Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’لاہور سے اغوا ہونے والے‘ کینیڈین نژاد پاکستانی محقق حمزہ احمد کے...

’لاہور سے اغوا ہونے والے‘ کینیڈین نژاد پاکستانی محقق حمزہ احمد کے خلاف پیکا کے تحت مقدمہ درج

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

social media

،تصویر کا ذریعہsocial media

چار روز قبل لاہور کے علاقے ڈیفنس سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی نژاد کینیڈین حمزہ احمد کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ ’تین دن بعد ان کی فیملی کو اطلاع دی گئی ہے کہ انھیں پیکا کے قانون کے تحت پکڑا گیا ہے جس کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔‘

ان کے وکیل یوسف رشید کے مطابق ’حمزہ کی بہن کو کل ایک کال موصول ہوئی جس کے بعد ان کی بات حمزہ احمد سے کروائی گئی۔ حمزہ نے انھیں بتایا کہ وہ اس وقت لاہور کی کیمپ جیل میں ہیں اور انھیں بتایا گیا ہے کہ پیکا کے قانون کے تحت انھیں پکڑا گیا ہے۔‘

حمزہ احمد آج سے چند روز قبل پاکستان میں اپنی پی ایچ ڈی کی ریسرچ کے لیے آئے تھے اور اس تحقیق کے سلسلے میں انھوں نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں اور انٹرویوز کیے۔ تاہم کینیڈا جانے سے ایک روز قبل وہ اس وقت لاہور کے علاقے ڈیفینس سے لاپتہ ہو گئے تھے جب وہ اپنی دوست کو ان کی رہائش گاہ پر چھوڑ کر واپس روانہ ہوئے۔

ابتدائی طور پر حمزہ احمد کے وکیل اور ان کے دوستوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں اغوا کیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کی ایف آئی آر منظر عام پر آنے سے کچھ دیر قبل ایس ایس پی انوسٹیگیشن محمد نوید نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’پولیس اس مقدمے کی تفتیش کر رہی اور ہم نے تمام سی سی ٹی وی فوٹیج لے لی ہے۔‘

ان کے مطابق ’ہم حمزہ کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں کچھ لوگوں سے پوچھ گوچھ کی گئی ہے تاہم کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اس ٹیکسی ڈرائیور کو بھی تلاش کر رہے ہیں جس کی گاڑی سے وہ اغوا ہوئے۔‘

ابتدائی طور پر اس واقعے سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’حمزہ احمد اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسسز کے لیے پاکستان آنے ہوئے تھے۔ 19 فروری کی شب ایک سے دو بجے کے درمیان وہ ایک ٹیکسی سروس بک کروا کر اپنی دوست کو ان کے گھر چھوڑنے گئے تھے جس کے بعد وہ واپس نہیں آئے۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’انھیں ہر جگہ تلاش کیا گیا لیکن وہ نہیں ملے اس لیے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔‘

اس ایف آئی آر کے اندراج کے تین دن بعد گذشتہ روز این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ہونے والی 21 فروری کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے جس کا متن ہے کہ ’حمزہ احمد نامی شخص اپنے سوشل میڈیا (ایکس اور انسٹاگرام) اکاؤنٹز سے ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پوسٹ کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے پیکا کے قانون کی شق 20, 24 اور 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔‘

تاہم اس ایف آئی آر میں کسی بھی ایسی پوسٹ کا لنک نہیں دیا گیا جس میں حمزہ کی جانب سے ریاستی ادروں کے خلاف مواد شئیر کیا ہو۔ جبکہ یہ ایف آئی آر ان کے اغوا کے ایک بعد درج کی گئی ہے۔

حمزہ احمد کون ہیں؟

کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی میں بطور سکالر پڑھنے اور پڑھانے والے حمزہ احمد وسیع موضوعات پر ریسرچ کرتے رہے ہیں۔ جس میں مشرق وسطی بلخصوص پاکستان اور انڈیا کی سیاست، جمہوری عمل، معاشی حالات، جبری گمشدگی، انسانی حقوق سمیت فلسطینوں پر ہونے مظالم پر آواز اٹھانا، مغرب اور اسرائیل کے خلاف تنقیدی سوچ جیسے موضوعات پر تحقیق بھی شامل ہے۔

