Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ماہواری کے خون میں آپ کی صحت کے بارے میں کیا راز...

ماہواری کے خون میں آپ کی صحت کے بارے میں کیا راز پوشیدہ ہو سکتے ہیں؟

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

ماہواری

،تصویر کا ذریعہSerenity Strull/ BBC

2 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 11 منٹ

اینڈومیٹریوسِس اور سروائیکل کینسر سے لے کر ذیابطیس اور وٹامن ڈی کی کمی تک سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماہواری کا خون خواتین کی صحت کے بارے کے اہم راز ظاہر کرتا ہے۔

زیادہ تر خواتین کی طرح ایما بیکلنڈ بھی ماہانہ آنے والے خون کے بارے میں زیادہ سوچنا پسند نہیں کرتی تھیں لیکن جب 2023 میں بائیوٹیک سٹارٹ اپ ’نیکسٹ جین جین‘ نے اُن سے ماہواری کے خون کا نمونہ مانگا، تو ایما بیکلنڈ نے بغیر کسی جھجک کے اپنی ماہواری کے دوران استعمال کیے گئے آٹھ ٹیمپون محفوظ کیے اور انھیں پوسٹ کے ذریعے کمپنی کی لیبارٹری، اوکلینڈ کیلیفورنیا بھیج دیا۔

یقیناً یہ ایک غیرمعمولی درخواست تھی مگر اس پر عمل کرنا کافی آسان تھا اور وہ مستقبل کی لڑکیوں کے لیے وہ تکلیف دہ تجربات روکنے میں خوشی سے مدد کرنا چاہتی تھیں جو خود انھوں نے جھیلے۔

ایما کہتی ہیں کہ ’جب میں 11 سال کی تھی تو مجھے پہلا پیریڈ آیا اور میں نے سوچا کہ میں مر رہی ہوں۔ مجھے یاد ہے میں نے اپنی ماں سے کہا کہ مجھے ہسپتال لے چلیں اور اس کے بعد ہر پیریڈ اسی طرح ہوتا تھا۔ میں ہر مہینے الٹیاں کرتی، سکول اور سماجی سرگرمیوں سے محروم رہتی۔ ایک جلتا ہوا ناقابلِ برداشت درد ہوتا تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔’

ایما بیکلنڈ کو معلوم کرنے میں 13 سال لگے کہ انھیں اینڈومیٹریوسِس ہے، یہ ایک دائمی اور تکلیف دہ بیماری ہے جس میں رحم کی اندرونی جھلی رحم کے باہر بڑھنے لگتی ہے۔

دنیا بھر میں 19 کروڑ خواتین یعنی تولیدی عمر کی ہر دسویں عورت بھاری حیض، شدید درد، مثانے اور آنتوں کے مسائل اور بعض اوقات بانجھ پن کا شکار ہوتی ہیں۔

نیکسٹ جین جین کی شریک بانی اور سی ای او رِدھی تریال بتاتی ہیں کہ ’مزید یہ کہ اس مرض کی تشخیص میں عام طور پر 5 سے 12 سال لگ جاتے ہیں، جیسا کہ ایما کے ساتھ ہوا۔ اس مرض کی تصدیق کے لیے لیپروسکوپی کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی ایک طبی عمل جس میں ایک چھوٹا کیمرہ پیلوک کے حصے میں داخل کیا جاتا ہے۔‘

اسی لیے تریال اور چند دیگر جدید سوچ رکھنے والے سٹارٹ اپ رہنما ایک بہتر تشخیصی ٹیسٹ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایسا ٹیسٹ جو سرجری کے مقابلے میں زیادہ تیز، سستا اور کم تکلیف دہ ہو، اور جو صرف اینڈومیٹریوسس ہی نہیں بلکہ خواتین کی صحت کے کئی دیگر اہم پہلوؤں کو بھی ظاہر کر سکے۔

انھیں یقین ہے کہ اس کا راز ماہواری کے خون میں پوشیدہ ہے۔

ماہواری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک طبی خزانہ

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پیشاب کے نمونے تقریباً چھ ہزار سال سے معالجین کے زیرِ مطالعہ رہے ہیں۔

اس کے بعد گذشتہ صدیوں میں پاخانہ اور رگوں سے لیا گیا خون بھی طبی جانچ کا حصہ بنے لیکن ماہواری کے خون پر کبھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔

