Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں شاہ رخ خان کی پہلی فلم جس کا پرنٹ خراب ہو گیا...

شاہ رخ خان کی پہلی فلم جس کا پرنٹ خراب ہو گیا تھا

16
0

SOURCE :- BBC NEWS

شاہ رخ خان

،تصویر کا ذریعہThe Film Heritage Foundation

ویسے تو بالی وڈ سے جب بھی یہ خبر آتی ہے کہ کسی فلم نے باکس آفس پر 100 کروڑ کا بزنس کر لیا ہے تو اکثر لوگوں کے ذہن میں سب سے پہلا نام شاہ رخ خان کا ہی آتا ہے کہ یہ ان کی ہی کوئی فلم ہو گی۔

آج شاہ رخ کو بالی وڈ کا ’بادشاہ‘ اور ’کنگ آف رومانس‘ کہا جاتا ہے لیکن ماضی میں شاہ رخ نے ایسے کردار بھی ادا کیے جو شاید بہت سے لوگوں کو یاد بھی نہ ہوں۔

ایک ایسا ہی کردار انھوں نے سنہ 1989 کی ایک فلم ’ان وچ اینی گِوز اِٹ دوز ونس‘ (In Which Annie Gives It Those Ones) میں ادا کیا جس میں وہ ایک طالب علم کے روپ میں نظر آئے تھے اور یہ ان کی پہلی فلم تھی۔

اس فلم کو اُس سال انڈین حکومت کی جانب سے دو نیشنل فلم ایورڈز سے بھی نوازا گیا تھا لیکن یہ ایوارڈ شاہ رخ کو نہیں بلکہ اروندھتی رائے کو اس فلم کا سکرین پلے لکھنے پر ملا تھا۔

جی ہاں آج سے تقریباً چار دہائی قبل ریلیز ہونے والی اس فلم کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا سکرین پلے انڈیا کی مشہور ناول نگار اور بکر ایوارڈ یافتہ مصنف اروندھتی رائے نے لکھا تھا بلکہ اس میں انھوں نے اداکاری بھی کی تھی۔

فلم کی کاسٹ میں شاہ رخ خان اور اروندھتی رائے کے علاوہ منوج باجپئی بھی شامل تھے۔

یہ پہلا اور آخری موقع تھا جب شاہ رخ اور اروندھتی رائے ایک ساتھ فلمی پردے پر دیکھے گئے۔ یہ فلم اروندھتی رائے کی مشہور زمانہ کتاب اور بُکر پرائز یافتہ ناول ’دی گاڈ آف سمال تھنگز‘ کے شائع ہونے سے آٹھ سال قبل جنوری سنہ 1989 میں ریلیز ہوئی تھی۔

انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ’برلنالے‘ میں اس برس اس فلم کی سکریننگ بھی ہونی تھی تاہم اروندھتی رائے نے فیسٹیول میں شرکت سے انکار کر دیا۔

اروندھتی رائے نے اس فیسٹیول میں شرکت سے انکار کیوں کیا اس کی تفصیلات بعد میں، لیکن پہلے اس فلم کے بارے میں مزید جان لیتے ہیں۔

اروندھتی رائے

،تصویر کا ذریعہThe Film Heritage Foundation

شاہ رخ کے کریئر کی پہلی فیچر فلم

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس فلم کی کہانی دہلی میں فن تعمیر کے شعبے سے وابستہ طلبہ کے گرد گھومتی ہے۔

گذشتہ برس شائع ہونے والی اروندھتی رائے کی خود نوشت ’مدر میری کمس ٹو می‘ میں بھی اس فلم کا ذکر ملتا ہے تاہم اس میں شاہ رخ خان کا ذکر نہیں کیا گيا۔

فلم کے عنوان کے تحت ہی لکھے ایک باب میں اروندھتی رائے لکھتی ہیں کہ ’ہم نے گرمی کی چھٹیوں میں سکول آف آرکیٹیکچر میں فلم کی شوٹنگ کی۔ اینی کا کردار ارجن رینا نے ادا کیا تھا، جس نے ہمارے ساتھ برگد ٹی وی سیریل میں کام کیا تھا اور ہمارا ایک قریبی دوست بن گیا تھا۔ باقی تمام کردار نئے اداکاروں نے نبھائے، سوائے یم دوت کے کردار کے، جو روشن سیٹھ نے ادا کیا تھا۔ روشن سیٹھ رچرڈ ایٹنبرو کی فلم ’گاندھی‘ میں نہرو کے کردار کے لیے مشہور ہیں۔ میں نے اس فلم میں رادھا نامی ایک طالبہ کا کردار ادا کیا تھا۔‘