ان کے ایک قریبی دوست نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ’حمزہ کو کئی سالوں سے جانتے ہیں اور وہ ایک ماہر تعلیم ہے۔ اسے دنیا میں ہونے والے حالات، مختلف پہلوؤں، رویوں سمیت بدلے ٹرینڈز کے بارے میں پڑھنا اور ان پر ریسرچ کرنا اچھا لگتا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’حمزہ اپنے آپ کو دائیں بازو کی سوچ رکھنے والا شخص کہتا ہے۔ اور اکثر پاکستان آتے ہوئے میرے لیے کتابوں کا تحفہ لاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ دن پہلے وہ اسلام آباد سے لاہور آیا تھا۔ اور وہ میرے گھر پر بھی آکر رکا۔ اس کا کافی ملنا جلنا تھا۔ پاکستان اور دنیا بھر کے مختلف لوگوں سے وہ جڑا ہوا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’آخری مرتبہ وہ دسمبر 2025 میں پاکستان آیا لیکن اس وقت ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ اس کے خلاف کوئی شکایت ہے یا اسے امیگریشن میں روکا گیا ہو یا کوئی پوچھ گوچھ کی گئی ہو۔ تاہم بغیر کسی بات کے اس مرتبہ اسے اغوا کر لیا گیا اور بعد میں کینیڈین سفارت خانے اور دیگر حلقوں کے پریشر کی وجہ سے ان پر این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج کر دیا گیا۔‘

حمزہ کے دوست کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک بات ان کے ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنے کی ہے تو وہ ہمیشہ سیاسی تنقید کرتا رہا ہے، چاہے وہ پاکستان کے اوپر ہو یا پھر انڈیا پر لیکن اس نے ہمیشہ بات تحقیق کی بنیاد پر کی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’2014 میں حمزہ نے بی جے پی اور مودی سرکار پر ریسرچ کی تھی۔ وہ ایک وقت میں پی ٹی آئی کے ساتھ بھی وابستگی رکھتے تھے جبکہ ان کی غلط پالیسیوں کے ناقد بھی تھے اور اب کچھ عرصے سے وہ ان کے خلاف بھی بات کر رہے تھے۔‘

حمزہ کے دوست کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہی پڑھے لکھے لوگ ہمارے ملک میں آنے سے خوف زدہ ہیں اور اب تو انھوں نے ماہر تعلیم کو بھی اٹھانا شروع کر دیا ہے۔‘

nccia.gov.pk

،تصویر کا ذریعہnccia.gov.pk

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس معاملے پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تاریخ دان اور سیاسی کارکن عمار علی جان نے بتایا کہ ’حمزہ نے اغوا ہونے سے قبل مجھ سے بھی انٹریو کیا تھا۔ میں ہی نہیں بلکہ درجنوں اہم لوگوں سے ملاقاتیں اور انٹرویوز کیے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کی ریسرچ کے زیادہ تر سوالات فلسطین، دنیا میں سیاسی طور پر عدم برادشت کا شکار ہونے والے افراد اور رویوں کے بارے میں تھے۔

عمار علی جان کے مطابق ’یہی سوالات انھوں نے باقی لوگوں سے بھی کیے جس کے لیے وہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مختلف سفارت کاروں اور سفارتی لوگوں سے بھی ملے اور میرے خیال میں انھیں پکڑنے کی یہی وجہ بنی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’حمزہ پہلے بھی پاکستان آتا تھا کام کرتا تھا اور اس دفعہ بھی وہ یہی کر رہا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ سوچ اور نقطۂ نظر سے اختلاف ضرور کر سکتے ہیں لیکن ایک ریسرچر کو ایسے پکڑ لینا کہاں کا انصاف ہے۔‘

انھوں نے اس بارے میں مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ملک میں پہلے ہی قانون کی بالادستی نہیں ہے۔ لوگ حتیٰ کہ ماہر تعلیم یہاں آنے سے ڈرتے ہیں۔ اور اب تو ایک غیر ملکی شہریت رکھنے والے ماہر تعلیم کو اس لیے اٹھا لیا گیا کیونکہ وہ مختلف لوگوں سے مل کر انٹرویوز کر رہا تھا۔‘

’پہلے یہ عمل سب پاکستانیوں اور سیاسی لوگوں تک محدود تھا لیکن اب تو پاکستان میں آنے والوں کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا جا رہا ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔‘

SOURCE : BBC