SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ٹیرف کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کے کچھ ارکان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ملک کے مفاد کے لیے سچ کا ساتھ دے سکیں۔‘
خیال رہے کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ عالمی ٹیرف کو 6-3 کے تناسب سے کالعدم قرار دے دیا۔
ٹرمپ نے ان ججز کی تعریف کی ہے جنھوں نے اختلافی رائے دی ہے۔
امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ دوسرے طریقوں سے ٹیرف وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔
انھوں نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ’کسی بھی ملک سے ایک ڈالر بھی وصول کرنے سے روکا ہے۔۔۔ (یعنی) میں تجارت تباہ کر سکتا ہوں، ملک تباہ کر سکتا ہوں۔ لیکن ان سے فیس وصول نہیں کر سکتا۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ٹیرف عائد کرنے کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاوورز ایکٹ کے استعمال سے متعلق فیصلہ دیا ہے، یعنی سپریم کورٹ نے انھیں اس ایکٹ کے ذریعے ٹیرف عائد کرنے سے روکا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’ملک کو تحفظ دینے کے لیے‘ وہ پھر بھی عالمی ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ جاری رکھیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک صدارتی حکمنامے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
اس سوال پر کہ کیا جو اب تک ٹیرف سے آمدن حاصل کی گئی ہے اسے واپس کیا جائے گا، ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’اس بارے میں بات نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ کئی برسوں تک عدالت میں چلے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم شاید اگلے پانچ سال تک عدالت میں رہیں گے۔‘
SOURCE : BBC