حالانکہ یہ ایک نہایت پیچیدہ سیال ہے۔ اس کا نصف حصہ عام خون ہوتا ہے جبکہ باقی حصہ پروٹین، ہارمونز، بیکٹیریا، اینڈومیٹریئل ٹشو اور وہ خلیے ہوتے ہیں جو اندام نہانی، سروکس، فیلوپین ٹیوبز، بیضہ دانی اور دیگر اعضا سے جھڑ جاتے ہیں۔

نیکسٹ جین جین کی شریک بانی رِدھی تریال کہتی ہیں کہ ’اس میں آپ کو ایسے خلیات اور مالیکیولر نقوش تک رسائی ملتی ہے جو عام خون، لعاب یا دیگر نمونوں سے نہیں ملتے۔ یہ بنیادی طور پر ایک قدرتی بایوپسی ہے جو تولیدی اعضا کے بارے میں اندرونی معلومات فراہم کرتی ہے۔‘

ان کی کمپنی رضاکاروں جیسے ایما بیکلنڈ کو خاص طور پر تیار کردہ کاٹن ٹیمپون بھیجتی ہے اور 2014 سے اب تک 330 سے زائد خواتین کے 2,000 سے زیادہ ماہواری کے نمونوں کا تجزیہ کر چکی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ (امریکہ) کی تولیدی حیاتیات کی محقق کرسٹین میٹز کہتی ہیں کہ ’آپ ماہواری کے خون کا استعمال کسی بھی ایسی حالت کی نشاندہی کے لیے کر سکتے ہیں جو رحم کو متاثر کرتی ہو اور ایسی کئی بیماریاں ہیں۔‘

میٹز نے ایک دہائی پہلے اینڈومیٹریوسس کی شناخت کے لیے بائیومارکرز تلاش کرنے کی غرض سے ماہواری کے خون پر تحقیق شروع کی تھی لیکن اب وہ یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ کیا یہ سیال دیگر بیماریوں کے بارے میں بھی اشارے دے سکتا ہے، جیسے کہ اینڈومیٹریئل کینسر، ایڈینو مائیوسس (جس میں رحم کی اندرونی جھلی رحم کی دیوار کے اندر بڑھنے لگتی ہے) اور اینڈومیٹریٹِس ( یعنی اینڈومیٹریئم کی مسلسل سوزش)۔

میٹز کہتی ہیں کہ ’ماہواری کے دوران خارج ہونے والا یہ مواد رحم کی صحت کو سمجھنے کے لیے بہت قیمتی ہے کیونکہ اس تک رسائی کا کوئی اور آسان طریقہ موجود نہیں۔ یہ نہایت منفرد حیاتیاتی نمونہ ہے۔‘

مثال کے طور پر ایک تحقیق میں 385 پروٹین ایسے پائے گئے جو صرف ماہواری کے خون میں موجود تھے اور کہیں نہیں۔

ماہواری کے خون کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ چونکہ یہ ہر ماہ دستیاب ہوتا ہے، اس سے رحم کی صحت کی زیادہ جامع تصویر ملتی ہے جبکہ اینڈومیٹریئل بایوپسی میں صرف ٹشو کا ایک چھوٹا سا حصہ حاصل ہوتا ہے۔

میٹز کہتی ہیں کہ ’رحم یعنی بچے دانی کا سائز گریپ فروٹ جتنا ہوتا ہے، اس لیے بایوپسی سے آپ مجموعی حالت نہیں جان سکتے لیکن ماہواری کا مواد پورے اینڈومیٹریئم کے جھڑ جانے پر مشتمل ہوتا ہے، جو مکمل معلومات دیتا ہے۔‘

منفرد بائیو مارکرز کی تلاش

چونکہ ماہواری کے خون کو طویل عرصے تک سائنسی تحقیق میں نظر انداز کیا گیا، اس لیے اب بھی واضح نہیں کہ آیا اینڈومیٹریوسس میں ایسے منفرد بائیو مارکر موجود ہیں جو تشخیص کے لیے کافی حد تک قابلِ اعتماد ہوں۔

لیکن میٹز اور ان کے تحقیقی ساتھی جینیٹیسسٹ پیٹر گریگرسن، اب تک 3,700 سے زیادہ خواتین کا مطالعہ کر چکی ہیں اور نتائج حوصلہ افزا ہیں۔

