی فرم فارماریک کی نائب صدر شیتل سپالے کے مطابق بڑی کمپنیاں، جن میں سِپلا، سن فارما، ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز، بائیوکون، نیٹکو، زائیڈس اور مین کائنڈ فارما شامل ہیں، برانڈیڈ جنیرکس لانے کی تیاری کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ مزید کمپنیاں بھی اس دوڑ میں شامل ہوں گی۔

اسی لیے قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع بھی ہے۔

اوزیمپک کی ماہانہ خوراک عموماً 8,800 سے 11,000 انڈین روپے میں ملتی ہے جبکہ ویگووی کی قیمت 10,000 سے 16,000 روپے کے درمیان ہے۔ سپالے کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں گھٹ کر تقریباً 3,000 سے 5,000 روپے ماہانہ تک آ سکتی ہیں۔

اور کم قیمتیں مارکیٹ کا نقشہ بدل سکتی ہیں۔

انڈیا کی اینٹی اوبیسیٹی (موٹاپا کم کرنے والی) ادویات کی مارکیٹ میں انجیکٹ ایبل اور کھانے والی، دونوں اقسام شامل ہیں۔ فارماریک کے مطابق ان ادویات کی مانگ پہلے ہی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اس کی مارکیٹ کی مالیت سنہ 2021 میں تقریباً 1.6 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر اب تقریباً 10 کروڑ ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ طلب میں تیزی 2022 میں رائیبلسس کی لانچنگ کے بعد آئی جو سیماگلوٹائیڈ کی پہلی کھانے والی دوا ہے۔

یہ اضافہ صحت سے متعلق وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

انڈیا میں پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے سات کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ مریض ہیں۔ یہاں موٹاپے کے شکار بالغ افراد کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ شمار ہوتی ہے۔ شہری طرزِ زندگی، کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں اور بیٹھے بیٹھے دن گزارنے کی عادت نے معاشرے میں ان دونوں امراض کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔

ڈاکٹروں کے لیے سستی جی ایل پی ون قسم کی ادویات جلد ہی ان بیماریوں کے علاج میں ایک طاقتور نیا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

وزن کم کرنے والی ادویات اب صرف اینڈوکرائن کلینکس تک محدود نہیں رہیں۔ کارڈیالوجسٹ انھیں اس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں کہ مریض اینجیو پلاسٹی جیسے طریقۂ علاج سے پہلے وزن کم کر سکیں۔

آرتھوپیڈک سرجن گھٹنے کی سرجری سے قبل جوڑوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے ان ادویات سے مدد لیتے ہیں۔ جبکہ سینے کے امراض کے ماہرین انھیں اوبسٹرکٹِو سلیپ ایپنیا جیسے مسائل کے علاج میں استعمال کر رہے ہیں۔

ممبئی میں مقیم بیریاٹرک سرجن مفضل لکڑ والا کا کہنا ہے کہ یہ ادویات انڈیا میں ذیابیطس اور موٹاپے کے مریضوں کے علاج کے امکانات میں زبردست اضافہ کر سکتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک ان تک رسائی محدود تھی: انجیکٹ ایبل جی ایل پی ون ادویات مہنگی بھی تھیں اور انھیں حاصل کرنا بھی مشکل تھا۔ جبکہ رائیبلسس واحد کھانے والی دوا تھی جو وسیع پیمانے پر دستیاب تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ بہت اچھی بات ہے کہ اب ان کی قیمتیں کم ہوں گی تاکہ ذیابیطس اور موٹاپے کے زیادہ سے زیادہ انڈین مریض ان تک رسائی حاصل کر سکیں۔’

تاہم وہ ایک انتباہ بھی دیتے ہیں کہ ’یہاں تیار کی جانے والی ادویات کے معیار پر انتہائی سختی سے نگرانی ہونی چاہیے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

اگرچہ انڈیا ایک عالمی طاقت ہے جو سستی جنیرک ادویات کی پیداوار میں سب سے آگے ہے تاہم یہ تنبیہ ملک کی دواسازی کی صنعت کی وسیع تر حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

انڈیا جنیرک ادویات کا دنیا کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ انڈیا 60 سے زیادہ علاج کے شعبوں میں تقریباً 60 ہزار برانڈز تیار کرتا ہے اور عالمی جنیرک سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔

’دنیا کی فارمیسی‘ کے طور پر اس کی شہرت کا بڑا سبب مہنگی ادویات کو سستے انداز میں صارفین تک پہنچنے والے مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔

اس کی سب سے نمایاں مثال دو دہائیاں پہلے سامنے آئی جب انڈین کمپنیوں نے ایچ آئی وی اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی کی جس سے افریقہ اور ترقی پذیر ممالک میں ایچ آئی وی کے علاج تک رسائی میں بے حد اضافہ ہوا۔

آج انڈیا 200 سے زیادہ ممالک کو ادویات برآمد کرتا ہے اور افریقہ کی جنیرک دواؤں کی نصف سے زیادہ طلب پوری کرتا ہے۔ انڈیا امریکہ میں استعمال ہونے والی تقریباً 40 فیصد جنیرک ادویات فراہم کرتا ہے اور برطانیہ کی لگ بھگ ایک چوتھائی ضرورت پوری کرتا ہے۔

انڈیا کے فارماسیوٹیکلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے چیئرمین نمیت جوشی کے مطابق ’وزن کم کرنے والی انڈین جنیرک ادویات کی برآمد کی صلاحیت بے حد وسیع ہے۔ صرف امریکی مارکیٹ ہی چند سالوں میں 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ موٹاپے میں اضافہ مانگ بڑھا رہا ہے۔‘

یہ انڈیا کی میڈیکل ایکسپورٹس میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گا۔ ملک کی جنیرک ادویات کی برآمدات فی الحال مجموعی طور پر 30.46 ارب ڈالر ہیں اور امریکہ پہلے ہی اس کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

تاہم ڈاکٹر میں اس حوالے سے امید ہونے کے ساتھ ساتھ فکرمند بھی ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہPrashanth Vishwanathan/Bloomberg via Getty Images

جی ایل پی ون ادویات مؤثر تو ضرور ہیں مگر خطرات سے خالی نہیں۔ ان کے مضر اثرات میں متلی، الٹیاں اور ہاضمے کے مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ جبکہ نسبتاً کم پائی جانے والی پیچیدگیوں میں پتھری یا لبلبے کی سوزش شامل ہیں۔ مناسب پروٹین کے بغیر تیزی سے وزن کم کرنا یا ورزش نہ کرنا پٹھوں میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ بہت سے مریض ان ادویات کے کردار کو غلط سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کی ہائپ اور مشہور شخصیات کی جانب سے تعریف کے باعث چند ہفتوں میں ڈرامائی طور پر وزن کم ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔

ممبئی کے ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر راہل بکشی کا کہنا ہے کہ کامیابی کا انحصار صرف دوا پر نہیں بلکہ ’صحیح انتخاب‘ پر بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر محض جسمانی وزن اور قد کے تناسب پر مبنی بنیادی پیمانے بی ایم آئی پر نہیں جاتے بلکہ ذیابیطس، کولیسٹرول یا دیگر متعلقہ طبی مسائل کو بھی دیکھتے ہیں۔ طرزِ زندگی بھی اہم ہے۔ اگر مریض کی خوراک غیر صحت مند رہے تو صرف دوا کافی نہیں ہوتی۔

مریض اکثر فوری حل کی تلاش میں آتے ہیں۔ باکسی کے مطابق ’لوگ آتے ہی کہتے ہیں کہ ہمیں تین ماہ میں 10 کلو وزن کم کرنا ہے۔‘

وزن میں تیزی سے کمی کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر وزن بہت جلدی کم ہو تو چہرے، گردن، بازوؤں اور رانوں سے چربی گھٹنے لگتی ہے جس سے مریض کمزور دکھائی دے سکتا ہے۔

بکشی کہتے ہیں کہ ’وزن میں مسلسل کمی، آہستہ آہستہ دوا کی مقدار بڑھانا اور پروٹین کی مناسب مقدار، ورزش اور طاقت بڑھانے والی ٹریننگ پر توجہ۔ اسے طرح بہتر اور صحت مند نتائج مل سکتے ہیں۔‘

