SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP
2 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے صوبے پنجاب میں لاہور کی ایک سیشن عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں ڈگری جاری کرتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ گلوکار اور اداکار علی ظفر کو ہرجانے کی مد میں 50 لاکھ روپے ادا کریں۔
میشا شفیع کے وکیل نے سیشن کوٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
یاد رہے کہ میشا شفیع کی جانب سے اپریل 2018 کے دوران علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا گیا تھا جبکہ اسی سال نومبر میں علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ’دھمکیوں پر مبنی اور تضحیک آمیز مواد‘ پوسٹ کر رہے ہیں۔
منگل کو یہ حکم اُس ہتکِ عزت کے مقدمے میں سنایا گیا ہے جو علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے پر دائر کیا تھا۔
علی ظفر نے 2018 میں دائر کیے گئے اپنے ہرجانے کے دعوے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات نے اُن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور ان کے خاندان کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
میشا شفیع نے اپریل 2018 میں الزام عائد کیا تھا کہ علی ظفر نے انھیں ایک سے زیادہ موقع پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔
عدالتی فیصلے میں کیا ہے؟
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج آصف حیات نے ہتک عزت کے اس مقدمے میں ڈگری جاری کی ہے۔
اس میں لکھا ہے کہ میشا شفیع نے اپریل 2018 کی ٹویٹ اور ’انسٹیپ ٹوڈے‘ میں شائع ہونے والے انٹرویو میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا جو کہ ’جھوٹا اور ہتک آمیز‘ تھا۔
فیصلے کے مطابق یہ الزامات ’نہ تو سچ ثابت ہوئے اور نہ ہی عوامی مفاد میں کیے گئے، لہٰذا یہ ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔‘
فیصلے میں لکھا ہے کہ علی ظفر کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان اور ذہنی اذیت کے ازالے کے لیے انھیں ہرجانہ کا حق دار قرار دیا جاتا ہے۔ ’(تاہم) خصوصی ہرجانے کا دعویٰ مستند اور قابلِ اعتبار شواہد سے ثابت نہیں ہو سکا۔‘
عدالت نے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے کی رقم بطور عمومی ہرجانہ علی ظفر کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں میشا شفیع کو ’مستقل طور پر‘ علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام کسی بھی پلیٹ فارم پر دہرانے سے روکا گیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اخراجات ہر فریق خود برداشت کرے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
علی ظفر کی وکیل امبرین قریشی نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کے موکل آٹھ سال سے ’جعلی اور بے بنیاد الزام برداشت کر رہے تھے۔ یہ چیز آج عدالت میں بھی ثابت ہوئی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس دوران علی ظفر نے ہار نہیں مانی۔ ’یہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ہتک عزت کا مقدمہ تھا۔‘
ادھر میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے کہا ہے کہ کیس کا جائزہ لینے کے بعد سیشن کوٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔
اس مقدمے کی مجموعی طور پر 284 پیشیاں ہوئیں اور 20 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے جن میں سے 13 گواہان علی ظفر کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔ جبکہ اس مقدمے میں نو مرتبہ ججز تبدیل ہوئے جس سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔
اس کیس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
2018 کے دوران میشا شفیع نے پہلی مرتبہ علی ظفر پر متعدد مواقع پر انھیں جنسی طور ہر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اسی سال علی ظفر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا۔
2019 میں ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو مقدمے کی سماعت ختم ہونے تک عوامی سطح پر ہراسانی سے متعلق بیانات دینے سے روکا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور قرار دیا کہ مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے دوران بار بار عوامی بیانات ’میڈیا ٹرائل‘ کے زُمرے میں آتے ہیں۔
اپنے ہتکِ عزت کے دعوے میں علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ میشا شفیع کے خلاف ڈگری جاری کی جائے اور انھیں ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
گذشتہ ہفتے مدعی اور مدعا علیہ دونوں کے وکلا نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔
علی ظفر کی جانب سے وکیل عمر طارق گِل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میشا شفیع نے جھوٹے الزامات عائد کیے جن سے ان کی شہرت کو سنگین نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ میشا کے علاوہ کسی اور نے کبھی علی ظفر پر اس نوعیت کا الزام نہیں لگایا۔
انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ہتکِ عزت کا دعویٰ منظور کرتے ہوئے مدعا علیہ کو ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔
میشا شفیع کی نمائندگی کرنے والے وکیل ثاقب جیلانی نے عدالت سے اس مقدمے کو خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔ اپنے حتمی دلائل میں انھوں نے موقف اپنایا کہ مدعی کی جانب سے ہتکِ عزت کے دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ میشا شفیع نے مبینہ ہراسانی کے متعدد واقعات کی رپورٹ دی تھی اور وہ اپنے موقف پر قائم رہیں حالانکہ علی ظفر کی قانونی ٹیم نے اُن سے طویل جرح کی۔
وکیل نے کہا کہ مدعا علیہ کو اپنے ذاتی موقف کے اظہار پر اس ہرجانے کے مقدمے کے ذریعے سزا نہیں دی جا سکتی۔
SOURCE : BBC