میٹز کہتی ہیں کہ ’بہت سے فرق سامنے آئے ہیں۔‘

مثال کے طور پر، جن خواتین میں اینڈومیٹریوسس کی تشخیص ہو چکی ہوتی ہے، اُن کے رحم میں ’نیچرل کِلر‘ سیلز وہ مدافعتی خلیے جو ابتدائی حمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ یہ خلیے جنین کے رحم میں جڑنے، نال (پلاسینٹا) کی نشوونما اور انفیکشن کے خلاف تحفظ میں مدد دیتے ہیں۔‘

میٹز کے مطابق ’یہ خلیے زرخیزی میں اہم ہیں، لہٰذا ان کی کمی ایک منفی علامت ہے۔‘

ماہواری

،تصویر کا ذریعہSerenity Strull/ BBC

ان کی ٹیم نے سٹروما فائبرابلاسٹ خلیوں میں بھی ایک اہم فرق دیکھا۔ یہ وہ خلیے ہیں جو ہر ماہ کے بعد رحم کی اندرونی جھلی کی مرمت اور دوبارہ تشکیل میں مدد کرتے ہیں۔ جن خواتین میں اینڈومیٹریوسس موجود تھا ان خلیوں میں سوزش کے مارکر زیادہ پائے گئے اور یہ خلیے حمل کی تیاری کے لیے ضروری تبدیلیاں لانے کی صلاحیت میں کمزور تھے۔

یہ علامات دیگر بیماریوں جیسے پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) اور بار بار اسقاط حمل سے بھی منسلک پائی گئی ہیں۔

میٹز کی لیبارٹری نے یہ بھی دریافت کیا کہ کچھ مخصوص جینز کا اظہار اینڈومیٹریوسس کی مریض خواتین میں مختلف ہوتا ہے۔

ان تمام فرقوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ وہ علامات ہیں جنھیں ڈاکٹر مستقبل میں ماہواری کے خون کی بنیاد پر بغیر کسی سرجری تشخیص کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

میٹز 2027 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے گھر میں استعمال ہونے والے تشخیصی ٹیسٹ کی منظوری کے لیے درخواست دینے کی امید رکھتی ہیں۔

دوسری طرف، نیکسٹ جین جین کے محققین ماہواری کے خون کی سیکوینسنگ کر رہے ہیں تاکہ اینڈومیٹریوسس کے مخصوص بائیو مارکرز تلاش کیے جا سکیں۔

اب تک انھوں نے چند ایسے مارکرز کی نشاندہی کی ہے جو بانجھ پن کی شکار خواتین میں اینڈومیٹریوسس اور کیسز میں واضح فرق بتا سکتے ہیں۔

تریال کے مطابق امریکہ میں سینکڑوں خواتین پر مشتمل ایک بڑی تحقیق جاری ہے تاکہ ان نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔

مئی 2025 میں، نیکسٹ جین جین کو 22 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، جس کا مقصد بانجھ پن کی مریض خواتین کے لیے اینڈومیٹریوسس کی تشخیص پر مبنی ماہواری کے ٹیسٹ کی کلینیکل توثیق کرنا ہے۔

ماہواری

،تصویر کا ذریعہNextGen Jane

صرف تولیدی صحت ہی نہیں

ماہواری کا خون صرف اینڈومیٹریوسِس کے لیے ہی مفید نہیں۔ نیکسٹ جین جین کی تحقیق نے رحم کی صحت اور بڑھتی عمر کے درمیان تعلق بھی ظاہر کیا۔

تریال کے مطابق ’یہ ابتدائی ڈیٹا ہے، لیکن جسم میں ایسٹروجن کی کمی جو بڑھاپے کی بنیادی علامت ہے اور ماہواری کے درمیان ایک واضح رجحان دکھائی دیتا ہے۔‘

ان کے مشاہدات یہ بھی بتاتے ہیں کہ مستقبل میں ماہواری کے خون سے خودکار مدافعتی بیماریوں جیسے ہائپو یا ہائپر تھائیرائیڈزم کی نشاندہی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ان بیماریوں میں تھائیرائیڈ غدود بہت کم یا بہت زیادہ ہارمون (تھائروکسین اور ٹرائی آئیوڈو تھائیرونین) بناتا ہے، جو جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔

تریال کہتی ہیں کہ ’اینڈومیٹریوسس کے مریضوں میں اکثر کوئی نہ کوئی خودکار مدافعتی بیماری پائی جاتی ہے۔‘

