Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں قصور میں مبینہ بلیک میلنگ کے بعد ’ویڈیو کال کے دوران‘ لڑکی...

قصور میں مبینہ بلیک میلنگ کے بعد ’ویڈیو کال کے دوران‘ لڑکی کی خودکشی کا مقدمہ اور ہمسائے کی گرفتاری

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

جرم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انتباہ: اس رپورٹ میں موجود چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

چودہ فروری کو دن کے ساڑے گیارہ بجے قصور کے علاقے الہ آباد کے ایک مکان میں اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک 21 سالہ خاتون نے اپنے کمرے میں پنکھے کے ساتھ لٹک کر خود کشی کر لی۔

لیکن خود کشی کے اس واقعے میں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے دفعہ 322 یعنی قتل خطا کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جو اس خاتون کا ہمسایہ بتایا گیا ہے۔

پاکستان میں اس واقعے کا سوشل میڈیا پر کافی تذکرہ ہوتا رہا جس میں یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ مبینہ طور پر یہ خاتون ملزم کے ساتھ فون پر ویڈیو چیٹ کر رہی تھیں اور اسی دوران انھوں نے خودکشی کی جس کے مناظر ملزم نے فون پر براہ راست دیکھے۔

یہ واقعہ کیا ہے اور سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوے کس حد تک درست ہیں؟ اس بارے میں بی بی سی نے پولیس کی مدد سے اس مقدمے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے۔

’پھوپھو کے کمرے میں سٹیچو ہے‘

14 فروری کو سب سے پہلے خودکشی کا منظر دیکھنے والی ایک سات سالہ بچی تھی جس نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ نہ کھلنے پر کھڑکی میں سے جھانکنے پر اس نے دیکھا کہ اس کی جواں سالہ پھوپھی پنکھے سے جھول رہی ہے۔

یہ بچی خوف سے گھبرا کر اپنی والدہ کی طرف دوڑی اور ان سے کہا کہ ’پھوپھو کے کمرے میں سٹیچو (مجسمہ) ہے۔‘

جلد ہی لوگ اکھٹے ہوئے، کمرے کا دروازہ توڑا گیا اور پنکھے سے لٹکنے والی خاتون کو اتارا گیا لیکن تب تک وہ وفات پا چکی تھی۔

پولیس نے اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد جب تفتیش کا آغاز کیا تو کمرے سے انھیں خاتون کا موبائل فون ملا۔

یہ فون تکیے پر اس زاویے سے پڑا ہوا تھا جب فون کے کیمرے کا رخ اسی پنکھے کی جانب تھا جس سے لٹک کر خاتون نے خود کشی کی تھی۔

کیس کے تفتیشی افسر کے مطابق جب فون کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جس نمبر پر لڑکی نے آخری ویڈیو کال کی وہ نمبر عامر جان کے نام موجود تھا جو ان کا ہمسایہ بھی تھا اور لڑکی کا کلاس فیلو بھی رہ چکا تھا۔

ان کے مطابق ’اس آخری ویڈیو کال کے بعد بھی ملزم نے دو بار وائس کال اور دو بار ویڈیو کال کی تھی لیکن اٹینڈ نہیں ہوئی کیوں کہ لڑکی مر چکی تھی۔‘

مقدمہ کی ایف آئی آر میں کیا ہے؟

قصور کے تھانہ الہ آباد میں ایک شہری شفقت علی کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کی ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 322 اور 376 لگائی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ دفعہ 322 قتل خطا ہے جس کا مطلب ہے کسی کے غیرارادی طور پر کیے گئے غیر قانونی فعل کی وجہ سے کسی دوسرے کی موت واقع ہونا۔ یہ دفعہ 302 یعنی قتلِ عمد سے مختلف ہے جس میں جان بوجھ کر قتل کیا جاتا ہے۔

اس دفعہ کے تحت مجرم کو کم از کم دس سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ دفعہ 376 زنا بالجبر پر عائد کی جاتی ہے جس کی سزا دس سال سے پچیس سال تک قید ہوسکتی ہے اور یہ ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہے۔