ایک اور چیلنج یہ ہے کہ دوا بند ہونے کے بعد وزن دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔ جسم چربی کم ہونے کی مزاحمت کرتے ہوئے بھوک کو دوبارہ ابھار دیتا ہے۔

بکشی کے مطابق ’جب آپ دوا چھوڑتے ہیں تو بھوک شدت سے واپس آتی ہے۔‘

انڈیا میں اکثر لوگ کاربوہائیڈریڈز اور فیٹس سے بھرپور کھانے کھاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قیمتیں کم ہونے کے ساتھ غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

معالجین کا کہنا ہے کہ جم ٹرینرز، بیوٹی کلینکس یا ڈائٹیشنز (جن کے پاس اس کی اجازت نہیں) بعض اوقات مریضوں کو ان ادویات کی زیادہ مقدار تجویز کر دیتے ہیں۔ آن لائن فارمیسیز بھی کبھی کبھار سرسری مشاورت کے بعد یہ ادویات فراہم کر دیتی ہیں۔ بیوٹی ماہرین پہلے ہی شادیوں یا سماجی تقریبات کے لیے تیزی سے وزن کم کرنے کے ’پیکجز‘ کا اشتہار دے رہے ہیں۔

سستے جنیرکس کی وسیع تر دستیابی کے بعد ایسے رجحانات مزید فروغ پا سکتے ہیں۔

ممبئی میں سینے کے امراض کے ماہر بھومک کمدار کے مطابق ’سستی ادویات تک زیادہ رسائی کا مطلب غلط استعمال کے زیادہ امکانات ہیں۔ رسائی کے ساتھ زیادہ ذمہ داری اور سخت ضابطہ بندی دونوں ضروری ہیں۔ میں ان ادویات کے بارے میں محتاط حد تک پُرامید ہوں۔‘

یہ انتباہ لکڑ والا کے ان خدشات کی بھی عکاسی ہے جو وہ مینوفیکچرنگ کے معیار کے بارے میں ظاہر کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت فائدہ مند ادویات ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ناقص معیار کی دواؤں کے مضر اثرات سامنے آئیں اور پورے مالیکیول کو ہی بدنامی کا سامنا کرنا پڑے۔‘

حکومت بھی اس معاملے میں حد سے بڑھتی ہوئی توقعات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے ایک مشاورتی ہدایت میں انڈیا کے ڈرگ ریگولیٹر نے دواساز کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ جی ایل پی ون کی ادویات کے اشتہار نہ دیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ایسے اشتہارات جن میں ڈرامائی نتائج دکھائے جائیں یا غذا اور ورزش کی ضرورت کو کم کر کے پیش کیا جائے، گمراہ کن تصور کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے زور دیا کہ ایسی ادویات صرف طبی نگرانی میں استعمال کی جانی چاہییں۔

ریگولیٹرز اور ڈاکٹروں دونوں کے لیے آنے والے مہینے اس بات کا امتحان ہوں گے کہ آیا انڈیا کم قیمت ادویات کی فراہمی اور مناسب نگرانی کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر بکشی کہتے ہیں کہ وہ مریضوں کو وزن کم کرنے کی ادویات تجویز کرنے سے پہلے ان کی طرزِ زندگی اور خوراک بہتر بنانے کی تاکید کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ مریضوں کو پہلے ڈائٹیشن کی مدد سے زیادہ پروٹین والی خوراک پر ڈالا جاتا ہے۔ موجودہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ادویات کو طویل عرصے تک لینا پڑ سکتا ہے۔ لیکن بہت سے مریض ’انسٹاگرام ریلز دیکھ کر‘ فوری حل مانگتے ہیں جس سے ڈاکٹروں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

تاہم اس کے فوائد بھی بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔ جو دوا کبھی ماہانہ ہزاروں روپے کی پڑتی تھی اب لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مریضوں کی پہنچ میں آ سکتی ہے۔ اور شاید مستقبل میں انڈیا سے باہر کے مریضوں کو بھی رسائی حاصل ہو سکے۔

بکشی کہتے ہیں کہ ’میں تو اب کئی مریضوں کے نسخے پر لکھ رہا ہوں: مجھ سے 20 مارچ کے بعد ملیں، جب قیمتیں کم ہو جائیں گی۔‘

SOURCE : BBC