چونکہ جسم ماہواری کے دوران شدید سوزش سے لے کر بغیر نشان چھوڑے زخم بھرنے تک مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اس لیے ماہواری کے خون کا مطالعہ ریہیومیٹائڈ آرٹھرائٹس، لیوپس اور ملٹی پل سکلروسِس جیسی سوزش اور مدافعتی نظام سے متعلق بیماریوں کے لیے ایک نیا تحقیقی ماڈل فراہم کر سکتا ہے۔

ماہواری کا خون ذیابیطس کی نشاندہی میں بھی مؤثر ثابت ہوا۔ سنہ 2021 اور 2024 کی دو تحقیقات میں، کیلیفورنیا کے سٹارٹ اپ کوئن کے سائنس دانوں نے پایا کہ ماہواری کے خون میں بلڈ شوگر اور پورے جسم کے حقیقی بلڈ شوگر لیول ایک جیسے ہوتے ہیں۔

اسی بنیاد پر 2024 میں ایف ڈی اے نے دنیا کا پہلا اور واحد ماہواری کے خون سے بلڈ شوگر ٹیسٹ کیو پیڈ منظور کیا۔

یہ ایک سینیٹری پیڈ ہے جس میں ایک ہٹائے جا سکنے والی پٹی ہوتی ہے۔ صارفین اس میں خون جمع کر کے کوئن کی لیب کو بھیجتے ہیں جہاں اس کا تجزیہ ہوتا ہے۔

کوئن نے 2022 میں تھائی لینڈ میں ایک تحقیق میں یہ بھی دکھایا کہ ان کے پیڈ سے جمع کیے گئے نمونے روایتی نمونوں کے مقابلے میں ہائی رسک ایچ پی وی وائرس کا بہتر پتا لگاتے ہیں، جو سروائیکل کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

اس تحقیق کی بڑے پیمانے پر تصدیق کے لیے امریکہ میں بڑے کلینیکل ٹرائل کا آغاز ہو چکا ہے۔

2025 سے شروع ہونے والے ٹرائل میں یہ بھی دیکھا گیا کہ آیا کیو پیڈ کے ذریعے کلامیڈیا اور گونوریا جیسی جنسی منتقل ہونے والی بیماریوں کی سکریننگ بھی ممکن ہے یا نہیں۔

کوئن کے شریک سی ای او میڈز لیلے لُند کے مطابق، کمپنی مستقبل میں تھائیرائیڈ ہارمونز، تولیدی ہارمونز، سوزش کے مارکرز، اور SARS CoV 2 سے متعلق اینٹی باڈیز کی جانچ پر بھی کام کرنا چاہتی ہے۔

یورپ میں نئی تحقیق اسی طرح برلن کے سٹارٹ اپ دی بلڈ نے ایک ٹیسٹنگ کٹ تیار کی ہے، جو اس وقت توثیقی مراحل میں ہے،اور جس کا مقصد اینڈومیٹریوسس کی پیش گوئی، قبل از وقت مینوپاز، پی سی اوز اور بانجھ پن کے مسائل کا جائزہ ماہواری کے خون کے ذریعے ممکن بنانا ہے۔

کمپنی کی شریک بانی ایزابیل گینو کے مطابق ایک چھوٹی تحقیق نے دکھایا کہ ماہواری کے خون میں وٹامن اے اور ڈی کی مقدار عام خون میں موجود ان وٹامنز کی مقدار کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، اگرچہ تھوڑی کم سطح پر۔

گینو، جو خود اینڈومیٹریوسس کا شکار رہی ہیں اور جن کی تشخیص میں آٹھ سال لگے، کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد یہ ہے کہ خواتین کو تیز تر تشخیص، بہتر علاج اور بہتر روک تھام تک رسائی ملے۔‘

میٹز کی 2022 کی ایک تحقیق میں،انھوں نے چار رضاکاروں کے ماہواری کے خون میں فینولز، پیرا بینز، فتھالیٹس اور دیگر ماحولیاتی آلودگیوں کی موجودگی بھی دریافت کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہواری کا خون جسم کو متاثر کرنے والے زہریلے مادوں کی بھی تشخیص کر سکتا ہے۔