مدعی مقدمہ شفقت علی نے ایف آئی آر میں بتایا کہ اسکی ہمشیرہ کی عمر لگ بھگ 21 سال ہے جو پنجاب کالج میں پڑھتی تھی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ 20 روز قبل جب ان کی ہمشیرہ گھر میں اکیلی تھی تو ملزم جو ان کا ہمسایہ بھی ہے، ’موقع پا کر گھر میں داخل ہوا اور پستول کی نوک پر ہمشیرہ کا ریپ کرنے کے علاوہ موبائل فون سے ویڈیوز اور تصاویر بنا کر فرار ہو گیا۔‘

پنجاب

،تصویر کا ذریعہCM COMPLAINT CELL

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے خاتون کی ویڈیوز اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر طلائی زیورات، رقم اور موبائل فون حاصل کیے۔

ایف آئی آر میں دعوی کیا گیا ہے کہ ’ملزم خاتون کو بلیک میل کرتا رہا اور ذہنی اذیت دیتا رہا، جس سے میری بہن ذہنی دباؤ میں چلی گئی۔ ہم نے ملزم کے والد کی منت کی اور اسے اپنے بیٹے کو غیراخلاقی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے سے منع کیا تو اس نے کہا کہ میرا بیٹا ایسا ہی کرے گا، جو کرنا ہے کر لو۔‘

ایف آئی آر کے مطابق مزمل شہزادی نے 14 فروری کو دن 11 بج کر 15 منٹ پر گلے میں دوپٹہ ڈال کر اپنی جان دے دی۔

پولیس کی تفتیش میں کیا پتہ چلا؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وزیر اعلی پنجاب کی پرسنل سیکرٹری صائمہ فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ قصور میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

ان کے مطابق ملزم کا موبائل فون پولیس قبضے میں لے چکی ہے اور اسے فرانزک تجزیے کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی بھجوا دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔

قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد عیسیٰ خاں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرفتاری کے بعد جب ملزم کے فون کا جائزہ لیا گیا تو وہ چیٹ ڈیلیٹ کر چکا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ملزم کا اپنے موبائل فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا اس کے خلاف سب سے بڑی شہادت ہے، فرانزک لیب سے موبائل فون کا سارا ڈیٹا ریکور ہو جائے گا۔‘

محمد عیسیٰ خاں نے بتایا کہ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیموں نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے تاہم ’مزمل شہزادی کے والد محمد شفیع نے ابتدائی طور پر پولیس کو اپنا تحریری بیان دیا کہ میری بیٹی نے خودکشی کی ہے، یہ ایک اتفاقیہ حادثہ ہے اور میں کوئی کارروائی نہیں کروانا چاہتا۔‘

ان کے مطابق پولیس نے اس کے باوجود ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی، ’جس کے تحت نعش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور جسمانی اجزا کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھجوایا گیا تاکہ کوئی قانونی سقم باقی نہ رہے۔‘

17 فروری کو مزمل شہزادی کے بھائی شفقت علی نے ملزم اور اس کے والد کے خلاف مقدمہ کے اندارج کی درخواست دائر کی جس پر پولیس نے باقاعدہ مقدمہ درج کیا اور ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیاء الحق کی نگرانی میں تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔

پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کو جمعہ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائےگا۔ ان کے مطابق ملزم کے والد نے عدالت سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے جبکہ عدالت نے ملزم کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

’سونے کے کانٹے‘

اس کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک تفتیشی آفیسر سعید سندھو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے لڑکی کے موبائل فون سے جو ریکارڈ حاصل کیا اس سے کچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق ’لڑکی نے ملزم کو پیغام بھجوایا کہ تم نے مجھ سے جو سونے کے کانٹے لیے ہیں، وہ واپس کر دو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ملزم وہ کانٹے بیچ کر نیا موبائل فون خرید چکا تھا اور مزید زیورات کا مطالبہ کرتا رہا۔‘

تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ ’لڑکی اور لڑکا کلاس فیلو رہے ہیں اور پڑوسی تھے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ’چیٹ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ لڑکے نے بلیک میلنگ کے تحت پیسوں کا تقاضا کیا اور رقم نہ دینے پر قابل اعتراض کلپس اور تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی دھمکی دی۔‘

تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میڈیکل آفیسر نے لکھا ہے کہ ’لڑکی کنواری نہیں تھی۔‘

SOURCE : BBC