جہاں تک اس فلم میں شاہ رخ خان کے کردار کا سوال ہے تو انھوں نے ایک طالب علم کا رول ادا کیا تھا، جس کا نام ’سینیئر‘ تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شاہ رخ خان کی پہلی فیچر فلم تھی کیونکہ اس قبل وہ صرف ٹی وی سیریلز میں ہی کام کر رہے تھے۔

اس فلم کے لیے ملنے والے نیشنل ایوارڈ نے اروندھتی رائے کو اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے میں بہت مدد کی۔

اپنی كتاب میں رائے نے ایوارڈ کی تقریب والے دن کا ایک دلچسپ واقعہ بھی درج کیا کہ جب وہ روزمرہ کے کپڑوں میں انعام لینے پہنچ گئیں جبکہ ایوارڈ پانے والے دوسرے افراد مخصوص اور فارمل کپڑے پہن کر آئے تھے۔

رائے کے لباس پر برہم ہوتے ہوئے ایک سینیئر بیوروکریٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ اگلے سال سے ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے گا۔

جس کے جواب میں رائے نے کہا تھا کہ ’ٹھیک ہے، اگلے سال میں نہیں ہوں گی!‘

یاد رہے کہ نومبر سنہ 2015 میں انھوں نے یہ ایوارڈ احتجاج کے طور پر اس وقت انڈین حکومت کو لوٹا دیا تھا جب انڈیا میں مذہبی عدم رواداری اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا تھا۔

نومبر کے مہینے میں ہی شاہ رخ خان نے بھی ایک انٹرویو کے دوران ملک میں بڑھتے ’شدید عدم برداشت‘ کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہاں عدم برداشت ہے، انتہائی عدم برداشت۔ میرے خیال میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ عدم رواداری کے خلاف احتجاج کرنے والے اور ایوارڈ واپس کرنے والے لوگوں کا ’احترام‘ کرتے ہیں۔

خراب پرنٹ کی بحالی اور مارچ میں فلم کی دوبارہ نمائش

انڈیا کے پبلک براڈکاسٹنگ ٹی وی چینل دور درشن پر صرف ایک بار نشر ہونے کے بعد اس فلم کا پرنٹ خراب ہو گیا تھا جسے گذشتہ دنوں ’فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن‘ نامی ایک ادارے نے ٹھیک کیا۔

فلم کی بحالی تقریباً حادثاتی طور پر شروع ہوئی۔ گھر منتقل کرنے کے دوران فلم کے ڈائریکٹر پردیب کرشن کو ایک ٹرنک کے اندر سکرپٹ اور کاغذات ملے۔

وہ انھیں ضائع کرنے ہی والے تھے کہ ایک دوست نے اس بارے میں ’فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن‘ کے ڈائریکٹر شیویندر سنگھ ڈنگر پور کو آگاہ کیا، جنھوں نے اس فلم کی بحالی کی تجویز پیش کی۔

فلم کی بحالی کا کام اتنا ہی مشکل تھا جیسے کہ فرانزک کا کام۔ رنگ غائب ہو چکے تھے جبکہ ساؤنڈ ٹریک کی بحالی بھی بہت مشکل کام تھا۔

شیویندر سنگھ ڈنگر پور کہتے ہیں کہ فلم کے اختتام میں ایک سین آتا ہے جب اروندھتی رائے نے سرخ رنگ کی ساڑھی زیب تن کی ہوتی ہے ’لیکن فلم کا جو پرنٹ ہمیں ملا اس میں سے رنگ بالکل غائب تھا۔ تو پھر ہمیں پوچھنا پڑا کہ یہ کس طرح کا سرخ رنگ تھا۔‘

’فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن‘ کے مطابق یہ فلم اگلے مہینے مارچ میں انڈیا کے مخصوص سنیما گھروں میں دکھائی جائے گی۔

فلم

،تصویر کا ذریعہThe Film Heritage Foundation

اروندھتی رائے نے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

اروندھتی رائے نے گذشتہ دنوں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہونے والے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ’برلنالے‘ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔

اس فیسٹیول میں اروندھتی رائے کی لکھی فلم ’ان وچ اینی گِوز اِٹ دوز ونس‘ کو ’کلاسکس‘ سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اس فیسٹیول میں شرکت نہ کرنے کا اعلان اروندھتی نے برلنالے جیوری کے سربراہ وِم وینڈرز کے متنازع بیان کے بعد کیا۔

لائیو پریس کانفرنس کے دوران جب وِم وینڈرز سے پوچھا گیا کہ ایران اور یوکرین کے مسئلے پر تو حمایت ظاہر کی جاتی ہے لیکن فلسطین کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں سیاست سے دور رہنا چاہیے۔‘

ان کے اس بیان کو اروندھتی رائے نے ’حیران کن‘ اور ’مایوس کن‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ فنکاروں، ادیبوں اور فلمسازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے وقت میں خاموش نہ رہیں۔

SOURCE : BBC