ماہواری کا خاموش انقلاب

اس پیش رفت کے باوجود ماہواری کے خون کے بارے میں اب بھی بہت کچھ نامعلوم ہے۔

محققین کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ابھی تک ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ماہواری کے خون میں موجود تمام اجزا کون سے ہیں اور یہ ماہواری کے دوران کس طرح تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔

تحقیق اس لیے بھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہے کیونکہ اس موضوع کے گرد پھیلی ثقافتی جھجھک اور بدنامی نے اسے ہمیشہ دبائے رکھا۔ آج بھی ہم ماہواری کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں، جیسے لعنت، شیطانی آبشار، ناپاک خون، کوڈ ریڈ الرٹ وغیرہ

میٹز کہتی ہیں ’ہم سب کو ہمیشہ سے یہ سکھایا گیا کہ یہ ایک ممنوع موضوع ہے، جس پر بات تک نہیں کرنی چاہیے۔‘

صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ طبی تحقیق میں ہمیشہ مردانہ جسم کو ترجیح دی گئی اور خواتین کی صحت سے متعلق تحقیق کو کم فنڈنگ ملی۔

دنیا بھر میں 2020 میں خواتین کی صحت پر صرف پانچ فیصد تحقیقاتی فنڈنگ خرچ ہوئی جبکہ برطانیہ میں صرف 2.1 فیصد سرکاری طبی تحقیق تولیدی امراض پر خرچ ہوتی ہے۔

کوئن کے شریک سی ای او میڈز لیلے کہتے ہیں کہ ’زیادہ تر دواؤں کی تحقیق بنیادی طور پر مردوں بالخصوص سفید فام مردوں پر کی گئی، جن میں نسلی یا صنفی تنوع نہ ہونے کے برابر ہے۔ اینڈومیٹریوسس کے مقابلے میں مردوں کے گنج پن پر زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے۔‘

ان حالات میں، ماہواری کے خون پر کام کرنے والے محققین کو نمونے لینے، اسے محفوظ اور پراسیس کرنے کے طریقے خود ایجاد اور بہتر کرنا پڑے۔

ماہواری کا مواد خواتین کے درمیان بہت مختلف ہوتا ہے اس کے بہاؤ، گاڑھے پن اور دیگر خصوصیات میں بڑے فرق پائے جاتے ہیں۔

تریال کے مطابق ’اس میدان میں ہم سب ایک طرح سے اندھیرے میں کام کر رہے ہیں۔ اس میں بہت نئی تحقیق اور ترقی کی ضرورت ہے۔‘

تریال کہتی ہیں ’اس وقت مریضوں، محققین اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

مثال کے طور پر، میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی نے جولائی 2025 میں 10 ملین ڈالر کی بڑی تحقیقاتی کوشش شروع کی، جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ماہواری کا مدافعتی نظام پر کیا اثر پڑتا ہے۔

دنیا بھر میں ماہواری کے خون کے بینک بھی قائم ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

برطانوی کاروباری شخصیت کارلی بُکھلِنگ، جو یورپ کا پہلا ماہواری بایئو بینک بنانے میں مدد کر رہی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں محققین جلدی، مؤثر اور ذمہ داری کے ساتھ نمونوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔‘

اُن کی ٹیم جلد ہی ملک بھر میں خواتین سے گھر بیٹھے نمونے لینے کی خصوصی کِٹس کے ذریعے ماہواری کے نمونے جمع کرے گی اور امید ہے کہ 2026 کے آخر تک یہ بایئو بینک محققین کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔

بہت سی خواتین، جن میں بیکلنڈ بھی شامل ہیں، جو اینڈومیٹریوسس اور رحم کی دیگر تکلیف دہ بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں، کہتی ہیں کہ ایسی تحقیق بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔

بیکلنڈ کہتی ہیں کہ ’بچپن میں دردناک ماہواری میں مبتلا ہونا اور یہ نہ جاننا کہ کیا غلط ہے، بے حد تکلیف دہ تجربہ تھا۔‘

لیکن وہ امید کرتی ہیں کہ اگر ماہواری کے خون پر تحقیق کامیاب ہو گئی اور غیر جارحانہ تشخیصی ٹیسٹ بن گیا، تو اگلی نسل کی لڑکیوں کو جلد تشخیص مل سکے گی اور وہ جذباتی و جسمانی تکلیف سے بچ جائیں گی جس کا سامنا بیکلنڈ کو برسوں کرنا پڑا۔

SOURCE : BBC